منقسم اپوزیشن کی چوراہے میں پھوٹی ہنڈیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میڈیا کے ایک حصے کے مطابق اپوزیشن کی مجوزہ آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا ہے یعنی حسرت ان غنچوں پہ ہے جوبن کھلے مرجھا گئے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور اپوزیشن کے درمیان اصل پھڈا اس وقت پڑا جب ایف اے ٹی ایف سے متعلقہ قانون سازی کے لیے حکومت کے پیش کردہ بلوں پر اپوزیشن جماعتیں صاد کرنے پر مجبور ہو گئیں۔ مولانا نے اس حوالے سے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو پر کڑی نکتہ چینی کی۔

ان کے خیال میں ان دو حلیف اپوزیشن جماعتوں نے ان کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔ میری رائے میں ان وقتی اختلافات کے باوجود اے پی سی ہو گی جیسا کہ پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکرٹری چودھری منظور نے کہا ہے کہ اپوزیشن کو اے پی سی کی تاریخ دے دینی چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے میاں شہباز شریف کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف نہ خود کچھ کرتے ہیں نہ کسی کو کرنے دیتے ہیں۔ انہوں نے درست طور پر نشاندہی کی کہ اگر جلد اے پی سی کا انعقاد نہ کیا گیا تو محرم الحرام شروع ہو جائے گا اور معاملہ مزید التوا میں پڑ جائے گا۔

ان کی بات اصولی پر درست ہے لیکن ایسے بیچ چوراہے ہنڈیا پھوڑنے کا مجموعی طور پر اپوزیشن کو ہی نقصان ہو گا۔ ظاہر ہے کہ ایسے معاملات آپس میں صلاح مشورے سے طے ہوتے ہیں میڈیا کے ذریعے نہیں۔ نیشنل پارٹی نے بھی مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی قیادت پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ ان کو بھی گلہ یہی ہے، ان کے سینیٹر میر کبیر کا کہنا ہے کہ پہلے حکومتیں دو پارٹی سسٹم پر بنتی تھیں لیکن اب اپوزیشن بھی دو پارٹی سسٹم پر مشتمل ہے جو بغیر مشاورت کے فیصلے کرتی ہیں۔

یقیناً فیصلے باہمی مشاورت سے ہی ہوتے ہیں لیکن ایف اے ٹی ایف ایسا حساس مسئلہ تھا جس پر اگر بروقت قانون سازی نہ ہوتی تو پاکستان کے گرے لسٹ میں رہنے بلکہ بلیک لسٹ کیے جانے کا بھی قوی امکان تھا۔ ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے امریکی نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز جو حال ہی ریٹائر ہوئی ہیں دو مرتبہ پاکستان صرف اس لئے آئیں کہ اگر پاکستان نے ہوش کے ناخن نہ لیے اور منی لانڈرنگ، غیر ملکی فنڈنگ روکنے اور دہشت گردوں کو کڑی سزائیں دینے جیسے معاملات جلد از جلد نہ نبٹائے تو پاکستان بلیک لسٹ میں جا سکتا ہے۔

حکومت نے اس حوالے سے تین ماہ کی مہلت مانگی لیکن عین یہ مدت مکمل ہونے سے پہلے حکومت کو ہوش آئی کہ قانون سازی ضروری ہے اسی بنا پر ہنگامی طور پر قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس بلا کر اور بعدازاں دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس بلا کر متعلقہ قوانین کو بروقت منظور کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ مسلم لیگ (ن ) اور پیپلز پارٹی کا فیصلہ اس لئے درست تھا کیونکہ اگر پاکستان بلیک لسٹ میں چلا جاتا تو ساری ذمہ داری اپوزیشن پر تھوپی جاتی۔

ویسے بھی شہباز شریف اور بلاول بھٹو نے یہ اندازہ لگا لیا تھا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں یہ بل منظور ہو جائیں گے، اس سے بڑھ کر دونوں کو اس بات کا بھی اچھی طرح علم تھا کہ ایف اے ٹی ایف کی مخالفت سے فوجی قیادت ناراض ہو جائے گی گویا کہ یہ دونوں پارٹیوں کا درست فیصلہ تھا۔ مولانا فضل الرحمن کسی صورت نہیں چاہتے تھے کہ اس قسم کی قانون سازی کی جائے جوان کے، روزگار، پر لات مارنے کے مترادف ہو۔ مولانا اور دو بڑی اپوزیشن جماعتوں میں بنیادی فرق موجود ہے کہ یہ جماعتیں بالخصوص مسلم لیگ ن بھی اب مذہبی بنیاد پرستی پر مبنی پالیسیوں سے آگے نکل چکی ہے جبکہ پیپلز پارٹی روز اول سے ہی لبرل سیاست کرتی رہی ہے۔

اس کے باوصف یہ کہنے میں کوئی شک نہیں کہ اپوزیشن جماعتیں حکومت کے بجائے آپس میں سہ مکھی لڑائی لڑ رہی ہیں۔ پیپلز پارٹی کے رہنما شہباز شریف پر نکتہ چینی کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے اور جے یو آئی (ف) کے سربراہ بھی اپنے ایجنڈے کی آبیاری کر رہے ہیں لہٰذا یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ اپوزیشن کے تین بڑے ”ملاؤں میں مرغی حرام“ ہو رہی ہے۔ بلاول بھٹو اور ان کی جماعت اے پی سی بلانے کے لئے سب سے زیادہ سرگرم ہیں لیکن پیپلز پارٹی کے چیئرمین کے علم میں یہ بھی ہے کہ پنجاب میں ان کی پارٹی اپنا اثر و نفوذ بہت پہلے کھو چکی ہے لہٰذا مسلم لیگ (ن) جو پنجاب میں مضبوط ترین پارٹی ہے کی عملی تائید اور حمایت کے بغیر اپوزیشن کی بیل منڈھے نہیں چڑھ سکے گی۔

یہ الگ مسئلہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے کارکن سڑکوں پر نکلنے اور ماریں کھانے سے تاریخی طور پر کبھی پیچھے نہیں ہٹے لیکن مسلم لیگ (ن) کا معاملہ یکسر مختلف ہے، اس پارٹی کی لیڈر شپ نے ہمیشہ ڈرائنگ روم کی سیاست کی ہے۔ جنرل پرویزمشرف کے دور میں میاں نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز نے عملی تحریک چلانے کی کوشش کی تو پرویز مشرف نے اس احتجاج کو سختی سے کچل دیا تھا۔ جب میاں نواز شریف اور شہباز شریف نے زبردستی وطن واپس آنے کی کوشش کی تب بھی لاہور جو مسلم لیگ (ن) کا گڑھ مانا جاتا ہے سے تمام ارکان قومی اسمبلی بلوں میں گھس گئے۔

اسی بنا پر اے پی سی کا ارادہ سڑکوں پر احتجاج کرنے کا ہے تو ان کے لیے واحد آپشن مولانا فضل الرحمن کے مدرسوں کے طلبا ہیں۔ اس سے قبل جب گزشتہ برس 27 اکتوبر 2019 ء کو مولانا فضل الرحمن نے آزادی مارچ اور اسلام آباد میں دھرنے کا اعلان کیا تو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے ٹال مٹول سے کام لیتے ہوئے اس میں شرکت نہیں کی اور محض علامتی طور پر اپنی دوسرے درجے کی لیڈر شپ کو وقتی طور پر آگے کر دیا تھا۔ مولانا بھی کچھ روز پرجوش تقاریر کرنے کے بعد واپس پدھار گئے۔

مولانا کا سسٹم میں وہ سٹیک نہیں ہے جو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا ہے۔ ان کے برخوردار مولانا اسعد قومی اسمبلی میں، بھائی مولانا عطا الرحمان سینٹ میں ہیں۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کو ایک دوسرے کی ضرورت بھی ہے۔ حال ہی میں وزیر ریلوے شیخ رشید نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت خوش قسمت ہے کہ اسے اس طرح کی اپوزیشن ملی ہے جو کچھ کرنے کے قابل نہیں۔ ایک طرف تو حکومت پر اپوزیشن کا جائز طور پر غصہ ہے لیکن دوسری طرف عملی طور پر منقسم ہے اور کوئی تحریک چلانے کے قابل ہے اور نہ ہی چلانا چاہتی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی سینئر لیڈر شپ ٹاک شوز میں کئی مرتبہ یہ کہہ چکی ہے کہ اگر تحریک چلی تو معاملات ہاتھ سے نکل جائیں گے اور برا بھلا پارلیمانی نظام بھی لپیٹ دیا جائے گا۔ اسی بنا پر حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے آپشن پر غور ہو رہا ہے لیکن عملی طور پر ایسا کرنا مشکل نظر آتا ہے۔ لگتا ہے کہ اے پی سی تو ضرور ہو گی لیکن اپوزیشن کے اپنے تضادات کی بنا پر معاملات نشستند و گفتند و برخاستند سے آگے بڑھے تو یہ بہت بڑا کرشمہ ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •