اجی ریپ، شادی اور زنا بالرضا میں آخر فرق ہی کیا ہے؟


یہ جو نیا فساد ڈالا دیا ہے ناں ان بے غیرت، کافر سازشیوں نے عورت کی مرضی والا، اس سے ساری گڑبڑ ہو گئی ہے۔ ورنہ ہم مرد تو عورت پر شادی کا احسان دھرتے ہوئے بہت باریکیوں میں نہیں جاتے تھے۔ دلہن کی عمر کیا ہے؟ دولہا کی عمر کیا ہے؟ کیا وہ ایک دوسرے کو جانتے ہیں؟ کیا وہ ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں؟ کیا عورت شادی پر راضی ہے؟ شادی کرنا بھی چاہتی ہے یا نہیں؟ کیا وہ کسی اور سے تو شادی نہیں کرنا چاہتی؟ کیا عورت کسی غم، دکھ یا صدمے کی حالت میں تو نہیں؟ یہ سارے چونچلے عورت کو خراب کر رہے ہیں۔ اس سے بڑی معاشرتی خرابیاں بھی جنم لے رہی ہیں۔ بے حیائی اور گناہ بڑھ گیا ہے اور شادی کی اہمیت گھٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہاں ہم ان خرابیوں کا جائزہ لیتے ہیں۔

یہ عورت کی مرضی والا مسئلہ تب کھڑا ہوتا ہے جب اسے (عورت کو) اپنی شادی کے بارے میں بات کرنے کا موقع ملتا ہے۔ کیا ہی اچھا تھا جب عورت یوں بے یارو مدد گار نیز مادر پدر آزاد نہ تھی۔ ہم سب لوگ بہت ساری مصیبتوں سے بچے ہوئے تھے۔

اس لئے یہ بہت ضروری ہے کہ عورت کا کوئی ولی ہو اور وہ (عورت) اس کے ماتحت ہو تاکہ اسے اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کی مصیبت نہ اٹھانی پڑے۔ ولی ٹھیک فیصلہ کر سکتا ہے کہ اس کے تابع عورتوں کی کب اور کس کے ساتھ شادیاں ہونی چاہئے۔ اور جہاں تک شرعاً مرضی کا تعلق ہے تو وہ تو نکاح کے وقت پوچھ ہی لی جاتی ہے۔ جس پر وہ شرما کر یا گھبرا کر کوئی اشارہ کر دیتی ہے۔ اور اس اشارے کا مطلب ہوتا کہ وہ دل و جان سے اس شادی کے لئے راضی ہے۔

عمر کی بات کرنا غیرت مند گھروں کی عورتوں کے لئے بے عزتی اور بے حیائی کی بات ہے۔ جب وہ اپنے نئے سرتاج کے سپرد کی جا رہی ہے اور اسے (نئے سرتاج کو) قبول ہے تو عورت کو تو شکر بجا لانا چاہئے کہ اس کی شادی ہو رہی ہے۔ عمر کا کیا ہے، اگر وہ عورت سے چھوٹا ہے تو کچھ ہی برسوں کی بات ہے بڑا ہو جائے گا۔ بھٹو صاحب بھی تو اپنی پہلی بیوی سے کافی چھوٹے تھے تو ان کا گزارا ہو نہیں گیا کیا؟ بھٹو صاحب کی پہلی بیگم بھٹو صاحب کی پھانسی تک ان کے نکاح میں تھیں۔ بہت فرمانبردار تھیں۔ دونوں نے ایک دوسرے کو کبھی تکلیف نہیں دی۔ بھٹو صاحب جب بڑے ہو گئے تو بھی انہوں نے پہلی بیوی کو تکلیف نہیں دی اور اپنے مشکل کاموں کے لئے یا شاید سارے کاموں کے لئے ایک اور شادی کر لی۔ لہٰذا بے پناہ سیاسی مصروفیات کے باوجود پہلی بیوی کی لائف کی روٹین میں کوئی فرق نہ پڑا۔

اور اگر وہ بہت چھوٹی ہے تو کوئی بات نہیں چند برسوں میں ہی عمر پوری ہو جائے گی اور اچھا شوہر اپنی بیوی کی جسمانی بلوغت تک تو صبر کر ہی لیتا ہے۔ مگر شادی ہو جائے تو اچھا ہے تاکہ دونوں جانب تمام متعلقہ مردوں کے سر سے ایک نوجوان کنواری عورت کا بوجھ تو ہلکا ہو جائے۔

جہاں تک ایک دوسرے کو جاننے کا تعلق ہے تو یہ بات واضح رہے کہ شادی سے پہلے ایک دوسرے کو جاننا بے حیائی کے زمرے میں آتا ہے اور غیرت مند گھروں کی خواتین ان چکروں میں نہیں پڑتیں۔ جب شادی ہو جائے گی تو عورت کو تو شوہر سے محبت ہو ہی جائے گی کیونکہ وہ اس کا مجازی خدا جو بن جائے گا۔ اور شوہر، وہ تو محبت نہ بھی کرے تو اس کا کام چل جاتا ہے۔

آخری بات عورت کے دکھی یا صدمے میں ہونے کی ہے۔ او بھئی عورت جب صدمے میں ہے تو اس کے لئے اس سے بہتر خبر کیا ہو سکتی ہے کہ اس کی شادی ہو رہی ہے۔ اور اگر کوئی عورت یا لڑکی صدمے میں اس وجہ سے ہے کہ کسی شریف آدمی نے اس کا ریپ کر دیا ہے تو اس سے بہتر حل کیا ہو سکتا ہے کہ اسی عاشق سے اس کی شادی کر دی جائے جو اپنے عشق کے ہاتھوں اتنا مجبور ہوا کہ اسے ریپ کرنا پڑا۔ اس سے تو اس عورت کے جسمانی اور روحانی، سارے گھاؤ بھر جائیں گے اور خوشی خوشی اپنے نئے نویلے شوہر کی خدمت میں جت جائے گی اور جنت کمائے گی۔

ہمارے محبوب ترک مسلمان رہنما جناب طیب اردوان صاحب نے یہ زبردست آئیڈیا دیا ہے۔ ویسے بھی یہ جو ارینج شادیوں کا رواج ہمارے ہاں ہے، تو اس میں زبردستی، سیکس اور شادی بنیادی طور پر ایک ہی فعل کے تین نام ہیں۔ یہ تو ترکی سے آگے کے یورپ نے اس بات کو خوامخواہ پیچیدہ کر دیا ہے۔ ورنہ ایک مرد محبت یا غصے میں آ کر کسی عورت یا بچی کا ریپ کر ہی دیتا ہے تو عورت کا اس بات کو دل پہ لے لینا درست رویہ نہیں ہے۔ بلکہ عورت کو تو خوش ہونا چاہئے کہ اس کا کوئی اتنا بڑا اور جرات مند عاشق بھی ہے۔ اور پھر اگر وہ ریپ کرنے والا شخص شادی کرنے پر تیار ہو گیا ہے تو یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ اس بات سے تو اس شخص کی عظمت ٹپکتی ہے ورنہ ایسی "کاری” عورت سے شادی کرتا کون ہے۔

ریپ شدہ لڑکی سے ریپ کرنے والے اس شریف آدمی کا شادی کا فیصلہ یقیناََ ایک صالح عمل ہے۔ اس عمل کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ طیب اردوان صاحب کے اس مثالی کام سے ہمیں سبق حاصل کرنا چاہئے۔ (وہ بھی تو پاکستان سے سبق حاصل کرتے ہوئے ترکی کو مسلمان کرنے کے راستے پر گامزن ہیں) پاکستان کو بھی اپنے قانون میں یہی تبدیلی لانی چاہئے۔ اس سے ایک "کاری” عورت اپنے محبوب ریپسٹ کے ساتھ بھرپور شادی شدہ زندگی گزار پائے گی اور کچہریوں کے چکروں سے بھی بچ جائے گی۔

اس نیک عمل سے ہمارے معاشرے کی نیک نامی میں مزید اضافہ ہو گا کہ یہاں پر ریپ شدہ لڑکیوں کے ساتھ اتنا اچھا سلوک کیا جاتا ہے۔

Facebook Comments HS

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 366 posts and counting.See all posts by salim-malik

One thought on “اجی ریپ، شادی اور زنا بالرضا میں آخر فرق ہی کیا ہے؟

  • 04/12/2016 at 2:41 صبح
    Permalink

    ملک صاحب بہت اعلی آرٹیکل لکھا ہے لیکن کچھ سوالات ہیں انکے جواب دے دیں۔
    اگر خدانخواستہ ایک لڑکی کا ریپ ہو جاتا ہے تو اسکا آپکے خیال میں کیا حل ہونا چاہئیے۔؟
    آپ نے مسئلہ تو بتا دیا لیکن حل نہیں بتایا۔
    میری ذاتی رائے یہ ہے کہ کوئی بھی لڑکا زبردستی کسی لڑکی کے ساتھ جنسی فعل اکیلے میں نہیں کر سکتا اگر لڑکی بالغ ہو اور اس قابل ہو کہ وہ مزاحمت کر سکے۔
    بہت ساری لڑکیاں اپنی مرضی سے سیکس کر کے بعد میں ڈھونڈو رہ پیٹنا شروع کر دیتی ہیں کہ انکا ریپ ہوا ہے۔ انکا مقصد صرف بلیک میلنگ ہوتا ہے۔

    میری ذاتی رائے یہ ہے کہ حالات کا بغور جائزہ لینے کے بعد ہی یہ طے ہو سکتا ہے کہ ریپ ہوا بھی کہ نہیں۔ اگر لڑکی ایسی جگہ پر مجبوری سے پکڑی جاتی ہے جہاں وہ مزاحمت نہیں کر سکی اور اپنی عزت بچانے سے قاصر رہی کیونکہ مرد اس سے زیادہ طاقتور تھا یا اسے کسی کی مدد حاصل تھی تو اس کیس میں ریپ ہونا ممکن ہے اور ایسے شخص کے ساتھ شرعی معاملہ ہونا چاہئیے۔ مطلب اسے اور اسکے ساتھیوں کوسزائے موت ہونی چاہئیے لیکن اگر حالات اور شواہد یہ ثابت کرتے ہیں کہ لڑکی کیلئے بھاگ کر یا شور مچا کر یا کسی بھی طریقے سے اپنی عزت بچانا ممکن تھا لیکن پھر بھی اسنے خود ہی ریپ کروا لیا مطلب رضامند گی سے سیکس کرنے کے بعد ریپ کا الزام لے کر عدالت پہونچ گئی تو پھر ایسی لڑکی کی شادی نہیں بلکہ اسے بھی شرعی سزا ملنی چاہئیے۔ ہمارے معاشرے میں ریپ ہونا اتنا آسان کام نہیں بلکہ کچھ لوگ اسکا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اجتماعی زیادتی ہو یا زنا بالجبر تو اسکا معاملہ مختلف ہے لیکن جو ریپ کا جھوٹا الزام لگا کر مالی مفاد یا کوئی اور مفاد حاصل کیا جاتا ہے اس کا معاملہ الگ ہے۔

Comments are closed.