اپوزیشن کے 2 سال۔۔۔ نہ کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے

مولانا فضل الرحمان گزشتہ کئی مہینے کی خاموشی اورگوشہ نشینی کے بعد قوم کے لئے پرانی خبر کو نئی محاذ آرائی کی تمہید بنا کر سامنے لائے ہیں اور وہ یہ کہ 2018 کے انتخابات تاریخ کی سب سے بڑی چوری تھے۔

اپوزیشن کا حال کے الیکٹرک جیسا ہے جسے تمام تر ایندھن مہیا کربھی دیا جائے تو بھی بجلی پیدا نہیں کرسکتی۔ بعض سیاسی پنڈتوں کے نزدیک عمران خان کی حکومت نے 2018 کی مبینہ دھاندلی کے سوا بھی اپوزیشن کو اپنا کردار ادا کرنے کا پورا موقع دیا۔ کبھی نہ ختم ہونے والی مہنگائی، نا کام خارجہ پالیسی، آٹاچینی کا بحران، کورونا کا طوفان، بروقت فیصلوں کا فقدان، ، بجلی کا بحران، وعدوں کی عدم تکمیل اور پھر سب پر کمال عمران خان کے یو ٹرن۔

حکمران چیخ چیخ کر بتاتے رہے کہ ہم اتنی بری معیشت کے لئے تیار نہیں تھے۔ ہمیں حالات سمجھنے کے لئے کشکول پکڑنا پڑا۔ خودکشی کرنے کے بجائے قرض لینے کو ترجیح دی۔ غرض کیا کچھ ایسا نہ ہوا کہ عوام کے غم میں مری جانے والی اپوزیشن ( شومئی قسمت اس بار عوام کا درد سمجھنے کی باری ان اقتدار سے محروم جماعتوں کی تھی) بار بار کی اے پی سی بلانے کے باوجود پتلی گلی سے بچ بچا کر نکل جاتی ہے۔ کبھی موسم آڑے آنے کا بہانہ، کبھی عید محرم کی وجہ سے تاخیر، کبھی پرانے بوڑھے لیڈروں کی ناسازی طبع، کبھی بنتے بگڑتے مقدمات پر سمجھوتہ، سیاسی چالبازیاں اور آخر میں رہبر کمیٹی کی بے رہبری۔

تبھی تو مولانا فضل الرحمان کو بھرے اسلام آباد میں اکیلا کر دیا اور بے وفائی کی گیند ایک دوسرے کی طرف اچھالتے رہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ن لیگ، پیپلز پارٹی اور نہ جے یوآئی ایف پچھلے دو سال میں پارٹی سیاست سے نکل کر عوامی سیاست کر ہی نہیں سکی۔ یا پھر حکومت انھیں اسمبلی میں مراد سعید کے ذریعے تلملانے، ایوان کے باہر نیب اور عدالتوں کے چکر لگانے اور پریس کانفرنس کرنے والی مصروف رکھو پالیسی میں الجھانے میں کامیاب رہی۔ اور اگر ایسا ہے تو یہ سب خودپی ٹی آئی کی سب سے بڑی کامیاب پالیسی ہے۔

2018 کے انتخابات کے بعد جب بڑے بڑے سیاسی بت ایوان اقتدار سے باہر نکالے گئے توخیال تھا کہ تمام تر بیک اپ اور سپورٹ کے حکومت کو اتنی قدآور اپوزیشن کے ساتھ چلنے کے لیے ناکوں چنے چبانے پڑیں گے۔ سیاسی ماہرین ان اناڑیوں کو جمنے نہیں دیں گے۔ حکومت کا پہلا سال سیاسی، مالی، معاشی اور انتظامی بدحالی اور افراتفری کا سال تھا۔ جس کی بنیاد پر 2019 میں دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے مل کر حکومت گرانے کی ٹھانی مگرسانجھے کی ہانڈی بیچ چوراہے میں اس وقت ٹوٹ گئی جب بانی نواز شریف کی مسلم لیگ نے احتجاج کرنے کے بجائے آرام کرنے کو ترجیح دی اور یہ آرام ہوتا نہیں بس ہو جاتا ہے۔ پیپلز پارٹی مولانا کے اسلامی احتجاج اور اپنی نظریاتی اساس کو ساتھ لے کر نہ چل سکی اور یوں اکتوبر کے خوشگوار موسم میں مولانا انتہائی بدمزہ ہو کرشہر اقتدار سے واپس چلے گئے۔

کچھ یہی حال اس سال ہواجب طویل خاموشی کے بعد مولانا صاحب پھر تاریخی دھاندلی کا پرانا منجن نئی امید سے بیچنے آئے توپرانے حلیف آپس میں ہی حریف بن گئے۔ پتہ چلا پی پی پی اور مسلم لیگ ن تو ایک دوسرے کے ساتھ اس وقت چلنے کے موڈ میں ہی نہیں۔ آصف زرداری نے صاف کہا کہ ہم انھیں طاقت دے کر مضبوط کرتے ہیں اور یہ حکومت سے ڈیل کر لیتے ہیں اعتزا ز احسن نے کہا کہ ن لیگ نا قابل اعتبار ہے۔ بقول مفاہمت کے بادشاہ اب پیپلز پارٹی حکومت کے خلاف اپوزیشن کی اے پی سی کی ذمہ داری خود لے گی اور آئندہ لائحہ عمل طے کرے گی۔ تاہم یہ تو عوام بھی جانتے ہیں کہ سیاست میں بات چیت کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے۔ اور آج کے سیاسی دشمنوں کو کل ذاتی اور پارٹی مفاد کے نام پر شیروشکر ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ چاہے عوام تالیاں پیٹیں یا اپنے سر۔

گزشتہ دو برسوں کے اپوزیشن کے احتجاج کو دیکھا جائے تو یہ ہوشربا مہنگائی، بے روزگاری، کشمیر ایشو اور کورونا کی سیاست بازی کے منترے سے زیادہ اپنے خلاف کیسز اورعدالتی کارروائی کے لئے تھا۔ ملکی مسائل پرکو ئی مثبت متبادل لائحہ عمل تجویز نہیں کیا گیا۔ 2019 اور 2020 کے بجٹ آئے۔ عوام کو ریلیف نہ دینے کا شور مچا مگر ریلیف دینے کی کوئی متبادل تجویز سامنے نہ آئی۔ ایوان الزام در الزام کا مچھلی بازار بنے رہے۔ بائیکاٹ، واک آؤٹ، احتجاج اور غیر حاضریوں میں ملک کے کروڑوں روپے ضائع کر دیے گئے۔

مگر عوامی درد رکھنے والی اپوزیشن کسی درد کا درماں نہیں کروا سکی۔ تمام تر عوامی ڈراموں کے باوجود ایوانوں میں اکثر حکومتی قانو ن سازی میں شامل رہی ہے بلکہ جہاں ہوا وہاں ڈھیر بھی ہوتی رہی مگر اس قانون سازی کے ضمن میں بھی این آر اواور ڈیل کی گونج بار بار سنائی دیتی رہی۔ تو کیا عوامی اسٹیج ڈراموں کے ذریعے عوام کو غیر ضروری انگیج رکھنا اپوزیشن کا کمال ہے یا کوئی چال ہے؟

چاروں صوبوں کی زنجیر والی پارٹی کی بات کریں تو کراچی اور سندھ میں گزشتہ 12 سال تو چھوڑیں گزشتہ 2 سالوں میں کوئی ایسی کار کرردگی نہیں دکھا سکی جو عوام کے سامنے فخر سے پیش کی جا سکے کہ ہم ہوتے تو ملک کی نیا پار لگا دیتے۔ بھوک، بیماری، کچرے کے ڈھیر، کوڑے سے بھرے نالے، آدھا کراچی تاریکی اور آدھا پانی میں ڈوبا ہوا احتجاج اور سندھ اسمبلی میں ارکان کی اکھاڑپچھاڑ کے علاوہ پی پی پی گورنمنٹ کے کھاتے میں ایسا کیا ہے کہ ملک بھر کے عوام ان کی لیڈرشپ کی انگلی پکڑ لے؟

آصف زرداری کے زیر سایہ بلاول بھٹو کو لیڈر بننے میں ابھی وقت لگے گا۔ پارٹی جس طرح سمٹی ہے اسے پھیلنے کے لئے سندھ میں ڈلیور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ آج کے بدلتے حالات میں روایتی سیاست کا زور ٹوٹتا جا رہا ہے۔ مسلم لیگ ن کا حال بھی مختلف نہیں۔ سیاست کووراثت میں بدلنے کے لیے اس پارٹی نے جو زور لگایا وہ ڈھکا چھپا نہیں۔ پچھلے دو سالوں میں اپنی وارثت کو بچاتے ہوئے ان کی سیاست کے جوپول کھلے ہیں انھیں پی ٹی آئی اپنی گڈ گورنس سے مستقل دلدل میں بدل سکتی ہے۔

سوچنے کی بات ہے کہ پاکستان میں جہاں اکثر حکومتیں برملا یا ڈھکے چھپے طاقت ور حلقوں کی آشیرباد سے چلی ہیں وہاں بقول اپوزیشن کے ایک سلیکٹیڈ حکومت کو ہٹانا کیسے ممکن ہوگا؟ اور یہ بھی کہ کوئی مانے یا نہ مانے پی ٹی آئی حکومت کے افق پر کچھ سلور اور کچھ گولڈن ا سٹارز اپنی جھلک دکھا رہے ہیں۔ اور پھر جس اپوزیشن کا سارا زور اپنی لیڈرشپ کو دودھ کا دھلا ثابت کرنے پر لگا رہے گا اس میں عوام کے مسائل کے حل کا ادراک کب پیدا ہو گا؟ اور وہ کب فرینڈلی کے بجائے عوامی اپوزیشن بن پائے گی؟

Comments - User is solely responsible for his/her words