قریب مرگ پاکستانی نژاد بچی کے گھر والوں پر تشدد، برطانوی وزیر اعظم سے سوال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کو پاکستانی ڈاکٹروں کی طرف سے بھیجے گئے ایک خط میں ایک ہسپتال میں قریب مرگ ایک پاکستانی بچی کے والد پر پولیس تشدد کی عدالتی انکوائری کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

برطانوی روزنامے ڈیلی میل میں چند روز قبل شائع ہونے والی ایک ویڈیو میں بستر مرگ پر پڑی ایک چھ سالہ بچی کے والد کو پولیس کی طرف سے تشدد کے ساتھ بچی کے کمرے سے نکالتے ہوئے دیکھا گیا۔

یہ واقعہ ایک پاکستانی ڈاکٹر اور ان کی بیٹی کے ساتھ پیش آیا جو عشروں سے برطانیہ میں کنسلٹنٹ ڈاکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس واقعے نے برطانیہ کی پاکستانی ڈاکٹرز کی برادری کو سکتے میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایسوسی ایشن آف پاکستانی فزیشینز ان نارتھ یورپ APPNE ’اپنے‘ نے برطانوی وزیر اعظم سے اس معاملے کی مکمل عدالتی چھان بین کا مطالبہ کیا ہے۔

اس سلسلے میں ’اپنے‘ کی طرف سے وزیر اعظم بورس جانسن اور برطانیہ کے ہوم اور ہیلتھ سیکرٹریز کو ایک خط ارسال کیا گیا ہے جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ نیشنل ہیلتھ سسٹم سے وابستہ تمام تر ڈاکٹرز اور عملے کے دیگر اراکین کی جان و مال کے تحفظ سمیت تمام تر مریضوں کے لواحقین اور ان کے گھر والوں کی عزت و احترام اور ان کے انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف سخت قانونی اقدامات کرے۔

واقعے کی تفصیلات

پاکستان سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر راشد عباسی اور ان کی اہلیہ ڈاکٹر عالیہ عباسی گزشتہ تین دہائیوں سے برطانیہ میں آباد ہیں۔ ان کی چھ سالہ بچی زینب سانس کی شدید تکلیف اور جینیٹک بیماری جسے Niemann-Pick کہتے ہیں، کا شکار تھی اور وہ لائف سپورٹ پر ہسپتال میں داخل تھی۔

ایسوسی ایشن آف پاکستانی فزیشینز ان نارتھ یورپ APPNE ’ اپنے‘ کے ایگزیکٹیو بورڈ کے ممبر ڈاکٹر حسن جاوید نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ زینب کے والدین کو ماضی میں بھی ہسپتال میں کئی بار ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

کلینیکل ٹیم کی طرف سے ان پر زور دیا گیا کہ زینب کے ’لائف سپورٹ‘ کو ہٹا دیا جائے کیونکہ اس کی صحت یابی اور زندگی کے آثار اور امکانات معدوم ہونے کے برابر ہیں لیکن ڈاکٹر عباسی اور ان کی اہلیہ والدین ہونے کے ناتے آخری وقت تک اپنی بچی کی زندگی کے لیے یہ جنگ لڑتے رہنا چاہتے تھے۔ انہوں نے پہلے بھی ہسپتال کے عملے کے اس فیصلے پر مزاحمت دکھائی اور آخری بار یعنی 2019 ء میں جب ڈاکٹروں اور دیگر میڈیکل اسٹاف کی طرف سے انہیں زیر دباؤ لایا جا رہا تھا کہ وہ زینب کے لائف سپورٹ کو اب ہٹوا دیں تو ڈاکٹر عباسی نے کہا کہ گھر والوں کی مرضی یا پھر عدالتی فیصلے کے بغیر طبی عملہ یہ قدم نہیں اٹھا سکتا۔

اس پر ہسپتال کے عملے نے پولیس کو بلا لیا اور پولیس نے ڈاکٹر راشد عباسی اور ان کی اہلیہ کو زینب کے کمرے سے نکل جانے کو کہا، والدین نے انکار کیا جس کے رد عمل میں پولیس نے ڈاکٹر عباسی کو بری طرح گھسیٹا اور ان کی مزاحمت پر انہیں زد و کوب کا نشانہ بنایا یہاں تک کہ وہ زمین پر گر گئے اور ان کے سینے میں درد شروع ہو گیا۔ ڈاکٹر حسن جاوید نے ڈی ڈبلیو کو مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا، ”ڈاکٹر عباسی خود ایک سینیئر کنسلٹنٹ ہیں۔ انہیں اپنی کیفیت کا بھی خود اندازہ تھا اور انہوں نے پولیس کو بتایا کہ انہیں سینے میں درد ہو رہا ہے، تاہم پولیس نے کچھ دیر زد و کوب کا سلسلہ جاری رکھا، آخر کار انہیں ایمرجنسی میں لے جا کر ان کا معائنہ کیا گیا تو پتا چلا کہ ڈاکٹر راشد عباسی ہارٹ اٹیک میں تھے۔“

زینب کے والد ڈاکٹر عباسی کی صحت کی بحالی کے بعد بھی ان کا اور زینب کے ڈاکٹرز اور ان کی ٹیم کے بیچ مسلسل یہ امر نزاع کا باعث بنا رہا کہ آیا گھر والوں کی اجازت کے بغیر زینب کو لائف سپورٹ سے ہٹا لیا جائے؟

دریں اثناء ڈاکٹرز اور میڈیکل اسٹاف کے انتہا سے زیادہ زور دینے پر ڈاکٹر عباسی نے کہا کہ اس سلسلے میں عدالت سے رجوع کیا جانا چاہیے۔ جب تک عدالت ڈاکٹروں کو یہ اجازت نہیں دیتی کہ وہ زینب کو لائف سپورٹ سے ہٹا لیں تب تک وہ ایسا نہیں کر سکتے۔

دوسری طرف ہسپتال انتظامیہ کی طرف سے کورٹ میں یہ کیس داخل کر دیا گیا تھا اور ڈاکٹر عباسی اور ان کی اہلیہ کو کہا گیا تھا کہ جب تک عدالتی فیصلہ سامنے نہیں آ جاتا وہ یا ان کی طرف سے کوئی بھی رائے عامہ کے سامنے اپنی بیٹی کے اس کیس کے بارے میں کوئی بیان نہیں دے سکتا۔

’اپنے‘ کی طرف سے ڈوئچے ویلے کو دی گئی اطلاعات کے مطابق کورٹ کی طرف سے زینب کیس کی سماعت کی تاریخ اس کے والدین کو دے دی گئی تھی لیکن اس سے تین روز پہلے ہی زینب نے خود ہی دم توڑ دیا۔

2019 ء میں یہ واقعہ پیش آیا جس کے بعد زینب کے والدین شدید صدمے میں تھے۔ اب 2020 ء میں زینب کے والدین نے خاموشی توڑتے ہوئے اس خبر کو رائے عامہ تک پہنچانے کا فیصلہ کیا۔

برطانوی روزنامے ڈیلی میل میں چند روز قبل ڈاکٹر عباسی کے پولیس کے ہاتھوں زد و کوب ہونے اور انہیں زبردستی ان کی بیٹی کے کمرے سے نکالنے کے دوران ان پر پولیس کی پر تشدد کارروائی سے متعلق ویڈیو وائرل ہوئی۔

پاکستانی ڈاکٹروں کا برطانوی وزیر اعظم سے مطالبہ

ڈی ڈبلیو نے برطانوی وزیر اعظم اور برطانیہ کے ہوم اینڈ ہیلتھ سکریٹری کے نام خط لکھنے والی ایسوسی ایشن آف پاکستانی فزیشینز ان نارتھ یورپ APPNE ’ اپنے‘ کے صدر ڈاکٹر عامر برنی سے رابطہ کیا تو انہوں نے اپنے اس خط کی کاپی ڈی ڈبلیو کو بھیجی۔

اس ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹیو باڈی کے رکن اور خود ڈاکٹر برنی کی طرف سے مشترکہ بیان میں اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ زینب اور اس کے والدین کے ساتھ ہونے والے معاملے میں سب سے زیادہ تشویش اور قابل اعتراض بات یہ ہے کہ زینب کا علاج کرنے والی کلینکل ٹیم نے زینب کے والدین کی طرف سے لائف سپورٹ کو ہٹانے کی مزاحمت پر یہ جملہ کہا، ”ہمیں یہ کرنا ہے اور ابھی فوری طور پر کرنا ہے“ ۔

انتہائی نگہداشت یونٹ یا آئی سی یو میں داخل مریضوں کے لواحقین کو مخصوص اوقات میں اندر آنے کی اجازت ہوتی ہے۔

سوال ہے کہ زینب کو لائف سپورٹ سے ہٹانے کے لیے انہیں اتنی جلدی کیوں تھی؟ اور سوال ’اپنے‘ کے تمام اراکین کے لیے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ جب ڈی ڈبلیو نے ڈاکٹر حسن جاوید سے پوچھا کہ برطانوی وزیر اعظم سے اس وقت تحریری طور پر انہوں نے سب سے اہم اور مرکزی مطالبہ کیا کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا، ”ہم اس کیس کی آزادانہ عدالتی انکوائری چاہتے ہیں کیونکہ میڈیکل لاء کے تحت کسی بھی بیمار کے گھر والوں کو، جو مرگ کے قریب ہو، ہمت اور حوصلہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے نا کہ اس کے ساتھ کسی قسم کی بدسلوکی اور تشدد کیا جائے۔“

جاوید نے کہا کہ رنگ، نسل، قومیت، عمر ہر چیز سے بالاتر ہو کر کسی بھی ایسے مریض جو جان بلب ہو اس کے گھر والوں کے ساتھ یہ سلوک غیر اخلاقی ہی نہیں غیر قانونی بھی ہے۔ ڈاکٹر جاوید نے کہا کہ ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ زینب کے والد ڈاکٹر راشد عباسی اور ان کے اہل خانہ کو شدید پریشانیوں کا سامنا تھا۔

ان کے بقول، ”یہ عمل بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور این ایچ ایس کی اعلٰی اخلاقی اقدار کی خلاف ورزی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کسی نسلی، مذہبی یا پیشہ ورانہ پس منظر سے قطع نظر مرنے والے بچے کے والدین کو اس طرح کے غیر انسانی سلوک کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔“

ڈی ڈبلیو کو اپنا اور اپنی ایسوسی ایشن کا موقف پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر حسن جاوید کا کہنا تھا، ”ہم حکومت سے گزارش کرتے ہیں کہ انصاف سے متعلق امور پر لوگوں کا اعتماد بحال کرنے اور NHS کے تمام خدمت گزاروں اور کارکنوں کے لیے منصفانہ سلوک کو یقینی بنانے کے لیے اس واقعے کی فوری اور آزادانہ تحقیقات کروائی جائیں۔ یہ بھی ضروری ہے کہ انکوائری کے نتیجے میں واضح طور پر بنیادی وجوہات، سفارشات اور اقدامات سامنے لائی جائیں جو آئندہ ایسے واقعات کو روکنے میں موثر ثابت ہوں۔“ بشکریہ ڈوئچے ویلے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کشور مصطفیٰ

یہ مضامین ڈوئچے ویلے شعبہ اردو کی سیینیئر ایڈیٹر کشور مصطفی کی تحریر ہیں اور ڈوئچے ویلے کے تعاون سے ہم مضمون شائع کر رہے ہیں۔

kishwar-mustafa has 42 posts and counting.See all posts by kishwar-mustafa