خواجہ سرا اور ان کے حج عمرے


نوکری کرتے کرتے ایک وقت ایسا آیا کہ حاجی کیمپ کے اندر ایک کیمپ لگانے کا فیصلہ کیا۔ صبح صبح وہ کیمپ کھول دیا جاتا عین اس طرح جیسے دکان کھلتی ہے۔ جا کر سب سے پہلے کاؤنٹر باہر نکالنے ہوتے، پھر کسی صفائی کرنے والے بھائی کو بلا کر جھاڑو دلوایا جاتا، پھر کرسیاں ترتیب سے رکھی جاتیں، پیڈسٹل فین چلایا جاتا اور یوں دکان جم جاتی۔ جب تک دھوپ صرف سامنے سے آتی، تب تک مختلف بینر لٹکا کر گزارا کیا جاتا۔ جیسے جیسے سورج چڑھنا شروع ہوتا دھوپ ہر طرف سے آنی شروع ہو جاتی، پینافلیکس سے بنا وہ کیمپ دھوپ میں تندور کی طرح تپ جاتا تو پنکھا وغیرہ سب بے کار ہو جاتے۔ پھر نماز کا وقت ہوتا تو لوگوں کی آمدورفت بھی کم ہو جاتی۔ رش کم ہوتے ہی سب لوگ دکان سے نکل کر حاجی کیمپ کی ٹھنڈی بلڈنگ میں پناہ لیتے، وہ ایک اور ہی دنیا تھی۔

چہروں پر تھکن ہوتی جذبے جوان ہوتے، لمبی لمبی قطاروں میں لگے لوگ مختلف کاموں کے لیے کھڑے ہوتے۔ کوئی لائن بینک کاؤنٹر کے سامنے لگی ہوتی، کچھ لوگ دوائیں وغیرہ پیک کروانے آئے ہوتے کیوں کہ دوائیں ایک مخصوص مہر بند پیکٹ میں ہی جا سکتی ہیں۔ کچھ نے سفری بیگ، احرام اور عبایا خریدنے ہوتے تو وہ ان دکانوں پر رش لگائے ہوتے، کچھ حفاظتی ٹیکے لگوانے بڑے صبر سے قطار بنا کر موجود ہوتے۔ ان قطاروں میں دور دراز علاقوں سے آئے بوڑھے لوگ بھی موجود ہوتے تھے۔ کوئی خوش قسمت ہوا یا پیسوں کی تنگی نہ ہوئی تو ساتھ جوان اولاد آ جاتی تھی ورنہ اکثر اکیلے آئے ہوتے تھے۔ وہ بے چارے اکثر چھوٹی چھوٹی باتیں پوچھنے کے لیے آتے تھے، پوری کوشش ہوتی کہ کوئی اگر مدد چاہے تو اسے متعلقہ شعبے تک گائیڈ کر دیا جائے۔

ایسا ہی ایک دن تھا جب چھوٹے سے قد اور کافی چوڑے جسم کے ایک صاحب دور سے آتے نظر آئے۔ قریب آتے رہے اور پہلے نظر آیا کہ کچھ سانولی سی رنگت ہے، پھر نوٹ کیا کہ لباس بالکل ڈھیلا ڈھالا جھبلا سا ہے اور کلین شیوڈ ہیں، پھر محسوس ہوا کہ چلتے ہوئے نامعلوم سی لٹک ہے ان کی چال میں۔ جب راہداری میں داخل ہوئے تو بھی کوئی پچاس قدم کا فاصلہ ہو گا لیکن لوگوں کے مڑ مڑ کر دیکھنے کی وجہ سے معلوم ہو چکا تھا کہ یہ خواجہ سرا ہیں۔ گرمی کی وجہ سے ایک بڑا سفید رومال انہوں نے سر پر لپیٹ رکھا تھا اسی کے کونے اس طرح لٹکائے ہوئے تھے کہ سائیڈ سے بھی دھوپ نہ آئے۔ ان کی پیشانی اور چہرے پر پسینہ چمک رہا تھا، کچھ گھبراہٹ کا شکار تھے۔ اچھا خاصا انسان گھبراہٹ کا شکار ہو جاتا ہے جب وہ چل رہا ہو اور لوگ مسکرا رہے ہوں، یہ تو بے چارے زندگی بھر مسکراہٹوں کا عذاب سہتے آئے تھے یہ کیسے نہ ہوتے۔ پھر ایسے مقدس لوگ جو خدا نے اپنے گھر بلائے ہوں ان میں گھر کر تو فقیر بھی اپنے آپ کو پست محسوس ظاہر کر رہا تھا، کہاں بے چارے وہ خواجہ سرا، جو کہلاتے ہی گناہوں کی پوٹ ہیں۔

تو وہ جب قریب آئے اور کنفرم ہو گیا کہ خواجہ سرا ہیں تو پوچھ لیا کہ ماں جی، کیا معلومات لینے آئی ہیں؟ (ایک انسان اپنے آپ کو مرد یا عورت جو بھی سمجھتا ہو، اور ویسے ہی مردانہ یا زنانہ کپڑے پہنے، تو یہ اس کا حق ہے کہ اسے وہی سمجھ کر مخاطب کیا جائے جو وہ چاہتا ہے۔ یہ اصول فقیر اپنی ذات تک قائم رکھتا ہے، ضروری نہیں کوئی اور اسے درست سمجھے) ماں جی کہنے لگیں، ”پت اللہ بھلا کرے کجھ معلومات لینیاں سن“۔ انہیں گرمی کے باوجود اپنے کیمپ میں آنے کی دعوت دی کہ جہاں وہ موجود تھیں وہاں موجودات میں اضافہ ہوا جاتا تھا۔ وہ ساتھ آ گئیں۔
”ماں جی حکم کرو“

”پت (بیٹا، پتر) میں حج تے جانا سی، مینوں شناختی کارڈ بنوانا پیا۔ اوہناں نے کیا مرداں آلا (مردوں والا) بنے گا، میں اوہی بنوا لیا۔ فیر پاسپورٹ دی باری آئی، او وی اوس طرح ای بنیا۔ فیر میں عرضی گھل دتی (درخواست بھیج دی)، رب سوہنے نے بلا لیا۔ تیاریاں میریاں میں پہلے دن توں کر ری آں (تیاری پوری ہے)، اک گل (بات) نی سمجھ آ رئی۔ “

”ماں جی او ٹریننگ وغیرہ لئی اے تسی“
”آہو پت“
”تے اوتھے ای پچھ لینا سی“
”پت اوتھے نال ہور بتیرے لوک (بہت سے لوگ) سن“

”خیر اے ماں جی؟ دسو جے میں کوئی مدد کر سکیا۔ “ (خیریت تو ہے ماں جی، بتائیے اگر کچھ میرے لائق ہے تو؟ )

”پت میں شروع توں اپنے آپ نوں عورت سمجھیا اے۔ کدی نی یاد کہ میں مرداں آلے کپڑے پائے ہون (کبھی نہیں یاد کہ مردوں والے کپڑے پہنے ہوں)۔ میرے وال (بال) وی کڑیاں ہار لمبے نے، اج وی ایس لئی سر تے اے رومال بنیا (باندھا) اے۔ میری شکل ویخ لے، میں جو مرضی کر لواں میں عورت ای لگاں گی۔ پت بڑا مسئلہ اے، میں مرداں آلا احرام نی پا سکدی، میں ساری عمر دوپٹہ پایا اے، مینوں گناہ لگے گا پت، میں ایہو جیا کم نئیں کر سکدی۔ میں اے پچھن آئی آں کہ میں عورتاں آلا احرام پا کے جا سکنی آں یا نئیں، پت کوئی طریکا؟ ”

مفتی نہ ہونے کی بنا پر کوئی فیصلہ اپنی سوچ سے باہر تھا۔ انہیں یہ مفت مشورہ ضرور دیا کہ کسی مولانا صاحب سے رابطہ کر لیں۔ وہ یہ بات سن کر طنزیہ سی مسکراہٹ سے دیکھنے لگیں۔ جھینپ کر اور لاجواب ہو کر انہیں ساتھ لیا اور انفارمیشن کاؤنٹر کا راستہ دکھا دیا۔

جلد ہی وہ واپس جاتی نظر آئیں، ان کا سر جھکا ہوا تھا، باقی تمام سر حسب معمول اٹھے ہوئے تھے۔

اس وقت خواجہ سرا حج پر جا سکتے تھے۔ آج سناؤنی آئی تو احساس ہوا کہ بے چاروں کی ایک مشکل تو کم ہوئی۔ اب خدا جو سب کی دعا سنتا ہے، یہیں سے ان کی دعا سنے گا۔ اس کے گھر جانے کی ضرورت اب ان کو نہیں رہی، کہ وہاں کا دانہ پانی ان کے لیے بند ہو چلا ہے۔ جنت کی چڑیوں کو ڈائریکٹ فلائیٹ اب موت کے بعد ہی ملے گی۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 495 posts and counting.See all posts by husnain

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments