تیرے ہونے پہ میرا یقیں بڑھ گیا اے خدا


سٹینلے ملر ہیرل یورئین دونوں 1952 میں سائنٹسٹ تھے۔ جنہوں نے اپنے تجربے سے یہ ثابت کیا کہ بے جان چیز سے زندہ چیز بن سکتی ہے۔ انہوں اک ٹیسٹ ٹیوب میں پانی ڈالا، امونیا ڈالا، میتھین ڈالی اس کو انہوں نے Primordials Soup کا نام دیا، اس کے اوپر انہوں نے بجلی کا کرنٹ گرایا اور اس سے امینو ایسڈ بن گیا۔ اس کا یہ تجربہ کامیاب ہوا اس نے ثابت کیا کہ اگر بے جان چیز سے امینو ایسڈ بن گیا ہے تو اس سے پھر پروٹین بھی بن جائے گی اور ڈی این اے بھی بن جائے گا اور اس سے آگے پھر ارتقاء کا عمل شروع ہو جائے گا۔

سٹینلے ملر نے اپنے اس تجربے سے ثابت کیا کہ اس کائنات میں بھی ایسے ہی ہوا، کچھ بے جان چیزوں سے مل کر امینو ایسڈ بنا، اس سے پھر پروٹین، پروٹین سے ڈی این اے اور ڈی این اے سے پھر انسانی ارتقا کا عمل شروع ہوا اور یہ کائنات بغیر کسی خالق کے وجود میں آئی۔ اس کو کسی نے پیدا نہیں کیا اور خدا جیسی ہستی کا کوئی وجود نہیں۔

آج ملحد (Atheist) جو خدا کے وجود کا انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کائنات اسی طرح حادثاتی طور پر وجود میں آئی اور اس کے پیچھے کوئی خالق و کنٹرولر نہیں۔ اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ خدا کو ماننا مشکل نہیں بلکہ اس کا انکار مشکل ہے اور ایتھئسٹ کے بقول اس مشکل کو انہوں نے آسان کیا اور انسان کی ابتدا یہی بتائی جو سٹینلے ملر نے اپنے تجربے میں ثابت کیا۔ اب یہاں کچھ سوالات پیدا ہوتے ہیں جن کا جواب میں ایتھئسٹ کہتا ہے آپ یہاں belief کر لیں۔

اگر انسان خود سے primordial soup سے وجود میں آیا تو primordial soup کے اجزاء کیسے پیدا ہوئے۔ ؟

جیسا کہ سٹینلے ملر اور ہیرل یورئین نے primordial soup کو بنانے میں کردار ادا کیا تو جب پہلی بار یہ سوپ بنا تب کس نے یہ کردار کیا ادا کیا؟

اگر تب یہ سارا کچھ نیچرل ہوا کہ ہوا چلی پانی امونیا اکٹھے ہو گئے پھر ان میں میتھن شامل ہو گئی اور اچانک سے ان پر بجلی پڑی تو امینو ایسڈ وجود میں آ گیا، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ عمل اک بار تو ہو گیا نیچرلی، ایسا عمل یا اس سے ملتا جلتا عمل دوبارہ کیوں نہیں ہوتا اور ہمارے سامنے انسان کی یا موجودہ حیوانات علاوہ کوئی نیا حیوان کوئی دوسری قسم کیوں نہیں آئی اگر ایک بار یہ عمل ہو سکتا ہے تو اس کے مزید امکانات بھی ہو سکتے ہیں جیسا کہ دنیا کی لیب میں بہت سے ادویات اور ایجادات حادثاتی طور پر سامنے آئیں۔ ؟

اگر انسان کی تخلیق اسی طرح Naturally ہوئی تو اس کے بعد یہ تخلیق کا یہ طریقہ بدل کیسے گیا یعنی اس پہلی ارتقاء کے بعد انسان مرد و عورت کے اختلاط سے کیسے پیدا ہونے شروع ہوگئے کیونکہ بعد میں یہ ارتقائی عمل سائنس کے کس اصول پر ختم ہو گیا؟

انسان و نباتات اور یہ پوری کائنات تو حادثاتی طور پہ وجود میں آ گئے تو کائنات سے پہلے کیا تھا کیا ٹائم اور سپیس تھا؟ تو یہاں ایتھئسٹ کہتا ہے کہ

(There was something Rather than Nothing) کائنات سے پہلے کچھ تو ایسا تھا اور وہ اک ایسی انرجی تھی جو ٹائم اینڈ سپیس کی قید سے باہر ہے،

وہ ایک لا محدود (Infinity) اور بہت ہی پیچیدہ Complexity) قسم کی قوت جو سمجھ سے باہر مافوق الفطرت ما فوق العقل جس کو پر کوئی سائنسی اصول نہیں ہے، جس پر آج سائنس بھی خاموش ہے۔

اب یہاں ملحد (Atheist) بھی سائنس چھوڑ کر یقین (Belief) پر آ جاتا ہے، اس ساری بحث کے بعد کوئی سائنسی ثبوت پیش کرنے کی بجائے کہتا ہے کہ بس آپ مان لیں کہ کوئی ما فوق العقل و الفطرت کوئی طاقت تھی۔

لیکن ایک معتقد ایک Believer خدا کو ماننے والا کہتا ہے یہی تو میرا ایمان (Belief) کہ وہ لا محدود (infinity) اور وہ ما فوق العقل و الفطرت (Complexity supernatural creator) ہے۔ وہی تو خدا کی ذات اقدس ہے وہ خود بار بار اپنی فرامین اپنی آسمانی کتب میں یہ فرماتا ہے تم اس ذات کو نہیں سمجھ سکتے کوئی نظر کوئی سوچ کوئی دماغ اس کا احاطہ نہیں کر سکتا۔

اک سوال ملحد کی طرف سے آتا ہے کہ جب یہ کائنات نہیں تھی تب خدا کس ٹائم اور (Space) میں تھا؟

پہلا تو ایک جواب خود ملحد کے اپنے نظریے میں چھپا ہے، کہ کائنات سے پہلے کوئی ایسی انرجی تھی جو ٹائم اور سپیس میں (Exist) نہیں کرتی۔

تو جب ایسی کوئی دوسری کائنات ہے جو ٹائم اور سپیس کی قید سے باہر ہے تو پھر تو اللہ کی ذات اقدس کے بارے میں یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

دوسرا یہ کہ ٹائم اینڈ سپیس اک محدود چیز ہے جبکہ معتقد کے نزدیک وہ خدا اور ایتھیئسٹ کے نزدیک وہ انرجی وہ طاقت جو کائنات سے پہلے تھی وہ لا محدود ہے وہ infinite ہے، تو پھر وہ خدا وہ طاقت ٹائم اینڈ سپیس جیسی اک محدود چیز میں کیسے آ سکتی ہے۔

تیسرا یہ کہ ٹائم اینڈ سپیس بذات خود ایک مخلوق ایک ہے جو اسی طاقت اسی ہستی کی بنائی ہوئی ایک چیز ہے تو وہ Complexity supernatural creator اس پیدا کی گئی چیز کے تابع کیسے ہو سکتا ہے،

اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے انسان نے ٹیکنالوجی ایجاد کی تو یہ ٹیکنالوجی انسان کے تابع ہے انسان اس کا کنٹرولر ہے اگر انسان کمپیوٹر کو چلاتا ہے تو کام کرتا ہے انسان بذات خود کمپیوٹر کے تابع نہیں، گاڑی انسان کی بنائی ہوئی ہے اگر وہ اس کو چلائے گا تو یہ چلے گی گاڑی بذات خود انسان کو کنٹرول نہیں کر سکتی۔

ملحد (Atheist) کہتا ہے اگر یہ اصول مان لیں کہ کائنات کا ڈیزائنر اللٰہ ہے اللٰہ نے بنایا تو پھر یہاں کبھی نہ ختم ہونے والی بحث شروع ہو جاتی ہے اسی اصول پر کہ پھر اللٰہ کو کس نے بنایا پھر آگے اس کو کس نے بنایا پھر اس کو کس نے بنا یعنی اس بات کا کوئی احتتام نہیں ہو گا۔

پہلی بات تو یہ کہ سائنس خود مانتی ہے فزیکل دنیامیں بھی infinity ہے، جیسا کہ سائنس نے جب Atom پر ریسرچ شروع کی تو پتہ چلا وہ چھوٹا سا ذرہ اپنی ذات میں اک کائنات سمو ئے ہوئے ہے جو بہت ہی پچیدہ اور لامحدود ہے آپ جتنا اس کی تہہ میں جائیں جتنا اس کے اندر جا کر سمجھنے کی کوشش کریں یہ اتنا ہی پچیدہ اور ایک نئی کائنات اس کے اندر کھلتی چلی جاتی ہے اور معاملہ سمجھنے کی بجائے اتنا طویل ہوتا ہوتا infinity کی طرف چلا جاتا ہے اور اس چھوٹی سی کائنات کو سمجھنا ناممکن ہو جاتا ہے، اسی طرح سائنس DNA میں بھی Complexity اور infinity کی معترف ہے اور اسی طرح خلیات Cells میں بھی، تو جب یہ جو چھوٹے چھوٹے ذرات بہت پچیدہ اور اپنی ذات میں خود لا محدود و پچیدہ اور اک کائنات ہیں جو سائنس کی سمجھ بالاتر ہیں جبکہ یہ سامنے بھی ہیں تو پھر وہ انرجی وہ طاقت وہ ذات اقدس جو سامنے نہیں ہے لیکن ایتھیئسٹ اور معتقد دونوں مانتے ہیں کہ اس کا وجود ہے، پھر یہی اصول اس ذات پر کیسے لگایا جا سکتا ہے جو سامنے نہیں ہے۔ کیا سائنس کو Atom، DNA اور Cells کی سمجھ آ گئی؟ تو جب ابھی تک اس ادنی سی مخلوق کا ڈیزائن سمجھ نہیں آیا تو اس 10 فیصد کام کرنے والے دماغ میں اس ذات باری تعالٰی کا احاطہ کیسے کیا جاسکتا ہے۔

دوسری بات یہ کہ سائنسی نقطہ نظر سے انسانی دماغ کے وجود کا تو ہمیں پتہ ہم اس کی شکل و ہیت اور سائز کا بھی پتہ ہے لیکن کیا ہمیں ہمیں سائنسی نقطہ نظر سے ”Consciousness“ جسے ہم سوچ یا شعور کہتے اس سوچ اس شعور کو ماپ سکتے ہیں؟

اس کی پیدائش کیسے ہوئی، کس میٹریل سے ہوئی اور یہ کیسے بنی؟

اس کے شکل و ہیت اور یہ کہاں پائی جاتی اور یہ کس ٹائم اور سپیس میں رہتی ہے، یہ کس طرح کام کرتی ہمیں نظر نہیں آتی لیکن اک پورے انسان پر اس کا کنٹرول ہوتا ہے، کوئی بھی اک معتقد Believer یا ملحد Atheist اس بات سے انکار نہیں کرتا کہ (Consciousness) شعور یا سوچ نہیں، اور اس بات کو بھی مانتے ہیں کہ ”Consciousness“ کو ہیت و شکل کے اعتبار سے جانچنا نا ممکن ہے لیکن بہر حال اس کا ہم پر کنٹرول ہے۔ تو جب یہ اتنی چھوٹی سی چیز جو ہم اپنے ان سائنسی اصولوں پر نہیں جان سکتے تو وہ جو اک مافوق الفطرت ما فوق العقل ذات طاقت ہے اس کے لئے ان اصولوں پر کیسے اس کو جان سکتے ہیں۔

یہاں استاذ جاوید احمد غامدی صاحب کی بات بہت اچھی لگی، کہ جب ہم خدا کو ملیں گے اگر اللٰہ نے چاہا، تو اگر تو خدا دیکھنے میں ہماری طرح کوئی بنائی ہوئی چیز دکھائی دیا تو ہم پوچھ لیں گے کہ اللٰہ آپ کیسے بنے۔

مشہور ملحد (Atheist) رچرڈ ڈاکنز کہتا ہے

There is no God everything is permitted ”کہ خدا نہیں ہے لہذا ہر چیز کی اجازت ہے۔ اور اس کی اس نے باقاعدہ مہم شروع کی اور اپنے اس مشہور قول کے بینرز بسوں اور مارکیٹوں میں لگائے۔

لیکن یہاں کچھ سوالات پیدا ہوتے ہیں اک معتقد (Believer) کے لیے۔

✓جب خدا نہیں ہے اور ہر کام کی اجازت ہے تو پھر یہ (Atheist) ملحد انسانی حقوق کی خلاف ورزی پہ تپ کیوں جاتے ہیں پھر تو غلط اور صحیح کی بحث ہی ختم؟

✓ اگر یہ کہا جائے کہ اک کرائے کا قاتل ہے جسے ہر قتل کے عوض پیسے ملتے ہیں تو ملحد کہتا یہ غلط ہے، کیونکہ مقتول کی بھی اک فیملی ہے اور یہ ظلم ہوگا؟

✓جانوروں کے ساتھ ظلم زیادتی اک ملحد کے ہاں غلط کیوں ہے۔ ؟

ہٹلر کے دور میں اک پرجیکٹ شروع ہوا کہ زمین کی آبادی کم کی جائے، Homosexuals کو مار دیا جائے اور کمزور لوگوں کو مار دیا جائے یہودیوں کو مار دیا جائے تاکہ زمیں پر آبادی کم ہو اور ہم باقی لوگ ان محدود ذرائع کو بہتر طور پر استعمال کر سکیں اور مزید ترقی کی راہ پر چل سکیں جس کی وجہ سے ہولو کاسٹ بھی ہوا اور کتنے یہودیوں کو قتل کر دیا گیا۔ تو ملحد اس کو ٹھیک نہیں سمجھتا وہ کہتا ہے غلط ہے۔

پھر ملحد کے نزدیک غلط اور صحیح کا تصور کیسے پایا جاتا ہے۔ ؟

ملحد اس کا جواب دیتا ہے کہ ہمیں سوسائٹی اور دنیا میں ایسے قوانین بنانا اور ان کو فالو کرنا اور انسانیت کی عزت کرنا سوسائٹی میں امن قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے۔

تو عرض یہ ہے کہ یہ اچھائی اور برائی اخلاقیات و اقدار کی بنیاد مذہب اور وجود باری تعالیٰ کے ذات اقدس کو سامنے رکھتے ہوئے اور اس بات پر ایمان و یقین رکھتے ہوئے کہ ہر بندہ اپنی اچھائی اور برائی کا جواب دہ ہوگا اسی بنیاد پر ہی تو بنائے گئے۔ انسان کو برائی سے جو چیز باز رکھتی ہے وہ ہے کسی چیز کا ڈر اور (Accountibiliy) اگر ایک انسان کو موت کے بعد حساب کو ڈر نہ ہو تو دنیا کا کوئی قانون اسے برائی سے نہیں روک سکتا۔

ملحد کہتا ہے مذہب کی وجہ سے دنیا میں قتل و غارت ہوتی ہے، اور سوسائٹی میں شدت پسندی بڑھتی ہے جیسا کہ انڈین مسلم اور ہندو کمیونٹی کی آج لڑائی ہو رہی ہے اور اس طرح کے پہلے کے بہت سے واقعات، ملحد کہتا ہے Wisdom آزادی ہونی چاہیے۔ تو اگر آپ تاریخ کا مطالعہ کریں تو world war۔ 1 اور world war۔ 2 اور جو ہم نے عراق میں دیکھا جو سیریا میں دیکھا یہ سب Wisdom کے نام پر تو ہوا تو کیا اس سے ہم یہ بات سمجھیں کہ Wisdom بذات خود اک بری چیز ہے۔ ؟

اگر پوری دنیا یا دینا کا بیشتر حصہ ملحد (Atheist) ہو جائے تو کیا گارنٹی ہے کہ سب ملحدین پر امن رہیں گے۔ ایک معتقد کو تو پھر بھی خدا کا خوف کچھ حد تک ظلم و جبر سے باز رکھتا ہے مگر اک ملحد Atheist پر تو ایسی کوئی قید نہیں ہوگی؟ تو اس میں کچھ شک نہیں کہ دنیا میں بہت بڑی تباہی ہو جائے گی سوسائٹی سوشل اور سماجی اقدار و اخلاقیات ختم ہو جائیں گی اور کرائم بڑھ جائے گا کیونکہ Atheism کا تو مشہور قول ہی یہی ہے کہ There is no God everything is permitted۔ اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ تاریخ ہٹلر جیسے یا اس بڑے واقعات کو دہرائے۔

ایک عام آدمی کرائم کا راستہ اپنانے کی بجائے صبح گھر سے نکلتا ہے دفتر جاتا 9 سے 5 کام کرتا ہے اور واپس گھر آ جاتا ہے، ایک مجرم جرم چھوڑ کر واپس راہ راست پر آ جاتا اور معمول کی زندگی گزارتا ہے، ان دونوں قسم کے لوگوں کو اگر کوئی چیز راہ راست پر رکھے ہوئے ہے تو وہ یہی بات ہے کہ ان کو اک دن اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے اور اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔

آج پاکستان میں ملحدین ( Atheist) کی تعداد تقریباً دو فیصد ہے اس کا مطلب ہے 44 لاکھ لوگ ملحد ہیں۔ میں نے اک لڑکی کا واقعہ سنا جو مسلم سے ملحد ہو گئی وجہ یہ بنی کہ اس نے شادی کے لیے استخارہ کیا اور شادی کر لی جو بعد میں بری طرح ناکام ہوگئی اور استخارہ کی وجہ سے اس لڑکی کا اللٰہ پر سے ایمان ختم ہو گیا کہ اگر واقعی میں خدا ہوتا تو اس کو غلط مشورہ کیسے دے سکتا ہے۔

اس جیسے واقعات کی بڑی وجہ ہماری معاشرے میں اسلام کی ناسمجھی اور ایسے نا سمجھ مبلغین کا ہونا جو لوگوں کو ظاہری حالات کی جانچ پرکھ کی بجائے استخاروں کا مشورہ دیتے ہیں اور حالات سے لڑھنے غلطیوں سے سیکھ کر سمت درست کرنے کی بجائے اس کو اللٰہ کی رضامندی کہہ کر دوبارہ اسی ڈگر پر چلتے رہنے کی تلقین، اور تگ و دو کرنے کی بجائے وظیفوں پر اکتفاء کی تبلیغ کرتے نظر آتے ہیں۔ اپنے جاننے والے اسی قسم کے اک عالم سے جب میں نے ملحد کے اک سوال کا جواب پوچھا تو وہ لاحول پڑھتے ہوئے چلتا بنا اور بولا ہم مسلمانوں کو ان جیسے سوالات میں نہیں پڑنا چاہیے نہ ان کے جواب دینے کی ضرورت ہے ملحدین Atheist ”کو جواب دینے کی ضرورت نہیں اور جب ایسی سوچ بھی آئے تو میری لاحول پڑھ کے نکلنے کی کرو۔

یہاں میں اک عرض کروں گا کہ ہم سوال کرنے والے کو تو مار دیتے ہیں لیکن سوال کو نہیں مارتے تو جب تک سوال زندہ رہتا ہے سوال کرنے والے ختم نہیں ہو سکتے۔

آ ج ہمیں فخر ہے کہ ہمارے اندر ایسے علماء و مفکر اور سکالرز پیدا ہوئے ہیں جو نفرت و تفرقہ سے بالاتر ہیں اور وسیع سوچ رکھتے ہیں دنیا کے حالات و ضروریات کو سمجھتے ہیں اور اس کے لیے عالمی سطح پر بہت اچھا کام کر رہے ہیں جن میں جناب جاوید احمد غامدی صاحب، انجینئر محمد علی مرزا صاحب، ڈاکٹر ذاکر نائیک صاحب، مولانا وحیدالدین خان مفتی ابو لیتھ نعمان علی خان وغیرہ، لیکن افسوس کی بات یہ کہ ہمارے لاحول پڑھنے والے علماء آج کل ان کے خلاف ہی محاذ قائم کیے ہوئے ہیں اور اسلام سے خارج تک بول رہے ہیں۔

بہر کیف؛ ملحد (Atheist) کے سب اعتراضات و سوالات جاننے کے بعد میرے اندر سے یہ آواز آئی ”کہ تیرے ہونے پر میرا یقیں بڑھ گیا اے خدا“ میں نے دیکھا کہ جن سوالات کو بنیاد بنا کر اک ملحد Atheist ”خدا کے نہ ہونے کی دلیل دیتا ہے، میں نے جب غور کیا تو وہی سوالات اللٰہ کی ذات اقدس کے وجود پر بذات خود جوابات ہیں، یہاں یہاں مجھ پر اللٰہ کی وجاہت و الوہیت اور اس کے جلالت مجھ پر ایسی طاری ہوئی کہ جیسے وہ کہہ رہا ہو

کوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیں
ڈھونڈ نے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).