اپوزیشن کا رویہ اور پاکستان کے سیاسی مستقبل پر اثرات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے قیادتوں کو اب یہ بات ضرور یاد آتی ہو گی کہ ملک میں دھاندلی زدہ الیکشن کے نتائج کو قبول کرتے ہوئے اسمبلی کا حلف اٹھا کر انہوں نے فاش سیاسی غلطی کی تھی۔ مولانا فضل الرحمان نے دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ غیر شفاف الیکشن میں بدترین دھاندلی کو مسترد کرتے ہوئے اسمبلی کا حلف نہ اٹھایا جائے۔ لیکن مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے کئی باہمی اجلاسوں کے بعد یہ کہتے ہوئے کہ اسمبلی کا حلف اٹھانے کے اعلان کیے کہ ”ملک کا سسٹم“ چلتا رہے۔

ملک کی دونوں بڑی اپوزیشن سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو حکومت کے ہاتھوں احتساب کے نام پر بدترین سیاسی انتقامی طو رپر تادیبی کارروائیوں کے شکنجے میں کس دیا گیا ہے۔ پارلیمنٹ کی بالادستی کی داعیت کی دعویدار ان دونوں سیاسی جماعتوں کی طرف سے واضح طور پر نظر آیا کہ انہوں نے ملک کے موجودہ نظام اور طریقہ کار کو تسلیم کرتے ہوئے مفاہمت کی راہ اپنائی ہے۔ لیکن یہ مفاہمت کی راہ وزیر اعظم عمران خان حکومت کے حوالے سے نہیں بلکہ ملکی مقتدرقوت کے اختیار کو تسلیم کرتے ہوئے ملک پہ مسلط موجودہ طریقہ کار کو بھی قبول کیا ہے۔ دونوں اپوزیشن جماعتوں کی قیادتوں کو یہ ضرور یاد آیا ہو گا کہ اسی سسٹم کے چلتے رہنے کے لئے انہوں نے الیکشن نتائج کو تسلیم کرنے اور اسمبلی میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

وزیر اعظم عمران خان حکومت بڑی چابک دستی سے دونوں اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کو احتساب کے نام پر اتنا دبا چکی ہے کہ اپوزیشن قیادتیں مقتدر قوت کی بالادستی کے سامنے ”کورنش“ بجا لاتے محسوس ہو تی ہیں۔ حکومت کبھی ایک ایوزیشن جماعت کے رہنماؤں کو تادیبی کارروائیوں کا نشانہ بناتی ہے۔ ایک اپوزیشن جماعت کے رہنماؤں کو سزایاب کرتے ہوئے حکومت دوسری اپوزیشن جماعت کے رہنماؤں کو اوسان بحال کرنے کا وقت دیتی ہے۔

اور اس کے بعد دوسری اپوزیشن جماعت کے رہنماؤں کو مشق ستم کانشانہ بنایا جاتا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کو تادیبی کارروائیوں سے مجبور اور کمزور کرنے کے حکومتی رجحان میں اس وقت بھی شدت آتی ہے کہ جب وزیر اعظم عمران خان حکومت کو یہ نظر آتا ہے کہ دونوں اپوزیشن جماعتوں کی قیادتوں کا مقتدر قوت کے ساتھ رابطے میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی قیادت اورمرکزی رہنماؤں کے خلاف احتساب کے نام پر تادیبی کارروائیوں میں سختی آئی تو میاں محمد نواز شریف جیل میں ہونے کے باوجود پارلیمنٹ کی بالادستی اور ووٹ کی عزت کے بیانئے پر ڈٹے رہے، مریم نواز کی جیل میں قید کے باوجود مسلم لیگ (ن) پر نواز شریف کا بیانہ عوامی حمایت کے اظہار کے ساتھ نمایاں رہا۔ پھر ہوا یہ کہ نواز شریف صاحب علاج کے لئے لندن چلے گئے۔ میاں نواز شریف کی طرف سے سیاسی بیانات کا سلسلہ ختم ہو گیا اور مریم نواز نے گوشہ نشیں ہوتے ہوئے سیاسی بیانات سے مکمل گریز شروع کر دیا۔ اب یہ بات حرف عام ہے کہ شہباز شریف مقتدر قوت کے حوالے سے حکومت میں لائے جانے کے امکان کے تناظر میں لندن سے واپس آئے۔

اب مسلم لیگ (ن) پر میاں شہباز شریف کا کنٹرول ہے اور انہی کا مقتدر قوت کے ساتھ تعاون اور مفاہمت سے چلنے کابیانیہ بھی جماعتی پالیسی کے طور پر نمایاں ہے۔ اپوزیشن جماعتیں سختیاں اٹھانے کے باوجود اپنی موجود ہ حکمت عملی سے شاید اپنے لئے آئندہ حکومت میں آنے کے امکانات تلاش کر رہی ہوں لیکن اس طرز سیاست کو عوام کی طرف سے پذیرائی حاصل نہیں ہے۔ جھک جانے، تسلیم کر لینے، موجودہ سسٹم کو قبول کرتے ہوئے تابعداری کے روئیے کا اظہار دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کی عوامی ساکھ پر اثر انداز ہو رہا ہے۔

جنرل ایوب کی بے لگام طاقت کو دس سال انیس دن کی حکومت کے بعد جانا پڑا۔ جنرل ضیا الحق کو 11 سال ایک مہینہ اور 12 دن کی حاکمیت کے بعد رخصت ہونا پڑا۔ اسی طرح جنرل پرویز مشرف کو فوجی بغاوت سے حاصل ہونے والے اقتدار کے 8 سال 10 ماہ اور 6 دن بعد نہ صرف رخصت ہونا پڑا بلکہ ان کے خود ساختہ طرز حاکمیت کا بھی خاتمہ ہو گیا۔ یوں پاکستان میں گزشتہ چند سال سے رائج نظام کی مدت بھی محدود ہے۔ ملک کے پر شعبے میں غیر آئینی حاکمیت کے نظام کی مدت محدود ہونے کی ایک بڑی نشانی یہ بھی ہے کہ ہر شعبہ ہائے زندگی کو جبر اور سرکاری بیانئے کے سامنے سر تسلیم کیے جانے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اب تک ملک میں جبر اور ظلم پر مبنی نظام کی مدت کا ریکارڈ جنرل ضیاء حکومت کے 11 سال کا عرصہ ہے۔

پارلیمنٹ اور ملک کی تقدیر پر حاوی اس نظام کے قیام کو ابھی چند ہی سال ہوئے ہیں۔ بقول شاعر ”دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے“ کے مصداق کہ کب تک ملک اور عوام کی قیمت پر یہ نظام مسلط رکھ پاتے ہیں۔ جنرل ایوب کے عہد اقتدار کے نتائج کا خمیازہ مشرقی پاکستان کے سقوط کی صورت نکلا، جنرل ضیا الحق کے نظام حکومت کے ”ثمرات“ ملک اور عوام اب تک بھگت رہے ہیں اور جنرل مشرف کے نظام حکومت نے ملک کو کئی سنگین خطرات اور نقصانات سے دوچار کرتے ہوئے ملک کے ہر شعبے کو مفتوح کرنے کی حکمت عملی کا تحفہ دیا ہے۔ اب مملکت پاکستان جبر، زور زبر دستی پر مبنی مسلط ملکی سسٹم کے کن کن تباہ کن اور ہولناک نقصانات سے دوچار ہو سکتا ہے، اس کے خدو خال واضح ہوتے جا رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •