بھگتی تحریک اور بابا گرو نانک دیو جی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بابا گرونانک غالباً واحد رہ نما تھے جنہوں نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ بھگتی تحریک کے خیالات کو ایک مضبوط، جامع اور پائیدار شکل میں ترتیب دیا۔ ان کی منفرد روحانی، سماجی اور سیاسی سوچ نے بھگتی کے پیغام میں موجو مساوات، محبت، اچھائی کو عوام کے سامنے قابل قبول انداز میں پیش کیا۔

جس وقت پروٹسٹنٹ لوگ اچھے اعمال کے مقابلے میں عقیدے پر زیادہ زور دے رہے تھے گرونانک اچھائی اور نیکی کے درس دے رہے تھے۔ تمام انسانیت میں اتحاد، عوام کی بے غرض خدمت، سماجی انصاف کے لیے جدوجہد، دیانت دار طرز زندگی اور جائز روزگار گرونانک کی تعلیمات کے لازمی عناصر ہیں جو انہیں ایورپ کے پروٹسٹنٹ رہ نماؤں سے برتر ثابت کرتے ہیں۔

جو قارئین اردو میں بابا گرونانک کے بارے میں مزید پڑھنا چاہئیں ان کے لیے گوپال سنگھ کی کتاب ”گروہ نانک دیو“ جس کا اردو ترجمہ مخمور جالندھری نے کیا اور جسے نیشنل بک ٹرسٹ انڈیا نے شائع کیا خاصی کارآمد ہے۔ اس کے علاوہ ایک اچھی کتاب ”گروگرنتھ اور اردو“ ہے جسے عباداللہ گیانی نے تحریر کیا اور مرکزی اردو بورڈ لاہور نے شائع کیا۔ اس کتاب میں بارہویں صدی سے سترہویں صدی تک تقریباً پانچ سو سال کا احوال درج ہے۔ یہ کتاب 1966 میں شائع ہوئی اور اس کے ناشتر احمد دین اظہر (اے ڈی اظہر) جن کے بیٹے اسلم اظہر پی ٹی وی کے بانی تھے۔ اس کتاب کے حصہ اول میں گروگرنتھ صاحب کے وہ شبد اور مشکوک ہیں جن میں فارسی اور عربی کے الفاظ ہیں۔

اسی حصے میں شیخ فرید کے کلام سے لے کر بھگت کبیر، گرونانک اور گرو ارجن اور رائے بلونڈ تک کا کلام شامل ہے۔ اس کتاب کے دورے حصے میں گرو گرنتھ صاحب میں استعمال شدہ عربی اور فارسی الفاظ کی فہرست دی گئی ہے۔ اسی طرح ایک اور کتاب جے ایس گریوال کی ”سکھ مذہب اور تاریخ“ ہے جس کا اردو ترجمہ امجد محمود نے کیا اوربک ہوم لاہور نے شائع کیا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے اکثر ناشروں کی طرح یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ کتاب کب لکھی گئی اور پہلی بار کب شائع ہوئی۔ نہ ہی مترجم امجد محمود نے کوئی تعارف یا پیش لفظ لکھا ہے۔

صرف یہ بتایا گیا ہے کہ جے ایس گریوال چندی گڑھ بھارت میں انسٹی ٹیوٹ آف پنجاب اسٹڈیز کے ڈائریکٹر ہیں اور پنجاب اور سکھوں پر کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ اس کتاب کے پہلے باب میں صرف چند صفحات پر بھگتی تحریک کا ذکر ہے۔ پھر دوسرے باب میں ”سکھ پنتھ کی بنیاد“ کے زیر عنوان اس موضوع پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔

لیکن غالباً اردو میں ”جپ جی سکھ منی صاحب“ کا اردو ترجمہ جو خواجہ دل محمد نے کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ راقم کے پاس اس کا تیسرا انڈیشن جو 1946 میں شائع ہوا موجود ہے۔ اسی کتاب کو ”کلام وحدانیت“ کے نام سے احمد سلیم نے ترتیب دیا اور 2004 میں فکشن ہاؤس نے شائع کیا۔ اس میں احمد سلیم کا چار صفحات پر پیش لفظ بھی ہے جو مختصر اور جامع ہے۔ تقسیم ہندر سے قبل پنجاب میں رواداری کا اندازہ خواجہ دل محمد کے ان الفاظ سے لگایا جاسکتا ہے۔

”جپ جی وہ مقدس عرفانی اور روحانی پاک کلام ہے جسے لاکھوں انسان صبح کے سہانے وقت میں اپنے خالق کے حضور توجہ اور شوق سے پڑھتے ہیں۔“

آگے لکھتے ہیں

”یہ مناجات پنجاب کے مسلح اعظم خدا رسیدہ بزرگ بابا گروہ نانک صاحب کی مبارک زبان سے نکلی ہے۔ ان کے عقیدت مند اس مقدس نظم کے ایک ایک لفظ کو حرز جان سمجھتے ہیں اور اس دعائے سحری کا ورد ہرد وجہان میں اپنے لیے موجب نجات سمجھتے ہیں“

اس کے علاوہ یوسف مثالی کی کتاب ”شاہ، نانک، فرید“ تینوں کے کلام کا احاطہ کرتی ہے۔ یوسف مثالی کی ایک اور کتاب ”بلھا، باہو، بھگت کبیر“ بھی ہے لیکن ناشر ’مشتاق بک کارنر‘ نے کسی پر بھی اشاعت کا سال درج نہیں کیا ہے اور نہ ہی یوسف مثالی صاحب کا کوئی تعارف دیا ہے۔ ان کتابوں کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ان میں بھگت کبیر اور گرو نانک دونوں کو مسلم ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور ان دونوں کے آفاقی پیغام کو محدود کرکے اسلام کے پیراے میں پیش کیا گیا ہے۔ اسی طرح کی دو اور کتابیں ہیں۔ ”گرو گرنتھ صاحب اور اسلام۔ تاریخ، تعلیم اور اسلامی عناصر“ ابو الامان امرتسری نے لکھی اور ادارہ ثقافت اسلامیہ نے انیس سو ساٹھ میں لاہور سے شایع کی۔ چھ سو سے زیادہ صفحات کی یہ کتاب خاصی معلوماتی تو ہے مگر کتاب کے رجحان کا اندازہ درج ذیل سطروں سے لگایا جا سکتا ہے۔

”جہاں تک گرو نانک صاحب کی اپنی تعلیمات کا تعلق ہے یہ ایک حقیقت ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات کا ہی ایک گور مکھی چربہ ہیں۔ گورو نانک جی نے اپنی بانی میں قرآن مجید کی مختلف آیات اور احادیث نبویہ میں بیان کردہ مضامین کو ہی پیش کیا ہے“ ۔

پھر آگے خود لکھتے ہیں ”گورہ گرنتھ صحب میں سکھ گورو صاحبان کے علاوہ بعض اور بھگتوں اور بھاٹوں وغیرہ کا کلام بھی درج ہے چنانچہ اس سلسلے میں مشہور سکھ مورخ گیانی گیان سنگھ جی کا یہ بیان ہے کہ گورو گرنتھ صاحب میں مندرجہ ذیل غیر سکھ صاحبان کی بانی بھی درج ہے۔ کبیر، فرید، نام دیو، دھنا سین، پیپا، روداس، میراں بائی، سور داس، بینی، ترلوچن، جے دیو، رامانند، اور سترہ بھاٹ، ستا بل ونڈ، سندر جامل، جھال، پتنگ، سمن، موسن، ایشر، گورکھ، بھرتری، گہپی چند، اور عالم۔ عنی کل 51 اشخاص کا کلام گورو گرنتھ صاحب میں تسلیم کیا گیا ہے۔“

اس طرح ہم اس پیغام کی وسعت کا اندازہ لگا سکتے ہیں جسے کسی ایک مذہب کے دائرے میں بند نہیں کیا جا سکتا۔

بابا گرو نانک کو مسلم ثابت کرنے کی ایک اور کوشش ”بت شکن گرو نانک“ نامی کتاب میں کی گئی ہے جس کے مصنف خواجہ محمد عبداللہ ابن عبدہ ہیں۔ اردو میں ایک نسبتاً بہتر کتاب افضال حیدر کی ”بابا نانک“ ہے جو تصوف کی طرف زیادہ مایل ہیں اور انہوں نے نانک کو مسلمان سے زیادہ صوفی ثابت کیا ہے جو بڑی حد تک درست ہے۔

بھگتی تحریک اور پروٹسٹنٹ رہ نماؤں میں ایک فرق یہ تھا کہ چھاپے خانے کی ایجاد کی بدولت یورپ میں پروٹسٹنٹ تعلیمات کو بروقت محفوظ کیا جاسکتا تھا۔ جب

ہندوستان میں ایسا زیادہ تر زبانی کلامی ہوا۔ جس کے نتیجے میں بھگتی تحریک کے رہ نماؤں کبیر، رامانند اور نانک سے لے کر چیتنیا، سورداس اور ولبھ اچاریہ تک سب کے گرد دیومالائی حصار بنادیا گیاہے اور مبینہ معجزوں کی بھرمار ہے۔

پروٹسٹنٹ رہ نماؤں کے اکثر حالات زندگی اور ان کی تحریریں اصل اور قابل اعتماد حالت میں موجود ہیں۔ جب کہ بھگتی رہ نماؤں کے بارے میں ایسا وثوق سے نہیں کہا جاسکتا کیوں کہ ان کے حالات زندگی میں بہت مبالغہ آمیزی ملتی ہے اور ہربھگت یا گروہ کے بارے میں بہت بڑھا چڑھا کر باتیں بیان کی گئی ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا کبیر، نانک اور رامانند وغیرہ کا موازنہ پروٹسٹنٹ رہ نماؤں مثلاً لوتھر، کیل ون اور نوکس وغیرہ سے کیا جاسکتا ہے؟ کیا ہمارے بھگتوں نے پروٹیسٹ یا احتجاج کیے؟ اس کا جواب مثبت میں ہے۔ پہلا احتجاج تو خود ذات پات کے خلاف تھا کیوں کہ کبیر، رامانند اور نانک ذات پات اور مذہبی افسر شاہی پر بالکل یقین نہیں رکھتے تھے۔

دوسری بات یہ ہے کہ ہمارے بھگت بھی مقامی زبانوں جیسے پنجابی اور ہندی وغیرہ کو مقدس زبانوں جیسے سنسکرت اور عربی پر ترجیح دیتے تھے۔ جیسا کہ ویکلف، ہس اور لوتھر وغیرہ نے کیا تھا اور بائبل کو لاطینی سے انگریزی، جرمنی اور چیک زبانوں میں منتقل کیا۔

ایک اور مماثلت یہ تھی کہ بھگتوں نے بھی مذہب کو عوام کے قریب لانے میں کردار ادا کیا اور اس طرح انہوں نے پرانی تسلیم شدہ مذہبی مقتدرہ کو للکارا۔ اس مقصد کے لیے پروٹسٹنٹ تو چھاپے خانے استعمال کر رہے تھے مگر یہاں کے بھگت ایسی شاعری کر رہے تھے جو زبان زد عام ہوکر لوگوں کو متاثر کررہی تھی۔

بھگتی تحریک اور پروٹسٹنٹ ازم دونوں خود اذیتی کے قایل نہیں تھے اور عوام کو براہ راست خدا سے تعلق رکھنے پر زور دیتے تھے۔ جس میں پیچیدہ رسوم و رواج کا دخل نہ تھا۔ دونوں تحریکوں کا کہنا تھا کہ مذہبی پیچیدگیاں غیر اہم ہیں اور بلاوجہ سرپٹخنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ انسان کو خود خدا سے اپنے تعلق کے بارے میں سوچنا اور فیصلہ کرنا چاہیے اور اس کے لیے کسی برہمن، پادری یا ملا کی ضرورت نہیں ہے۔

دونوں تحریکوں نے مذہبی عبادت اور عبارتوں کو طوطے کی طرح رٹنے سے باز رکھا اور سمجھ کر پڑھنے کی ترویج کی۔ اگر کوئی مقدس تحریر سمجھ نہیں آ رہی تو اسے رٹنے یا دہرانے کا کوئی فائدہ اور ضرورت نہیں۔

پندرہویں صدی کے آخری دو عشروں میں یعنی 1480 سے 1500 تک چار بڑی شخصتیں سامنے آئیں۔ بنگال میں چیتنیا، متھورا کے نزدیک برج کے مقام پر سورداس، چھتیس گڑھ میں ولبھ اچاریہ اور راجستھان میں میرا بائی۔ اس طرح مشرقی، شمالی، وسطی اور مغربی ہندوستان میں کم از کم ایک بڑی مذہبی شخصیت 1480 سے 1500 کے درمیان پیدا ہوئی۔

چیتنیا ایک ہندو سادھو تھا جو کرشن مہاراج کی پوجا میں ناچ گانا استعمال کرتا تھا۔ وہ انتہائی مذہبی تھا اور دنیاوی معاملات سے بے بہرہ اور لاتعلق۔ اس نے اجتماعی عبادات کیرتن کی ترویج کی جس میں بھجن گاکر ایشور کے نام چبے جاتے ہیں۔

چیتنیا کی تحریک انتہائی جذباتی تھی جو بنگال اور اڑیسہ میں سولہویں صدی میں پروان چڑھی۔ کبیر اور نانک کی بھگتی تحریک کے مقابلے میں چیتنیا کی تحریک میں کرشن مہاراج کی پوجا پر بڑا زور دیا گیا تھا۔ رادھا اور کرشن کے قصے میں خدا اور انسان کی محبت پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔

چیتنیا کی بھگتی کبیر اور نانک کی بھگتی سے مختلف تھی۔ کیوں کہ کبیر اور نانک نے مسلمہ مذہبی نظام کو للکارا جب کہ چیتنیا مکمل طور پر دیوی دیوتاؤں کے لیے سپردگی کا طالب تھا اورنام جپنے ہی کو معراج سمجھتا تھا۔ جس میں ڈھول تاشے بجائے جاتے اور رقص کیے جاتے۔

سورداس بھی ایک مہان کوی تھا جو برج بھاشا میں کرشن کے بھجن گاتا بجاتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ سور داس نے ولبھ اچاریہ سے اثر قبول کیا تھا۔ ولبھ اچاریہ خود بھی کرشن کا بھگت تھا۔ اسی طرح میرا بائی بھی کرشن کی ایک مورتی پر عاشق تھی اوراس نے سینکڑوں گیت اور بھجن کرشن مہاراج کی محبت اور عقیدت میں لکھے۔

میرا بائی کی زندگی کو کم از کم تین بھارتی فلموں میں پیش کیا گیا ہے۔ امریکی ہدایت کار ایلس ڈنکن نے 1945 اور 1947 میں بالترتیب تامل اور ہندی زبان میں میرا بائی پر فلمیں بنائیں جن میں میرا بائی کا کردار سجالکشمی نے ادا کیے پھر اس کی تقریباً تیس سال بعد گلزار نے ہیما مالنی اور ونود کھنہ کو لے کر فلم ”میرا“ بنائی۔

ہم کہہ سکتے ہیں کہ کبیر، نانک اور راما نند کی بھگتی سے خاصی مختلف بھگتی چیتنیا، سورداس، ولبھ اچاریہ اور میرا بائی کی تھی۔ کبیر، نانک اور رامانند کی بھگتی میں کچھ مماثلت پروٹسٹنٹ ازم سے ہے جبکہ چیتنیا اور میرا بائی کو بھگتی میں ایسا کچھ نہیں ہے۔

اس مضمون کے اگلے حصے میں ہم دیکھیں گے کہ پندرہویں اور سولہویں صدی میں مسلم مذہبی تحریکوں کا کیا حال تھا اور کیا اس میں بھگتی اور پروٹسٹنٹ تحریکوں کے کچھ موازنہ کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •