مریم کی واپسی اور میاں صاحب کی تیاری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مریم نواز نے پاکستانی سیاست کے ٹھہرے ہوئے پانیوں میں بالآخر پہلا پتھر پھینک دیا ہے۔ کل تک جو اپوزیشن ایک دوسرے سے بیزار بیٹھی تھی آج کیسی کھلی کھلی جا رہی ہے۔ فضل الرحمان روٹھے داماد کی طرح منہ پھلائے بیٹھے تھے۔ پیپلز پارٹی زرداری صاحب پر فرد جرم لگنے کے بعد ویسے ہی دبی دبی سی تھی۔ خود ن لیگ کے اندر بڑے بڑے جغادری لیڈر اپنی اپنی ہانک رہے تھے۔ کریلے گوشت والے خواجہ صاحب تو ایک طرف رہے شاہد خاقان عباسی خلائی مخلوق جیسے الفاظ میں الجھ کر ولن بنتے جا رہے تھے لیکن برا ہو خان کے نادان دوستوں کا کہ لٹیا ہی ڈبو دی۔

خیر ابھی کچھ دن پانیوں میں تلاطم رہے گا۔ دائرے بنتے مٹتے رہیں گے۔ اتھل پتھل ہوتی رہے گی لیکن بہرحال یہ بات ماننی پڑے گی کہ بی بی نے چوٹ بڑی ٹائم پر ماری ہے۔ محاورہ سچ ثابت ہو گیا ہے کہ سو سنار کی اور ایک لوہار کی۔ ایک خیال یہ ہے کہ نیازی صاحب کو ذرا سی چیونٹی کاٹ کر چیک کیا گیا ہے کہ کج ساں ہیں یا قربانی سے پہلے ہی ہاتھ پیر ڈھیلے چھوڑ بیٹھے ہیں۔ خیر وچلی گل (اندر کی بات) جو بھی ہو سیاست tit for tat پر چلتی ہے۔ جیسے پچھلے دنوں خان صاحب نے یہ دیکھنے کے لیے کہ نکے میاں صاحب کتنے پانی میں ہیں نیب کو ان پر چھوڑنے کی کوشش کی، بھلا ہو سرجی کا کہ کام آ گئے اور عاشقی میں عزت شہباز بچ گئی۔

یہ بھی پتہ لگ گیا کہ چھوٹے میاں عین وقت پر جو بکری ہو جاتے ہیں تو گل وچوں واقعی کج ہور اے (اندر کی بات واقعی کچھ اور ہے)۔ تو وہی ایپی سوڈ آج ان کے اپنے ساتھ ری پیٹ ہو گئی ہے۔ چلو تسلی ہو گئی، اچھی بات ہے لیکن مجھے لگ رہا ہے کہ خان صاحب کی کمپنی آج کل کچھ ٹھیک نہیں۔ مانا کہ آپ کی حکومت ہے لیکن یہ اڑتے پھرتے آوارہ قسم کے تیر بغل میں لینے کی ضرورت کیا ہے۔ شہباز صاحب اچھے بھلے نکڑے لگ کر دہی کلچہ کھا رہے تھے انہیں کیوں اندر کرانے چلے تھے۔ اپنا بھرم رہنے دیتے۔

چلو گرفتار نہیں ہوئے تو اشارہ سمجھ جاتے۔ امپائر بھی تو وہی اپنا جانا پہچانا تھا لیکن وہ آپ ہی کیا جو باز آجائیں۔ مریم بی بی بھی چپ کر کے بچوں کی شادی بیاہ کے معاملات نمٹا رہی تھیں۔ اب پتہ نہیں آپ کو خود کوئی کھٹک لگی کہ شہزاد اکبر نے کچھ کان میں پھونکا کہ بی بی کچھ بول نہیں رہی۔ لیں پھر بول پڑی ہے۔ بندہ پوچھے کہ ہن آرام اے (اب آرام ہے)؟ اب تو حکومت کے اندر سے بہت سارے لوگوں کے کان کھڑے ہو گئے ہیں کہ یہ پل بھر میں کیا ماجرا ہو گیا، کہ جنگل کا جنگل ہرا ہو گیا۔

کچھ سیانے سازش کی بو سونگھ رہے ہیں، کچھ نورتنوں کو ڈیل کی ہنڈیا چڑھتی نظر آ رہی ہے۔ ہاں کچھ شہباز گل جیسے اللہ لوک بھی ہیں جو وہی ایک دونی دونی اور دو دونی چار کا پہاڑا پڑھے جا رہے ہیں۔ پڑھنے دیں ہمارا کیا لیتے ہیں۔ اڑتی اڑتی ایک اس خاکسار نے بھی سن لی ہے۔ جاتے جاتے آپ بھی سن لیں۔ خبر ٹھیک نکلے تو میرے کھاتے ڈال دیں ورنہ دفع دور کر کے آگے نکل جائیں۔ سنا ہے میاں صاحب نے بھی لندن میں بوریا بسترا باندھنا شروع کر دیا ہے۔ پلیٹیں شلیٹیں تو پہلے ہی پوری ہو گئیں تھیں۔ دوسری طرف بھی سنا ہے کچھ خیر خواہوں نے سمجھایا ہے کہ خان جی بڑی ہو گئی ہے، ہن جان دیو لیکن وہ حکومت ہی کیا جو سمجھ جائے۔

روایت ہے کہ ایک مراٹھی جھومتا ہوا بار میں داخل ہوا۔ پہلے جام کا آرڈر دینے کے بعد بلند آواز میں کہنے لگا: ”میں آپ کو سرداروں کے لطیفے سنا کر خوش کرنا چاہتا ہوں“ پاس بیٹھا ایک شخص بولا ”ضرور سناؤ لیکن یاد رکھنا بار اٹینڈنٹ سردار ہے۔ کلب کا ویٹر بھی ایک سردار ہے۔ میں چھ فٹ دو انچ کا نوجوان اور بلیک بیلٹ ہوں اور سردار ہوں۔ وہ جو تمہاری دوسری جانب ایک پہلوان بیٹھا دکھائی دے رہا ہے وہ بھی سردار ہے جبکہ کلب کا سکیورٹی انچارج بھی ایک سردار ہے۔ لہذا جو بھی لطیفہ سناؤ سوچ سمجھ کر سنانا“ ۔
مراٹھی نے کچھ سوچا اور پھر بولا۔ ”رہنے دو۔ ایک ایک لطیفہ پانچ سرداروں کو کون پانچ پانچ مرتبہ سمجھائے گا؟“ باقی سمجھ تو آپ گئے ہی ہوں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •