آزادی: دل ناامید تو نہیں، ناکام ہی تو ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


مومن کا وہ اندازباکمال کھو گیا
اقبالؔ تیری قوم کا اقبال کھو گیا
علامہ محمد اقبال ؒ

بچپن سے پڑھتے آرہے ہیں اس ایک لفظ کے بارے میں۔ 14 اگست 1947 کو پاکستان ’آزاد‘ ہوا، ہم ایک ’آزاد‘ مملکت کے شہری ہیں، ’آزادی‘ ایک نعمت ہے۔ ۔ ۔ مگر سالہا سال سے پڑھنے اور سننے کے باوجود بھی آج تک اس لفظ کی روح سے شناسائی نہیں ہو پائی۔ کیونکہ کتابوں، ملی نغموں، تقریروں اور یوم آزادی کے حوالے سے منقعدہ پروگرام کی حد تک تو ہم بہت جوش اور جذبے سے ’آزادی‘ مناتے ہیں لیکن ہماری زندگیوں میں اس کی جھلک اب بالکل مفقود ہوتی جا رہی ہے۔

اگر غیر جانبدارانہ تجزیہ کریں تو پہلے شاید پھر بھی بحیثیت قوم ہمارے اندر غیرت، حمیت، جوش و جذبہ تھا جو کہ ایک ’آزاد‘ اور ’زندہ دل قوم‘ ہونے کی دلیل ہے۔ مگر اب تو بس ان لفظوں سے شناسا ہیں ہم۔ یہ غیرت، اخلاقی اقدار، حیا، تہذیب اور شرافت۔ ۔ ۔ سب قصۂ پارینہ ہوگئے۔ پاکستان کا قیام کن دشوارکن مراحل سے گزر کر عمل میں آیا؟ آزادی کے لیے کتنی صعوبتیں اٹھائی گئیں؟ کتنا طویل عرصہ مسلمانوں کو اپنی شناخت اور ایک آزاد سرزمین حاصل کرنے میں لگا؟

اور 73 سال گزرنے کے بعد بھی یہ ملک لاتعداد قربانیوں سے کھڑا ہے اور اس دھرتی کو انگنت شہداء اپنے لہو سے سینچ رہے ہیں۔ ان سب واقعات اور داستانوں کا مطالعہ ہم سالوں سے نصابی اور غیر نصابی کتب میں کر رہے ہیں۔ بے شمار پروگرام اور ڈرامے بھی اس یاد کو وقتاً فوقتاً تازہ کرتے رہتے ہیں۔ اس سب کے باوجود بھی لفظ ’آزادی‘ کا مفہوم اپنے معاشرے کو دیکھتے ہوئے مجھ غریب پر تو ابھی تک واضح نہیں ہوا۔

آزادی حاصل کرنے کا مقصد تھا ایک ایسا وطن بنانا جہاں مسلمان مکمل با اختیار ہوں، اپنے دین کی پیروی بلاخوف و خطر آزادانہ کریں، مکمل مساویانہ حقوق حاصل ہوں، تعلیم عام ہو۔ بحیثیت قوم مسلمان جو ذہنی و جسمانی پستی کا شکار تھے، تنزلی کی طرف بڑھ رہے تھے، ان سب سے نکال کر ایک خوددار اور غیور قوم کو دنیا کے نقشے پر ابھارنا تھا تاکہ مسلمان معاشی، معاشرتی، اخلاقی، لسانی اور سائنسی اعتبار سے ایک مستحکم قوم بن کر دنیا کے ساتھ قدم بہ قدم چلیں۔ اگرچہ آج ہم جسمانی اعتبار سے انگریزوں اور ہندؤں سے آزاد ہیں۔ ایک ’آزاد‘ قوم کہلاتے ہیں لیکن ذہن، افکار و خیالات حد سے زیادہ غلامانہ ہوتے جا رہے ہیں بلکہ ہوچکے ہیں۔

سب سے پہلے تو بنیاد ہی لے لیجیے دو قومی نظریہ اساس ہے پاکستان کی مگر آج ہمیں ’آزاد‘ ملک میں دین اسلام پر عمل پیرا ہوتے ہوئے شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ آزادی سے قبل مسلمانوں کی مساجد کے باہر ہندو اور سکھ نمازوں کے اوقات میں ناچ گانا کر کے ان کو پریشان کرتے تھے۔ آج ہم میں سے کتنے لوگ ایسے ہیں جو نمازوں کا، اذان کا اکرام کرتے ہیں؟ ہم نے بھی اپنے گھروں میں، گاڑیوں میں اور موبائل میں گانے لگائے ہوتے ہیں جن میں خلل ہم سے برداشت نہیں ہوتا خواہ اذان ہو رہی ہو یا نماز۔ عورتوں کا پردہ، ڈاڑھی، ٹوپی، شلوار کے پائنچے اونچا کرنا اتنا معیوب لگتا ہے کہ اب باوجود آزاد ہونے کے ہم اپنوں کے ڈر سے ہی ان چیزوں کا اپنانے میں ہچکچاتے ہیں۔ یا اپنے اوپر لبرل ازم کا لیبل چسپاں کروانے کے لئے خود ہی ان چیزوں کو پس پشت ڈال دیا ہے۔

تعلیم کا نظام جو ہے سو ہے، خود نفسیاتی طور پر ہم انگریزی کے غلام ہیں۔ صرف جس کی انگریزی اچھی ہے وہی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے حلانکہ اتنی غلامانہ سوچ تو اس وقت بھی مسلمانوں کی نہیں تھی جب وہ جبراً جسمانی طور پر انگریزوں کے غلام تھے۔ مغلیہ دور کے بعد اردو کو جتنا عروج انگریزوں کے دور حکومت میں ملا ہے اور جتنے نامور ادیب و شاعر اور فلسفی تقسیم ہند سے قبل گزرے ہیں، اگر آج سے موازنہ کریں تو اردو کی اہمیت اب قدرے کم بلکہ ختم ہوچکی ہے۔ ادب کی خدمت کرنے والے تو آج بھی بہت ہیں موجودہ دور کے اردو ادیب و شعراء، فلسفی و محقق کا بھی کوئی ثانی نہیں لیکن قدردان طبقے کی کمی اور خاص طور سے عوام الناس میں اردو بول چال اب کم تعلیم یافتہ یا غیر مہذب افراد کی پہچان سمجھی جانے لگی ہے جو کہ اردو کے زوال کا موجب ہے۔

جس آزاد مملکت کا تصور تھا، اس میں مرد و عورت شانہ بشانہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوتے۔ مگر ہماری مملکت میں بہت مختصر طبقہ ایسا ہے جو مساویانہ حقوق کی پاسداری کرتا ہے۔ ورنہ تو ایک مافوق العقل مقابلہ اور دوڑ جاری ہے کہ کون کس پر سبقت لے جاتا ہے۔ کہیں مرد زور و جبر سے حاوی ہو جاتا ہے تو کہیں عورت اپنے حقوق کی پامالی اور نام نہاد مظلومیت کا لبادہ اوڑھ کر مرد کو نفسیاتی طور پر کمزور کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ مل جل کر یا شانہ بشانہ ترقی کے منازل کیا طے کرتے، ہم تو ایک دوسرے سے ہی مقابلہ بازی کرنے لگے۔ مرد عورت پر اپنے تسلط کے لئے زور زبردستی یا زیادتی کا سہارا لیتا ہے تو وہیں عورتیں مارچ کرکے یا گانے گا کے اپنے حقوق کے لئے لڑ رہی ہیں۔ وائے رے قسمت! جن کو ہمقدم ہو کر ملک سنوارنا تھا آپس میں ہی مقابلہ بازی اور شکست و فتح سے نبرد آزما ہے۔

’آزاد مملکت‘ پاکستان میں ہر طرف برائی یا ہر طبقہ و ادارے میں ناپسندیدہ یا برے عناصر نہیں ہیں، مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہم نے ’آزادی‘ کا مطلب غلط اخذکر لیا ہے۔ یہ وطن طویل جدوجہد کا ثمر ہے جو کہ سال دو سال نہیں بلکہ صدی پر محیط ہے اور قائم ہونے کے بعد اسے دائم رہنے کے لئے میرے اور آپ کے خلوص اور حب الوطنی کی ضرورت ہے۔ نہ میں مکمل ہوں نہ آپ اور نہ ہی یہ معاشرہ۔ سب بندہ بشر ہیں اور خطا کے پتلے۔ ا سی لئے بحیثیت معاشرہ و قوم ہم میں بہت سی خرابیاں ہیں مگر اچھائیاں اس سے بھی بڑھ کر ہیں۔ جب ہی آہستہ آہستہ ہی سہی، لیکن ملک آگے بڑھ رہا ہے۔ لیکن ان سب منفی پہلو وں کو اجاگر کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ہمیں ادراک ہو اپنی غلطیوں کا اپنی کوتاہیوں کاکیونکہ بہترین انسان وہ نہیں جو غلطی نہ کرے بلکہ وہ ہے جو غلطی کرنے کے بعد اس کو تسلیم کرکے اس کی اصلاح کی کوشش کرے۔

دیے سے دیا جلتا ہے۔ کسی ایک فرد کا بھی مثبت قدم اور سوچ ملک و معاشرے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ایک فرد کی اچھائی کی روشنی پورے معاشرے کو روشن کرنے کا سبب بن سکتی ہے تو کیوں نہ یہ فرد ہم ہی ہوں۔ اس یوم آزادی ہم اپنے ذہنوں اور دل کو بھی آزاد کرنے کی ابتداء کریں۔ دوسروں کے رویوں اور ان کے اسٹیٹس کے رعب اور دباؤ کے زیراثر نہ آئیں۔ جب ہماری سوچ آزاد ہوگی تب ہی صحیح معنوں میں ہم آزاد ہوں گے ۔

بقول فیض احمد فیض کے :
دل نا امید تو نہیں، ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام، مگر شام ہی تو ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •