آن لائن تعلیم کے نتائج


ویسے نتائج دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک مثبت اورایک منفی مگر یہاں پر پہلے تعلیم پر گفتگو کرنے کو ترجیح دوں گا۔

اگر کچھ ادوار پہلے کی جانب صرف نظر کی جائے تو تعلیم اور تعلم میں واضح فرق دکھائی دے گا۔ اور موجودہ تعلیم و تعلم اس سے کئی درجہ الگ اور جدید ہے جہاں پر طلباء و طالبات کے پڑھنے کا زاویہ تبدیل ہوا وہیں دوسری جانب پڑھانے والے اساتذہ کرام کے پڑھانے کے انداز میں بھی واضح تبدیلی واقع ہوئی ہے۔

موجودہ حالات میں جہاں لاک ڈاؤن کی حالت تھی وہیں تعلیم و تعلم بے حد متاثر ہوئے ہیں۔

کچھ ماہ پہلے کی حالت زار کو دیکھا جائے تو تعلیم کا ایک پہیہ جو مسلسل اپنی رفتار سے چل رہا تھا وہ اب اس طرح نہیں چل رہا جس طرح اس کی رفتار تھی کیونکہ حالات کی تبدیلی کی بنا پر تعلیم و تعلم کا انداز تبدیل ہوا اس سے طلباء و طالبات کے اذہان میں تعلیم کی اہمیت اس طرح نہیں رہی جس طرح موجودہ حالات سے پہلے تھی۔

اب اگر منفی نتیجے کی طرف غور کیا جائے تو ایسے واقعات دیکھنے میں آئے جس میں تعلیم و تعلم کا بے حد مذاق اڑایا گیا اور ساتھ ہی اساتذہ کی توہین کے واقعات بھی منظرعام پر نظر آئے اور معاشرے پر اس سے غلط اثرات مرتب ہوئے اور کہیں اس کے بر عکس نظر آیا۔ دونوں اطراف دیکھا جائے تو طلباء ہوں یا اساتذہ کرام عزت نفس ہر انسان رکھتا ہے جہاں طلباء و طالبات کو اپنے رویوں کو درست کرنا بے حد سو فیصد ضروری ہے تو وہیں کچھ اساتذہ کو بھی تہذیب اور اخلاق کے دامن کو تھامے رکھنے میں کوئی قصر نہیں چھوڑنی چاہیے کیونکہ موجودہ حالات سے پہلے طلباء کا درجے میں اساتذہ کا آمنا سامنا ہونا ہی ایک ادب کی کڑی تھا۔ یہاں پر ہر طالب علم مراد نہیں مگر اب کچھ بے باک طلباء کی بنا پر درجے کا ماحول خراب ہونے کے ساتھ پڑھائی میں خلل واقع ہوتا ہے ایسے کئی مناظر گزشتہ دنوں میں آنکھوں سے گزرے۔

اب اگر مثبت نتیجے کی طرف غور کیا جائے تو چاہے پاکستان ہو یا پوری دنیا میں بسنے والے امیر و غریب تمام ممالک جہاں جہاں آن لائن تعلیم متعارف ہوئی وہاں کے طلباء کے لئے اچھا اقدام نظر آیا۔ پڑھائی مستقل مزاجی سے پھر سے شروع ہوئی جو اسکول کالجز بند تھے انہیں مختصر عملے کے ساتھ کھولا گیا ان میں کام کرنے والا وہ شخص جو دس یا پندرہ ہزار پر چوکیداری کے فرائض سر انجام دیتا ہے اس کی نوکری بحال ہوئی اور اس کے گھر کا چولہا جلنے کا سبب بنا اور اسی کے ساتھ وہ نجی اسکول جن میں کم تنخواہوں پر بھی اساتذہ پڑھاتے ہیں ان کی بھی آن لائن تعلیم کی بنا پر روزگار کی گاڑی چل پڑی۔ یقیناً تعلیم علم و آگاہی، شعور و ادراک دیتی ہے پر ساتھ ہی ایک اچھے معاشرے کو بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔

نتیجہ اب یہ نکلتا ہے کہ موجودہ وبا سے لگنے والی پابندیوں کی طرح پہلے کبھی بھی اس طرح پابندیاں نہیں لگائی گئیں اور نہ ہی کبھی عوام کو اتنی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ آن لائن تعلیم سے ایک بات تو سمجھ میں آ گئی کہ علم حاصل کرنا کوئی دشوار کام نہیں۔ بندہ دنیا کے کسی بھی کونے میں چلا جائے وہ سہولیات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی تعلیم کو مستقل مزاجی سے جاری رکھ سکتا ہے۔

Facebook Comments HS