نیا جرمن قانون: پالتو کتوں کو دن میں دو بار ٹہلانے لے جانا لازمی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جرمنی میں پالتو کتوں کو روزانہ دو بار ٹہلانے کے لیے لے جانا لازمی قرار دینے سے متعلق ایک قانونی منصوبہ مکمل کر لیا گیا ہے۔ اس کے نفاذ کی تاریخ ابھی طے نہیں تاہم اس کا اطلاق ملک کی تمام سولہ وفاقی ریاستوں پر ہو گا۔

جرمنی میں پالتو کتوں کے گھروں سے باہر لے جانے اور کھلی فضا میں ہر روز کم از کم دو بار ٹہلانے سے متعلق یہ قانون ایک ایسے وقت پر تیار کیا گیا ہے جب کورونا وائرس کی وبا اور اس جراثیم سے پیدا ہونے والی مہلک بیماری کووڈ انیس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے انسانوں کی نقل و حرکت کو زیادہ سے زیادہ محدود رکھنے اور انہیں سماجی فاصلے، حفظان صحت اور چہروں کو ماسک سے ڈھانپنے سے متعلق ہدایات پر کاربند رہنے کی بار بار تنبیہ کی جا رہی ہے۔

جرمن وزیر زراعت ژولیا کلوئکنر نے کہا، ”پالتو جانور کھیلنے کے لیے کوئی کھلونا نہیں ہوتے۔“ نیا قانون اگر منظور ہو گیا تو ملک میں پالتو کتوں کی تعداد بھی محدود ہو جائے گی اور پالتو جانوروں کی رہائش گاہوں کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت بھی طے کر دیا جائے گا۔

بیک وقت صرف تین مادہ کتوں کو (مع ان کے بچے) رکھنے کی اجازت ہو گی۔

وزیر زراعت کے مطابق وہ ایک ایسا متنازعہ نیا قانون متعارف کرانے جا رہی ہیں، جس کے نفاذ کے بعد پالتو کتوں کے مالکان ہر روز کم از کم ایک گھنٹے کے لیے اپنے ایسے جانوروں کو ٹہلانے کے لیے گھروں سے باہر لے جانے کے پابند ہوں گے۔ اس قانون کے تحت پالتو کتوں کو لمبے عرصے تک باندھے رکھنے یا سارا دن تنہا چھوڑ دینے کی ممانعت ہو گی۔

جرمنی میں اوسطاً ہر پانچ گھروں میں سے ایک میں کوئی نہ کوئی پالتو کتا رکھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر پورے ملک میں ایسے رجسٹرڈ پالتو کتوں کی تعداد نو لاکھ بنتی ہے۔

جرمنی کی خاتون وزیر زراعت ژولیا کلوئکنر نے کہا ہے کہ ان کی وزارت پالتو کتوں کی ضروریات سے متعلق ’نئی سائنسی تحقیق‘ کے مطابق کام کر رہی ہے، ”کتے کوئی کھلونا نہیں ہوتے۔ اس لیے ان کی ضروریات کا بھی پورا خیال رکھا جانا چاہیے۔“

جانوروں کی نقل و حرکت کی صورتحال پر بھی نظر رکھی جائے گی۔
پالتو جانوروں کے مالکان کے لیے سخت شرائط

جرمنی کے تمام 16 وفاقی صوبوں میں نافذ کیا جانے والے یہ آئندہ قانون پالتو کتوں کے مالکان کو کافی حد تک متاثر کرے گا۔ انہیں بیک وقت صرف تین مادہ کتوں کو ) بمع ان کے بچے ( رکھنے کی اجازت ہو گی۔ کتوں کے لیے لازمی کم از کم رہائشی رقبے اور زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت نیز ان کے رہائشی حالات کو بھی مزید بہتر بنایا جائے گا۔ کلوئکنر کے مطابق، ”خاص طور پر موجودہ انتہائی گرم موسم اور حدت سے جانوروں کو محفوظ رکھنے کے لیے ہمیں مناسب اقدامات کے ذریعے اس امر کو یقینی بنانا ہو گا کہ یہ بے زبان جانور کسی طرح بھی متاثر نہ ہوں۔“

کتوں کی غذا، صحت اور نسل کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔


پالتو جانوروں کی بہبود سے متعلق نئے ضوابط میں ان جانوروں کی نقل و حرکت کی صورتحال کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہے۔ ’جرمن ڈاگ ایسو سی ایشن‘ کے ترجمان اوڈو کوپرنک نے اخبار ’بلڈ‘ کو ایک بیان دیتے ہوئے کہا، ”تمام پالتو کتوں کے لیے ایک اصول اچھی نیت کا مظہر تو ہو سکتا ہے مگر یہ غیر حقیقت پسندانہ ہے۔“

پالتو کتوں کے بہت سے مالکان نے یہ بھی کہا ہے کہ ان کتوں کو روزانہ ایک گھنٹے کی ورزش کرانا چاہیے تاہم ان کی عمر، صحت کی صورت حال اور نسل جیسے عوامل کا لحاظ رکھنا بھی ضروری ہے۔

بشکریہ ڈی ڈبلیو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کشور مصطفیٰ

یہ مضامین ڈوئچے ویلے شعبہ اردو کی سیینیئر ایڈیٹر کشور مصطفی کی تحریر ہیں اور ڈوئچے ویلے کے تعاون سے ہم مضمون شائع کر رہے ہیں۔

kishwar-mustafa has 45 posts and counting.See all posts by kishwar-mustafa