اپنی نرگسیت کو محبت کا نام دینے والوں سے دور رہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک بار نہیں، یہ مکالمہ کئی بار ہوا۔ کب اور کہاں، اس کا ذکر ضروری نہیں۔ کن دو کرداروں کے درمیان اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جنس کا تعین بھی غیر ضروری ہے۔ البتہ قاری اگر ایسے مسئلے سے دوچار ہے تو اپنی اسے الجھن کا حل ضرور مل سکتا ہے۔

اب ہمارا رابطہ نہیں ہوتا۔ میں نے بہت عرصہ خود اس سے تعلق نبھانے کی کوشش کی، مگر اب۔ مجھے بار بار اس کی طرف بڑھنا اچھا نہیں لگتا؟ مجھے اپنی ہتک محسوس ہوتی ہے۔

ھمم۔ تمہیں خود کو روکنا چاہیے۔ کیونکہ، اس کا کچھ فائدہ بھی نہیں۔ یہ سعیٔ لا حاصل ہے۔
کیا مطلب؟ کیا اب اسے مجھ سے محبت نہیں رہی؟
محبت اسے پہلے بھی نہیں تھی۔ یہ تمہارا گمان تھا۔
تو پھر وہ سب کیا تھا۔ وہ اس کا شوق۔ وہ میرے لئے لگن۔ وہ کشش؟
وہ سب؟

یوں سمجھ لو۔ ایک جستجو تھی تمہیں جاننے کی۔ جب تک تجسس قائم تھا، لگن قائم تھی۔ جب تمہیں مکمل جان لیا تو وہ شوق ہوا ہو گیا۔

پر وہ سب باتیں۔۔۔ ؟

دیکھو، تمہارا محبوب ایک نارسس اسٹ ہے، نرگسیت کا اسیر۔۔۔ ایسے لوگوں سے محبت میں کرنے میں دوسرے شخص کے حصے صرف اذیت ہی آتی ہے۔ اس اذیت کو جس کا تم اس وقت شکار ہو، اسے ’نارسس اسٹک ابیوز‘ کہتے ہیں۔ خود پسندی میں مبتلا یہ لوگ کسی سے محبت کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔ یہ صرف خود سے محبت کر سکتے ہیں۔ صرف اپنی ذات سے۔ یوں سمجھ لو کہ ان میں دوسروں سے محبت کرنے کی معذوری ہوتی ہے۔ ان کے لئے سامنے والا شخص محض ایک آئینہ ہوتا ہے جس میں یہ اپنا عکس دیکھا کرتے ہیں۔ جب سامنے والا خود بحیثیت ایک انسان کے، اپنی پسند، نا پسند، اپنے تقاضوں کے ساتھ سامنے آ کھڑا ہوتا ہے تو یہ آئینے سے ہٹ جاتے ہیں۔ یہ اپنا آئینہ بدل لیتے ہیں۔

تو کیا اب وہ کسی اور سے محبت۔۔۔ ؟

کہا نا۔۔۔ نارسس اسٹ افراد کسی سے بھی محبت نہیں کر سکتے۔ یہ صرف اپنی ذات سے محبت کرنا جانتے ہیں۔ کسی اور سے محبت کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔ سخت الفاظ میں کہوں تو۔۔۔ یہ محض ’شکار‘ ڈھونڈتے ہیں۔ جو ان کی ہر اچھی بری بات برداشت کر سکتا ہو۔ جو انھیں اپنا مرکز و محور مان کے چلتا رہے۔ جب تک آپ ایسا کرتے رہیں گے، آپ ان کے منظور نظر رہیں گے۔ جوں ہی آپ نے یہ پرستش بند کی، یہ خدا کی طرح بے نیاز ہو جاتے ہیں۔۔۔ یہ آپ کو ’سائیلنٹ ٹریٹمنٹ‘ دیتے ہیں۔ یعنی آپ کو اپنی خاموشی سے مار ڈالنے کا فن انہیں خوب آتا ہے۔

مگر۔ اس نے تو کبھی مجھ سے تعلق ختم کرنے کا ارادہ نہیں کیا۔ اس کی بے رخی اور کبھی کبھی انتہائی لا تعلقی مجھے ایسا سوچنے پہ مجبور کر دیتی ہے۔ میں قدم بڑھاؤں تو ہماری بات بھی ہو جاتی ہے۔ ایک طرح سے ہمارا رابطہ پھر سے جڑنے لگتا ہے۔ اس کے انداز سے مجھے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے اسے میرا ہی انتظار ہو۔ ہاں مگر دوبارہ سلسلہ جوڑنے کے کچھ ہی دن بعد اس کی سرد مہری پھر سے کاٹنے لگتی ہے۔ ایک بے رخی ہے جو دل کو جلائے ڈالتی ہے۔ اس چپ سے احساس ہونے لگتا ہے کہ میرے لئے اب اس کے پاس کوئی الفاظ نہیں۔۔۔ ہم ساتھ ہوتے ہوئے لا تعلق رہتے ہیں۔

مجھے یقین ہے پہلے تمہارے جھگڑے بھی ہوتے ہوں گے؟ اور ساری غلطی بھی تمہاری ہی نکلتی ہوگی؟
ہاں۔ بالکل ایسا ہی تھا۔ میں ہمیشہ غلط۔ اور وہ ہمیشہ درست۔

’گیس لائٹنگ‘ نرگسیت میں مبتلا لوگوں کا خاص انداز ہوتا ہے۔۔۔ یعنی سامنے والے کو غلطی کے احساس میں مبتلا کرنا۔ اس بات کو سمجھنا ضروری ہے۔ جسے تم نے محبت سمجھ لیا، دراصل وہ محبت نہیں تھی۔ اور جو تمہارے نزدیک اب بے وفائی ہے، وہ دراصل بے وفائی بھی نہیں۔

تو پھر کیا ہے؟

کچھ بھی کہہ لو پر یہ محبت نہیں۔۔۔ خود پسندی میں مبتلا ایسے لوگ محبت، وفا اور اس قسم کے دیگر جذبات سے باکل محروم ہوتے ہیں۔۔۔ یہ انتہائی ذہین اور بے حد پرکشش شخصیت کے مالک ہوتے ہیں۔ ان کے روئیے میں ایک انوکھی جاذبیت ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے کوئی بھی ان کی طرف کھنچتا چلا جاتا ہے۔ اور ان کا آپ کی طرف مائل ہونا، اگر آپ غور کریں، تو آپ کی کوئی خوبی یا ممکن ہے آپ کی کوئی محرومی ہوتی ہے جس کو پہچان کے یہ آپ کے قریب چلے آتے ہیں۔ مگر آپ میں ان کو تب تک دلچسپی رہتی ہے جب تک آپ کی ذات کے کچھ پہلو ان کے لئے راز رہتے ہیں۔ جوں ہی آپ ان پہ مکمل عیاں ہوئے یہ آپ کو رد کر دیتے ہیں۔ اور ایک نئے شکار کی تلاش شروع کر دیتے ہیں۔۔۔

شکار؟ مطلب؟

شکار سے مراد ہے ایسا شخص جس کے ذریعے وہ اپنی ذات کی تسکین کر سکیں۔ شدید احساس کمتری میں مبتلا یہ نارسیسٹ کسی ایسے شخص کی تلاش میں رہتے ہیں جو ان کو برتر ہونے کا احساس دلاتا رہے۔ انہیں سراہتا رہے۔ پرانے تعلق میں جوں ہی اس عمل میں کمی آتی ہے، انہیں ایک نئی ’سپلائی‘ درکار ہوتی ہے۔ ایسا ساتھی جو ان کو ان کے ہونے کا احساس دلاتا رہے۔

مگر ایسا کیوں؟ میرا مطلب ہے انہیں کسی کے دل سے کھیلنے کا کیا حق ہے؟

دیکھو دل سے کھیلنا یہ تمہارے نزدیک ہے، ان کے نزدیک یہ ضرورت ہے۔ یہ محض طاقت اور اختیار کے طلبگار ہوتے ہیں۔ جب تک کسی پہ یہ اختیار چلتا ہے، تعلق نبھتا ہے ورنہ ٹوٹ جاتا ہے۔۔۔ ہاں البتہ یہ ضرور ہے کہ فرصت کے لمحات میں وہ اپنے پچھلے شکار کی خبر گیری ضرور کرتے ہیں۔

وہ کیسے؟
سوشل میڈیا کے ذریعے۔ دوستوں کے ذریعے۔۔۔ جو بھی ممکنہ طریقہ ہو۔
اگر محبت نہیں تو اس سب خبر گیری کا کیا مطلب؟

وہ آپ کو خوش نہیں دیکھنا چاہتے۔ اس کی وجہ خود ان کی اپنی ذات میں موجود ہوتی ہے۔ چونکہ وہ خود خوش نہیں ہوتے اس لئے وہ کسی کو خوشی دے بھی نہیں سکتے اور نہ کسی کو خوش دیکھ ہی سکتے ہیں۔۔۔ انتہائی بزدل اور غیر محفوظ شخصیت کے مالک ہوتے ہیں۔ یہ آپ کی واپسی کو اسی لئے ہر بار قبول کرتے ہیں۔ اور اگر کوئی نئی سپلائی موجود نہ ہو تو کسی حد تک گرمجوشی بھی دکھائیں گے مگر پھر وہی سب۔ اپنی غلطی کے ادراک اور اپنے احتساب کا کوئی سسٹم ان کے اندر موجود نہیں ہوتا۔ لہٰذا پھر سے وہی ہوگا۔۔۔ ان کی مظلومیت۔ آپ کی غلطی۔ آپ تسلیم کریں گے تو تعلق چلتا رہے گا مگر ایسے کہ جس میں آپ کہیں نہیں۔ آپ کی خوشی ان کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتی۔

تو پھر کیا کیا جائے؟

لا تعلقی۔ قطعی طور پہ لا تعلقی۔ جیسے دنیا سے چلے جانے والوں سے انسان کٹ جاتا ہے، ویسی لا تعلقی۔ اگر تو آپ اس مضمون کو سمجھ لیتے ہیں۔۔۔ یعنی نرگسیت کے اسیر لوگوں کے رویوں کو۔۔۔ تو آپ خود کو مزید گھائل ہونے سے بچا سکتے ہیں۔ خود کو پہلے تو ان کی محبت کی غلط فہمی سے باہر لے آیئے۔۔۔ اور پھر رابطہ منقطع کیجئے۔ اس اذیت سے نکلنے کا یہی واحد طریقہ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •