عتیقہ اوڈھو اور ناچتی بوتل
یہ خبر پڑھ کر کہ ”نو برس بعد اداکارہ عتیقہ اوڈھو کو شراب کی بوتلیں جہاز سے لے جانے کے مقدمے سے بری کر دیا گیا“ ، ہمارے ذہن کے پردے پر جو فلم چلی وہ کچھ یوں تھی،
استغاثہ: ملزمہ پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ دو بوتل شراب لے کر جہاز میں جا رہی تھی۔
قاضی: کیا آپ اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہتی ہیں؟
ملزمہ:
خود اپنی مستی ہے جس نے مچائی ہے ہلچل
نشہ شراب میں ہوتا تو ناچتی بوتل
قاضی: کیا بوتل ناچ رہی تھی؟
استغاثہ: نہیں۔ ایسی کوئی شہادت نہیں ہے۔
قاضی: کیس ڈسمس کیا جاتا ہے۔ نشہ نہیں تھا تو وہ سرکہ ہو گا۔ نیز ملزمہ کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ آئندہ مستی میں ہلچل مچانے سے گریز کرے۔
مقدمے کی تفصیل پڑھی تو وہ ایسی خوش کن نہیں تھی، بلکہ نہایت عبرتناک تھی۔ دی نیوز کے مطابق سنہ 2011 سے اب تک اس مقدمے کی 210 پیشیاں ہوئیں اور اس دوران 16 ججوں نے اس کیس کی سماعت کی۔ اس دوران عتیقہ اوڈھو مسلسل چھے ماہ تک پیش ہوتی رہیں اس کے بعد انہوں نے عدالت سے فریاد کی کہ انہیں ہر پیشی پر کراچی سے پنڈی آنا پڑتا ہے، حاضری سے جان بخشی کی جائے۔ عدالت نے کرم کیا۔ مان گئی۔ لیکن مقدمہ چلتا رہا۔
ستمبر 2017 میں عتیقہ اوڈھو سپریم کورٹ گئیں کہ وہ اس مقدمے میں دخل اندازی کرے، یہ مقدمہ سپریم کورٹ کے اساطیری چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے حکم پر درج ہوا تھا، اور سپریم کورٹ کا نام دیکھ کر ٹرائل کورٹ کے جج گھبرا جاتے ہیں اور بری نہیں کرتے۔
آخر اب اگست 2020 میں جج یاسر چودھری صاحب نے انہیں بری کر دیا۔
یہ مقدمہ اساطیری جرنیل اور ڈکٹیٹر ضیا الحق کے 1979 کے بنائے گئے امتناع (حدود) آرڈیننس کے تحت درج کیا گیا تھا جس کی شق چار کی رو سے مملکت خداداد میں کسی مسلمان کے پاس سے کوئی نشہ آور شے برآمد ہو جائے تو اسے زیادہ سے زیادہ دو برس تک قید یا زیادہ سے زیادہ تیس کوڑوں کی سزا اور جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کی شق 16 بی ایک اڑچن ڈالتی ہے اور کہتی ہے کہ حدود کی شق چار اس وقت لاگو ہو گی جب یہ جرم کسی عوامی مقام پر سرزد ہو گا۔ اس قانون میں درج تعریف کے مطابق عوامی مقام کا مطلب ہے کوئی گلی، سڑک، شاہراہ عام، پارک، باغ یا ایسا مقام جہاں عوام کو جانے کی کھلی آزادی ہو اور اس میں ہوٹل، ریستوران، موٹل، میس اور کلب وغیرہ شامل ہیں لیکن کسی ہوٹل کا رہائشی کمرہ نہیں۔
عتیقہ اوڈھو کے وکیل علی ظفر صاحب نے دلیل دی کہ ائرپورٹ لاؤنج اس عوامی مقام کی تعریف پر پورا نہیں اترتا تو حدود کیسے لاگو کی جا سکتی ہیں۔ جج صاحب نے معاملے پر عمیق غور و فکر کے بعد فیصلہ کیا کہ ثبوتوں کی عدم موجودگی پر مقدمہ خارج کیا جاتا ہے۔
ویسے اگر ہماری سوچی ہوئی فلم کے مطابق مقدمہ چلایا جاتا تو نو منٹ میں فیصلہ ہو جاتا اور سولہ ججوں، عدالتی عملے، وکیلوں اور عتیقہ اوڈھو کے نو برس ضائع نہ ہوتے۔
اچھا اب سوچیں کہ شراب کی دو درآمدی بوتلوں کی قیمت کیا ہو گی؟ اس وقت کے حساب سے غالباً آٹھ دس ہزار روپے۔ اب یہ سوچیں کہ ان دو سو دس پیشیوں پر عدالتی عملے کی تنخواہوں اور دوسرے خرچے ڈال کر سرکار کا کتنا خرچہ ہوا ہو گا اور اس وقت کے دوران کتنے مظلوموں کو انصاف دیا جا سکتا ہو گا جس سے وہ محروم رہے اور ان کا کتنا نقصان ہوا؟ بہت کم کر کے بھی سوچیں تو دس ہزار مالیت کی بوتلوں پر دو چار ہزار روپے کے جرمانے کی خاطر تیس چالیس لاکھ کا عوامی اور نجی پیسہ بھاڑ میں جھونک دیا گیا۔
اس سے کہیں بہتر تھا کہ بغیر مقدمہ چلائے ہی عتیقہ اوڈھو کو کسی عوامی مقام پر تیس کوڑے مار کر ایک دن میں فارغ کر دیا جاتا۔ انہیں نو برس تک مسلسل اذیت بھی نا جھیلنی پڑتی، ان کے اور قوم کے لاکھوں روپے بھی برباد نہ ہوتے۔
یا اگر اساطیری چیف جسٹس افتخار چوہدری دخل اندازی نہ کرتے اور عتیقہ اوڈھو اتنی خوبصورت اور مشہور نہ ہوتیں کہ بار بار انہیں دیکھ کر بھی ہم جیسوں کا جی نہ بھرے، تو پھر انہیں عدالت برخواست ہونے تک قید کی سزا اور یہ فرض کر کے کہ وہ بہت امیر ہیں، ایک دو لاکھ روپے جرمانہ کر کے بھی چھوڑا جا سکتا تھا۔ یوں سرکار لاکھوں روپے لٹانے کی بجائے لاکھ دو لاکھ روپے جیب میں ڈال کر گھر جاتی۔
قانونی ماہرین کے مطابق دو برس تک سزا والے مقدمے بہت ہلکے مانے جاتے ہیں اور ان پر سخت سلوک نہیں کیا جاتا۔ یہ اس حد تک قابل ضمانت ہوتے ہیں کہ مجسٹریٹ کی بجائے تھانیدار بھی ملزم کو شخصی ضمانت پر رہا کر سکتا ہے۔
ہم تو یہی تجویز دیں گے کہ آئندہ کوئی مشہور اداکارہ ایسے کسی مقدمے میں پکڑی جائے تو پہلی پیشی پر ہی عدالت سے مطالبہ کرے کہ اسے سٹیڈیم میں ٹکٹکی سے باندھ کر تیس کوڑے لگائے جائیں اور جنرل ضیا الحق کی یاد تازہ کی جائے لیکن سٹیڈیم میں اینٹری صرف ٹکٹ سے ہو اور گیٹ کی آمدنی میں اسے پچاس فیصد حصہ دیا جائے۔ باقی پچاس فیصد حکومت خود رکھ لے۔ نیکی بھی ہو جائے گی اور حکومت کو لاکھوں روپے کے نقصان کی بجائے کروڑوں روپے کا فائدہ بھی ہو جائے گا۔ نیز قوم بھی خوش ہو جائے گی کہ کیا خوب انصاف ہوا ہے۔


