مریم کی واپسی اور میاں صاحب کی تیاری

مریم نواز نے پاکستانی سیاست کے ٹھہرے ہوئے پانیوں میں بالآخر پہلا پتھر پھینک دیا ہے۔ کل تک جو اپوزیشن ایک دوسرے سے بیزار بیٹھی تھی آج کیسی کھلی کھلی جا رہی ہے۔ فضل الرحمان روٹھے داماد کی طرح منہ پھلائے بیٹھے تھے۔ پیپلز پارٹی زرداری صاحب پر فرد جرم لگنے کے بعد ویسے ہی دبی دبی سی تھی۔ خود ن لیگ کے اندر بڑے بڑے جغادری لیڈر اپنی اپنی ہانک رہے تھے۔ کریلے گوشت والے خواجہ صاحب تو ایک طرف رہے شاہد خاقان عباسی خلائی مخلوق جیسے الفاظ میں الجھ کر ولن بنتے جا رہے تھے لیکن برا ہو خان کے نادان دوستوں کا کہ لٹیا ہی ڈبو دی۔

Read more

بینظیر بھٹو، پاکستانی سیاست کی ساحرہ

بینظیر بھٹو پاکستانی سیاست کی ساحرہ تھیں۔ تھیں کہنا شاید مناسب نہیں ہوگا۔ وہ اب بھی پاکستانی سیاست کی ساحرہ ہیں۔ 86 میں وطن واپسی اور 88 میں وزارت عظمیٰ سے لے کر مرتے دم تک بلکہ آج تک ہماری سیاست ان کے سحر سے باہر نہیں آ سکی۔ یہی کمال ان کے والد مرحوم کا تھا۔ کئی دہائیوں تک لوگ ان سے تعلق میں گرفتار رہے۔ چاہے وہ تعلق محبت کا تھا یا نفرت کا۔ مجھے اعتراف ہے کہ

Read more

وبا کے دنوں میں علالت۔ ۔ ۔

چچا غالب اللہ بخشے واقعی ولی تھے۔ جنت مکانی ڈیڑھ دو صدی قبل ہی کورونا وائرس کا خطرہ بھانپ کر چاہنے والوں کو احتیاطی تدابیر تک بتلا گئے۔

پڑیے گر بیمار تو کوئی نہ ہو تیمار دار
اور اگر مر جائیے تو نوحہ خواں کوئی نہ ہو

دوسرے مصرعے کو تو سر دست جانے دیجیے کیونکہ اگر آپ فوت ہوگئے تو سمجھیے کہ سارا ٹنٹا ہی ختم ہوا اور ویسے بھی کورونا کے دنوں میں خواہ مخواہ انتقال فرما جانا ایسی کوئی عقلمندی کی بات نہیں۔ نہ جنازے کا وہ روایتی اجتماع ہوگا نہ چار کندھوں کی سواری میسر آئے گی نہ نوحہ گروں کا ساتھ ہوگا نہ احباب کو پلاؤ کھانے کا موقع ملے گا

Read more

اباجی کی یاد میں۔ ۔ ۔

ہوش سنبھالا تو ابو کا پہلا تاثر جو پڑا وہ ڈر کا تھا۔ وہ دور ہی ایسا تھا۔ ہم 80 اور اس سے قبل کی دہائیوں میں پیدا ہونے والے بچے عموماً اپنے بچپنے میں والد سے ڈر کر ہی رہتے تھے۔ اباجی پیشے کے اعتبار سے زمین دار تھے اور اس قدیم مقولے پر دل و جان سے عمل پیرا تھے کہ اولاد کو کھلاؤ سونے کا نوالہ اور دیکھو شیر کی نظر سے۔ بسا اوقات انہیں کئی کئی

Read more