ظالما! مینوں ویزہ تے لا دے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میر ابصار عالم جعفری صاحب سے ہماری ملاقات کراچی کونسلیٹ کے دالان میں ہوئی۔ حضرت امریکہ کا ویزہ لینے آئے تھے۔ ان کا Swag ہمیں اچھا لگا۔ اب آپ کراچی کے جعفری صاحب سے ملے ہی نہیں تو سواگ کیا خاک سمجھ آئے گا۔ آپ کا مسئلہ بھی کرسٹین بیکر والا ہے۔ انہیں جب ان کی دوست نے ڈنر پر مدعو کیا تو ایم ٹی وی کی اس وی جے کو پتہ ہی نہ تھا کہ یونانی دیوتا کیسا ہوتا ہے۔ اس شام اس کے ہم نشین ہمارے کپتان تھے۔ اسے لگا کہ اس یونانی دیوتا میں ایک خرابی تھی کہ وہ مسلمان تھا۔ اچھی عورت ہے۔ کہتی نہیں کہ دیوتا جھوٹ بھی بولتا تھا۔

دوسری خرابی یہ تھی کہ وہ ساتھ بیٹھا ہو تو پلیٹ میں موجود کھانا حسرت سے منھ کی طرف تکتا ہی رہتا تھا۔ ان کی کتاب “ایم ٹی وی ٹو مکہ” ضرور پڑھئے گا۔ مولانا طارق جمیل کو اس واردات کا علم نہیں ورنہ کسی خطبے میں اس کا ذکر کرتے ایسے گڑاگڑا کر روتے کہ راجھستان کی ردالیاں ان کے میاں چنوں یہ گاتی ہوئی پہنچ جاتیں کہ بتا یہ ہنر تو نے سیکھا کہاں سے۔ طارق جمیل صاحب ان کے ساتھ روتے روتے سمجھاتے کہ اللہ نے کپتان کو وزیر اعظم کی خلعت فاخرہ اس کافرہ کو اسلام کی جانب راغب کرنے کی وجہ سے پہنائی ہے۔ اب تلمبہ، میاں چنوں کے عالی مقام طارق جمیل کو کون سمجھائے کہ یہ بھلے کافر ہی رہتی مگر ہمارا ڈالر، پٹرول، ہمارا آٹا، ہماری چینی پرانی قیمت پر رہتی تو عام پاکستانی کو جتنی بددعائیں آتی ہیں وہ صرف کپتاں نہ ہوتیں۔

 میر ابصار عالم جعفری کے سواگ کا ایک ادنی سا مظاہرہ یہ تھا کہ تنومند حضرت جعفری کی پھنسی پھنسی FCUKْ(French Connection UK-) کی زینب مارکیٹ سے خریدی درجہ چہارم کی سیاہ ٹی شرٹ سے ان کے پلے ہوئے ڈولے اور سینے کے مسلزمادھوری ڈکشٹ کے چولی کے پیچھے کیا ہے جیسے پہناوے کی مانند چسپاں ٹی شرٹ میں سے نمایاں طور پر چھلک رہے تھے۔

پچھلی دفعہ کی ناکامی سے بچنے کے لیے وہ اب کی دفعہ اردو کی بجائے انگریزی میں انٹرویو دینے کا قصد لے کر آئے تھے۔ اب کی بار جب انہیں کسی سڑیل پاکستانی کی بجائے ایک گوری کے سامنے اپنی انگریزی کے جواہر پارے بکھیرنے کے لیے پیش ہونا پڑا تو ان کی مسرت دیدنی تھی۔ پچھلی دفعہ کی کلفت یکسر دور ہوگئی۔ بہت پر امید ہوگئے۔

” Your name Sir “

جواب ملا’’ سید میر ابصار عالم جعفری ‘‘

وہ کہنے لگی ’’Pretty long name‘‘ (امریکی محاورے میں خاصا طویل نام)

پاکستان اور برصغیرکے دیگر ممالک کے لوگوں کا ایک المیہ ہے کہ وہ پہلے اپنی زبان میں سوچتے ہیں۔ اکثریت چونکہ ذہنی طور پر کاہل اور اوائل عمری سے ہی شارٹ کٹ ڈھونڈنے کی عادی ہوتی ہے لہذا اس کا ترجمہ کرتے وقت انگریزی میں اس کا قریب ترین متبادل لفظ ڈھونڈ کر سامنے والے کے منھ پر کھینچ کرتھپڑ کی طرح رسید کردیتے ہیں۔

ہمارے یہ حضرت میر ابصار عالم جعفری سمجھے Pretty کا مطلب صرف وہی ہوتا ہے جو ملیر کے اسکولوں میں بتایا گیا ہے۔ فی الفور وہ اس خوش گمانی میں مبتلا ہوئے کہ وہ ان کے نام میں حسن پنہاں ڈھونڈنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ باچھیں کھل گئیں فرمانے لگے’’Yes very pretty. My mother keep it for me.‘‘ یہ نام میری والدہ نے رکھا کے مفہوم کو جعفری صاحب گھسیٹ کر keep تک لے گئے۔

وہ پوچھنے لگی کہ ’’وہ امریکہ کیوں جانا چاہتے ہیں؟‘‘

مختصر سا جواب عطا ہوا کہ ’’Learn English‘‘

 وہاں سے فوراً دوسرا سوال داغ دیا گیا” What else you wish to learn?” (مزید وہاں اور کیا کچھ سیکھنے کا ارادہ ہے؟)

Computers also”میر ابصار عالم جعفری گویا ہوئے

اس کی نگاہ ناز نے فوراً کمپیوٹر اسکرین کا احاطہ کیا اور استفسار کیا گیا۔

” You study here in some university” آپ تو یہاں کسی یونی ورسٹی میں زیر تعلیم ہیں

Yes one of the best university in the world حضرت نے اترا کر جواب دیا۔

کراچی میں اچانک دنیا کی بہترین یونی ورسٹی کی موجودگی کا سن کر اس کی موکا کافی کی رنگت والی آنکھیں کھڑکی سے باہر نکل آئیں۔ (mocha coffeeْ وہ کافی جس میں دودھ چاکلیٹ اور خاص قسم کے موکا کافی کے دانوں کا سفوف شامل ہوتا ہے)

اس نے پوچھ لیا کہ وہ کون سی best university in the world ہے جس سے پروفیسر پرویز ہود بھائی، وہ خود، امریکہ اور گوگل سب ہی ناواقف ہیں۔

حضرت میر ابصار عالم جعفری اس ناواقفیت دوراں پر کچھ کبیدہ خاطر ہوئے۔ ہمیں لگا انہیں در پردہ سب سے زیادہ تاسف پروفیسر ہود بھائی کا ہوا جن کی نگاہوں سے یہ یونی ورسٹی اپنے مقام عالیہ سمیت مخفی تھی۔ گوری کے جواب میں حضرت نے ضلع شرقی کی ایک ایسی نجی جامعہ کا نام لے دیا جو خطیر رقم کے عوض کراچی کے ٹھکرائے طالب علموں کو اپنی آغوش علمی میں سمیٹ لیتی تھی اور جعلی ڈگریاں دینے میں ملکہ رکھتی تھی جس کے ایم بی اے اور کمپویٹر پروگراموں کے ریکٹر اردو کے پی ایچ ڈی سرکاری کالج کے ایک سابق پروفیسر تھے۔ جنہوں نے زبان چاپلوسی بہادر شاہ ظفر کے استاد ذوق کے پاپوش برداروں سے سیکھی تھی اور ایم کیو ایم کے ہلاک شدہ نیم خواندہ چند قائدین سے کالج کی پروفیسری میں ایسی استادی گانٹھی کہ بہترین عہدوں پر تعیناتی میں کام آتی ہی چلی گئی۔

اب وہاں سے دوسرا بائونسر آیا کہ وہ اتنی عمدہ جامعہ میں اپنا سلسلہ تدریس ادھورا چھوڑ کر امریکہ کیوں جانا چاہتے ہیں۔ ہم اس موقعے پر میر ابصار عالم جعفری کو شک کا فائدہ دیتے ہیں وہ غالباً یہ کہنا چاہتے تھے کہ وہاں اساتذہ کا معیار ان کی قابلیت سے خاصا پست ہے۔ وہ یقینا پنے اساتذہ کی تحقیر نہ چاہتے تھے مگر وہی کم بخت شارٹ کٹ کی عادت آڑے آگئی اور کہنے لگے  Teachers are stupid

گوری کے چہرے پر تاثرات کا ایک ناخوشگوار کیفیت کا بادل امڈ آیا اور کہنے لگی “So your teacher are stupid here “

جعفری صاحب نے اپنی طاقتور انگلیوں سے چٹکی کا اشارہ کیا اور فرمانے لگے کہ ” They have small knowledge, I have big knowledge. I want to make it bigger” ( میرے اساتذہ کی علمیت کم ہے میری زیادہ ہے وہاں جاکر میں اپنی علمیت میں مزید اضافے کا خواہشمند ہوں.)

اب اس سلسلہ سوال و جواب میں نازک موڑ آگیا اور وہ پوچھ بیٹھی کہ ان کی تعلیم کا خرچہ کون اٹھائے گا؟

جعفری صاحب نے انکشاف کیا کہ ان کے والد صاحب ایک مالدار ہستی ہیں۔

وہ پوچھ بیٹھی کہ’’ وہ کیا کرتے ہیں؟‘‘

جواب ملا ” He is E.T.O”( وہ ای۔ ٹی۔ او ہیں)

“And what is an E.T.O?” گوری نے پوچھا کہ (ای۔ ٹی۔ او کیا ہوتا ہے؟)

“You don’t know what is an E.T.O. Excise and Taxation Officer”(جعفری صاحب جھنجلا کر کہنے لگے آپ کو اتنا بھی علم نہیں کہ ایک ای۔ ٹی۔ او کیا ہوتا ہے؟)

“And what is Excise?”گوری کہاں دم لینے والی تھی پوچھ بیٹھی کہ( یہ ایکسائز کس بلا کو کہتے ہیں؟)

“Stop Drinking.”( شراب پینا بند کرو) غالباً وہ معصوم یہ کہنا چاہتا تھا کہ وہ منشیات کی روک تھام کے صوبائی ادارے میں سرکاری ملازم ہیں۔ خاکسار کو حضرت کی انگریزی سن کر جگر مراد آبادی کا وہ شعر یاد آگیا کہ ع

کیا کہے حالِ دل، غریب جگرؔ

ٹوٹی پھوٹی زبان ہے، پیارے

کہنے لگی:

“Sir you are telling me to stop drinking.”( آپ مجھے شراب پینے سے روک رہے ہیں۔

” No my father stop drinking( ترجمے کی رو سے اس کا مطلب وہی جو گوری نے اخذ کیا کہ میرے والد نے شراب پینا چھوڑ دی ہے)

“And he used to drink before”( ایک شرارتی مسکراہٹ سے کہنے لگی تو وہ پہلے جام گھُٹکایا کرتے تھے)

” No baba. He stops other people drinking drugs”(ارے نہیں بابا وہ دوسروں کومنشیات کے استعمال سے روکتے ہیں۔ انگریزی میں ڈرگ کے لیے Do اور Take کے الفاظ مستعمل ہیں)

اب سوال ہوا کہ وہ یہ کام کیسے کرتے ہیں۔ یہ میر ابصار عالم جعفری کے اپنے والد محترم کی کار کردگی کا اظہار کرنے کا سنہری موقعہ تھا۔

He catches them( وہ انہیں پکڑتے ہیں)

then(پھر)

He arrests them( وہ ان کی گرفتاری ڈالتے ہیں)

then

He talks to them( پھر وہ ان سے گفت و شنید کرتے ہیں)

He first catches them, then he arrests them and then he talks to them

( یہ گوری کے لیے ایک بہت انوکھا انکشاف تھا کہ یہاں پہلے ملزم کو منشیات کے مقدمے میں پکڑا جاتا ہے، پھر گرفتاری ڈالی جاتی ہے پھر گفت و شنید ہوتی ہے۔ اس کے ذہن میں اس باب میں سارے حوالے امریکہ کے تھے)

” And what does he talks to them?” ( وہ مزید متجسس ہوکر پوچھنے لگی کہ وہ ملزمان سے کیا گفت و شنید کرتے ہیں؟)

Pay me money or go to jail.Karachi jails very bad”‘‘

(رقم ڈھیلی کرو ورنہ جیل جائو کراچی کی جیلیں بہت بری ہیں)

اس انکشاف پر گوری نے ان کی ویزہ کی درخواست مسترد کرنے کا اعلان کیا تو میر ابصار عالم تلملا اٹھے اور غصے سے اس کی طرف انگشت شہادت کھینچ کر کہنے لگے کہ ” You are like John Trump”

دوسری طرف سے ہنسی کا ایک فوارہ لہرا کر بلند ہوا اور وہ کہنے لگی ’’ جان نہیں سرکار ڈونلڈ‘‘

جس پر جعفری صاحب نے جھنجلا کر کہا جان یا ڈونلڈ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا امریکنوں نے یہ سفارت خانہ پاکستانیوں سے ویزہ فیس ہتھیانے کے لیے کھولا ہے۔

ابصار عالم جعفری نے اعلان کیا کہ وہ باہر انتظار گاہ میں ہمارے منتظر ہوں گے۔ وہیں جہاں وہ ڈیرہ اسماعیل خان کی قاتل مسیحا بھی منتظر تھی۔

ہماری باری آئی۔ لبوں پر کسی دعا کی بجائے ندا فاضلی کا یہ شعر تھا کہ

یوں اجالوں سے واسطہ رکھنا

شمع کے پاس ہی ہوا رکھنا

1985 میں ہم نے جب ان کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ایک بڑی اسکالر شپ دنیا بھر کے مقابلے میں جیتی تھی تو ان کے ویزہ افسر معصومہ لوٹیا اور منظر عالم نے ہمارا استقبال فرئیر ہال کے سامنے والی عمارت میں صدر دروازے پر کیا تھا۔ ویزہ، ٹکٹ اور سفری اخراجات ہاتھوں ہاتھ تھمائے تھے۔

ہم پر ایک نگاہ پسندیدگی ڈال کر گوری انگریزی میں معذرت کرتے ہوئے، منھ پر ہاتھ رکھ کر کہنے لگی

Sir let me laugh for a moment on Donald joke

ہم نے دھیما سا احتجاج کیا کہ  ظالما اس بے چارے کو ویزہ دے دیا ہوتا تو اپنی موکا کافی کی رنگت والی آنکھوں میں حیرت کا سمندر سمیٹ کر کہنے لگی

” ? “Why Sir (وہ کیوں جناب)

” He is the only Pakistani who made you laugh” ہم نے کیا جعفری وہ واحد پاکستانی ہے جس نے آپ کے لبوں پر یہ مسکراہٹ بکھیری

” Sir you don’t know how happy we are here on that account .” جواب ملاــ’’ آپ کو کیا پتہ کہ اس باب میں ہم یہاں کس قدر خوش رہتے ہیں۔ ‘‘

And Sir Why do you want to go to USA.

( اور سرکار نے امریکہ جانے کی کیوں ٹھان رکھی ہے؟)

You know I learnt recently that Gigi Hadid is single again”‘‘

(ہمیں خبر ملی ہے کہ وہ گی گی حدید اب پھر سنگل ہو چلی ہے)۔ آپ کو علم نہ ہو تو ہم بتادیں کہ گی گی حدید کا شمارامریکہ کی ٹاپ ماڈلز میں ہوتا ہے۔ والدہ جرمن عیسائی ماڈل یولنڈا اور والد محمد حدید کا تعلق فلسطین سے ہے چھوٹی بہن بیلا بھی ماڈل ہے۔ اُن کے تعلقات ہزاروں خواتین کے خوابوں کے شہزادے برطانوی شہری پاکستانی نژاد شہرہ آفاق گلوکار اور ون ڈائیریکشن بینڈ کے ممبر زین جاوید ملک سے ان دنوں کچھ کشیدہ ہیں۔

Sure Sir America is land of equal opportunities. But let me warn you any man born after Zayn Malik is wastage of human-genes “

 اک نگاہء پسنددیدگی و حیرت سے اس نے ہمیں دیکھا اور کہنے (یقینا کیوں نہیں۔ امریکہ مساواتِ مواقع کی سرزمین ہے لیکن میں آپ کو اتنا جتا دوں کہ زین ملک کے بعد جو بھی مرد پیدا ہوئے ہیں وہ انسانیت کا زیاں ہیں)

ہم نے اس رعایت سے کہ زین ملک پاکستانی نژاد ہیں اسے چھیڑا کہ “This might not be true for Pakistani men like me. You wait till I bring Gigi here next time “( یہ کلیہ ہمارے جیسے پاکستانی مردوں پر لاگو نہیں ہوتا۔ اگلی دفعہ ہم دونوں ساتھ ویزہ لینے آئیں گے)

وہ ہمارے اس وار پر پینترہ بدل کر کہنے لگی

” ایسی صورت میں بندی آپ کا استقبال دو تلوار پر کرے گی۔” (دو تلوار کلفٹن۔ کراچی کا مشہور چوک)

پانچ سال کا ویزہ ہمیں دیتے ہوئے کہنے لگی”Here you go sir for five years. Good luck for Gigi baby”  آپ کو اللہ گی گی بے بی مبارک کرے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اقبال دیوان

محمد اقبال دیوان نے جوناگڑھ سے آنے والے ایک میمن گھرانے میں آنکھ کھولی۔ نام کی سخن سازی اور کار سرکار سے وابستگی کا دوگونہ بھرم رکھنے کے لیے محمد اقبال نے شہر کے سنگ و خشت سے تعلق جوڑا۔ کچھ طبیعتیں سرکاری منصب کے بوجھ سے گراں بار ہو جاتی ہیں۔ اقبال دیوان نےاس تہمت کا جشن منایا کہ ساری ملازمت رقص بسمل میں گزاری۔ اس سیاحی میں جو کنکر موتی ہاتھ آئے، انہیں چار کتابوں میں سمو دیا۔ افسانوں کا ایک مجموعہ زیر طبع ہے۔ زندگی کو گلے لگا کر جئیے اور رنگ و بو پہ ایک نگہ، جو بظاہر نگاہ سے کم ہے، رکھی۔ تحریر انگریزی اور اردو ادب کا ایک سموچا ہوا لطف دیتی ہے۔ نثر میں رچی ہوئی شوخی کی لٹک ایسی کارگر ہے کہ پڑھنے والا کشاں کشاں محمد اقبال دیوان کی دنیا میں کھنچا چلا جاتا ہے۔

iqbal-diwan has 41 posts and counting.See all posts by iqbal-diwan