نوشابہ کی ڈائری: وہ کسی اسامہ نام کے مجاہد سے بہت متاثر ہوا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


10 فروری 1988

بھابھی کے آنے سے میں خوش ہوئی تھی کہ باجی کی کمی پوری ہوگی مگر یہاں تو کچھ اور ہی کھچڑی پک رہی ہے۔ امی کبھی پڑوسن، کبھی کسی جاننے والی اور کبھی خالہ اور ممانی سے باتیں کرتے ہوئے اپنے نزدیک بڑے دھیرے سے کہہ چکی ہیں ”نوشابہ کے لیے کوئی ہو تو بتائیے گا۔“ اس ”کوئی ہو تو“ کا مطلب مجھے اچھی طرح پتا ہے۔ پچھلے جمعے کی شام جب کہا تھا ”ذرا تیار ہوجاؤ کچھ لوگ آرہے ہیں“ تب بھی میں سمجھ گئی تھی کہ یہ کچھ لوگ کیوں آرہے ہیں۔ آتا رہے جسے آنا ہے میں تو بی اے کرنے سے پہلے شادی نہیں کرنے والی۔ چار خواتین تھیں پورے بارہ کے بارہ سموسے کھا گئیں میرے لیے ایک بھی نہیں بچا۔ بعد میں امی نے بتایا کہ ہمارے حلقے کے کونسلر کی والدہ اور بہنیں تھیں۔ واہ بھئی ننھے میاں کی شادی ہوئی نہیں اور کونسلر بن گئے۔

ایک یہ کیا ایم کیوایم کے زیادہ تر کونسلر انھی کی عمر کے ہیں۔ اور تو اور میئر ڈاکٹرفاروق ستار صرف اٹھائیس سال کے ہیں، دنیا کے کم عمرترین میئر۔ کسی نے بھی نہیں سوچا تھا کہ بلدیاتی انتخابات میں ایم کیوایم اتنی زبردست کام یابی حاصل کرے گی۔ جب پتا چلا کہ شہاب بھائی کو بھی ٹکٹ ملا ہے میں نے کہا تھا ”شہاب بھائی! اس سے اچھا تھا آپ ایم کیوایم سے ٹرین کا ٹکٹ لے کر کہیں گھوم آتے اس ٹکٹ کا تو کوئی فائدہ نہیں۔“ یہ سن کر میں حیران رہ گئی کہ وہ نہ صرف جیتے ہیں بلکہ کئی ہزار ووٹوں کے فرق سے جیتے ہیں۔

ہمارے ابو کو دیکھو ایم کیوایم پر تنقید کرتے رہتے تھے کہ مہاجروں کو اس سے لڑا دیا اس سے لڑا دیا اور جب میں نے پوچھا ابو کسے ووٹ دیا تو جھینپے جھینپے لہجے میں بولے ”ارے انھی کو دیا ہے ایم کیوایم والوں کو دیکھیں کیا تیر چلاتے ہیں۔“ کیا میرا ووٹ ہوتا تو میں بھی ایم کیوایم ہی کو دیتی؟ خود سے یہ سوال کیا تو دل ہیں جواب دیا ”ہاں“ ، مگر میں ایسا کیوں کرتی؟ شاید اپنے ہونے کا احساس دلانے کے لیے، یہ جتانے کے لیے کہ ہم بھی کوئی ہیں۔

کوٹا سسٹم کیا ہے، محصورین پاکستان کا مسئلہ کیا ہے؟ کھوکھراپار کا راستہ کھلنے سے مہاجروں کو کیا فائدہ ہوگا؟ ان سب کے بارے میں تو میں نے تب جانا جب ایم کیوایم نے مطالبات کی صورت میں ان معاملات پر بات کی، نہ میں ان کے بارے میں پہلے جانتی تھی نہ اب ان سے زیادہ دل چسپی ہے۔ مجھے اس الزام میں زیادہ سچائی بھی نظر نہیں آتی کہ مہاجروں کو سرکاری اداروں میں نوکری نہیں ملتی۔ میں نے تو اپنے گھر، خاندان، جاننے والوں اور محلے میں کتنے ہی لوگوں کوئی نہ کوئی سرکاری ملازمت کرتے دیکھا ہے۔

مجھے بس لفظ مہاجر سے انسیت محسوس ہوتی ہے، بہت زیادہ، اپنے نام نوشابہ سے بھی زیادہ۔ یہ لفظ انڈیا سے آنے والوں کی پہچان کے طور پر اس وقت بھی کانوں میں پڑتا تھا جب نہ ایم کیوایم تھی نہ پانچویں قومیت کا نعرہ، لیکن تب اس لفظ سے کوئی اپنائیت محسوس نہیں ہوتی تھی، ”پاکستانی“ اور ”مسلمان“ ہونا ہی کافی تھا۔ کب اپنے الگ ہونے کا احساس جاگا، یہ تو میں نہیں جانتی بس اتنا پتا ہے کہ اس لفظ ”مہاجر“ نے بہت پہلے دل میں جنم لینے والے ایک سوال کا جواب دیا ہے، جو اسکول کی اردو کی کتاب کے ایک سبق اور اس میں شامل تصویر دیکھ کر پیدا ہوا تھا۔

اس سبق کا عنوان تھا ”پاکستانی بچے“ ، سبق کے الفاظ بھول گئے لیکن وہ تصویر اب تک میری آنکھوں میں ہے جس میں چار بچے دکھائے گئے تھے، ایک سندھی لباس میں تھا، باقی تینوں پختون، بلوچی اور پنجابی لباس پہنے تھے۔ یہ لباس تو نہ میں پہنتی ہوں نہ میرا بھائی، نہ امی ابو․․․میں نہ سندھی ہوں، نہ پنجابی، پٹھان اور بلوچ، ان سب کا ذکر تو میرے اردگرد ہوتا رہتا تھا ”فلاں سندھی ہے، اس گھر میں رہنے والے پنجابی ہیں، وہ پٹھان ہیں، وہ بلوچوں کی آبادی ہے۔

“ اس وقت ایک عجیب سا احساس جاگا تھا، اپنے الگ ہونے کا احساس، میں ان سب میں نہیں، میں کوئی اور ہوں، کون ہوں، پتا نہیں۔ پھر جب دیواروں پر ”مہاجر“ اور ”پانچویں قومیت“ کے نعرے دیکھے، جب ہر طرف مہاجر شناخت کی بات ہونے لگی، تو میں اس تصویر میں جاگھسی اور ان چاروں کو کہنیوں سے دھکیل کر بیچ میں کہیں اپنی جگہ بنالی، یہ کہتے ہوئے کہ میں بھی تو ہوں۔ بھائی جان ایم کیوایم کے نغموں کی کیسٹ لائے تھے تو وہ نغمے سن کر دل کیسا جھوما تھا۔

اس سے پہلے ان دنوں جگہ جگہ پیپلزپارٹی کے نغموں کی گونج تھی، یہ ایم کیوایم کی پہلی کیسٹ تھی ”اپنوں کا ساتھ دو غیروں کا ساتھ چھوڑو اے مہاجرو، اے مہاجرو! ․․․یہ قافلہ سرسید کا یہ قافلہ ہے جوہر کا، اس کی حفاظت اب تم کرو، اے مہاجرو، اے مہاجرو!“ یہ نغمہ اب بھی مجھ میں گونج اٹھتا ہے۔ اور وہ پمفلٹ بھی کیسا دل گرما دینے والا تھا ”میں کون ہوں، میں کہاں ہوں“ اس ایک صفحے کے پمفلٹ کا ہر لفظ دل ودماغ پر نقش ہوگیا۔

مجھے ایم کیوایم کی ہار جیت سے کچھ نہیں لینا دینا۔ مجھے تو بس اپنی پہچان مل جانے کی خوشی ہے۔ ابو نے یہ نغمہ سن کر ایک عجیب بات کہی تھی ”پتا نہیں یہ سرسید اور جوہر کا قافلہ سفر ہی میں رہے گا یا اسے بسنے کے لیے کوئی زمین بھی ملے گی؟“ بھائی نے انھیں جواب دیا تھا ”ابو! زمین ملے نہ ملے پہچان تو مل گئی۔“ ابو بڑی اداسی سے مسکراتے ہوئے بولے تھے ”یہی تو مسئلہ ہے بیٹا! پہچان تو ہمیشہ سے رہی، پھر یہ پہچان زمین کے لیے اجنبی ہوگئی۔

بے زمین کی پہچان اسے اجنبی بنائے رکھتی ہے، باہر والا، غیر․․․․ہماری مصیبت یہ ہے کہ پہچان ہاتھ سے جاتی نہیں زمین پیروں تلے آتی نہیں۔“ اس وقت تو ابو کی بات سر کے اوپر سے گزر گئی تھی، اب کچھ کچھ سمجھ میں آنے لگا ہے کہ وہ کیا کہہ رہے تھے۔ میں نے ”پاکستانی بچے“ والی تصویر کا ذکر ابو سے بھی کیا تھا، جب ہم دونوں یہ بحث کر رہے تھے کہ ہم مہاجر ہیں یا سندھی۔ ابو کو ایک اور تصویر یاد آ گئی، ”جب بہتر کے لسانی فسادات کے بعد بھٹو نے سندھی اور مہاجر اکابرین کا سمجھوتا کرادیا، اس کے بعد صوبائی حکومت نے ایک مہم چلائی تھی، جس کے تحت ایک پوسٹر جاری کیا گیا، پوسٹر پر دو بچیوں کی تصویر تھی، جو ہاتھ میں ہاتھ ڈالے جھول رہی تھیں، ایک سندھی لباس میں، دوسری غرارہ کرتا پہنے۔“ تو کیا اس سمجھوتے نے مہاجروں کو الگ قومیت کی حیثیت دے دی تھی؟

خاندان میں ایم کیوایم کی کام یابی پر وہ بھی خوش ہیں جو اسے برا بھلا کہتے تھے۔ بس ایک نذیر چچا جلے بھنے بیٹھے ہیں۔ کہنے لگے ”یہ جی ایم سید کی کام یابی ہے۔“ ابو کے خالہ زاد بھائیوں کا معاملہ بھی عجیب ہے، نذیر چچا اتنے پکے جماعتی کے خاندان کی ہر لڑکی اور عورت کو جب تک مولانا مودودی کی ”پردہ“ نہ پڑھوادیں چین نہیں آتا، ان کے دوسرے بھائی پیپلزپارٹی کے ایسے جیالے کے جیل بھی جاچکے ہیں اور تیسرے ”سرخ انقلاب دستک دے رہا ہے“ کی رٹ لگائے رکھتے ہیں۔

جب بھی ہمارے گھر آتے ہیں ابو انھیں دیکھتے ہی ”آگئے! کامریڈ، کہو انقلاب کب آ رہا ہے“ کی آواز لگاتے ہیں۔ خیر ابھی تو ذکر ہے نذیر چچا کا انھوں نے یہ اس لیے کہا کہ وہ جماعت اسلامی کے ہیں مگر یہ تو ہے کہ الطاف حسین جی ایم سید سے کئی بار مل چکا ہے۔ اس سے اتنا تو ہوا کہ سندھ یونی ورسٹی میں اب مہاجر طلبہ پر تشدد نہیں ہوتا۔ بھائی جان بتارہے تھے حیدرآباد کے جلسے میں جیے سندھ والے بھی تھے جب الطاف حسین نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ سندھیوں ہمیں گلے لگالو تو جیے سندھ والے فوراً کھڑے ہوکر ساتھ بیٹھے مہاجروں سے گلے ملے تھے جس پر بہت تالیاں بجی تھیں۔

ان کے ایک لیڈر عبدالواحد آریسر نے لالوکھیت میں خطاب بھی تو کیا تھا۔ کچھ بھی ہے جی ایم سید مہاجروں کے خلاف بات نہیں کرتا، لیکن یہ دوسرے سندھی قوم پرست رسول بخش پلیجو، حاکم علی زرداری اور حمیدہ کھوڑو تو بہت ہی متعصب ہیں۔ یہ بات میں نے شمن دادا سے کی تو کہنے لگے ”کیا ہم لوگ کچھ کم متعصب ہیں۔ سندھیوں، پنجابیوں، بلوچوں سب کو حقیر سمجھنا، خود کو ہر ایک سے برتر جاننا یہ کیا ہے۔ ممتازبھٹو اور عبدالحفیظ پیرزادہ نے کنفیڈریشن کا نعرہ لگا کر ایسی کون سی ملک دشمنی کی تھی کہ کراچی میں ان کے خلاف جلوس نکالے اور نعرے لگائے گئے ․․․گاندھی والو دور ہٹو پاکستان ہمارا ہے، نہرو والو!

دور ہٹو پاکستان ہمارا ہے۔ کسی کمرے پر حق نہیں اور پورا مکان ہمارا ہے! اور بیٹا! یہ قوم پرستی ہے، یہ دال تعصب کے بغیر نہیں گلتی۔ ہر قوم پرستی کو ایک دشمن چاہیے ہوتا ہے۔ سندھی قوم پرستوں میں سے کسی نے پنجاب کو ہدف بنایا ہے کسی کی توپوں کا رخ مہاجروں کی طرف ہے۔ ایسے ہی ایم کیوایم پنجابیوں اور پٹھانوں کے خلاف مورچہ لگائے ہوئے ہے۔“ شمن دادا بہت اچھے ہیں۔ اس دن ان کی کسی بات کا میں جواب دینے لگی تو امی آنکھیں دکھا کر بولیں ”بری بات ہے بڑوں سے بحث نہیں کرتے۔

“ شمن دادا نے الٹا امی کو ڈانٹ دیا ”بہو! کیا بچی کا منہ بند کیے دے رہی ہو بولنے دو۔“ امی کو تو خیر اس پر بھی اعتراض ہے کہ میں بڑوں میں کیوں گھسی رہتی ہوں۔ رشتے دار تو رشتے دار ابو کا کوئی دوست آ جائے تو میری کوشش ہوتی ہے کہ کچھ دیر ان کے ساتھ بیٹھ کر ان کی باتیں سن لوں۔ کیا کروں مردوں کی باتوں سے معلومات ملتی ہیں۔ وہ سیاست کی، تاریخ کی، جانے کہاں کہاں کی باتیں کرتے ہیں۔ عورتوں کی تو وہی گھسی پٹی باتیں۔ شمن دادا نے مجھے کتابیں بھی پڑھنے کو دی تھیں جب ہم ان کے گھر گئے تھے۔ کرشن چندر کے افسانے اور پریم چند کا ناول گؤدان۔ ان کی الماری میں منٹو کے افسانوں کا ایک مجموعہ بھی رکھا تھا، میں نے مانگا تو کہنے لگے بڑی ہوجاؤ تو یہ پڑھنا۔

شکر ہے عرفان واپس آ گیا اور زینت پھپھو کو چین ملا ورنہ تو جب تک وہ افغانستان میں تھا ان کی جان سولی پر اٹکی ہوئی تھی۔ ہمارے گھر آیا تو میں پہلی نظر میں پہچان ہی نہیں پائی۔ دبلا جو اتنا ہوگیا ہے پھر پہلے داڑھی چھوٹی سی تھی اب سینے تک آ گئی ہے۔ حلیہ بھی افغان مجاہدین والا․․․․ کمانڈو جیکٹ، سر پر پٹھانوں والی ٹوپی، پشاوری سینڈل۔ ابو کو بتارہا تھا وہاں کیسے ٹریننگ لی، کیسے روسیوں سے لڑا۔ کہہ رہا تھا کہ میں عرب مجاہدین کے ساتھ تھا۔

وہ کسی اسامہ نام کے مجاہد سے بہت متاثر ہوا اس کی تعریفوں کے پل باندھ رہا تھا۔ کہہ رہا تھا اس کا تعلق سعودی عرب کے امیر ترین خاندان سے ہے لیکن اس قدر سادہ مزاج ہے کہ لگتا ہی نہیں اتنا دولت مند ہے۔ عرفان نے نماز پڑھتے ہوئے ہاتھ سینے پر باندھے ہوئے تھے اور باربار ہاتھ کانوں تک لے جاکر دوبارہ باندھ لیتا۔ میں نے پوچھا یہ کس طریقے سے نماز پڑھ رہے ہو؟ ہنس کر کہنے لگا یہی صحیح طریقہ ہے، حدیثوں کے عین مطابق۔ محلے سے آنے والی نیاز کی بریانی بھی نہیں کھائی۔ امی نے اصرار کیا تو شرک اور توحید پر تقریر شروع کردی۔ خاندان میں ایک پھوپھا کیا کم تھے یہ دوسرا تیار ہوگیا۔ لیکن پھوپھا تو ہماری طرح ہی نماز پڑھتے ہیں اسے کیا ہوا ہے؟

اتنی زندگی امی سے غلط اردو پر ڈانٹ کھاتے گزر گئی لگتا ہے باقی کی بھابھی سے انگریزی بولنے کی ہدایات سنتے گزرے گی۔ کہتی ہیں باورچی خانہ مت کہو کچن کہو، میں نے کہہ دیا ”رات کا کھانا“ تو فوراً بولیں ارے ڈنر کہا کرو۔ مجھے سمجھارہی تھیں کہ اردو کے بجائے زیادہ سے زیادہ انگریزی کے الفاظ بولا کرو ورنہ لوگ جاہل سمجھیں گے۔ اپنی انگلش کا یہ حال ہے کہ بھائی جان کو پریشان دیکھ کر کہنے لگیں ”آج آپ بہت مینٹلی ڈس آرڈر لگ رہے ہیں آپ تو گریجولی مسکراتے ہوئے آفس سے آتے ہیں۔

“ میں نے کس مشکل سے ہنسی روکی تھی میں ہی جانتی ہوں۔ بھابھی ہی نہیں اب تو ہر ایک کو ہی اردو میں انگریزی الفاظ ٹھونسنے کا جنون ہوگیا ہے۔ میری ساری دوستوں کے ساتھ یہی مسئلہ ہے۔ خود میں بھی بلا ارادہ گفتگو میں انگریزی کے لفظ بہت استعمال کرنے لگی ہوں، کیوں کہ واقعی یہ احساس ہوتا ہے کہ پوری پوری اردو بولو تو لوگ یوں ہی سا سمجھتے ہیں۔ لگتا ہے میں اردو کے الفاظ بھولتی جارہی ہوں۔ کل ہی کی بات ہے کہ کتنی دیر تک سوچنے کے بعد یاد آیا کور کو غلاف کہتے ہیں۔

اس سیریز کے دیگر حصےنوشابہ کی ڈائری ( 8 ) ”آئندہ الطاف بھائی کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں بولیے گا“نوشابہ کی ڈائری: ڈر تھا کہ حیدرچوک کے مسئلے پر کوئی ہنگامہ نہ ہو جائے
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •