دل ناداں کی نئی نادانی، جب بیس منٹ میں تین مرتبہ دھکا سٹارٹ ہوا


اسی سالہ یہ شیخ لئیق احمد۔ برامپٹن کینیڈا چودہ اگست ناشتہ کے بعد گھر کے دفتر آ گیا۔ خاصا بہتر محسوس کر رہا تھا۔ پچھلے جمعہ ہی سنی بروک ہسپتال میں دل کی اکتالیس سال پر محیط ( جس عمر میں ہمارے اکثر جوان دوسری محبت دوسری شادی وغیرہ کی نادانی کرنے کی سوچتے ہیں ) نادانیوں ( کہ ہمیں پہلا ہارٹ اٹیک ہوا انیس سو اناسی میں ) نے دل کے ساتھ دو ہزار گیارہ میں اسی ہسپتال میں ایک پاسبان دل پیوند کیا گیا تھا یعنی پیس میکر۔ آئی سی ڈی۔ اب اس کی بیٹری کمزور ہونے پر دوسری مرتبہ نئی بہت جدید تیرہ سال مدت والی بیٹری والے۔ سی۔ آر۔ ٹی۔ ڈی نے ڈیوٹی سنبھال لی تھی۔

آئی پیڈ پر پاکستان کی چھ بجے شام کی خبروں کا بلٹن دیکھتے ہلکا سا چکر محسوس ہوا۔ چند منٹ بعد دوبارہ کچھ لگا۔ اب میں حسب معمول قرآن مجید پڑھ رہا تھا تو پھر کچھ زیادہ محسوس ہوا۔ قرآن مجید الماری میں رکھتے جب واقع کچھ گڑبڑ لگی تو بیگم کو آواز دی اور آکے صوفہ پہ لیٹ گیا۔ اچانک سرر سرر کرتی دل کی رفتار تیز ہوتی محسوس ہوئی اور ابھی بیٹھا تھا کہ دل کے اندر یوں دھماکہ ہوا کہ مجھے لگا جیسے بجلی کا ٹرانسفرمر پھٹا ہو اور آنکھوں میں چکا چوند ہوئی ہو۔

میں جھٹکے سے اچھل سا گیا۔ چند سیکنڈ بعد بالکل نارمل محسوس کیا۔ اب یہ تو چونکہ ہر چیز سمجھائی جا چکی تھی۔ فوراً سمجھ گیا کہ حضرت دل پاکستان کی کاربوریٹر میں یک دم تیل زیادہ ہونے پر پرانی گاڑیوں کی طرح راہ میں جواب دے گئے۔ اور نئے لگے ڈرائیور نے دھکا سٹارٹ کر دیا ہے۔ فوراً یہاں کے 911 کو کال کی گئی۔ ادھر سے ٹیلیفون آن رکھنے کا کہتے ساتھ ساتھ پوری تفصیل لی جاتی رہی ہدایات جاری کی جاتی رہیں۔ نو تیس پہ پہلا دھماکہ ہوا تھا۔

اب میں ہسپتال کے لئے ہدایات کے مطابق تیار ہو کر۔ کرونا ماسک ڈال بیرونی دروازہ کے پاس کرسی رکھوا بیٹھ ہی رہا تھا کہ حضرت دل نے پھر شرارت کر ڈالی اور پھر زوردار دھماکے اور چمک اور جھٹکے نے ہلا دیا۔ بیگم صاحبہ بیہوش ہونے کو تھیں بہو کو ہمت دلائی اسے بھی اتنا ہی کہا کہ خدائی تقدیر تو اٹل ہے۔ مگر آپ ہمت رکھیں اور یہ یقین رکھیں کہ خدا تعالی کے فضل سے ہمیں یہاں محفوظ اور فرض شناس ہاتھوں میں ہونے کا یقین ہے۔

تیس منٹوں کا سفر اٹھارہ منٹوں میں کرتے ایمبولینس دروازے پہ کھڑے ہونے کی آواز آئی تھی کہ ”دل کمینہ“ اور ”کم بخت دل“ ”دل دیوانہ مانے نہ“ کہہ کے ایک اور دھماکہ کر بیٹھا۔ ( بعد میں پتہ چلا کہ یہ آواز اور چمک ہمیں ہی محسوس ہوئی گھر والوں نے صرف جھٹکے سے اچھلتے دیکھا ) ۔ پیرا میڈیکس ایک بظاہر افریقن اور دوسرا کسی اور ملک کے پس منظر سے۔ فوری اپنے کام میں جٹ گئے۔ ابتدائی امداد فوری ای سی جی اور ضروری معائنہ اور ساتھ اوپر رپورٹ دیتے اور ہدایات لیتے بتایا کہ ہم برامپٹن سوک ہسپتال لے چلے ہیں کورونا پابندی کوئی وہاں نہیں آئے گا۔ بظاہر دل رستہ بھولا ہے۔ بہو نے کہا کہ سات دن پہلے مقرر کردہ نگران کی خرابی ہوگی، کہ کوئی شکایت پہلے نہ تھی۔ تو سنی بروک ہسپتال ہی کیوں نہیں جاتے۔ ایک فقرہ میں جواب تھا کہ اگر یہ نیا پاسبان مستعد نہ ہوتا تو فوری دھکے لگا سٹارٹ کیوں کر سکتا۔

ہمیں سٹریچر پہ باندھ ایمبولینس روانہ ہوئی۔ ہم نے اب تک کی پوری زندگی پر نظر ڈالی تو اول تا آخر قادر مطلق کے افضال۔ احسان اور ہر مشکل وقت میں سہارا ہونے کے نظارے تھے۔ سو اپنی تربیت اور ساری عمر کی کامیابیوں کے منبع اور مشکلات دور کرنے کے سکھائے گئے نسخہ خدا تعالی کو حی قیوم اور مستجاب الدعوات جانتے اس کے حضور ”راضی ہے ہم اسی میں جس میں تری رضا ہو“ ”اور لا تقنطوا من رحمت اللہ“ زیر لب فریاد ہی کرتے یہ بیس منٹ گزارے۔ پیرا میڈیکس لگاتار موبائل اور آئی پیڈ پہ رپورٹ دیتا ہدایات لیتا عمل کرتا ہر دو منٹ بعد مجھ سے حال پوچھتا اپنا کام کرتا جا رہا تھا۔

ہسپتال آ چکا تھا کاغذی کارروائی مکمل ہوتے تمام معلومات ایمرجنسی منتقل ہوتی جا رہی تھیں۔ پانچ منٹ میں ہم ایمرجنسی کے بستر پر لیٹے اپنے پہ گزری اور پوری ہسٹری سنا رہے تھے ہر بندہ ٹیسٹ لینے ڈرپ لگانے اور ”بگڑے دل“ کی شکایتیں دور کرنے میں کوشاں تھا۔

تیزی سے چلتے ڈاکٹر آئے۔ ”میرا نام ڈاکٹر آصف ہے سینئر کارڈیالوجسٹ“ اس کے بعد میں ایک گھنٹہ ان کی بھاگ دوڑ ہدایات اور بیچینی اور مختلف ٹیسٹ کرواتے دوا دلاتے بھاگ دوڑ کرواتے ہی دیکھتا رہا۔ مجھے کہا ابھی دوسرے ڈاکٹر آرہے ہیں۔ نئے ڈاکٹر ارسطو مختاری تھے۔ ایران سے تعلق ہو گا شاید۔ سب کی بھاگ دوڑ اور جانفشانی اور چہرے پہ پریشانی اور ٹیسٹ پہ ٹیسٹ ہمیں دل کی بیوفائی پر کچھ زیاد ہی تلے ہونے کے آثار بتا رہا تھا۔ دعا کا دامن چھٹا تھا نہ رب پہ بھروسے کا۔

تاہم فون پر اپنا آخری پیغام ریکارڈ کر چھوڑا۔ لیکن گھر والوں کو ہر چند منٹ بعد تسلی کا فون کر دیتا۔ ڈاکٹر مختاری کے ماتھے کا پسینہ اور چہرہ کوئی تسلی بخش نہ تھا۔ اڑھائی بج چکے تھے۔ ڈاکٹر صاحب پاس آئے چہرہ مطمئن کے ساتھ تسلی دی اور چلے گئے۔ ایک گھنٹہ بعد ایک ڈاکٹر ( شاید ) حراروی کے نام سے اپنا تعارف کراتے ہوئے آئی سی ڈی کو مانیٹر کرنے والی مشین کھولے مقناطیسی دائرہ میرے دل پہ رکھ رہے تھے اور کاغذات کی پٹی نکلتی آ رہی تھیجس پر آئی سی اس دل کی ریکارڈ شدہ ہر شرارت کی داستان لکھتی جا رہی تھی۔

وہ لگاتار آئی سی ڈی ڈیوائس بنانے والی کمپنی اور سنی بروک ہسپتال سے رابطہ میں تھے۔ ہسپتال کا میرے بستر اور بیماری سے متعلق پورا عملہ مختلف ملکوں مختلف رنگ و نسل مختلف مذاہب مختلف قومیتوں سے ہوتے یک جان تندہی سے ایک مریض کی جان بچانے کی تگ ودو میں تھا۔ ادھر ڈاکٹر کا چہرہ رنگ بدلتا ادھر ہماری امید اور نا امیدی رنگ بدلتی۔ پانچ بجے اچانک انہوں نے ماتھے پہ ہاتھ مارا چند بٹن دبائے۔ اٹھے۔ ان کا چہرہ اطمینان سے چمک رہا تھا۔ بولے ایک فنی سا ایکشن ہاتھ نہیں آ رہا تھا ہر چیز صاف ہو گئی۔ مطمئن ہو جائیں۔ جو دوائیں یا علاج آپ کا کیا گیا وہ ٹھیک ہے۔ اور اب اثر پذیر ہے۔ میں اب آئی سی ڈی کی سیٹنگ کو دوبارہ ایڈجسٹ کرنے لگا ہوں۔

بتایا کہ آپ کے دل کی نادانیاں علی الصبح تین بجے سے شروع ہیں۔ یہ منٹ منٹ کی کارروائی ہے پہلے آئی سی ڈی آرام سے روکتا رہا مگر جب یک دم رفتار دل تیز ہونے والا اریدمیا قابو سے باہر ہوا تو آپ کو محسوس ہوا اور جھٹکے دیے۔ ہم دو دن آپ کو زیر نگرانی رکھ کے فارغ کر دیں گے۔ ڈاکٹر صاحب جا چکے تھے۔ رات تین بجے ایمرجنسی سے دل کی نگہداشت کے وارڈ میں منتقل کیا گیا۔ اور کل شام ہم بفضل خدا بخیریت گھر آ گئے۔

اس تفصیل کا مقصد دل کی نادانی کی داستان کے ساتھ اس محبت چاہت کام سے لگن کسی بھی قسم کے اجنبیت یا تیوری چڑھائے بغیر کسی لسانی مذہبی طبقاتی فرق کیے بغیر اپنے فرض کو فرض سمجھ کر کرنے کے جذبہ کی طرف توجہ دلانا ہے جو وطن عزیز میں ناپید ہے۔ پاکستانی ملا اپنی مذہبی لاعلمی اور جہالت سے اپنی اور قومی ہر نا اہلی اور غلطی ناکامی ہنود و یہود پر الزام دھر نکالتا ہے ہر فرقہ دوسرے فرقہ اور سیاستدان دوسری پارٹی کے کارکن سے اور ایک زبان والا دوسری بولی والے سے وطن سے نفرت اور یا خود کو احتساب سے بالا دوسرے کو کو گرن زدنی سکھاتا ہے۔ کبھی مریض ڈاکٹر سے اور کبھی ڈاکٹر مریض سے اور کبھی حکومت سے دست و گریبان ہے۔ اور شعبۂ زندگی کی طرح علاج کا شعبہ اور انسانیت ہی ختم ہے۔

دو دنوں میں خدمت کرنے والی نرسوں میں ایک دوسرے ے بڑھ کر خدمت کا جذبہ تھا۔ ساؤتھ انڈیا سے متعلق ہندو۔ مشرقی پنجاب کی سکھ اردن کے مسلم جوان کینیڈا کی صفائی کرنے والی اور دوسری ایکو کارڈیک ٹیسٹ کرنے والی سب میں ایک جذبہ پایا اور وہ تھا انسانیت کا۔ دیانت دارانہ محنت اور خدمت کا۔ برامپٹن میں تقریباً پینتیس ملکو ں سے نقل وطن کر آئے کوئی ایک سو سے زائد مختلف مادری زبان بولنے والے موجود ہیں۔ اور عملہ میں اکثر قوموں کی نمائندگی ہے۔

انیس سو ستر سے پاکستان کے تیزی سے انحطاط پذیر معاشرہ اور پاکستان میں پچاس سال کے میڈیکل شعبہ کے خصوصاً باقی تمام شعبوں کے ہمراہ ہر رنگ کے زوال اور پچھلے بیس سال میں کینیڈا رہتے ہوئے انسانی تاریخ کے سب سے پہلے اور عظیم اصلاحی چارٹر۔ ہادی اعظم صلی اللہ علیہ الصلوات و السلام کے خطبۂ حجۂ الوداع کی تقریباً ہر شق اور تعلیم اور نصیحت کی ( الا ما شاءاللہ ) پاکستان میں دھجیاں اڑتے اور انسانیت اور برابری اور حقوق العباد کی اکثر شقوں کی ان کافر ملکوں میں بقدر ہمت عمل در آمد دیکھ کر ملک عزیز کی حالت پہ دکھ بھی بہت ہوتا ہے۔

مگر انیس سو اناسی میں سول ہسپتال فیصل آباد کے ڈاکٹر محمد ظفر کے تحت چلڈرن وارڈ اور انیس سو ستانوے میں الائیڈ ہسپتال کے امراض قلب کی ایمرجنسی وارڈ کے اس وقت کے ہاؤس جاب میں سینئر ڈاکٹر عامر شوکت کی زیر نگرانی صفائی ستھرائی اور لگن اور جذبہ سے کیے گئے علاج اور مریض سے پرخلوص محبت یاد آتے ہی دل سوچتاہے۔ کہ امید کو اسی طرح زندہ رکھو لئیق احمد جس طرح پاکستان کے تہتر ویں یوم آزادی پر بند ہو چکے دل کے دھکا سٹارٹ ہو جانے کے بعد قائم رہی۔۔ خدا اخلاقی حب وطنی رواداری ایک دوسرے محبت ملک سے محبت دیانت اور عصبیت سمیت اکثر اقدار کے لحاظ اس قعر مذلت میں ڈوبتی چلی جاتی۔ اس قوم پر رحم فرماتے اس قوم کو خود پر رحم کھانے کی توفیق دے۔

Facebook Comments HS