پاکستان کے خلاف راء اور این ڈی ایس کا گٹھ جوڑ بے نقاب
گلوان وادی میں چینیوں کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانے کے بعد نریندر مودی اب پاکستان کے خلاف محاذ آرائی کر رہا ہے۔ گزشتہ برس 27 فروری کو پاک فضائیہ کے ہاتھوں پٹائی کے بعد بھارت اب براہ راست پاکستان کے خلاف جنگ کا خطرہ مول نہیں سکتا خصوصی طور پر جب چینی فوجیں لداخ میں سینکڑوں کلومیٹر پہ واقع متنازعہ علاقہ پہلے ہی قبضہ کر چکی ہیں اور کسی وقت بھی بھارت کو دولخت کر سکتی ہیں۔ بھارت بیک وقت چین اور پاکستان کے ساتھ جنگ کرنے کے قابل نہیں ویسے تو اکیلا پاکستان ہی بھارت کے لئے کافی ہے گو کہ کہ فرانس سے 5 رافیل لڑاکا طیارے حاصل کر کے وہ ڈینگیں مار رہا ہے لیکن یہ گیدڑ بھبکیاں اس کی اپنی جنتا کے لئے ہے جو مہنگائی میں پس رہی ہے کیونکہ بھارتی معیشت کے پرخچے اڑ چکے ہیں۔ دوسری جانب کورونا وبا کے دوران نریندر مودی کی احمقانہ پالیسیوں نے ہزاروں قیمتی جانوں کا نذرانہ وصول کیا۔
بھارتی حکومت لداخ میں پٹائی اور داخلی معاملات میں مشکلات سے اپنی پبلک کی توجہ ہٹانے کی خاطر پاکستان کو نشانہ بنا کر طرح طرح کی سازشوں کے جال بن رہی ہے۔ پچاس برس بل مشرقی پاکستان میں مداخلت کر کے بھارت نے بنگالیوں کو بغاوت پہ اکسایا پھر بھارتی خفیہ ایجنسی راء نے بنگالی گوریلوں کی فوج مکتی باہنی تیار کی پھر اس گوریلا تنظیم میں اپنے ہی سپاہی بھیس بدل کر پاک فوج پہ گوریلا جنگ مسلط کر کے ناک میں دم کر دیا۔ مکتی باہنی کو کامیابی نہ ہوئی تو دس گنا بڑی بھاتی فوج نے مشرقی پاکستان پہ حملہ کر کے محصور فوجیوں کو ہتھیار ڈالنے پہ مجبور کیا اور مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنا کر دم لیا۔
1971 ایک مختلف دور تھا۔ پاکستان کے دونوں بازؤوں کے درمیان 1400 کلو میٹر کا فاصلہ تھا جو دشمن بھارت کی سر زمین پہ محیط تھا۔ 1965 کی پاک۔ بھارت کی جنگ کے بعد امریکہ نے بھارت اور پاکستان دونوں پہ اسلحہ کے حصول پہ پابندی لگا دی جس کا اثر پاکستان پہ پڑا کیونکہ بھارت اپنا تمام اسلحہ روس سے حاصل کرتا تھا۔
2020 میں راء نے افغانستان کے ذریعہ بلوچستان میں علیحدگی پسند تنظیمیں بنا کر مشرقی پاکستان کی تاریخ دہرانے کی کوشش کی۔ بلوچستان سے گرفتار شدہ بھارتی بحریہ کے حاضر سروس کے کمانڈر کلبھوشن یادو جو راء کے سینئر اہلکار ہیں نے تمام راز اگل دیے کہ کس طرح وہ گمراہ بلوچوں کو بغاوت پہ اکسا کر گوریلا جنگ کی تربیت دیتے رہے، دہشت گردی پہ آمادہ کیا اور بلوچستان اور کراچی میں دہشت گرد حملوں سے تباہی پھیلائی۔ کلبھوشن یادو کی نشاندہی پہ راء کا مکمل گروہ پکڑا گیا۔
کلبھوشن یادو کے پکڑے جانے سے بھارت پریشان تھا لیکن اس نے افغانستان کی خفیہ ایجنسی این ڈی ایس اور راء کے گٹھ جوڑ سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازش تیار کی۔ راء اور این ڈی ایس پاکستان کی سیکورٹی ایجنسیوں کو نشانہ بنانے کے لئے کالعدم طالبان تنظیموں سے رابطہ کر رہے ہیں، جبکہ پاکستان کے خلاف کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے دیگر باغی دھڑوں کو متحد کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق 16 اگست 2020 کو افغانستان میں پکتیکا اور کنڑ میں راء این ڈی ایس، تحریک طالبان پاکستان، جماعت الاحرار اور حزب الاحرار کے نمائندوں کے ساتھ ملاقاتوں کا انکشاف ہوا جس کے مطابق کالعدم تنظیموں کے ساتھ راء این ڈی ایس کا اہم اجلاس ہوا۔ خبروں کے مطابق جماعت الاحرار کے اکرام اللہ ترابی نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔
قارئین کو یاد ہو کہ اکرام اللہ ترابی کو 13 دسمبر 2019 کو افغانستان میں بین الاقوامی فوجوں نے گرفتار کر کے پاکستان کے حوالے کر دیا تھا۔ ابھی کچھ عرصہ قبل پاکستان کی عدالت نے اکرام اللہ ترابی کو ضمانت پہ رہا کیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق راء اور این ڈی ایس کے گٹھ جوڑنے کالعدم طالبان تنظمیوں کے ساتھ اجلاس میں پاک فوج، پولیس، رینجرز، ایف سی اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں پہ حملہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
راء اور این ڈی ایس افغانستان میں پائدار امن کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں، جبکہ پاکستان اور امریکہ کی مشترکہ کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی مذموم سازش کی جا رہی ہے۔ یہ بھی پتہ چلا کہ راء اور این ڈی ایس نے مولوی رفیع الدین عرف ابو حمزہ کے ذریعہ اجلاس کا مقام ظاہر نہ کرنے کی بھی سازش کی۔ راء اور این دی ایس کی جانب سے پیغام میں کالعدم تنظیموں کو ہدایت دی گئی ہے۔ کہ پکتیکا اور کنڑ میں ہونے والے اجلاسوں کے مقامات کو ظاہر نہ کیا جائے بلکہ یہ ظاہر کیا جائے کہ اجلاس پاکستان میں کسی مقام پر ہوا ہے۔ ایسا کرنے سے سارا الزام بھی پاکستان پر آئے گا۔
واضح رہے کہ بھارتی فوجیں پاکستان پہ دباؤ ڈالنے کی خاطر لائن آف کنٹرول کے پار گولہ باری کر رہا ہے۔ دو برس قبل کراچی میں چینی قونصل خانے پہ دہشت گرد حملہ، حال ہی میں کراچی میں اسٹاک ایکسچینج پہ حملے کی کوشش اور گوادر میں پرل کانٹی نینٹل ہوٹل پر دہشت گرد حملہ اسی گٹھ جوڑ کی کار ستانی ہے جو چین اور پاکستان دونوں کا دشمن ہے اور چین۔ پاکستان اقتصادی راہداری کو بھی سبوتاژ کرنا چاہتا ہے۔
حکومت پاکستان کو اس خونی گٹھ جوڑ کی سازشوں کی بروقت اطلاع مل چکی ہے۔ اب اس کی کارستانیوں سے آگاہ رہنا اور حملوں سے قبل کارروائی کرنا لازمی ہے۔

