مستقبل کے عالمی نظام کے بارے میں ایک مکالمہ

میرے ایک دوست نے یہ سوال اٹھایا کہ دنیا کے کسی ملک میں اس وقت سوشل ازم بحیثیت ایک کامیاب نظام کے کیوں قائم نہ رہ سکا؟ اس سوال کے جواب میں میں نے اپنا موقف اپنی ناقص فہم کے مطابق پیش کیا ہے، نتیجہ اخز کرنا ہم قاری پر چھوڑ دیتے ہیں دو وجوہات کی بنا پر۔ ایک تو سرمایہ دارانہ خون آشام نظام اتنا طاقتور ہو چکا ہے کہ وہ دوسرے حربوں کی طرح میڈیا کو بھی ایک ہتھیار کی طرح استعمال کرتا ہے، اور بدقسمتی سے جامد ازھان جو یہ سمجھتے ہیں کہ غربت اور امارت من جانب اللہ ہوتی ہے اور دنیا میں صبر کرنا چاہیے آخرت میں یعنی مرنے کے بعد سب کچھ جس سے دنیا میں غریب اپنی غربت کی وجہ سے محروم رہا یعنی مرغن اور مزیدار خوراک، خوبصورت عورتیں بلکہ زوق کے لحاظ کو مدنظر رکھتے ہوئے خوبصورت اور کم عمر لڑکے تک یعنی غلمان، یہ لفظ بھی بہت غور اور توجہ کا متقاضی ہے، مزیدار شرابیں، اور حسب منشاء ماحول کے وعدے کئیے جاتے ہیں لیکن ان تعیشات کا ایڈریس موت کے بعد کا بتایا جاتا ہے گویا دنیا میں بنی نوع انسان کی اکثریت کا مقصد یا ظالم سرمایہ داروں کے مقابلے میں محرومی اور ذلالت کی زندگی پر صبر کے ساتھ اکتفاء کرنا یا ”بہادر شمشیر زنوں“ کی تلواروں کی دھار آزمانے والا شکار بننا ہے۔
اللہ کی طے شدہ پلاننگ کے خلاف آواز اٹھانا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی قابل سزا جرم ہے۔ ہماری اسلامی تاریخ میں اللہ کی طرف سے یزید کو دیے گئے اقتدار کو چیلینج کرنے کا انجام ہم حضرت امام حسین کے نیزے پر چڑھے ہوئے سر کی شکل میں دیکھتے ہیں۔ اللہ بے شک کائناتوں کا مالک ہے لیکن دنیا میں اس کے نمائندگان کو ہم اللہ کا گھر بنانے کے لیے سڑکوں پر چندہ کا بکس رکھ کر بلا تخصیص نیک و گنہ گار، چندہ برائے تعمیر مسجد مانگتے دیکھتے ہیں۔
سوشل ازم کوئی مذہب نہیں بلکہ دستیاب وسائل اور علم کی مدد سے بنی نوع انسانوں کے مادی مسائل خوراک، علاج، رہائش، تعلیم اور آگے بڑھنے کے یکساں مواقع ساتھ ہی کم از کم بنیادی انسانی دنیاوی ضروریات کی فراہمی کی برسراقتدار حکومت کی طرف سے ضمانت کا، اور اس بندوبست کا نام ہے اس میں مذہب کی نفی کہاں سے آ گئی؟ کیونکہ مذہب کے بتائے گئے اعتقادات کی دنیا میں تصدیق کا کوئی طریقہ موجود نہیں اسی وجہ سے غیب پر ایمان کی ہدایت ہے۔
تو وہ تصدیق تو بعد از موت ہو سکنا ”ممکن“ ہے، دنیا میں تو اس مختصر زندگی کو ذرا بہتر طریقے سے گزارنے کے انتظام کی کوشش کو کم از کم جرم اور گناہ تو نہ بنایا اور بتایا جائے۔ اگر یہی سوال، کہ کسی ملک میں آج سوشل ازم کامیاب کیوں نہیں تو، جملے میں ذرا سوشل ازم کی جگہ ”اسلامی نظام“ کا لفظ لگا کر اس سوال کا جواب دیجئیے۔ ویسے کیوبا تشریف لے جائیے کم رقبے۔ کمتر وسائل اور سرمایہ دارانہ نظام کے حامل امریکہ کی سازشوں ور ظالمانہ حربوں کے باوجود وہاں بنیادی انسانی ضروریات کے لحاظ سے عوام کی حالت آپ کی تقریباً ساری اسلامی دنیا سے بہتر ہے اور امریکہ وغیرہ خود تسلیم کرتے ہیں کہ کیوبا کا ہیلتھ سسٹم پوری دنیا میں بہترین ہے۔
دراصل ہم ابھی بنیادی انسانی درجے سے بہت دور ہیں اور ہماری اپنی بھوک اور ذاتی تکلیف سب باقی انسانوں سے علہدہ اور برتر ہے، لہذا ہم کسی کو اپنے برابر کا انسانی حق دینے کے بارے میں سوچنے تک پر تیار نہیں ہیں اسی وجہ سے سوشل ازم کو نسل انسانی کے مستقبل کا نظام کہا جاتا ہے جب کرہ ارض کے تمام وسائل۔ تمام حاصل کردہ علوم اور فنون بحیثیت مجموعی نسل انسانی کی بہتری اور ترقی کے لیے استعمال کئیے جائیں گے جب اربوں ڈالرز انسانوں کو محکوم رکھنے اور ان کو ہلاک کرنے کے ہتھیاروں کی تیاری پر خرچ نہیں کئیے جائیں گے۔ اور انسانوں میں علاقہ، قومیت، مذہب، رنگ و نسل اور وطنیت کی بنیاد پر کوئی تخصیص نہیں برتی جائے گی اور یہ عالمی فلاحی نظام ہی سوشل ازم ہو گا اور مجھے پورا یقین ہے کہ اپنی عظیم الشان تخلیق یعنی انسان کی، تعظیم، خالق کی بھی خوشی اور خوشنودی کا باعث ہو گی۔

