دو سال بعد…

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر اعظم عمران خان نے لاہور میں راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے قیام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امید دلائی ہے کہ ”ہر مشکل کے بعد آسانی ہوتی ہے پاکستان پر اب وہ وقت آ چکا ہے جس کے لیے ہم نے وعدے کیے تھے کہ ان کو اب پایہ تکمیل تک پہنچائیں“ اس سے قبل انھوں نے کہا دو سال بہت مشکل گزرے ہیں ملک تباہ حالت میں ملا جسے چلانا ہمارے لئے بڑے معرکے سے کم نہ تھا۔ اس موقع پر وہ اپوزیشن پر تنقید کرنا بھی نہ بھولے ان کا کہنا تھا کہ جب بھی کوئی مسئلہ درپیش ہوتا ہے تو این آر او والے شور شرابا شروع کر دیتے ہیں۔

یہ سب کچھ عین روایت کے مطابق ہے کہ جو بھی حکومت آتی ہے وہ اگلے پانچ سال تک جو کام انتہائی دلجمعی اور لگن کے ساتھ کرتی ہے وہ سابقہ حکومت پر تنقید ہوتی ہے یعنی ہمیں خزانہ خالی ملا، ملک قرضوں میں ڈوبا ہوا تھا، معاشی پالیسیاں انتہائی ناقص تھیں، سابقہ حکمران ملک کو لوٹ کر کھا گئے وغیرہ۔ ۔ ۔ خیر سے موجودہ حکومت بھی یہ کام پچھلے دو سال سے انتہائی خوش اسلوبی سے سر انجام دے رہی ہے شاید اگلے تین سال بھی یہی کہانی ہمیں سننے کو ملے خیر اس کے تو ہم عادی ہو چکے ہیں ہر دور میں چاہے جمہوری آمریت ہو آمرانہ جمہوریت ہمیشہ یہی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں سابقہ حکمرانوں پر کرپشن کے کیس بنتے ہیں مگر پھر کچھ نہیں بنتا سب کو کلین چٹ مل جاتی ہے اور عوام تکتے اور سوچتے رہ جاتے ہیں سابقہ حکمران چور تھے یا ان کو کلین چٹ دینے والے چور ہیں مگر لگتا ہے ہر کوئی اپنی جگہ چور ہے کوئی بڑا چور کوئی چھوٹا چور، یعنی جب پکڑنے والے بھی چور ہوں اور پکڑے جانے والے بھی چور ہوں تو پھر چور چور نہیں رہتا بلکہ سینہ زور ہوجاتا ہے جسے سرائیکی میں ”ڈھیٹ“ کہتے ہیں لگتا ہے اس ملک پر ہمیشہ ”ڈھیٹوں“ کی حکومت رہی ہے اور آج کل بھی ”ڈھٹائی“ کا عروج ہے۔

تاہم وزیر اعظم کی تقریر کا غور طلب پہلو یہ ہے کہ انھوں نے خوشخبری دی ہے کہ اب وہ وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے وعدے پورے کریں۔ یقیناً یہ پہلو باعث اطمینان ہے کہ دو سال بعد ہی سہی انہیں وعدے پورے کرنے کا خیال تو آ گیا ہے۔ حالانکہ الیکشن سے قبل اور پھر کامیابی کے بعد جس شد و مد سے ہمارے وزیر اعظم وعدوں کی بھرمار اور تکمیل کے اعلانات کر رہے تھے تو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ شاید ان کے ہاتھ کوئی چراغ لگ گیا ہے جسے رگڑ کر وہ سارے مسئلے حل کر دیں گے مگر جب کچھ وقت گزرا تو چراغوں میں روشنی نہ رہی حکومت نے رگڑا تو لگایا مگر چراغ کو نہیں بلکہ عوام کو۔ ۔ ۔ اور عوام اس رگڑے میں پستے چلے گئے۔

صورتحال یہ ہے وطن عزیز ایک زرعی ملک ہے جس میں گندم اور کماد وافر مقدار میں پیدا ہوتے ہیں مگر اس وقت نا تو آٹا مل رہا ہے اور نہ چینی دستیاب ہے۔ سابقہ حکومتوں سے لے کر اب تک حکومت میں بیٹھے اعلٰی عہدیداروں تک کئی ایک شوگر ملوں کے مالک موجود ہیں مگر حالت یہ ہے کہ سپریم کورٹ کو ہدایت دینا پڑی کہ عوام کو 70 روپے کلو چینی کی فراہم کی جائے۔ واضح رہے 80 فیصد شوگر ملیں انہی سیاستدانوں کی ہیں جو دن رات عوام کی ہمدردی کی مالا جپتے نظر آتے ہیں ان کے بیانات سنیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان سے بڑھ کر کوئی عوام کا ہمدرد نہیں مگر عوام سے ہمدردی کا یہ عالم ہے کہ اس وقت مارکیٹ میں چینی 90 سے 95 روپے کلو مل رہی ہے۔

جبکہ یوٹیلٹی اسٹورز جو ”ریاست مدینہ“ کے ماتحت عوام کو مناسب قیمت پر اشیاء ضروریہ فراہم کرنے کے پابند ہیں وہاں بھی ہفتے میں ایک بار چینی آتی ہے یعنی آتی ہے تو بس آتی ہے پھر نہیں معلوم کہاں جاتی ہے جبکہ سستے بازاروں میں بھی چینی 70 روپے کلو کے بینر لگے ہوئے ہیں اور لوگ شناختی کارڈ ہاتھوں میں پکڑے قطاروں میں لگے ہوئے ہیں۔

ابھی کل ایک جاننے والا شناختی کارڈ دکھا کر چینی لایا تو آگ بگولا ہوتے ہوئے بولا کیا اسی تبدیلی کے لیے ہم نے ووٹ دیے تھے سابقہ حکومتوں میں تو صرف قطاریں لگی ہوتی تھیں اور آج قطاریں بھی ہیں اور شناختی کارڈ بھی، مجھے تو ایسا محسوس ہوتا جیسے بندہ گھر میں شناختی کارڈ دکھا کر کھانا لے رہا ہو۔ اس ووٹر کا غصہ اپنی جگہ مگر اس پر اتنا ہی کہا جاسکتا ہے کہ شکر کریں حکومت نے آئی ڈی کارڈ مانگا ہے ڈی این اے ٹیسٹ نہیں مانگا۔

اب سننے میں آ رہا ہے کہ وزیر اعلٰی پنجاب نے خود ساختہ مہنگائی کرنے والوں کے خلاف نوٹس لینے کا فیصلہ کر لیا ہے اللہ‎ خیر کرے ہمارے حکمرانوں نے آج تک جس چیز کا بھی نوٹس لیا ہے وہ پھر زمین پر نہیں ملتی بلکہ آسمان تک پہنچ جاتی ہے اب نہیں معلوم مہنگائی کا نوٹس لینے کے بعد یہ کہاں تک پہنچتی ہے۔

جہاں تحریک انصاف کی حکومت کے وعدوں، پچاس لاکھ گھر، ایک کروڑ نوکریوں، جنوبی پنجاب صوبہ اور دیگر وعدوں کا تعلق ہے۔ جنہیں حکومت نے 100 دنوں میں پورا کرنا تھا اگر دو سال بعد ان کا خیال آ گیا ہے تو پھر امید کی جا سکتی ہے اگلے تین سالوں میں ان کا آغاز بھی ہو جائے گا اور شاید بی آر ٹی کی طرز پر بہت جلد پایہ تکمیل تک بھی پہنچ جائیں مگر اس سے قبل ہمیں اس بات پر خوشی کے شادیانے بجانا ہوں گے ایک دوسرے کو مبارکباد دینی ہوگی تحریک انصاف کے انصاف پر داد دینی ہوگی حکومت کی تعریفوں کے پل باندھنے ہوں گے کہ دو سال بعد ہی سہی حکومت نے اس بات کو تسلیم کر لیا ہے کہ اب وہ وقت آ چکا ہے جس کے لیے ہم نے وعدے کیے تھے کہ ان کو اب پایہ تکمیل تک پہنچائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •