درس گاہیں: بچوں کی حوصلہ شکنی کے غیر حساس ادارے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

باپ سے کہو رکشہ لے دیں، یہ پڑھنا لکھنا تمارے بس کا کھیل نہیں؛ نصاب سے تھوڑا ہٹ کے سوال کرنے پر ماسٹر صاحب سیخ پا ہو چکے تھے، یہ سننا روز کا معمول تھا۔ جو سوال کرتا اسے اینکرنگ یا سیاست جوائن کرنے کا مفت مشورہ دے دیا جاتا۔

یہ کہانی ہر متوسط طبقے کے طالبعلم کو جھیلنی پڑتی ہے اور ہمارے معاشرے میں یہ بے موسمی پھل کی طرح وافر مقدار میں ہر کلاس روم میں منڈ لا رہی ہوتی ہے۔ غلطی سے بھی اگر آپ نے مستقبل کے کسی خواب کی نشاندہی کر دی تو پھر پہلے پہل آپ کا نام مطلوبہ شعبہ سے جوڑتے ہوئے اسے ہمیشہ کے لیے آپ کا عرف عام بنا دیا جائے گا جیسا کہ (بیوروکریٹ، اینکر، سیاست دان، فوجی) وغیرہ وغیرہ اور یہ کہانی یہیں قطعی طور پہ تھمنے والی نہیں، سٹاف روم میں بیٹھ کر ماسٹر صاحبان تمام جملہ امور کو سائیڈ پہ کرتے ہوئے اس اجتماعی دلچسپی کے امور کو کبھی بھی مرنے نہیں دیں گے۔

سگریٹ کے ہر کش کے ساتھ بچوں کے سپنے اڑائے جاتے ہیں، اور تو اور گھر سے بڑے بڑے سہانے سپنے سجائے جب طالب علم سکول پہنچیں گے تو وہاں ماسٹر صاحبان پڑھانے سے پہلے انہیں سکول کا گند صاف کرنے کے فرائض سونپ دیں گے اور وہاں سے جان بخشی اسی کی ہو گی جس کے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں گند سے بھری ہوں اور یوں ایک سرکاری سکول میں بچے کے دن کا آغاز ہوتا ہے۔

حوصلہ شکنی کے ان اداروں میں کچھ اساتذہ کا کام صرف بچوں پر اپنے ڈنڈے کی وحشت بٹھانا ہوتی ہے جس پر بچے اسے استاد سے زیادہ علاقہ ایس ایچ او کی نگاہ سے گھور رہے ہوتے ہیں اور تو اور اگر آپ نے واٹر کولر کے بغیر فلٹر کئیے پانی کو پینے کی کوشش کی تو سکول انتظامیہ آپ کے تعاقب پر ساری نفری لگا دیتی ہے اور سب آپ کو گستاخ کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کیونکہ آپ نے ٹھنڈا پانی جو نوش فرمایا تھا۔ یہ کہانی سکول، کالج سے ہوتی ہوئی جب یونیورسٹی پہنچتی ہے تو وہاں ایسے نام نہاد دانشور ٹکرتے ہیں جنہوں نے یونیورسٹی کی چاردیواری اور کتابوں کے ایڈیشن سے باہر نکل کر عملی دنیا کی سنگینیاں نہیں دیکھی ہوتیں، یہ سب سے پہلے تو آپ کو یہ کہہ کر اپنی دھاک بٹھائیں گے کہ ہم نے اس سبجیکٹ میں ڈاکٹریٹ کی ہوئی ہے لہذا ہم سے زیادہ کامیاب پروفیشنل بننا آپ کے لیے ناممکن ہے۔

پی ایچ ڈی سے مرعوب ہو کر دور دراز کے علاقوں سے آنے والے طلبا اگلے چار پانچ سال تو عملی زندگی کا سوچنا بھی چھوڑ دیتے ہیں اور جو کوئی ایک آدھ کوشش کرتا ہے اسے باقی ہجوم نفسیاتی مریض اور نالائق کہہ کر ٹال دیتا ہے اور یوں ٹیلنٹ ہمارے کلاس رومز میں خود کشی پر مجبور ہو جاتا ہے۔

بعض اوقات بہت شفیق، فرشتہ صفت اساتذہ بھی میسر آ جاتے ہیں لیکن ان کو مایوسیوں کے بازار میں ڈھونڈنا ہر کسی کے بس کا کام نہیں۔ چنانچہ لوگ عموماً پڑھنے پڑھانے کو خیر باد کہہ دیتے ہیں کیونکہ باقی کے لوگ باونڈری لائنز کو کبھی کراس نہیں کرنے دیتے۔ پاکستان کے چند ایک اچھے سکول سسٹمز سمیت دنیا بھر میں بچوں کی مستقبل کے حوالے سے ذہن سازی کی جاتی ہے لیکن ہمارے ہاں پیدائش کے دن گھر میں کیا پکانا ہے سے لے کر پڑھنے اور مستقبل میں کیا بننا ہے کی پالیسی سے اس فریق کو باہر کر دیا جاتا ہے جس کے بارے میں یہ سب کچھ ہو رہا ہوتا ہے۔

معذرت کے ساتھ، ہمیں اس بات کو تسلیم کرنا ہو گا کہ ہمارے تعلیمی ادارے حوصلہ شکنی کی درسگاہیں بن چکے ہیں جب تک اس قومی بحران پر ہنگامی پالیسی نہیں بنائی جائے گی تب تک شجرکاری مہمیں بھی نقب زنوں کی طرح بد تہذیب ہجوم سے لٹتی رہیں گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •