سر سبز پاکستان کی جانب ایک قدم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہر 14 اگست کو ہم اپنا یو م آزادی جوش وولولہ کے ساتھ مناتے ہیں۔ 1980 ؁ء کی دیہائی میں ایک فوجی آمر جنرل ضیاء الحق نے عوام کی توجہ ملک پہ چھائے گمبھیر سایوں سے ہٹانے کی خاطر انہیں یوم آزادی کے موقع پہ جھنڈیاں لہرانے کو خصوصی جشن منانے پہ لگادیا۔ اس وقت سے یہ رسم ایسی جڑ پکڑ چکی ہے کہ یکم اگست سے ہی ملک کے کونے کونے پہ ہر سڑک کے کنارے ہر ٹریفک سگنل پہ چھوٹے کھوکھے بنا کر لوگ یوم آزادی کی مناسبت سے جھنڈے پن ٹوپیاں اور ماسک فروخت کر رہے ہوتے ہیں۔

یہ حسن اتفاق ہے کہ ہمارا یوم آزادی اور مون سون کی بارشیں ایک ساتھ آتی ہیں جو درخت لگانے کے لیے نہایت موزوں ہیں۔ ہمارے وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ درخت لگانا صدقہ جارئیہ ہے خصوصاً ان حالات میں جب پوری دنیا آلودگی کے اثرات سے تباہی کی جانب گامزن ہے۔ ان حالات میں ہم آب وہوا کی تبدیلی کے اثرات سے آنے والی تباہی کی جانب گامزن ہے۔ ان حالات میں ہم آب وہوا کی تبدیلی کے اثرات سے آنے والی تباہی کو درخت لگا کر روک سکتے ہیں۔

وزیراعظم اور صوبوں کے گورنروں نے ہفتہ شجرکاری کی مہم کا آغاز کیا۔ عمران خان نے اس مہم کو ”دس ارب درختوں کی سونامی“ کا نام دیا جس کا مقصد ایک دن میں پورے ملک میں ساڑھے تین لاکھ پودے لگانا ہے۔ جبکہ وزیر اعظم نے قو م سے گزارش کی ہے کہ وہ درختوں کے بغیر کوئی جگہ خالی نہ چھوڑیں، راقم کی تجویز ہے کہ ہمیں یوم آزادی کے موقع کو پاکستان کو سر سبز بنا نا کی مہم کا آغاز کرنا چاہیے۔ جن کھوکوں میں یکم اگست سے پاکستان کے پرچم فروخت ہوتے ہیں وہاں عوام کو پودے فراہم کیے جائیں تاکہ وہ انہیں اپنے گھروں میں لگا کر ملک کو سرسبز وشاداب بنا سکیں۔

ملک بھر میں تمباکو کمپنیاں جو سگریٹ تیار کر کے ملک کے ماحول کو پراگندا کر رہی ہیں اس نقصان کا کفارہ ادا کرنے کی خاطر گرین نرسریاں قائم کی ہیں جو سال بھر پودوں کی مفت فراہمی کرتی ہیں۔ یوم آزادی کے موقع پہ ان سگریٹ کمپنیوں کو آگے آنا چاہیے اور پرچم فروشوں کو مفت یہ پودے فراہم کریں تاکہ پرچم بیچنے والے ان پودوں کو فروخت کرکے اپنی روز کما سکیں۔ اس مہم کی وفاقی اور صوبائی سطح پہ کفالت ہونی چاہیے اور اس کی تشہیر ہونی چاہیے تاکہ قوم سر سبز وشاداب پاکستان کی جانب رواں ہو۔

شجرکاری کی اہمیت کو جتنا اجاگر کیا جائے کم ہے۔ ایک ایکڑ پہ اگے ہوئے توانا درخت اتنی ہی کاربن ڈائی اکسائیڈجذب کرتے ہیں جتنی کہ ایک گاڑی 26,000 کلومیڑ چلا کر خارج کرکے فضا کو آلودہ کرتی ہے۔ ایک بر س میں ایک ایکڑ پہ اگے ہوئے درخت اتنی آکسیجن خارج کرتے ہیں جو 18 افراد کے سانس لینے کے لیے کافی ہو۔

درخت بدبو اور آلودہ گیس ( نائٹروجن آکسائیڈ، امونیا، سلفر ڈاؤ کسائیڈ اور اوزون) کو جذب کرتے ہیں اور ان کے پتے اور چھال فلٹر کا کام انجام دیتے ہیں۔ زیادہ ترنئے لگائے ہوئے درخت ایک ہفتے میں صرف 25 لیٹر پانی استعمال کرتے ہیں۔ جیسے جیسے درخت بڑھتے ہیں وہ ماحول کی نمی میں اضافہ کرتے ہیں۔ درخت بارش کے پانی کے بہاؤ کو روک کر زمین میں جذب ہونے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ پہاڑی علاقوں میں ڈھلوانوں پہ اگے درخت پانی کے بہاؤ کو سست کردیتے ہیں اور زمین کے کٹاؤ کو روکتے ہیں۔

جن علاقوں میں اوزون کی تہہ ختم ہوچکی ہو وہاں جلد کے کینسر میں مبتلا ہونے کے امکانات میں اضافہ ہوجاتا ہے لیکن درخت کو قدرت نے یہ صلاحیت عطا کی ہے کہ وہ الٹراوؤلیٹ بی Ultar Violet Bکے اثرات کو 50 فیصد کم کردیتے ہیں۔ گھروں کے گرد احتیاط سے لگائے ہوئے درخت موسم گرمامیں گرمی کے زور کو کم کردیتے ہیں جس سے بجلی کے ذریعہ پنکھے یا ائرکنڈ شینر چلانے کے اخراجات بھی کم ہو جاتے ہیں۔

درخت مٹی کو صاف کرتے ہیں اور تیز سیلاب پر قابو پانے کے لئے موثر ثابت ہوتے ہیں۔ درختوں پہ پرندے گھونسلے بناتے ہیں اور ماحول کو خوشمنابناتے ہیں۔ علاوازیں پھلدار درخت نہ صرف خوراک مہیا کرتے ہیں، غریب عوام ان پھلوں کو فروخت کرکے روزی بھی کماسکتے ہیں۔

مندرجہ بالا معلومات شاید عمومی علم ہیں لیکن جیسے ہی جھنڈے فروخت کرنے کی مہم کا آغاز ہوا اسی طرح وقت کی ضرورت ہے کہ ”سر سبز وشاداب پاکستان“ کے نعرے کے ساتھ ایک نئی مہم کا آغاز کیا جائے۔ جب یہ مہم مقبول ہو جائے گی تو غریب پرچم فروش جو یہ پرچم خریدتے ہیں وہ اپنے گھروں پہ پودے اگائیں گے تاکہ اگست کامہینہ شروع ہوتے ہی وہ انہیں فروخت کرکے آمدن حاصل کریں۔ جس طرح ویلنٹاین ڈے Valentine Dayپہ کونے، ہر ٹریفک کے سگنل کے قریب بچے سرخ گلاب فروخت کرتے نظر آتے ہیں وہ اگست شرو ع ہوتے ہی پودے فروخت کرتے نظر آئیں گے۔

پاکستان کے پرچم 14 اگست کے قریب فروخت ہوتے ہیں اور یوم آزادی گزرتے ہی ہمارا قومی پرچم گلی کوچوں میں پاؤں تلے رونداجاتا ہے اور اس کی بے حرمتی ہوتی ہے۔ اس کے برعکس اگر درخت لگائے جائیں تو وہ سر سبز وشاداب پاکستان کی مہم کو فروغ دیں گے۔

ٖفی الوقت وزیر اعظم اور صوبائی گورنروں کی ہفتہ شجرکاری کی مہم کا آغاز کی تقریب محض پبلسٹی کا موقع نظر آتی ہے۔ اگر پاکستان کو سر سبز وشاداب بنانا ہے تو بیان بازی اور سطحی تشہیر سے کی مہم سے بالاتر ہو کر کام کرنا چاہیے۔ خلوص نیت سے اگر ہر گھرانہ صرف ایک درخت بھی لگائے تو ی ہرے بھرے سر سبز وشاداب پاکستان کی جانب ایک بڑا قدم ہوگا۔ اگر ضیاء الحق یوم آزادی پہ پاکستان کے پرچم کو گلی کوچوں پہ پہنچا سکتا ہے تو عمران خان سر سبز وشاداب پاکستان بنانے کے خواب کی تعبیر کو بھی پورا کر سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •