پارٹ۔1 :کیلاش وادی کا حُسن اور کُچھ حسین یادیں

رات کے تقریباً دس بج رہے تھے اور مُجھے میرے ایک جرمن دوست کی کال آئی کہ ہم نے کل کیلاش جانا ہے کیلاشیوں کا چلم جوشی تہوار دیکھنے تو تم ساری بکنگ اور انتظامات کرو، ”ویڑے آئی جنج تے وینو کُڑی دے کن“ کے مصداق وطنِ عزیز کے لوگوں کا یہ رویہ کہ آخری وقت پہ ساری منصوبہ بندی تو اکثر دوستوں سے سُننے اور دیکھنے کو ملتی ہے لیکن ایک جرمن گورا یہ بات کہہ رہا ہے پھر

Read more

ہم دنیا کی دم کیوں ہیں؟

کچھ دن پہلے میں گھر پر ویک اینڈ کی چھٹی پر تھا، میرا فون میرے چھوٹے چار سال کے بچے کے پاس تھا اور وہ یوٹیوب پر اپنے پسندیدہ کارٹون دیکھ رہا تھا، جب ایک ویڈیو ختم ہوتی تو دوسرے اپنے پسند کے کارٹون لگانے کے لیے اس کو لکھنا نہیں آتا تھا تو اس نے یوٹیوب کے سپیک آپشن میں مائیک والے بٹن کو دبایا اور اپنے پسند کے کارٹون کا نام لیا تو ویڈیو چلنے لگی۔ میں بچے

Read more

جنت کے سستے ٹکٹ

مارٹن لوتھر 1483 میں ایک جرمن قصبے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد انہیں لا کی تعلیم دینا چاہتے تھے لیکن مارٹن لوتھر کو مذہب میں دلچسپی تھی۔ اس نے وکالت کی، تعلیم ادھوری چھوڑ کر راہب بننے کا فیصلہ کر لیا، مونک اس وقت کیتھولک فرقے کا ایک گروپ تھا جو دنیا سے الگ تھلگ پہاڑوں میں کمیونٹی کے شکل میں رہتے تھے۔ یہ لوگ شادی نہیں کرتے تھے اور پوری زندگی مذہب کی خدمت میں گزار دیتے۔ مارٹن لوتھر بھی ان لوگوں میں شامل ہو گئے اور ان کے ساتھ رہنے لگے۔

اس دوران اسے روم جانے کا موقع ملا کیونکہ مارٹن لوتھر کیتھولک تھے اور اس کے نزدیک روم ان کا روحانی مرکز تھا۔ اس کے دل میں روم اور پوپ کے لئے بڑی عقیدت تھی لیکن جب مارٹن روم پہنچے تو وہاں کے حالات اور جو اس نے دیکھا وہ اسے حیران کر گیا۔ مارٹن نے وہاں دیکھا کہ پادریوں نے مذہب کو ایک کاروبار بنایا ہوا ہے اور وہ مذہبی عبادات کے عوض پیسے لیتے ہیں۔ دولت کی ریل پیل ہے اور خدا کے گھر کو بہتر سے بہتر بنانے کے لئے جو کہ پادریوں کے گھروں اور دفاتر کو چلانے کا ایک ذریعہ تھے، عوام کے مال و دولت کو مذہب کے نام پر دونوں ہاتھوں سے لوٹا جا رہا ہے۔

Read more

پاکستان میں بہتے دریائے نیل اور عمر بن خطاب کی منتظر عوام۔

ہم اکثر فلموں میں دیکھتے ہیں اور تاریخ میں پڑھتے ہیں کہ پہلے وقتوں میں لوگ کس طرح اپنے عقائد کے مطابق اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے دیوتاؤں کو کنواری لڑکیوں کی یا چھوٹے بچوں کی بلی چڑھاتے اور گمان کرتے کہ ان کے اس عمل سے دیوتا خوش ہو کر ان کی منت و مراد پوری کر دیں گے۔ ان دیوتاؤں میں شامل یا تو کوئی ان دیکھی قوتیں ہوتی یا فرعونوں کی شکل میں وقت کے حکمران

Read more

تیرے ہونے پہ میرا یقیں بڑھ گیا اے خدا

سٹینلے ملر ہیرل یورئین دونوں 1952 میں سائنٹسٹ تھے۔ جنہوں نے اپنے تجربے سے یہ ثابت کیا کہ بے جان چیز سے زندہ چیز بن سکتی ہے۔ انہوں اک ٹیسٹ ٹیوب میں پانی ڈالا، امونیا ڈالا، میتھین ڈالی اس کو انہوں نے Primordials Soup کا نام دیا، اس کے اوپر انہوں نے بجلی کا کرنٹ گرایا اور اس سے امینو ایسڈ بن گیا۔ اس کا یہ تجربہ کامیاب ہوا اس نے ثابت کیا کہ اگر بے جان چیز سے امینو

Read more

ٹھہرو صاحب! اس کار خیر پر تم بھی آمین کہتے جانا

”جناب یہ ملک پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا تو اس میں اسلامی قانون کے نفاذ کا مطالبہ کوئی غلط بات تو نہیں“ ۔ گستاخ کی سزا موت ہے وہ مسلمان نہیں جو گستاخی پر چپ رہے ”۔ ” اگر عدالت گستاخ کو سزا نہیں دیتی تو ہم پر فرض ہے اسلام کی حفاظت کرنا“ ۔ اس طرح کے بے ربط جملے آپ کو روز چوک، چوراہوں دفاتر اور دکانوں پر ان لوگوں سے سننے کو ملیں گے جو

Read more

مقدس خواب اور دور حاضر کے جرنلسٹ

خالق کائنات نے اس دنیا کو پیدا کرنے کے بعد انسانوں کی مختلف طریقوں سے رہنمائی کی، کبھی انبیاء کو مبعوث کر کے، کبھی فرشتوں کے ذریعے تو کبھی اپنے صالحین بندوں کے خواب کے ذریعے۔ لیکن جب بھی کوئی نبی باقاعدہ سے اپنی شریعت اللٰہ کی کتاب کے مطابق نافذ کر دیتا تو کسی اور بندے کا خواب کوئی حجت نہیں رکھتا پھر شریعت ہی حرف آخر ہے۔ عزیز مصر کو خواب آ یا سات دبلی پتلی گائیں سات

Read more

خدا کے کاموں میں دخل اندازی

خالق کائنات نے اس پوری کائنات کو چھ دن میں بنایا اور اور پھر خود عرش پہ مستوی ہو گیا۔ فرشتے پیدا کیے جن و انس کو پیدا کیا، اور پھر فرشتے تو رب کائنات کے مامور ٹھہر ے لیکن جن و انس کو خیر و شر کے ساتھ اپنی مرضی کا مالک بنا دیا اور ان کی رہنمائی کے لئے وقتاً فوقتاً اپنے پیامبر بھی مبعوث کیے جو لوگوں کو اچھائی اور برائی دونوں واضح کر دیتے لیکن کسی کو جبراً اچھائی پر لانے کا حکم انبیا کو بھی نہیں دیا گیا بلکہ انسان کو اس کے انتخاب پہ چھوڑ ا اس کی مرضی و منشا پہ چھوڑ ا تا کہ جزا و سزا انسان اپنے کرموں سے پائے، آدم علیہ السلام سے موسیٰ و عیسیٰ و جناب محمد رسول اللہ تک سب انبیا اسی دین کی تبلیغ کرتے رہے اور یہی دین اللہ نے تمام انسانوں کے لئے روز اول سے لے کر قیامت تک جاری کیا۔

Read more

کتابوں کا خدا اور ہے اور بابوں کا خدا اور

حال ہی میں اک معروف مذہبی سکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک کا پروگرام دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں ڈاکٹر ذاکر اک ہندو نوجوان سے مذہبی اعتقاد کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے ہندو نو جوان سے سوال کیا کہ کیا آ پ ایک خدا پہ یقین رکھتے ہیں تو اس نوجوان کا جواب تھا نہیں بلکہ میں تو تین سو سے زیادہ خداؤں پہ یقین کرتا ہوں، تو ڈاکٹر صاحب نے سوال کیا کہ آپ نے یہ

Read more

کتابوں کا خدا اور ہے اور مذہبی بابوں کا خدا اور

حال ہی میں اک معروف مذہبی سکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک کا پروگرام دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں ڈاکٹر ذاکر اک ہندو نوجوان سے مذہبی اعتقاد کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے ہندو نو جوان سے سوال کیا کہ کیا آ پ ایک خدا پہ یقین رکھتے ہیں تو اس نوجوان کا جواب تھا نہیں بلکہ میں تو تین سو سے زیادہ خداؤں پہ یقین کرتا ہوں، تو ڈاکٹر صاحب نے سوال کیا کہ آپ نے یہ کہاں

Read more