حیات بلوچ کو انصاف کون دے گا؟
شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہوا کرتی ہے۔ مگر جب ریاست میں موجود خون آشام درندے خود ہی شہریوں کو لوٹنے کا باعث بنیں تو وہ ریاست رہنے کے قابل نہیں رہتی۔ آج آپ پاکستان بھر میں سروے کر لیں، حب الوطنی کا دعوی کرنے والے تو بہت مل جائیں گے لیکن اگر ان کو امریکہ، کینیڈا یا یورپ کے کسی ملک کا ویزہ مع مستقل رہائش مل جائے تو وہ یہاں ایک سیکنڈ کے لئے بھی رکنا پسند نہ کریں۔ بات یہ نہیں کہ وہ محب وطن نہیں، بات یہ ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ پاکستان میں رہتے ہوئے نا تو ان کے بچوں کا مستقبل محفوظ ہے اور نا ہی جان۔ وہ یا ان کے بچے کسی بھی وقت، کسی بھی جگہ، کسی بھی اندھی گولی کا شکار بن سکتے ہیں، کوئی بھی درندہ اپنی ہوس مٹانے کی خاطر ان کے بچوں کو قتل کر سکتا ہے، اور اگر انصاف کی خاطر کوئی بھولے بھٹکے سے عدالت چلا ہی جائے تو ان کا ملزم پہلی پیشی میں باہر آ جائے گا، اور وہ منہ تکتے رہ جائیں گے۔
تیرہ اگست کو بلوچستان میں ایف سی گاڑی پر حملہ ہوا، جس میں کوئی جانی نقصان تو نہ ہوا مگر ایف سی اہلکاروں نے حملے کا بدلہ لینے کی خاطر خود جانی نقصان کر دیا۔ قریب کھیتوں میں ماں باپ کے ساتھ کام کرتے ”حیات“ نامی بیٹے کو گھسیٹا اور فائر مار کر بے دردی سے قتل کر دیا۔ اور یوں حیات، حیات نہ رہا۔ نوجوان ”ماتی، ماتی“ پکارتا رہ گیا مگر مجبور و بے کس ماں بیٹے کو بچا نہ سکی۔ آخر وہ وردی پوشوں کے سامنے ترلے منت کے سوا اور کر بھی کیا سکتی تھی۔
سوچتا ہوں، اس ماں پہ کیا گزری ہو گی جس کے سامنے بیٹے کو مار دیا گیا۔ اس پہ تو قیامت سے بڑھ کر قیامتیں گزر گئی ہوں گی، وہ غریب بوڑھا باپ جس کے بڑھاپے کا سہارا تھا، اس کی دوہری کمر کو سہارا دینے کے لئے لاٹھی کون بنے گا اب؟ سوچتا ہوں خالی آنکھیں لئے وہ بوڑھا بے بس اندر ہی اندر کتنی قیامتوں سے گزر گیا ہو گا، وہ شاید رویا بھی نہیں کہ مرد رویا نہیں کرتے مگر شاید جو رویا نہیں کرتے وہ اندر ہی اندر مر جاتے ہیں، ان کا وجود شاید چلتی پھرتی لاش سے بڑھ کر کچھ نہیں رہتا۔
معاف کیجئے گا اس بدتمیز لکھاری کا ارباب اختیار سے ایک سوال ہے، کیا آپ اپنے بیٹے کا اس طرح خون ہوتے دیکھ سکتے ہیں؟ کیا آپ اپنے چہیتے لخت جگر کو ”حیات بلوچ“ بنتا دیکھ سکتے ہیں؟ کیا اپ اس کی موت فراموش کر سکتے ہیں؟
واقعے کے بعد چند روز تک سوشل میڈیا پر خوب چرچا رہا، اب پھر یہ ماند پڑ رہا ہے۔ کیونکہ ہمارا مجموعی مزاج ایسا بن چکا ہے، کسی ایک ایشو پہ ہم چند روز چیخنے چلانے کے بعد نئے ایشو کی تلاش میں نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ ایف سی اہلکار پر ایف آئی آر درج ہو چکی ہے، آئی جی ایف سی نے حیات بلوچ کے والد کو انصاف کی یقین دہانی کروائی، مگر وہ غریب بلوچ اور عام پاکستانی شاید جانتا ہے کہ یہاں غریب کو عدالت سے فیصلے کے حصول کے لئے عمر نوح درکار ہوتی ہے۔
یہاں شرجیل میمن کی شراب کی بوتل ایک ہفتے میں ہی شہد ثابت ہو جاتی ہے اور عتیقہ اوڈھو کو اپنی صفائی ثابت کرنے کے لئے 9 سال درکار ہوتے ہیں، یہاں شاید جس کے پاس پیسہ، دولت، طاقت اور اختیار نہیں اس کا سچ بھی جھوٹ اور جس کے پاس طاقت ہے اس کا جھوٹ بھی سچ ہے۔ ہم نے یہاں سانحہ ساہیوال کے درندوں کو بھی آزاد پھرتے دیکھا ہے اور مرغی چور کو برسوں جیل میں قید بھی دیکھا ہے۔ تو ایسی صورت میں حیات بلوچ کی ماتی کس سے انصاف مانگے، شاید اس نے اپنا مقدمہ اللہ کی بارگاہ میں رکھ دیا ہے، آسمان کی طرف منہ کرکے ہاتھ اٹھا کے کہتی ہے ”اللہ میاں تو دیکھ رہا ہے نا؟“ ۔ ہائے، اس ماں کی بے بسی دیکھ کے کلیجہ پھٹنے کو آتا ہے۔ درد سے بھرپور تصویر بولتی نہیں چیختی ہے، کرب سے کرلاتی ہے، ضمیر کو جھنجوڑتی ہے، مگر شاید ہم مر گئے، ہمارا ضمیر مر گیا۔ ماں کی تصویر پکار پکار کر کہتی ہے، ابن مریم ہوا کرے کوئی۔ مگر افسوس اب تو ابن مریم بھی کوئی نہں ملتا کہ جن کو دکھوں کی دوا کرنی تھی وہ تو خود دکھ دینے والے بن گئے۔
ہم کو کسی کے دکھ درد سے کیا، ہم تو شاید سمجھ بیٹھے کہ ہم پہ ایسا وقت نہیں آنے والا۔ مگر ہم شاید یہ نہیں سمجھتے اندھی گولی اپنا شکار نہیں دیکھا کرتی۔ ہم کیوں نہیں سمجھتے کہ سانحہ ساہیوال ہمارے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ ہم یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ ماڈل ٹاؤن میں اس روز چلنے والی گولیاں آج بھی دوبارہ کہیں بھی، کسی بھی وقت چل سکتی ہیں۔ مگر شاید ہم تب سمجھیں گے جب پانی سر سے گزر چکا ہو گا۔ ہم شاید تب جاگیں گے جب ہمارا بھائی، بیٹا کسی عقوبت خانے میں ایڑیاں رگڑتا مر جائے گا اور ہمیں نہ اس کے زندہ ہونے کی خبر ہو گی نہ مردہ ہونے کی۔
بوڑھی ماتی ماں کی تصویر سوال کرتی ہے یہ اندھی گولیاں کب تک چلتی رہیں گی، یہ غداری کے سرٹیفیکیٹ کب تک بٹتے رہیں گے، یہ جبری گمشدگیاں کب تک جاری رہیں گی، یہ ظلم کب تک جاری رہے گا؟ شاید تب تک جب تک ہم خاموش ہیں، شاید تب تک جب تک ہم ظلم کی حمایت کرتے ہیں۔ شاید تب تک جب تک ہم حیات بلوچ کے قتل کو جسٹفائی کرتے ہیں۔ مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ اگلا شکار ہم بھی ہو سکتے ہیں۔
قتل میں ملوث ایف سی اہلکار پر پرچہ درج ہو چکا ہے، مگر اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ فوری انصاف ہو گا؟ کیا کوئی اس بات کی یقین دہانی کروا سکتا ہے کہ پرچہ واپس لینے یا صلح کرنے کے لئے کوئی دباؤ نہیں ڈالا جائے گا؟ کیا اس بات کی گارنٹی دی جا سکتی ہے چند پیسے دے کر مقتول کے خون کو خریدا نہیں جائے گا۔ اوروں کا تو پتا نہیں مگر مجھ جیسا ایک عام آدمی شاید مطمئن نہیں کہ ہم نے آرمی چیف کو نقیب اللہ محسود کے باپ کو بھی یقین دہانی کرتے دیکھا ہے کہ انصاف ہو گا مگرا ہوا کیا، آج اس کا قاتل کھلے بندوں آزاد پھرتا ہے۔
اب اگر کل کلاں کو حیات بلوچ، نقیب اللہ محسود یا ساہیوال کے معصوموں یا دیگر ہزاروں جبری گمشدہ کیے گئے یا تاریک راہوں میں مارے گئے لوگوں میں سے کسی کا بھائی، بیٹا یا کوئی رشتے دار ریاست اور اس کے خون اشام درندوں سے انصاف طلب کرے گا، معاف کیجئے گا تب آپ شکایت کرنے میں حق بجانب نہیں ہوں گے۔
معاف کیجئے گا جب شہریوں کو ماورائے عدالت قتل کیا جائے گا اور لوگوں کو عدالت سے انصاف کی امید نہ ہو گی تب لوگ قانون ہاتھ میں لیں گے۔
مجھے یاد ہے قائد اعظم یونیورسٹی کا وہ پڑھا لکھا نوجوان بھی جو بلوچستان میں بنیادی حقوق کا رونا روتے بی ایل اے کے ہتھے چڑھ گیا اور یوں ریاست مخالف سرگرمیوں میں مارا گیا۔ اس امر پر بھی سوچنے کی ضرورت ہے کہ آخر کیوں پڑھا لکھا نوجوان ریاست مخالف سرگرمیوں پر اتر آتا ہے۔ کیا اس نوجوان یا حیات کی موت ایک عالم کی موت نہیں؟ کیا یہ علم کی موت نہیں؟ اب کون بلوچ اپنے بچوں کو پڑھائے گا کہ پڑھا لکھا بچہ تو مار دیا جاتا ہے۔
اور پھر ہم رونا روئیں گے بے روزگاری کا، ناخواندگی کا، بے ہنری کا، جہالت کا۔ مگر شاید جاہل وہ نہیں، ہم ہیں کہ وہ تو سمجھتے ہیں کہ علم حاصل کرنے سے زیادہ جان بچانا فرض ہے اور ہم شاید یہ بھی نہیں سمجھتے کہ جب ہم پڑھے لکھوں کو ماریں گے اور عزیر بلوچ جیسے قاتلوں کو کھلا چھوڑیں گے تب کون اپنے بچوں کو پڑھائے گا۔
اور آخر میں یہ بدتمیز قلم کار بھی کتنا سادہ ہے، امید لگائے بیٹھا ہے کہ انصاف ہو گا، ظالم پھانسی کے پھندے پر چڑھ جائے گا مگر شاید ایسا ممکن نہیں۔ آپ کیا سمجھتے ہیں، کیا ایسا ممکن ہے؟


