حمزہ شفقات کی وائرلیس ایڈمنسٹریشن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شہاب نامہ پڑھتے ہوئے میں سوچا کرتا تھا کیا اس طرح کا ڈپٹی کمشنر سچ میں بھی ہو سکتا ہے؟ کیا آج کے دور میں بیوروکریسی میں ایسا شخص سما سکتا ہے۔ پھر ایک دن مجھے اپنے سوالوں کا جواب اس وقت ملا جب میں خود ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں بیٹھا تھا۔ ایک اسی سالہ بزرگ گرجدار آواز میں غصہ نکالتے ڈی سی کے کمرے میں پہنچ چکے تھے۔ ڈی سی سامنے یوں سہمے خاموش بیٹھے تھے جیسے ان بزرگ کا قرض دینا ہو۔ بزرگ بولتے گئے، انتظامیہ پر غصہ نکالتے گئے۔

ان کی باتوں میں غصے کے ساتھ بطور عام شہری کا کرب بھی نمایاں تھا۔ بزرگ کی انٹری دیکھ کر میں سمجھا ڈپٹی کمشنر ابھی انہیں گرفتار کروا دیں گے لیکن ڈی سی صاحب خاموشی سے سب سنتے گئے۔ بزرگ خاموش ہوئے تو ان کے لئے چائے منگوائی گئی، بٹھایا گیا، اور پورا ماجرا سننے پر پتہ چلا کسی پولیس اہلکار نے بابا جی کے ساتھ بدتمیزی کر دی تھی۔ یہ ڈی سی اسلام آباد حمزہ شفقات کے دفتر کا ایک منظر تھا۔ ٹویٹر پر نام کمانے والے ڈی سی کو نیویارک میں بیٹھے حمید علی نے گولڑہ اسلام آباد میں کسی مسئلے کی طرف نشاندہی کی تو وائرلیس ایڈمینسٹریشن فوری طور پر متحرک ہو گئی، اگلے دو منٹ میں متعلقہ ایس ڈی پی او کو معاملہ ریفر بھی ہو چکا تھا۔ عوام پر رعب و دبدبے کے لیے استعمال ہونے والی ضلعی انتظامیہ عوام کو ہر وقت میسر ہونے لگی ہے، سول سروس اپنے حقیقی معنوں میں اگر کسی نے دیکھنی ہے تو ڈی سی اسلام آباد کی عوام کے لیے ہر وقت دستیابی کو دیکھ لے۔

ٹویٹر اور دفتر میں عوام کے لیے ہر وقت دستیابی کا یہ اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ ہے جو کہ کافی حد تک کار آمد ثابت ہو رہا ہے۔ اسلام آباد کا ڈپٹی کمشنر آفس اس سے پہلے کبھی بھی اس طرح سے عوام کے لیے دستیاب قطعی طور پر نہیں تھا۔

انسان ہونے کے ناتے کئی غلطیاں، کوتاہیاں بھی سرزد ہو جاتی ہیں لیکن موجودہ انتظامیہ وائرلیس سسٹم کے تحت کام کرتی ہے، جس کے لیے آپ کو کسی پاس ورڈ کی ضرورت بھی نہیں پڑتی۔

آپ کو کوئی مسئلہ ہے تو ٹویٹر پر ڈی سی اسلام آباد کو مینشن کریں، ایک اندازے کے مطابق پچانوے فیصد لوگوں کو وہ فوری طور پر ریپلائی کر کے مسائل کے حل کی کوشش کرتے ہیں باقی پانچ فیصد میں شاید کچھ مصلحتیں یا سسٹم آڑے آتا ہو لیکن انتظامیہ کا فوری طور پر ون فائیو سے بھی تیز ری ایکشن سائل کا حوصلہ بڑھا دیتا ہے۔ پاکستان میں وائرلیس ایڈمنسٹریشن کے بانی ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات نے ملک بھر کے ٹائی والے بابو کے نام سے مشہور ایڈمنسٹریشن کو ڈائریکٹ پبلک ڈیلنگ کا ماڈل دیا ہے جو کہ ابھی تک صرف اسلام آباد میں ہی نظر آتا ہے، ملک کے دیگر اضلاع میں عام آدمی کے لیے ڈی سی یا ڈی پی او تو دور کی بات ان کے آپریٹرز کی بھی اپنی الگ تھلگ ٹھاٹھ ہوتی ہے۔ پنجاب کے کسی ڈی سی آفس کا وزٹ کریں تو برطانوی راج کی یادیں تازہ ہو جاتی ہیں۔

قصہ مختصر! وائر لیس ایڈمینسٹریشن کو بھی ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے، شہر پر قبضہ مافیا کی یلغار سب سے بڑا چیلنج ہے، ہم امید کرتے ہیں کہ اس مافیا کے خلاف بھی بلا تفریق کارروائی ہو گی لیکن عوام کے لیے ہر وقت، بر وقت دستیابی پر وائرلیس ایڈمنسٹریشن کو داد دینا بنتی ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •