بامقصد سوچ
سوچ کا سرا پکڑ کر دور چلا جانے کی اہلیت انسان کے لیے ان دیکھے جہانوں کی سیر کے مترادف ہے۔ تنہائی سوچنے کے عمل کو مہمیز کرتی ہے۔ کچھ لوگ سوچنے کے عمل سے توانائی کشید کر کے کارزار حیات میں عجوبے برپا کر سکتے ہیں۔
کورونا کے دنوں میں رمضان ہمیشہ سے مختلف گزرا۔ بازاروں کی گہما گہمی، مسجدوں کی رونق، افطار پہ میل جول اور تراویح کا ہجوم سب موقوف تھا اور سارے پر ایک عجیب سی خاموشی طاری تھی۔ اس رمضان میں شیاطین تو زنجیروں میں جکڑے ہی تھے، انسان بھی گھروں کے اندر رہنے پر مجبور کردیے گئے تھے۔ ایسے میں اگر انسان چاہے تو بقول شاعر اپنے من میں ڈوب کر سراغ زندگی پانے کی کوشش کر سکتا ہے۔
سراغ زندگی پاجانا تو ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ اس کے لئے بہت کڑی ریاضت، خلوص اور مستقل مزاجی شرط ہے۔ اس کے علاوہ بامقصد سوچ کے لئے انسان کو اپنے اندر کچھ ضروری اہلیتیں بھی پیدا کرنی ہوتی ہیں جن میں سے سب سے اہم علم کا حصول ہے۔ جس طرح پرندے کو پرواز کے لیے پر چاہیے ہوتے ہیں اسی طرح سوچ کی پرواز کے لیے بھی علم کے پر ضروری ہیں۔ اسی خلوص اور کچھ بنیادی علم کے ساتھ قرآن پاک کا مطالعہ کرتے ہوئے سوچ کا یہ سفر بہت بامقصد اور خیال انگیز ہو جاتا ہے۔ اللہ کی کبریائی، اس کی قدرت کے مظاہر، اس کی کریمی، اس کا جلال، اس کی تخلیق کے رنگ، انسان کی اس کائنات میں مرکزی حیثیت، انسان کی لاچارگی اور اس لاچارگی کے باوجود سرکشی کی خاصیت، سرکش کا انجام اور اللہ کی اس کو معاف کرنے کی عادت۔ قرآن کے ان گنت موضوعات ہیں جو انسان کو سوچنے کی دعوت دیتے ہیں۔
بہت پہلے تفہیم القرآن میں پڑھا تھا کہ تلاوت کرتے ہوئے کاغذ قلم ساتھ رکھ کر ایک طالب علم کی طرح ہر نقطہ کو سمجھنا اور اس پر سوچنا چاہیے۔ اس پر عمل کرنے کی کوشش کی تو ارادے کی کجی اور مستقل مزاجی کی کمی کی وجہ سے یہ سلسلہ جاری نہ رکھ سکا۔ لیکن اکثر محسوس کیا کہ قرآن کا با ترجمہ مطالعہ بھی سوچ کو مہمیز دیتا ہے بشرطیکہ انسان اس پیغام کی طرف متوجہ ہو۔ قرآن کو اللہ کا انسان سے کلام سمجھ کر پڑھنے اور اس پیغام کو سمجھنے کی کوشش کرنے سے سوچ کے کئی در وا ہوتے ہیں جو قاری کے حالات اور خیالات پر منطبق ہو کر قرآن فہمی کو کہیں آسان، خیال انگیز اور متعلقہ بنا دیتے ہیں۔
اگر ہم قرآن کی زبان اور اس کے پیغام کو جان سکیں تو ہر آیت اور حکم کی وجہ اور اہمیت کا احساس ہو، ہر مقام شکر پر اللہ کا شکر، ہر سوچنے کی دعوت دیتی آیت پر تفکر، ہر منع کی جانے والی بات سے ہمیشہ کے لئے گریز، ہر مقام عمل پر سپردگی۔ انسان صحیح معنوں میں انسان بن جائے۔ وہ انسان جسے اللہ نے علم دے کر فرشتوں پر فضیلت دی اور فرشتوں نے اللہ کے حکم پر اس کو تعظیم دی۔
بات سوچ سکنے کی اہلیت سے شروع ہوئی تھی اور قرآن کے اعجاز پر ختم۔ سوچ کا دائرہ قرآن متعین کرے تو عبادت اور انسان کو بندگی کے اعلی مقام تک رسائی کا ذریعہ۔ جہاں وہ بے اختیار پکار اٹھتا ہے کہ اللہ نے کائنات اور انسان کی تخلیق بے مقصد نہیں کی۔


