کیمبرج اور پاکستانی طلبہ


میں لکھنے کے معاملے میں تھوڑی سست واقع ہوئی ہوں۔ میں اب بھی غفلت کی بکل مارے بیٹھی رہتی مگر کیمبرج کے گزشتہ روز آنے والے نتائج اور اس کے نتیجے میں ہمارے اے لیول کے طلبہ کی آہ وفغاں نے وہ آسمان سر پر اٹھایا کہ خدا کی پناہ۔ کیمبرج نے کرونا وائرس کی وجہ سے ملتوی ہونے والے امتحانات کا حل یہ نکالا کہ دنیا بھر میں اپنے اداروں کے اساتذہ اورپرنسپل صاحبان سے کہا کہ وہ طلبہ کے متوقع گریڈ لگا کر بھجوا دیں۔ یہ وعدہ بھی کیا گیا کہ ممکنہ ثبوتوں کی بنا پر جو گریڈ لگائے جائیں گے اس سلسلے میں اساتذہ پر بھروسا کیا جائے گا اور ان کی رائے کو مقدم سمجھا جائے گا۔

اساتذہ سے کہا گیا کہ وہ طلبہ کے گریڈز کی ترجیحی بنیادوں پر درجہ بندی کریں اور اداروں کے سربراہان اس کو حتمی شکل دے کر بھجوا دیں۔ کیمبرج کے لئے یہ قابل قبول ہو گا۔ اساتذہ نے طلبہ کے گریڈز لگا کر بھجوا دیے اور نتائج کا انتظار کرنے لگے۔ اس دوران کیمبرج نتائج تیار کرنے لگا اس کے پیش نظر اساتذہ کے فیصلوں کے ساتھ ساتھ دیگر حقائق بھی تھے جن میں طلبہ کی گزشتہ سالوں کی کارکردگی بھی ایک محرک تھا۔ او لیول کے اساتذہ کے پیش نظر جماعت نہم کے سالانہ نتائج جماعت دہم کے مارچ کے مہینے تک کی طلبہ کی کارکردگی تھی جس کی بنیاد پر پوری ذمہ داری سے گریڈز لگائے گئے۔

اے لیول کے اساتذہ کے پیش نظر اے لیول کے طلبہ کے گزشتہ یعنی اے ایس کے نتائج اور یہاں تک کہ اولیول کے نتائج بھی تھے جن کی بنیاد پر متوقع گریڈز دیے گئے اور پوری چھان پھٹک کرنے کے بعد اداروں کے سربراہان نے گریڈز بھجوا دیے۔ اے لیول کے طلبہ جن کا مستقبل ان نتائج کا مرہون منت تھا کیونکہ ان کا سکول کا آخری سال تھا۔ ان نتائج کے بعد انھوں نے مختلف یونیورسٹیوں میں داخلہ لینا تھا۔ بیشتر طلبہ نے جن کے او لیول اور اے لیول کے سال اول کے نتائج تسلی بخش تھے پورے اعتماد سے یونیورسٹیوں کا رخ کیا اور کافی طلبہ نے تو اندرون اور بیرن ملک داخلوں کے لئے رقم کا کچھ حصہ بھی جمع کروا دیا تاکہ ان کا حاصل کیا گیا داخلہ منسوخ نہ ہو۔

یہاں تک تو راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔ اس کے بعد اگست کا مہینہ آیا تو جہاں طلبہ منتظر تھے وہاں اساتذہ کی بے چینی بھی عروج پر تھی۔ کیونکہ اب کیمبرج کے متوقع فیصلے کی دبی دبی بازگشت یہاں بھی سنائی دینے لگی کہ کیمبرج اپنے ہی فیصلوں کو پس پشت ڈال کر لاگرتھم کے فارمولے پر عمل کرنے جا رہا ہے۔ اس نے دنیا بھر کے معزز اساتذہ کرام کے فیصلوں کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں۔ اور اے لیول کے طلبہ کے قیمتی سال ضائع ہونے کی پرواہ نہ کرتے ہوئے طلبہ کو اس فیصلے کی بھینٹ چڑھا دیا۔

صرف یہ دیکھا کہ گزشتہ سالوں میں کتنے اے سٹار کتنے اے کتنے بی یا کتنے سی آتے تھے اسی فارمولے کے تحت سب طلبہ کو ایک ہی لاٹھی سے ہانک دیا۔ میں ارباب اختیار سے پر زور اپیل کرتی ہوں کہ خدارا معصوم بچوں کے مستقبل کو تاریک ہونے سے بچا لیں۔ مغرب تو ہمیشہ سے انسانی حقوق اور بچوں کے حقوق کا علمبردار ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تو اس وقت کہاں گئی آپ کی روایت۔ میں انتہائی ادب کے ساتھ یہ کہنے کی جسارت کر رہی ہوں کہ پاکستان سے ہر سال کروڑں روپے آپ لوگ کماتے ہیں اور طلبہ اور اساتذہ آپ کے ادارے سے منسلک ہونے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ آپ کے ادارے کا نام احترام اور عدل کے ترازو میں ہمیشہ سربلند رہا ہے اس کی لاج رکھ لیجئیے۔

جس طرح برطانیہ میں آپ نے موک کے نتائج کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کر کے اساتذہ کے بنائے ہوئے نتائج کو عزت اور اہمیت دی اسی طرح پاکستان اور دنیا بھر کے طلبہ کے سلسلے میں اپنا فیصلہ تبدیل کر کے ادارے کی عظمت کو بحال کر دیجئیے۔ کہیں یہ نہ ہو کہ طلبہ ادارے کی بے رخی سے گھبرا کر خدا نخواستہ کیمبرج سے منہ موڑ کر دیگر اداروں کی طرف متوجہ ہو جائیں اور ادارے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ جائے۔

مانا کہ آپ نے طلبہ کو اکتوبر نومبر میں امتحانات دینے کا مشورہ بھی دیا تھا لیکن اکتوبر نومبر میں کرونا ختم ہو جائے گا اور امتحانات اپنے وقت پر ہوں، قبل از وقت اس بات کی کوئی ضمانت نہ تو آپ دے سکتے تھے اور نہ ہی اساتذہ اور تعلیمی ادارے دے سکتے تھے۔ آخر میں آپ سے صرف اتنی درخواست ہے کہ بچے صرف انگلینڈ کے ہی پیارے نہیں ہوتے جن کے دلوں کے ٹوٹنے کی صداوں نے آپ کو اپنا فیصلہ واپس لینے پر مجبور کر دیا بلکہ پاکستان اور باقی دنیا کے بچوں کادل بھی اتنا ہی قیمتی اور نازک ہوتا ہے۔ خدارا ہمارے بچوں کا بھی احساس کریں اور اپنے فیصلے پر ہمدردانہ غور کر کے اس کو تبدیل کریں۔

Facebook Comments HS