پنجاب کی تقسیم: سکھ لیڈروں کا کردار کیا تھا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یوم آزادی کی صبح جب موبائل پر نظر ڈالی تو مکرم ڈاکٹر ساجد علی صاحب کا ایک کالم ” دو قومی نظریہ: چند سوالات ” پڑھنے کو ملا ۔ یہ کالم مکرم و جاہت مسعود صاحب کے ایک کالم کا تسلسل تھا۔ جس میں دو قومی نظریہ کے حوالے سے کچھ سوالات اُٹھائے گئے تھے۔ ان میں سے ایک اہم سوال یہ تھا کہ اگر ہندوستان کے مسلمان ایک علیحدہ قوم تھے تو پھر اسی کلیہ کے تحت ہندوستان کے سکھ، پارسی اور مسیحی علیحدہ قوم کیوں نہیں تھے؟ ان دونوں بزرگوں نے بہت وسیع کینوس پر تصویر بنائی ہے۔ خاکسار اپنی حقیر بساط کے مطابق اس کے ایک گوشے کے بارے میں کچھ گزارشات پیش کرے گا۔

ہندوستان کی تقسیم کا ایک دردناک پہلو پنجاب کی تقسیم کا بھی ہے۔ بنگال کی طرح پنجاب کو بھی ہندوستان اور پاکستان میں تقسیم کیا گیا۔ تھوڑے ہی عرصہ میں سرحد کے دونوں طرف چار لاکھ کے قریب افراد کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ ہزاروں عورتیں اغوا ہوئیں۔ اتنے وسیع پیمانے پر نقل مکانی ہوئی کہ مغربی پنجاب میں ہندو یا سکھ دیکھنے کو نہیں ملتا تھا اور مشرقی پنجاب میں مسلمانوں کا صفایا کر دیا گیا۔

پنجاب کا ایک اپنا کلچر تھا جو کہ اسی چھری سے ہمیشہ کے لئے تقسیم کر دیا گیا۔ اس تقسیم کا سب سے زیادہ ماتم سکھ احباب کی طرف سے کیا جاتا ہے کہ ہمارا دل پنجاب کاٹ کر تقسیم ہوا۔ اور یہ ان کا حق بھی ہے کیونکہ بہر حال پنجاب کا صوبہ سکھ احباب کے لئے مادر وطن کی حیثیث رکھتا ہے۔

یہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ اس تقسیم میں سکھ لیڈروں کا کیا کردار تھا؟ یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ مسلم لیگ کی طرف سے علیحدہ ملک کے مطالبہ سے بہت پہلے سکھ لیڈر پنجاب کی تقسیم کا مطالبہ پیش کر چکے تھے۔ اور یہ مطالبہ 1931 میں دوسری رائونڈ ٹیبل کانفرنس پر پیش کیا گیا تھا۔ اس کانفرنس میں سردار سمپورن سنگھ اور سردار اجال سنگھ صاحب سکھ برادری کے نمائندے تھے۔ انہوں نے میمورنڈم پیش کیا تھا کہ پنجاب میں مسلمان 55 فیصد، ہندو 32 فیصد اور سکھ 11 فیصد ہیں۔ اس طرح مسلمانوں کو واضح اکثریت حاصل ہو گئی ہے۔

اس وقت پنجاب پانچ ڈویژنوں میں تقسیم تھا ۔ سکھ نمائندگان نے نشاندہی کی تھی کہ ملتان ڈویژن اور راولپنڈی ڈویژن میں مسلمانوں کی بہت زیادہ اکثریت ہے۔ اس لئے مناسب ہوگا کہ ضلع لائلپور اور منٹگمری کو چھوڑ کر ان دو ڈویژنوں کو پنجاب سے علیحدہ کر کے صوبہ سرحد میں شامل کر دیا جائے۔ اس کا فائدہ انہوں نے یہ بیان فرمایا تھا کہ پنجاب میں کسی مذہب کے لوگوں کی اکثریت نہیں رہے گی۔ دوسرے لفظوں میں سکھ احباب کو فیصلہ کن ووٹ حاصل ہوجائے گا۔

جب آزادی کا مرحلہ آیا تو کانگرس اس شرط پر تقسیم پر راضی ہوئی کہ صوبہ پنجاب اور بنگال کے وہ علاقے جن میں مسلمان اکثریت میں نہیں ہیں ان صوبوں سے علیحدہ کر کے ہندوستان میں شامل کئے جائیں۔ مئی 1947 میں قائد اعظم نے اس تجویز کی مخالفت کی تھی کہ ان دونوں صوبوں کی تقسیم کی جائے۔ آئین ساز اسمبلی کے صدر کانگرس کے ڈاکٹر راجندرا پرساد نے قائد اعظم کے دلائل کو مسترد کرتے ہوئے بیان دیا تھا کہ تقسیم ہو رہی ہے تو مکمل ہونی چاہیے۔

اس وقت سکھوں کی پوزیشن یہ تھی کہ ان کی اکثریت پنجاب میں آباد تھی لیکن وہ کسی ایک ضلع میں بھی اکثریت میں نہیں تھے۔ متحدہ پنجاب میں صرف بارہ فیصد آبادی سکھ احباب پر مشتمل تھی ۔ پنجاب کے بیس سے اوپر اضلاع تھے اور صرف چار اضلاع یعنی امرتسر ، فیروزپور، لدھیانہ اور جالندھر میں سکھ آبادی بیس فیصد سے اوپر تھی۔ نو اضلاع تو ایسے تھے جن میں سکھ آبادی دس فیصد سے بھی کم تھی۔ اگر ہندوستان تقسیم نہ ہو رہا ہوتا تو سکھوں کی اکثریت ایک صوبے میں رہتی لیکن اس طرح دو صوبوں میں تقسیم ہو کر سیاسی طور پر کمزور ہونا انہیں گوارا نہیں تھا۔ بہر حال پنجاب کے بائونڈری کمیشن کے روبرو سکھ برادری نے میمورنڈم پیش کیا تھا ۔

اس میمورنڈم میں سکھ برادری نے مطالبہ کیا تھا کہ اگر چہ بہت سے اضلاع میں اکثریت پاکستان میں شامل ہونا چاہتی ہے لیکن انہیں ہندوستان میں شامل ہونا چاہیے کیونکہ یہاں سکھ برادری کی بہت زیادہ جائیدادیں ہیں اور ان کے مقدس مقامات ہیں۔ اس بنا پر ان کا مطالبہ تھا کہ لاہور شیخوپورہ سیالکوٹ نارووال لائلپور گوجرانوالہ اوکاڑہ دیبالپور حافظ آباد وزیر آباد ٹوبہ ٹیک سنگھ سب کو ہندوستان میں شامل کرو۔

بہر حال پنجاب کی خونی تقسیم ہوئی اور تاریخ کی بھیانک ترین نقل مکانی شروع ہوئی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سرحد کی دونوں طرف شدید مظالم کئے گئے اور یہ مرحلہ پنجاب کی تاریخ کا شرمناک باب ہے۔ لیکن اس عمل کے نتیجے میں پہلی مرتبہ بعض اضلاع میں سکھ احباب کو اکثریت حاصل ہوئی۔ بعد میں مشرقی پنجاب کو اس طرح تقسیم کیا گیا کہ اب بھارت کے پنجاب میں سکھ احباب کی تعداد پچاس فیصد سے اوپر ہے۔ یہ دانستہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا تھایا نہیں اس کا فیصلہ پڑھنے والے خود کریں گے۔ لیکن آخر میں دہلی میں برطانوی سفیر ٹرنس شون کی ایک اہم رپورٹ کااقتباس درج کرنا ضروری ہے۔ یہ رپورٹ اکتوبر 1947 میں برطانوی حکومت کو بھجوائی گئی:

“اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سکھوں نے مسلمانوں کے قتل عام میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ مشرقی پنجاب کی نسبت یہ عمل سکھ ریاستوں میں زیادہ نمایاں نظر آتا ہے۔ اس صوبے میں سکھ مغربی پنجاب سے ہزاروں کے جتھوں کی صورت میں داخل ہو رہے تھے۔ ان کے جانور ان کی گاڑیاں اور گھر کا سازو سامان ان کے ساتھ تھا۔ وہ نیم فوجی انداز میں ان زرعی زمینوں میں داخل ہوئے جن سے مسلمانوں کو بے خل کیا گیا تھا۔

جیسا کہ میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ اس بات کے بہت شواہد موجود ہیں کہ سکھ اس دہشت گردی میں کلیدی کردار ادا کر رہے تھے تھے جس نے دہلی کی مرکزی حکومت کو تقریبا بے بس کر دیا تھا۔ یہ تقریبا یقینی ہے کہ اس غرض کے لئے ایک زیر زمین تنظیم کام کر رہی تھی۔ پنڈت نہرو نے لا قانونیت کی مرکزی وجہ کی طرف اشارہ کیا ہے جسے جڑسے اکھیڑنا ضروری ہو گیا ہے۔ اس بارے میں بہت چرچا ہوا ہے کہ سکھ جلد یا بدیر “سکھستان” بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ “

حقیقت یہ ہے کہ آزادی کے وقت ہندوستان اس لئے نہیں تقسیم ہوا کہ مسلمانوں نے ” دو قومی نظریہ ” پیش کیا تھا بلکہ اس لئے تقسیم ہوا کہ بد قسمتی سے ہندوستان کی سیاست شروع ہی سے ” کئی قومی نظریہ ” کی بنیادوں پر استوار کی گئی تھی۔ جب لارڈ کرزن نے بنگال کی تقسیم کی تو کانگرس اور ہندوئوں نے زمین آسمان ایک کر دیا کہ ہم مر جائیں گے لیکن اپنی ماں ” بنگال ” کو تقسیم نہیں ہونے دیں گے ۔ اور آخر یہ تقسیم ختم کر اکے دم لیا کیونکہ اس وقت کےبنگال میں ہندو اکثریت میں تھے۔ جب 1947 میں سارا بنگال پاکستان میں شامل ہونے کا وقت آیا تو پھر اسی کانگرس نےضد کر کے بنگال کی تقسیم کرائی اور اپنے حصے کا بنگال لے کر علیحدہ ہو گئے۔ کیونکہ اس وقت کے بنگال میں مسلمان اکثریت میں تھے۔ اسی طرح سکھ حضرات نے پہلے اپنی قوم کو چند اضلاع میں جمع کیا۔ علیحدہ صوبہ حاصل کیا اور جیسا کہ برطانوی سفیر نے پیشگوئی کر دی تھی 1970 کی دہائی میں علیحدہ ملک کا مطالبہ کر دیا۔

صحیح تاریخ ایک عمدہ رہبر ہے۔ لیکن پہلے تمام درست حقائق سامنے رکھنے ضروری ہیں۔ اب اس بات کی ضرورت ہے کہ دونوں ملک ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کر کے اپنے اپنے ملک میں ایسا معاشرہ تشکیل دیں جس میں تمام مذاہب اور مختلف قومیتوں سے وابستہ اور مختلف زبانیں بولنے والے برابر کے شہری بن کر زندگیاں گذاریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •