اپوزیشن تبدیلی کے لئے سنجیدہ نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یادش بخیر، 2013 کے الیکشن میں پاکستان مسلم لیگ نے کامیابی حاصل کرکے حکومت بنا لی تھی۔ میاں محمد نواز شریف تیسری دفعہ پاکستان کے وزیراعظم بن گئے تھے۔ ملک کی معاشی صورتحال اتنی خراب تھی کہ کچھ عرصہ سے پاکستان کے دیوالیہ ہونے کی خبریں تواتر سے آ رہی تھیں۔ یوسف رضا گیلانی میڈیا میں آنے والی خبروں سے اس قدر نالاں ہوئے کہ انہیں کہنا پڑا تھا کہ ملک لمیٹد کمپنی نہیں کہ دیوالیہ ہو جائے۔ یہ بیان اگر ایک طرف لوگوں کے گرتے ہوئے حوصلوں کو سنبھالنے کی کوشش تھی تو دوسری جانب صورتحال کی ابتری کا اعتراف بھی تھا۔

ان حالات میں میاں نواز شریف نے وزارت عظمی کا منصب سنبھالا تو کم لوگوں کو حالات کے سنبھل جانے کی کوئی امید تھی۔ رہی سہی کسر میاں نواز شریف کے سپاٹ اور ہر وقت فکرمند دکھنے والے چہرے نے پوری کر دی۔ لگ یوں رہا تھا کہ میاں نواز شریف حالات کی سنگینی کے سامنے ہار مان چکے ہیں۔ مجھے یاد پڑتا ہے عطا الحق قاسمی صاحب نے اپنے کالم میں نواز شریف کو مسکراتے رہنے کا فرمائش نما مشورہ دیا تھا۔

حالات واقعی خراب تھے جس کا اثر میاں نواز شریف پر ہونا تھا۔ وزیراعظم صاحب کھوئے کھوئے نظر آ رہے تھے۔ مشرف دور سے شروع ہوئی دہشت گردی پیپلز پارٹی کے دور میں اپنے عروج پر پہنچ چکی تھی۔ آئے روز ملک بالخصوص پختونخوا کے بام و در دھماکوں سے گونج رہے تھے۔ جس دن دہشت گردی کا کوئی واقعہ پیش نہ آتا وہ دن خلاف معمول محسوس ہوتا۔

نواز شریف کی قیادت میں پھر حالات دھیرے دھیرے سنبھلنا شروع ہو گئے۔ میاں نواز شریف نے ملک کو درپیش مسائل کا ملبہ پیپلز پارٹی پر ڈالنے کے بجائے ان کا حل ڈھونڈنا مناسب سمجھا۔ دہشت گردی سے نمٹنے کے عزم کا عملی اظہار کیا۔ جنرل راحیل شریف کا بطور آرمی چیف انتخاب ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔ جنرل صاحب نے خود آگے آ کر سیکورٹی محاز کی قیادت کی۔ (جنرل راحیل پر توسیع کی خواہش رکھنے کا الزام لگتا ہے اور لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ توسیع دینے سے انکار پر انہوں نے حکومت وقت کے لئے مسائل کھڑے کیے لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جنرل صاحب کا کردار لائق تحسین تھا)۔ اس طرح نواز شریف کے دور حکومت میں کراچی کے حالات بھی بہتر ہوئے اور بالآخر ایم کیو ایم کو لگام ڈالی گئی۔ پاکستان اگرچہ اب بھی کوئی محفوظ ملک نہیں لیکن آج صورتحال بدر جہا بہتر ہے۔ اس کا کریڈٹ میاں محمد نواز شریف اور جنرل راحیل کو جاتا ہے۔

سیکورٹی محاز کے علاوہ ملک کے معاشی حالات بھی بہتر ہونے لگے۔ پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری تیزی سے بڑھنے لگی۔ میاں نواز شریف نے جب حکومت سنبھالی تھی تو ملک میں اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے لوڈ شیڈنگ معمول بن چکی تھی۔ میاں صاحب کے دور حکومت میں سسٹم میں دس ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی شامل کی گئی۔ نتیجتاً ملکی صنعتیں بحال ہوئیں اور لوڈ شیڈنگ تقریباً مکمل طور پر ختم ہو گئی۔ پچھلے دو سال میں لوڈ شیڈنگ کا جن پھر بوتل سے باہر آ چکا ہے۔

معاشی حالات سنبھلنے لگے تو میاں نواز شریف نے موٹر ویز اور میٹروز کی اپنی پسندیدہ سیاست شروع کر دی۔ ملک بھر میں موٹر ویز کا جال بچھنے لگا، میٹروز بننے لگیں۔ عوام کا اپنی حکومت پر اعتماد بڑھنے لگا۔ بین الاقوامی طور پر پاکستان اپنے وجود کا احساس دلانے لگا۔ پیپلز پارٹی دور حکومت میں روس کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں آگے بڑھنے لگی تھیں، ان تعلقات کو میاں نواز شریف کی حکومت نے مزید بہتر بنایا۔ چین کے ساتھ تعلقات تاریخ کے ایک نئے دور میں داخل ہونے لگے۔ سی پیک میں تو جیسے ترقیاتی منصوبوں کی بہار آنے لگی۔ ہر سال اپنی معیشت کو آکسیجن فراہم کرنے کے لئے ایک دو ارب ڈالرز کے لئے پوری دنیا میں خوار ہونے والے ملک میں یک دم چھپن ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری صرف سی پیک سے آئی۔ روپے کی گرتی ہوئی ساکھ بحال ہوئی، ڈالر سو روپے پر رک گیا اور کافی عرصہ رکا رہا۔

پاکستان دنیا بھر کا مرکز نگاہ بننے لگا۔ سیکورٹی معاملات سے ہٹ کر دنیا ایک لمبے عرصے بعد پاکستان کو معاشی حوالوں سے سنجیدگی سے لینے لگی۔ میاں محمد نواز شریف کی تجربہ کار ٹیم معاملات پر اپنی گرفت مضبوط کر چکی تو نئے امکانات ہویدا ہوئے۔ روس کے ساتھ پہلی مرتبہ مشترکہ فوجی مشقیں ہوئیں۔ سی پیک کا حصہ بننے کی پاکستانی پیشکش روس نے بخوشی قبول کر لی۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو سی پیک میں شامل کرنے کو پیشکش کی گئی تو وہاں سے مثبت اشارے ملنے لگے

سب کچھ مثبت سمت میں چلنے لگا تھا، کافی عرصہ بعد لگا کہ پاکستان پٹڑی پر چڑھ چکا ہے لیکن پھر خود کو عقل کل اور اس ملک کے مالک سمجھنے والوں کو تبدیلی لانے کا چسکا لگا۔ کینیڈا سے طاہر القادری صاحب کو بلایا گیا، عمران خان پہلے ہی حکومت کے لئے مرے جا رہے تھے کہ ان کی عمر گزرنے کو تھی۔ وہ مشہور زمانہ دھرنا لگا جو رات کو گرم اور دن کو سرد ہوتا۔ ایمپائر کی انگلی اٹھنے کی امید پر پہلے پارلیمنٹ اور پھر پی ٹی وی پر حملہ کیا گیا۔ پاکستان میں انارکی پھیلانے کی کوشش کی گئی۔ حکومت تو نہ گری لیکن چین کے صدر کا تاریخی دورہ منسوخ کرنے میں کامیابی ملی۔

دھرنے کی ناکامی کے بعد پانامہ کا چرچا ہوا اور بالآخر اقامہ کے ذریعے نواز شریف کو راستے سے ہٹا کر عمران خان کے وزیراعظم بننے کی راہ ہموار کی گئی۔ عمران خان وزیراعظم بن گئے لیکن اس تمام کھیل تماشے میں پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان ہہنچا۔

مسلم لیگ ن کہیں پڑی اپنے زخم چاٹ رہی ہے۔ نواز شریف ملک سے باہر اور شہباز شریف کو مزاحمت سے پیدائشی خوف ہے۔ ایک مریم نواز ہیں جس میں تاریخ کی اس نا اہل ترین حکومت کو سبق سکھانے کی اہلیت اور ہمت موجود ہے لیکن وہ بھی شاید مصلحتوں کا شکار ہوگئی ہیں۔ عوام سے بات کریں تو وہ تبدیلی سرکار کی تبدیلی ناگزیر سمجھتے ہیں لیکن اپوزیشن حکومت کی تبدیلی تو کیا اس کا قبلہ درست رکھنے کی موڈ میں بھی نظر نہیں آتی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •