انتظامی اسسٹنٹ کی ملازمت اور مسلم تاریخ کا سوالیہ پرچہ


حالیہ دنوں کچھ افسران کی چھتری بردار تصویریں سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوئی۔ کئی لوگ افسران کو یاد دلاتے رہے کہ ”بھائی! یہ آقاؤں والے تیور کیا دکھا رہے ہو؟ ہمارے ٹیکس سے تنخواہ لینے والے پبلک سرونٹ ہو اور پبلک کے سرونٹ عرف عام میں غلام بن کر رہو“ ۔ جبکہ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ بیچارے افسران عوام کی خدمت کے جذبے سے باہر نکلے ہوئے ہیں۔ کام کر رہے ہیں۔ کام میں اتنے مگن ہیں کہ انہیں یہ احساس ہی نہیں کہ کوئی ان کی محنت اور جفاکشی سے متاثرہ اہلکار ان کے سر پر سایہ کرنے یا انہیں بارش سے بچانے کے لئے چھتری لئے کھڑا ہے۔ جبکہ کچھ ایسے بھی تھے جنہیں ان تصاویر وائرل ہونے کے پیچھے پاکستانی قوم کی منفی سوچ نظر آ رہی تھی جو بجائے اصل کام کے تصویروں کا منفی پہلو لے کر ڈھول پیٹنے بیٹھ گئی ہے۔

اب ہوں تو میں بھی اسی سماج کا باسی۔ اسی معاشرے میں پلا بڑھا ہوں۔ ان افسران سے پالا اپنا بھی پڑا ہے۔ آفسوں کے دھکے بھی کھائے ہیں۔ کم و بیش ان کمیشنی افسران کے بارے میں میری رائے بھی اجتماعی قومی رائے سے مختلف نہیں ہے۔ لیکن یہ سوال تو بنتا ہے کہ مختلف صوبوں میں، مختلف مقامات پر مختلف زبانوں اور مختلف ثقافتوں سے، مختلف تعلیمی نظاموں کے مختلف نصاب پڑھ کر ان اونچی کرسیوں پر پہنچنے والوں ان افسران کے رویوں میں اتنی یکسانیت کیسے ہے؟ ایسی کون سی سلیمانی ٹوپی ہے جسے پہن کر سارے مختلف مشترک بن جاتے ہیں۔

تب میرے ذہن میں ایک سوال ابھرا کہ کیا یہ کوئی چھلنی تو نہیں جو چھان چھان کر بھوسا ایک طرف اور آٹا ایک طرف کر دیتی ہے؟ ارے ہاں یہ سب تو وہی ہمارے پرانے آقا کی انگریزی زبان کا امتحان پاس کرکے یہاں تک پہنچے ہیں۔ ان اعلیٰ ترین عہدوں تک پہنچنے کے لئے ان کی قابلیت کچھ انگریزی زبان کے پرچے، ایک آدھ انٹرویو ہے۔ اب سیدھی سی بات ہے انگریزی زبان کے ایک دو بول سیکھ کر تو ”جانو جرمن“ بھی گوٹھ کا معزز بن گیا تھا یہ تو پھر بھی اس ”بولی“ کے ماہر نکلے جو ملک کاسب سے بڑا انگریزی کا امتحان پاس کرکے آئے ہیں۔

مختصر یہ کہ ہمارے پاس اعلیٰ نوکریوں کے امتحانات پاس کرنے یعنی اس چھلنی سے چھننے کے لئے جو صلاحیتیں درکار ہوتی ہیں ان میں سب سے زیادہ اہمیت یادداشت کی صلاحیت کو حاصل ہے۔ چاہے وہ کمیشن کے امتحانات ہوں یا کسی کلرک کی نوکری کے لئے لی گئی ٹیسٹ، ہر جگہ امتحان آپ کی یادداشت کا ہی لیا جاتا ہے۔ ایسے کچھ ٹیسٹ تو میں بھی دے چکا ہوں جہاں پوچھے گئے سوالات سے اندازہ ہوتا تھا کہ یہ ٹیسٹ کسی انتظامی عہدے کے لئے نہیں بلکہ مسلم ہسٹری کے شعبے میں لیکچرر یا پروفیسر کی بھرتی کے لئے لیا جا رہا ہے اور وہ بھی ان کی پڑھانے اور تحقیق کی صلاحیتیں نہیں بلکہ یادداشت اور رٹے بازی کی صلاحیت جانچنے کے لئے لیا جا رہا ہے۔

اب دیکھیں ماضی قریب میں ہی ایک زمانہ ایسا بھی تھا جب دنیا ابھی انٹرنیٹ، کمپیوٹر اور سمارٹ فون جیسی سہولیات سے آراستہ نہ تھی اور ذرائع روابط میں سے اہم ذریعہ خط و کتابت ہوا کرتی تھی یا پھر ٹیلی فون کال لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑتی تھی۔ اس زمانے میں خوش خطی پر بڑا زور دیا جاتا تھا۔ پوسٹ آفسوں کے باہر کاتبوں کی قطاریں موجود ہوا کرتی تھیں۔ چھاپہ خانوں میں کاتب موجود ہوتے۔ دفاتر میں سارے رکارڈ قلم سے محفوظ کیے جاتے تھے۔

خوش خطی کی صلاحیت آپ کو نہ صرف معاشرے میں اہم بناتی تھی بلکہ روزگار بھی فراہم کرتی تھی۔ اس زمانے میں اپنے پیاروں سے رابطے کے لئے آپ کا اتنا پڑھا لکھا ہونا ضروری ہوتا تھا کہ آپ خط لکھ اور پڑھ سکیں اور اگر آپ لکھنے پڑھنے کی صلاحیت سے محروم تھے تو پھر کسی کاتب سے خط لکھوانا پڑتا ہوگا یا پھر خط پڑھوانے کے لئے کسی کو ڈھونڈھنے کی ضرورت پیش آتی ہوگی۔

اسی زمانے میں ٹیلیفون سیٹ کے قریب ہی کہیں ٹیلیفون ڈائری بھی موجود ہوا کرتی تھی۔ اہم فون نمبروں پر مشتمل ٹیلیفون انڈیکس کے شمارے دھڑا دھڑ بکا کرتے تھے۔ یہ اس وقت کی ضرورت تھی۔ یادداشت لوگوں کی بنیادی ضرورت اور بہترین یادداشت اضافی صلاحیت شمار کی جاتی تھی۔ کئی لوگ تو ایسے بھی موجود ہوتے تھے جنہیں سینکڑوں فون نمبرز برزبان یاد ہوا کرتے تھے۔ ذرا آج ڈھونڈیے تو سہی کتنے لوگ فون نمبر یاد کرتے ہیں! کتنے لوگ ٹیلیفون ڈائریکٹریاں خریدتے ہیں؟ کتنے لوگوں کو ان کی خوش خطی روزگار مہیا کرتی ہے؟ ذرہ آج کی نسل سے پوچھ کر تو دیکھئے کہ بیٹا کاتب کیا ہوتا ہے، کتابت کیسے ہوتی ہے؟ مجھے یقین ہے ”نوجوانان وطن“ کی اکثریت ان ناموں اور کرداروں سے واقف ہی نہیں ہوگی اور اگر ہوئی بھی تو وہ واقفیت بزرگوں کی جوانی کے قصوں سے ہی کشیدہ ہوگی۔

آج کے لوگوں کو خط لکھوانے اور پڑھوانے کی ضرورت پیش نہیں آتی وہ ”واٹس ایپ“ کرتے ہیں۔ بوڑھے بزرگ جنہیں لکھنا پڑھنا نہیں آتا ”وائس میسیج“ بھیجتے ہیں۔ آج آپ کو کتابت کے کتنے ہی نمونوں پر عبور کیوں نہ ہو لیکن اگر آپ کمپیوٹر پر ٹائپنگ کرنا نہیں جانتے تو آپ بیکار ہیں۔ آج آپ کی ہینڈ رائٹنگ کتنی ہی بری کیوں نہ ہو لیکن ٹائپنگ اسپیڈ تیز ہے تو آپ کو روزگار فراہم کر سکتی ہے۔ کیونکہ آج کے دور کی ضرورتیں تبدیل ہو چکی ہیں۔

ہر ایک ہاتھ میں موجود سمارٹ فون بیک وقت ٹیلیفون بھی ہے ٹیلیفون ڈائریکٹری بھی، کمپیوٹر بھی ہے ٹی وی بھی، ریڈیو بھی ہے اور سینما بھی اور وہی ایک چھوٹا سا موبائل فون دنیا بھر کی معلومات سے بھری ہوئی لائبرری بھی ہے۔ آج جب کسی معاملے میں معلومات کم پڑ جائے یا موجود معلومات کی صحت پر شک ہو جائے تو جھٹ سے ”گوگل بابا“ سے رجوع کیا جاتا ہے اور درست معلومات کے آپ کے سامنے ہوتی ہے۔ اس کے لئے آپ کو اپنے آفس یا گھر سے نکل کر لائبرری جانے یا سینکڑوں کتابیں چھاننے کی ضرورت پیش نہیں آتی بلکہ آپ کو درکار معلومات ایک کلک کی دوری پر موجود مل جاتی ہے۔ اس لئے آج یادداشت کی اتنی اہمیت باقی نہیں رہی جتنی ماضی میں ہوا کرتی تھی۔ لیکن ہمارے یہاں یونیورسٹی میں داخلا سے لے کر کسی اہم ترین عہدے پر تعیناتی تک ہمیشہ سے آپ کی رٹے بازی اور یادداشت کا ہی امتحان لیا جاتا ہے۔

اب سنئے ایک انتظامی امور سے متعلقہ ایک شعبے میں اسسٹنٹ کی پوسٹ کے لیے لئے گئے ایک اسکریننگ ٹیسٹ کا احوال۔ مذکورہ اسکریننگ ٹیسٹ کا طریقہ کار بھی کچھ ایسا ہی تھا لیکن یہ ٹیسٹ پیپر تھوڑا منفرد بھی تھا کیونکہ سوالیہ پرچے میں مجموعی طور پر 100 سوالات تھے جن میں 40 سے 60 فیصد سوالات کا تعلق بالواسطہ یا بلا واسطہ مسلم ہسٹری سے تھا۔ چونکہ آج کل ٹیسٹ لینے والے ادارے سوالیہ پرچہ امتحانی مرکز پر ہی واپس لے لیتے ہیں اس لئے مجھے وہ سبھی سوالات تو یاد نہیں مگر کچھ سوالات، جو یاد رہہ گئے، کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔

”خاتون صحابی (نام یاد نہیں ) کون سے صحابی کی والدہ تھیں“ ۔ ”بی بی خدیجہ سلام اللہ علیہ نے اپنی کون سی سہیلی کے ہاتھوں رسول اکرم صلعم کو شادی کا پیغام بھیجا“ ۔ ”ابرہہ نے حملہ کب کیا“۔ ”ہاتھیوں کا سال کب سے شروع ہوا“ ۔ ”حضرت ابوبکر رض نے فلاں علاقہ فتح کرنے کے لئے کتنے سپاہی بھیجے“ ۔ ”امیر البحر کس کا لقب تھا“ ۔ ”عربی زبان میں واول کس نے متعارف کروائے“ ۔ ”کون سے علاقے کو فتح کرنے کے بعد فرات اور دجلہ کے درمیان پورا خطہ مسلمانوں کے زیر انتظام آ گیا تھا“ ۔

ایسے ہی سوالات کی ایک بڑی تعداد اس امتحانی پرچے میں شامل تھی۔ میں نے اسلامیات اور تھوڑی بہت جو بھی اسلامی تاریخ پڑھی تھی دوران تعلیم صرف انٹرمیڈیٹ تک ہی پڑھی تھی۔ میں اب تک اس الجھن میں مبتلا ہوں کہ ایک انتظامی امور سنبھالنے والے محکمے کا اسسٹنٹ بننے کے لئے مسلم ہسٹری کا کتنا بڑا عالم یا رٹے باز ہونا ضروری ہے؟

چلئے یہ مان لیتے ہیں کہ چونکہ میرا تعلق مسلم خاندان سے ہے۔ مسلم ملک میں پیدا ہوا ہوں۔ مسلم معاشرے میں پلا بڑھا ہوں اس لئے مجھے مسلم ہسٹری کی معلومات حاصل کرنی چاہیے اور ایسی معلومات حاصل نہ کرنا میری غلطی، خامی یا خطا ہے۔ لیکن ایسے سوالات جنہوں نے مجھ جیسے مسلم بیک گراؤنڈ والے نوجوانوں کے چھکے چھڑا دیے، ان سوالوں نے اسی عہدے کے لئے ٹیسٹ دینے والے دیگر مذاہب کے امیدواروں کے ساتھ کیا کیا ہوگا!

ویسے شاید اسسٹنٹ کی عہدے پر بھرتی کے لئے مانگی گئی درخواستوں میں مذہب کی شرط بھی مقرر نہیں کی گئی تھی۔ یقیناً دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں نے بھی اپنی درخواستیں ارسال کی ہوں گی اور پھرشارٹ لسٹ ہوکر ٹیسٹ دینے بھی آئے ہوں گے ۔ لیکن 100 سوالوں میں 40 سے 60 فیصد اسلامیات اور مسلم ہسٹری کے سوالات دیکھ کر وہ تو ”پہلی ہی بال پر کلین بولڈ“ ہوگئے ہوں گے یا یوں کہئے کہ ہماری ٹیسٹنگ سروس نے تو ان سب کو کھیلنے سے پہلے ہی ”ناک آؤٹ“ کر دیا تھا۔ چلئے اگریہ بھی مان لیا جائے کہ ان عہدوں کے لئے صرف مسلمان امیدوار ہی درخواست دینے کے اہل ہیں تو پھر یہ آئین میں ”برابر کے شہری“ جیسے نادر نکات محض نمائشی ہی نہیں رہ جاتے ہیں! ؟

دوسرہ نکتہ یہ ہے کہ ٹیسٹ لینے کا یہ کیا طریقہ ہے! اس طریقے سے آپ پرکھنا کیا چاہتے ہیں؟ کیا آپ کسی بھی شخص کی یادداشت دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ معلومات کتنی یاد کر سکتا ہے؟ یا پھر آپ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ یہ شخص کتنا بڑا رٹے باز ہے؟ کیونکہ اس طرح کے ٹیسٹنگ سسٹم میں ہر وہ شخص فیل ہے جو اچھا رٹے باز نہیں۔ جس کی یادداشت ڈائری کی محتاج ہے۔ جو کتب سے نوٹس لے کر لکھتا ہے۔ جو کسی مقام پر اپنی تقریر کے چیدہ چیدہ نکات لکھ کر اپنے سامنے رکھتا ہے۔ ویسے اگر دیکھا جائے آج جس عہد میں ہم گزار رہے ہیں اس عہد میں دنیا یادداشت پر انحصار کو کم سے کم ترین سطح پر لاتی جا رہی ہے اور زیادہ سے زیادہ زور ”انڈرسٹنڈنگ اور اسکل ڈیولپمینٹ“ پر دیا جا رہا ہے۔ تو کیا ہم بدلتی دنیا کے ساتھ خود کو بھی بدل رہے ہیں؟

آج واقعی یادداشت کی اتنی اہمیت باقی نہیں رہی جتنی ماضی میں ہوا کرتی تھی۔ آج کا دور ”اسپیشلائیزیشن“ کا دور ہے۔ آپ کو دنیا بھر کی چیزوں کی معلومات ہے یا نہیں اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہے آج کے دور کی تقاضا ہے کہ آپ کی مہارت کیا ہے؟ آج کسی کی بھی اس بات سے کوئی دلچسپی نہیں کہ آپ ”کیا جانتے ہیں“ آج پوچھا جاتا ہے کہ آپ ”کیا کر سکتے ہیں“ ۔

جدت کے دعویدار اداروں کے طریقہ کار کو ہی دیکھ لیجیے بلکہ جدید طرز کے اداروں کی جانب سے لی جانے والے امتحانات کے پرچوں دیکھ لیجیے۔ مذکورہ ٹیسٹ کی ہی مثال لے لیجیے اور پھر اپنی پوری ایمانداری سے سوچئے کہ اسسٹنٹ کے لئے منتخب ہوجانے والے تمام امیدواروں کو اپنے پوری سروس میں ٹیسٹ میں پوچھے گئے سوالات کا سامنا کتنی بار کرنا پڑیگا؟ مذکورہ بالا یا ان سے ملتے جلتے سوالات مستقبل میں امکانی طور درپیش کسی پیشہ ورانہ مسئلے سے نمٹنے میں ان کے کردار کو جانچنے میں مددگار ہو سکتے ہیں؟ ٹیکنیکلی اسسٹنٹ کے عہدے کے لئے ایسے سوالات سے آپ امیدوار کی کون سی صلاحیتوں کو جانچنے کی کوشش کر رہے ہیں؟

میں نے جو اسلامی ٹیسٹ دیا ان سے یا جنہوں نے ایسے ٹیسٹنگ سسٹم بنائے ہیں ان سے ایک سوال تو بناتا ہے۔ ارے بھائی! کرنا کیا چاہتے ہو؟ ہر ایک شعبے میں جو کچھ بھی کرتے رہے ہو، کرتے رہو لیکن اک نظر دیکھو تو سہی تم نے معاشرے کو کیا بنا دیا ہے۔ اب نہ تو ہم پورے انگریز ہی بن پا رہے ہیں نہ ہی ٹھیک سے غلام بن پا رہے ہیں ہمارا تو مذہب بھی داڑھی اور ٹخنوں تھ اٹھی ہوئی شلوار تک رہ گیا ہے۔ چلو! تم ہی بتا دو کہ ہمیں بنانا کیا چاہتے ہو۔

Facebook Comments HS