کون سی آزادی، کیسا جشن؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شرم آتی ہے آج اپنے بچوں کو یہ تاریخ بتاتے ہوئے کہ وہ آزادی جس کا جشن ہر برس چودہ اگست کے دن منایا جاتا ہے۔ وہ نام نہاد لہو رنگ آزادی ہزاروں عورتوں کی آبروؤں کو روند کر ملی تھی۔ یہاں سوال یہ نہیں کہ وہ آبروئیں کیوں لٹیں۔ یا پھر کس نے لوٹیں تھیں؟ بلکہ سوال تو یہ ہے کہ تب آزادی کے جھانسے میں آئیں ان ہزاروں عورتوں نے اپنی آبروئیں بچانے یا پھر لٹ لٹا کر کنوؤں میں چھلانگیں کیوں لگا دی تھیں؟ خود کشیاں کیوں کی تھیں، کیوں اپنی جانیں دے دی تھیں؟ یہ صرف ایک سوال نہیں بلکہ اس آزادی کا پوسٹ مارٹم ہے۔ کوئی فرق ہی کب پڑتا ہے سرحد کے اس پار ہوں یا اس پار۔ مگر ایک عورت کے پیدا ہوتے ہی اس کے انسانی وجود کی تمام تر عزت و آبرو اندام نہانی کی تجوری میں رکھ کر پھر تمام عمر اس بے غیرت مردانہ غیرت سے اس تجوری کی نگہبانی کرواتے ہیں۔

ورنہ یوں تو جنسی زیادتی محض ایک درندگی ہے، اور ایک ظلم ہے۔ جس کا کسی بھی وجود کی عزت یا ابرو سے کوئی لینا دینا نہیں۔ اب گو کہ یہاں اس خطہ جہالت میں عورت تو نام ہی جنس کا ہے۔ یہاں ہر وہ عورت جس کی یہ عزت و آبرو کی تجوری لٹ لٹا جائے۔ اس کے لئے تو زندگی ہی موت ہے۔ مگر کیوں ہے؟ کیا یہی ہے ایک مظلوم سے ہمدردی اور انصاف کا معیار؟

انسانیت ہی نہیں بلکہ آزادی کا حقیقی مفہوم تو یہ تھا کہ وہ تمام عورتیں جن پر تقسیم کے دوران جنسی زیادتیوں کے مظالم ٹوٹے وہ یہاں آ کر سر اٹھا کر جی پاتیں۔ ان کے ساتھ ہوئے مظالم کا بھرپور ازالہ کیا جاتا۔ ان کو اسی عزت و وقار کے ساتھ گھروں میں بسایا جاتا کہ جس کی کہ وہ حقدار تھیں۔ ان کی کوکھوں سے وہ تمام بچے دنیا میں آتے اور اس تاریخ سے خود انصاف کرتے کہ قربانیوں کا تقدس تو یہی تقاضا کرتا ہے۔ مگر نہیں بس قربانیوں کی لت لگی ہے۔ ہزاروں مظلوم عورتیں جانوں سے گئیں اور وہ تاریخ کے صفحات میں مہان قربانیاں ٹھہریں۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ اگر ان بیچاری مظلوموں کو یہاں سے کسی بھی سہارے کی کوئی امید ہوتی تو وہ پھر بھلا جان سے ہی کیوں جاتیں؟ مگر نہیں یہاں یہ کون سوچتا ہے۔ قربانیاں دینا اور لینا ہمارا قومی مشغلہ جو ٹھہرا۔

ورنہ تاریخ تو یہی کہتی ہے کہ پہلا قافلہ پاکستان کے پنجاب سے ہی لٹ لٹا کر سرحد پار پہنچا تھا۔ گویا کہ یہ کرتوت بھی انہی آزادی کے متوالوں ہی کے تھے۔ اور جوابی کارروائی کے طور پر پھر جو ہوا ہو سو ہوا۔ اور پھر اس تاریخ پر تقسیم بنگال اپنی مہر ثبت کر دیتی ہے۔ جہاں ہزاروں کنواری دوشیزاؤں کی کوکھوں میں پنجاب ہی کے جنسی درندگی کے انہی عادی سپوتوں نے اپنے تخم چھوڑے تھے۔ کبھی تو ان بنگالی دوشیزاؤں سے پوچھو جو بن باپ کے بچوں کو سینوں سے لگائے اسی آزادی کا بھاری لگان دے رہی ہیں۔

ہاں، تمہاری آبرو کوئی لوٹے یا پھر تم کسی کی لوٹو کہیں کوئی فرق نہیں ہاں مگر فرق تب ضرور پڑتا تھا اگر انہی مسلی ہوئی آبروؤں، مسخ کیے وجودوں کو گلے سے لگا لیا ہوتا۔ موت کی اس گھنی سیاہ تاریخ پر کہیں سے تو زندگی کا چڑھا سورج دکھایا ہوتا۔ مظلوموں کو آزادی صرف موت کی آغوش نے ہی نہ دی ہوتی۔ اور اگر یہ حقیقت میں قربانیاں تھیں تو پھر ان کا نوچا گیا، مسخ ہوا وجود مقدس بھی ٹھہرایا ہوتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •