گیارہ اگست اور ہماری اقلیتیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج سے تہتر سال قبل جب یہ مملکت وجود میں آئی تو یہاں کے باشندوں کی ایک بڑی اکثریت تو ظاہر ہے مسلمانوں کی تھی لیکن اس کی ساتھ ایک بہت بڑی تعداد یہاں بسنے والے غیر مسلم باشندوں کی بھی تھی۔ تقسیم کے ہنگام جب سرحد کے دونوں طرف بڑے پیمانے پر ہجرت ہوئی تو اس کے باوجود بھی غیر مسلموں کی ایک قابل ذکر تعداد نے اسی سر زمین کو اپنا مسکن بنایا اور یہیں کے شہری بن کر رہنے کو ترجیح دی۔ پاکستان کی پہلی کابینہ کے ارکان پر اگر نظر دوڑائی جائے تو اس میں اقلیتوں کی بھر پور نمائندگی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ اس ملک کے بانیان کے اذہان میں یہ بات بالکل واضح تھی کہ اس ملک میں مذہب کی بنیاد پر کسی سے کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا۔

ہمارے قومی پرچم کا سفید رنگ بھی اسی بات کی تصدیق کرتا نظر آتا ہے اور سب سے بڑھ کر بابائے قوم کی سن سنتالیس میں آج کے ہی دن کی گئی تقریر سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ پاکستان کے شہریوں میں کسی بھی قسم کی کوئی تقسیم نہیں ہو گی۔ آئیے ایک مرتبہ پھر آپ کو بور کرتے ہیں اور بابائے قوم کی اس تقریر کا وہ اقتباس پیش کرتے ہیں جو آج ہمارے ملی اور مذہبی جذبات کو شدید ٹھیس پہنچاتا ہے۔

”آپ سب آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے، آپ سب آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے اور کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لیے۔ اس مملکت پاکستان میں آپ کا تعلق کسی بھی مذہب، ذات یا عقیدے سے ہو مملکت کا اس سے کوئی سروکار نہیں۔“ آگے چل کر قائداعظم کہتے ہیں

”آپ دیکھیں گے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہندو ہندو نہیں رہیں گے اور مسلمان مسلمان نہیں رہیں گے مذہبی معنوں میں نہیں کیونکہ یہ ہر فرد کا ذاتی عقیدہ ہے بلکہ سیاسی معنوں میں کیونکہ وہ ایک ہی ریاست کے برابر کے شہری ہو گے۔“

اس سر زمین پر لیکن بدقسمتی سے کبھی ایسا ممکن نہ ہو سکا اور آج یہ حالت ہے کہ ہماری سیاسی اور سماجی زندگی میں اقلیتوں کا کردار مسلسل زوال پذیر ہے شاید ہمیں اس بات کا ادراک نہیں رہا کہ آج وہی معاشرے کامیابیاں سمیٹ رہے ہیں جو اپنے وہاں مذہب کی بنیاد پر کسی سے تفریق نہیں برتتے۔ ان کے معاشرے میں ضم ہونے والا ہر انسان بلا تخصیص مذہب و عقیدہ برابر کا شہری بن جاتا ہے۔

آئیے آج کے دن کی مناسبت سے پاکستان کے سفید حصے سے تعلق رکھنے والے اپنے چند ہم وطنوں کو خراج تحسین پیش کرتے اور ان کے کردار اور ان کی کامیابیوں پر اک نگاہ ڈالتے ہیں۔

جوگندر ناتھ منڈل
۔ ۔ ۔ ۔

قیام پاکستان کی جدوجہد میں مسلم لیگ کے ساتھ مل کر حصہ لینے والے پاکستان کے پہلے وزیر قانون بنے۔ تقسیم کے چند سال بعد ہی پاکستانی انتظامیہ کی ہندوؤں کے ساتھ روا رکھے تعصب کو دیکھتے ہوئے لیاقت علی خان کو استعفیٰ پیش کیا اور ہندوستان ہجرت کر گئے۔

چیف جسٹس رابرٹ کارنیلئس
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

وزیر قانون جوگندر ناتھ منڈل کے ساتھ سیکرٹری قانون کے طور پر کام کرنے والے پاکستان کے پہلے عیسائی چیف جسٹس کے عہدے تک پہنچے۔ آپ پاکستان کی عدالتی نظام کی بنیاد رکھنے والوں میں شمار ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر رتھ فاؤ
۔ ۔

انیس سو اکسٹھ میں جرمنی سے پاکستان تشریف لائیں اور پھر اپنی زندگی کے پچپن سے زیادہ سال پاکستان میں جذام کے مرض سے لڑتے ہوئے گزار دیے۔ آپ کو بے لوث خدمات کے اعزاز میں ہلال امتیاز، ہلال پاکستان، نشان قائداعظم جیسے ایوارڈز سے نوازا گیا۔

گروپ کیپٹن سیسل چوہدری
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ایک فائٹر پائلٹ کے طور پر انڈو۔ پاکستان جنگوں میں بہادری کے جوہر دکھائے اور ستارۂ جرات سے نوازے گئے۔ پینسٹھ کی جنگ میں فلائٹ لیفٹیننٹ اور اکہتر کی جنگ میں سکواڈرن لیڈر کی حیثیت سے حصہ لیا۔

راجہ تری دیو رائے
۔ ۔ ۔ ۔

ایک بدھسٹ مذہبی رہنما اور ذوالفقار علی بھٹو کی کابینہ میں وزیر اقلیتی امور کا عہدہ رکھنے والے ایک آپ ایک سیاستدان، سفارت کار اور ایک لکھاری کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ آپ بنگلہ دیش میں ایک قبیلے کے راجہ تھے لیکن بنگلہ دیش کی آزادی کے بعد پاکستان کو اپنا مسکن بنا لیا۔

اردشیر کاؤس جی
۔ ۔

کراچی کے ایک پارسی خاندان سے تعلق رکھنے والے ایک مشہور کالم نویس اور انسان دوست، کاوس جی پاکستان کا ایک روشن چہرہ تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں پی ٹی ڈی سی کے ایم ڈی کے طور پر بھی کام کیا اور پھر بھٹو صاحب کے ہی دور میں جیل کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔

ستی بینجمن جان
۔ ۔
”تو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے“ جیسا گانا گانے والے ایس بی جان کا تعلق کراچی سے تھا۔

سردار رمیش سنگھ اروڑہ
۔ ۔ ۔ ۔
پنجاب کی صوبائی اسمبلی میں پہلے سکھ ممبر بننے کا اعزاز حاصل کرنے والے ایک سیاستدان اور سماجی کارکن کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

آرتھر نیر
۔ ۔
ستر اور اسی کی دہائی میں اے نیر کے نام سے پہچان بنانے والے پاکستان کے ایک مشہور پلے بیک سنگر تھے۔ آپ کی تعریف کرنے والوں میں طلعت محمود اور محمد رفیع جیسے عظیم نام شامل تھے۔

دانش کنیریا
۔ ۔
دانش کنیریا جو پاکستان کے ایک مشہور ٹیسٹ کرکٹر بن کر سامنے آئے۔ سیدھے ہاتھ سے گیند بازی کرنے والے لیگ سپنر دانش کنیریا اپنی گوگلی کی وجہ سے بہت مشہور تھے۔ دانش کنیریا، انیل دلپت کے بعد دوسرے ہندو تھے جو پاکستان کی انٹرنیشنل کرکٹ ٹیم کا حصہ بنے۔

ان چند ناموں کے علاوہ اور بھی بہت بڑے بڑے نام موجود ہیں جو پاکستان کی پہچان بنے ان میں سے کچھ کے نام یوں ہیں :
بیپسی سدھوا، اندو متھا، مشہور بزنس مین بیرام ڈی اواری، انیل دلپت، سلیم رضا، روبن گھوش، شبنم، جمشید نوشیروان جی مہتا، بینجمن سسٹرز اور عاشر عظیم شامل ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •