کیا واقعی کورونا ختم ہو گیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہماری آبائی اور وبائی عادت ہے کہ جو بات ہمارے مطلب کی ہوتی ہے وہ چاہیے ہماری ناپسندیدہ ہستی بھی کرے تو ہم اس پر یقین کر لیتے ہیں۔ اسے ہم مفاداتی دلچسپی کے باہمی عوامل کہیں تو زیادہ بہتر ہو گا۔ انسان کا یہی رویہ اسے خود غرض بناتا ہے۔ ہم پاکستانی معاشی مسائل کے حوالے سے انتہائی مشکلات کا شکار ہیں۔ گزشتہ 72 برسوں میں کوئی ایسا حکمران نہیں آیا جس نے انتخابی نعروں اور وعدوں کو عملی جامہ پہنا کر ہمارے لیے دودھ کی نہریں بہائی ہوں۔ ہم نے کما کر یا ادھار مانگ کر زندگی کی گاڑی کا پہیہ رواں دواں رکھنے کی کوشش کی ہے اور کر رہے ہیں۔

مجموعی طور پر غریب کسی بھی دور حکومت میں خوشحال نہیں ہوا۔ سیلاب، زلزلے اور طوفانوں نے ہماری زندگیاں مشکل ضرور کیں مگر جینے کے ہاتھوں تنگ کوئی نہیں تھا۔ کہیں نہ کہیں زندگی کا اور مقدر کا ریلیف پیکج ہمیں مل ہی رہا تھا۔ مگر گزشتہ دو سالوں اور پھر رواں سال ہماری فضاؤں میں رقص کرتی ہوئی موت کورونا وائرس نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی۔ لوگ پہلے معاشی مسائل کا شکار تھے تو اب مایوسی کا شکار ہو گئے ہیں۔ میں بہت سارے لوگوں کو ہمت ہارتے ہوئے دیکھ رہی ہوں۔ کاروبار نہیں، ملازمت نہیں، مزدوری نہیں تو باقی کیا بچا۔ ڈپریشن، ٹینشن اور ان سے وابستہ مسائل۔ بہت جلد انٹی ڈپریشن ادویات بھی مزید مہنگی ہو جائیں گی کیونکہ لوگوں میں تیزی سے ان ادویات کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے۔

اس حوالے سے ایک سروے بہت ضروری ہے تاکہ لوگوں میں مایوسی کے بڑھتے ہوئے احساسات کو دور کیا جا سکے۔ دیکھیں ہر کام حکومت نے نہیں کرنا کیونکہ حکومتی اقدامات کی وجہ سے ہی افراد معاشرہ میں معاشی عدم استحکام کی جڑیں مضبوط ہو رہی ہیں۔ موجودہ حکومت نے وبا کے دنوں میں کوئی اہم اور قابل ذکر ریلیف پیکج نہیں دیا۔ میں نے اپنی آنکھوں سے گاڑیوں سے اتر کر احساس پروگرام کے تحت ملنے والے بارہ ہزار وصول کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

ان افراد جن میں مرد و خواتین دونوں ہی شامل ہیں کو انتہائی بے شرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ میں نے اپنی سوسائٹی میں حکومتی پارٹی سے وابستہ فرد کو امدادی سامان اپنی صاحب حیثیت سہیلیوں میں تقسیم کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ میں ان سب اخلاقی جرائم کی عینی شاہد ہوں اور خاموش مجرم بھی۔ مگر ہمارے موجودہ سیاسی نظام میں چونکہ اخلاقی کرپشن کی کوئی اہمیت نہیں اس لیے ایسے چھوٹے چھوٹے جرائم کی معافی موجود ہے تاہم یہ چھوٹے چھوٹے اخلاقی جرائم ہی بڑی کرپشن کا باعث بنتے ہیں۔

جب مستحق افراد تک مدد نہیں پہنچتی تو ان کا احتجاج مختلف نوعیت کا ہوتا ہے۔ وہ چھیننے کی کوشش کرتے ہیں یا پھر اپنی زندگی ہار جانے کی۔ گزشتہ کئی سالوں میں وطن عزیز میں خود کشی کی شرح میں اضافے کی خبریں عام ہے۔ میرا موضوع پاکستان میں خود کشیوں میں اصافہ نہیں، سیاسی کرپشن بھی نہیں۔ موجودہ حکومت کی بدترین اقربا پروری، لوٹ مار اور مافیا کی جیت بھی نہیں کیونکہ مافیاز ایک آدھ دور کی پیداوار نہیں 72 برسوں سے یہ ہماری زندگیوں کو نوچ نوچ کر کھا رہی ہیں۔ مگر پچھلے انہیں قابو میں رکھتے تھے سوائے مذہبی مافیا کے اور عمران خان کے پاس کوئی سیاسی منشور اور جامع پالیسیاں نہیں اس لیے وہ ان مافیا کے ہاتھوں رج کے بلیک میل ہو رہا ہے اور انہیں فرار کے محفوظ راستے بھی دے رہا ہے جہانگیر ترین، ظفر مرزا اور تانیہ ایدروس اس کی بڑی اہم مثالیں ہیں۔

میرا موضوع تو پاکستان میں کورونا وائرس کے خاتمے کی خبروں سے ہے کیونکہ حکومت نے تعلیمی اداروں کے علاوہ تقریباً تمام ادارے کھول دیے ہیں اور اس خوش فہمی میں مبتلا ہے کہ لوگ ہنسی خوشی SOPs پر عمل کریں گے۔ تو کیا واقعی کورونا وائرس پاکستان سے ختم ہو گیا ہے یا یہ بھی حکومت کا عوامی دباؤ ختم کرنے کے لیے ایک نفسیاتی کھیل ہے۔ یا پھر چار مہینوں کی انتھک کوشش کے بعد حکومت پاکستان کے کورونا وائرس سے مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں اور کورونا نے تنگ آ کر پاکستانی حکام بالا کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ پائین آپ جلسے کرو یا جلوس نکالو، عیدیں تو منا چکے ہو میں نہیں آنے کا آپ کے دیس میں۔ یاد رہے اس سے پہلے کورونا وائرس کے ساتھ ٹائمنگ طے ہوئی تھی شام پانچ بجے سے صبح آٹھ بجے تک اور ہفتہ، اتوار کورونا کو بازاروں میں گھومنے کی کھلی چھٹی تھی۔

ہاں شام پانچ بجے سے پہلے اور ہفتہ اتوار کے علاوہ باقی دنوں میں کورونا نے حلف نامہ لکھ کر دیا تھا کہ اس دوران میں بازار میں نظر بھی آجاؤں تو میری خیر نہیں لیکن عید پر آ کر کورونا وائرس نے ضد کر لی کہ عید کی شاپنگ میں کرنی اے بازار بند کروا دو۔ لہذٰا مجبوراً حکومت کو ماننا پڑا اور اب عید کے فوراً بعد اچانک کرونا نے پکا معاہدہ کیا ہے حکومت کے ساتھ کے ہن بس ہن موجاں کرو۔

میرے اہم صحافی دوستوں کا موقف ہے کہ پاکستان میں سے کورونا وائرس کی شدید قسم والی اسٹیج ختم ہو چکی ہے جبکہ بعض کے مطابق پاکستان میں کورونا وائرس نے کبھی بھی شدت اختیار نہیں کی۔ ایک موقف یہ بھی سامنے آیا ہے کہ حکومت کی جانب سے ٹیسٹ روک دیے گئے ہیں یعنی نہ ڈھولا ہو سی تے نہ رولا ہو سی والی پالیسی اپنا لی ہے اس کی سیاسی وجوہ ہیں یا معاشی یا پھر نا اہلوں کو سمجھ نہیں آ رہی کہ کرنا کیا ہے۔

طب سے وابستہ دوستوں کا موقف اس سے الگ ہے اور میرا ذاتی مشاہدہ اور آپ بیتی اس سے الگ۔ میں نے کورونا وائرس کی ابتدائی یا بنیادی علامات کا سامنا کیا ہے اور بروقت علاج سے اس کی شدت پر قابو پایا ہے۔ وائرس کا خوف بہت زیادہ تھا اور اس سے نروس سسٹم کمزور ہوا جو امیون سسٹم پر اثر انداز ہوا۔ میری فیملی نے مجھے خود سے الگ نہیں کیا میں نے بس ماسک کا استعمال گھر کی حدود میں بھی کیا۔ پانچ دن کے علاج، پرہیز، احتیاط اور آرام سے خوف ختم ہوا تو جسم کی سونی پڑتی وادیوں میں زندگی رقص کرنے لگی۔

سی این این کی حالیہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں میں سکول جانے والے 9700 بچوں میں کورونا وائرس مثبت آیا ہے۔ برطانیہ میں لاک ڈاؤن پھر لگایا جا رہا ہے۔ پوری دنیا میں کورونا وائرس کی دوسری لہر سر اٹھا رہی ہے جبکہ پاکستان کے حکمران عوام کو شنید دے رہے ہیں کہ کھل کھلا کر موجاں کرو کہ پاکستان میں وائرس ختم ہو گیا ہے۔ کیا پاکستان اس زمین کا حصہ نہیں ہے یا ہمارے حکمران سات لاکھ 96 ہزار 96 مربع کلومیٹر کا علاقہ اٹھا کر مریخ پر لے گئے ہیں جہاں وائرس موجود نہیں ہے۔

خدارا عوام کو اندھی موت کے حوالے نہ کریں انہیں صاف صاف بتائیں کہ ملک معاشی طور شدید ترین بحران کا شکار ہے اور حکومت عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام اور عوام کا ساتھ دینے سے قاصر ہے۔ ہمارے خزانے عوام کے لیے خالی اور حکومتی سہیلیوں اور عیاشیوں کے لیے کھلے ہیں اس لیے خود ہمت کریں۔ کمائیں لوٹیں۔ جسم فروشی کریں۔ ڈاکو بنیں، راہزنی کریں جو مرضی کریں بس ہم پر نہ رہیں۔ اور کورونا سے ڈریں، اس کا مقابلہ کریں بچ گئے تو پھر زندگی کی بقا میں مصروف ہو جائیں یعنی جو جیتا وہی سکندر باقی سارے قبر دے اندر۔

میں یہ کالم کبھی نہ لکھتی مگر آج ہی آئر لفٹ بس سروس کی ای میل آئی ہے کہ ہم نے دوسرے ممالک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ اور نئی لہر کے خدشات کے پیش نظر اپنی سروس معطل کر دی ہیں کیونکہ ہمیں آپ کی زندگی عزیز ہے۔ ایک سروس فراہم کرنے والی فرم کو میری بقا کی فکر لاحق ہے مگر جو حکومت میرے دیے گئے ٹیکسوں پر پل رہی ہے اسے میری فکر نہیں اور وہ مجھے اندھی موت کے حوالے کر رہی ہے وہ بھی اس جواز کے ساتھ کہ پتہ نہیں کیوں اور کیسے پاکستان سے کورونا وائرس ختم ہو گیا ہے؟ کیا واقعی پاکستان سے کورونا وائرس ختم ہو گیا ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •