پرانی کوٹھی (قسط 2)
آپ نے میری پچھلی روداد تو پڑھی ہوگی کہ جس میں میں نے بتایا تھا کہ میں کالج میں پڑھاتی ہوں جبکہ میرے شوہر شاہجہاں ایڈورٹزمنٹ ایجنسی چلاتے ہیں، ہمارے تین بچے ہیں جو سکول جاتے ہیں۔ پچھلی تحریر میں میں نے پرانی کوٹھی خریدنے کا شوق اور بعد میں اسے خریدنے کا قصہ بیان کیا تھا۔ خواہش تو پوری ہوگئی تھی مگر اب اس کوٹھی میں ہمارے ساتھ دو روحیں بھی اقامت پذیر تھیں۔ یہ روحیں پرانے مالک مکان مرزا اسلم خان اور ان کی اہلیہ مہرالنساء کی تھیں جو کہ دونوں ایک حادثے میں مارے گئے تھے۔
آپ نے پچھلی کہانی میں پڑھا ہوگا کہ شروع میں انہوں نے ہمیں ڈرایا مگر بعد میں ہمارے ساتھ ان کی اچھی نبھنے لگی تھی، خصوصآً میرے ساتھ تو ان کے اچھے تعلقات ہوگئے تھے۔ وہ دونوں خیال کرتے تھے کہ کسی قسم کا خوف نہ پھیلے سو بچوں کو تو کبھی احساس تک نہ ہوا تھا کہ ہمارے ساتھ دو روحیں بھی اس گھر میں رہتی ہیں۔ البتہ میرا ان دونوں بزرگوں کی روحوں کے ساتھ تعلق رہتا تھا۔ کبھی اکیلے گھر کا دروازہ کھولا تو پردہ خود بخود کھڑکی سے ہٹ جاتا تھا کہ دھوپ اندر آنے لگ جاتی تھی۔ شام کو کبھی دروازہ کھولا تو بجلی جلانے کے لیے میرے بٹن دبانے سے پہلے ہی بٹن نیچے ہو جاتا۔ میں بھی اپنے طور پر مسکرا اٹھتی اور شکریہ ادا کر دیتی۔
کچھ واقعات ان چھوٹے معاملات سے بڑھ کر بھی ہوئے۔ لیکچرر کی زندگی میں ایک بڑا کام پرچوں کی چیکنگ ہوتی ہے۔ پڑھانا آسان کام ہے، پیپر چیک کرنا مشکل کام ہے۔ آج کل تو طالبعلموں کی لکھائی ایسی ہوگئی ہے کہ پڑھنا مشکل ہو گیا ہے۔ کہیں کچھ دوستوں کا قصہ پڑھا تھا کہ آپس میں اپنی لکھائی کے بارے میں بتا رہے تھے کہ ایک نے کہا کہ میں خط لکھتا ہوں تو وصول کنندہ اکیلا نہیں پڑھ پاتا، دو تین لوگوں سے پڑھوا کر اندازہ لگاتے ہیں کہ کیا پیغام یار ہے۔
دوسرے نے کہا کہ میرا معاملہ اس سے بھی آگے ہے کہ میرا تحریر شدہ خط موصول ہونے پر مجھے بلوایا جاتا ہے کہ آپ خود تشریف لائیں اور آ کر پڑھیے کہ آپ نے کیا لکھا ہے۔ تیسرے نے کہا کہ میرا معاملہ اس سے بھی بڑھ کر ہے کہ وہ مجھے بھی بلا لیں تو میں اپنا لکھا نہیں پڑھ پاتا، اپنے لکھے کو پڑھنے کی کوشش نہیں کرتا، بس خیال جو ذہن میں اس وقت آ جائے، بیان کر دیتا ہوں۔ سو اگر میرا خط کبھی تمہیں موصول ہو تو جلدی ٹکٹ بھیج کر بلوایے گا کہ میرے خط کا متن جامد نہیں بلکہ میرے خیالات کے مطابق بدلتا رہتا ہے۔
بخدا، میں نے بھی بعض پیپر چیک کرتے طالبعلموں کو بلوایا کہ بتائیے کیا لکھا ہے، اور بعض کو تحریر کے اگلے درجے پر جان کر خود اپنی خوش گمانی پر انحصارکر کے خیال کیا کہ کیا لکھا ہوگا۔ لیکچرری کے پہلے چند سال میں یہ سیکھ لیا کہ پرچے انفرادی طور پر ایک ایک کر کے مکمل طور پر چیک نہیں کرنے چاہیئیں بلکہ تمام پرچوں کے ایک سوال کو چیک کرنا چاہیے اور پھر اگلے سوال کی طرف جانا چاہیے۔ اس سے چیک کرنے والے کو فائدہ ہوتا ہے کہ چند پرچے چیک کرنے کے بعد جواب کی مارکنگ ذہن میں پوری طرح نقش ہو جاتی ہے، اس طرح سوال کی چیکنک کی رفتار تیز ہو جاتی ہے۔
دوسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ طالبعلموں کے جوابات کا ایک دوسرے سے موازنہ ہوتا جاتا ہے، سو نمبر دیتے ہوئے غلطی کا اندیشہ کم رہتا ہے۔ اب جب تمام پرچے چیک ہو جاتے ہیں تو پھر آپ انفرادی سوالات پر دیے گئے نمبروں کو جمع کر کے پورے پرچے کے نمبر لگاتے ہیں۔ عام طور پر میں پرچے چیک کر کے جب اس مقام تک پہنچتی ہوں تو بہت تھک چکی ہوتی ہوں۔ ذہنی کام کو کبھی آسان نہ جانیے بلکہ یہ جسمانی کام سے سخت ہوتا ہے کہ جسمانی کام بھی تو حقیقتاً ذہن کے تابع ہوتا ہے۔ جسم تھکا ہو اور ذہن کام کر رہا ہو تو بہت کچھ ہو جاتا ہے، ذہن تھکا ہوا تو چست جسم بھی بیکار ہے۔
خاتون کو تو گھر کے بھی بہت سے کام کرنے ہوتے ہیں۔ بچوں کو دیکھو، ان کا ہوم ورک کرواؤ، کھانا پکاؤ، کام کرنے والی کے کام دیکھو، کئی کام ہوتے ہیں۔ شاہجہاں سے جہاں تک ممکن ہوتا وہ میری مدد کرتے مگراپنے کاروبار کی نوعیت سے شاہجہاں عموماً شام کو دیر سے گھر آتے تھے۔ عام طور پر پیپر چیک کر کے جمع کرانے کا دن پیر کا دن ہوتا ہے کہ اساتذہ ویک اینڈ اس کام کے لیے پوری طرح استعمال کر سکیں۔ وہ ہفتے کی رات تھی اور میں پورے پرچے چیک کرچکی تھی مگر ابھی ہر پرچے پر انفرادی سوالوں کے نمبروں کو جمع کرکے ٹوٹل لکھنا تھا، عموماً شاہجہاں میری اس میں مدد کر دیتے تھے۔
مگر اس اتوا رعزیزوں میں ایک وفات کی بنا پر ہم دونوں ہی وہاں مصروف ہوگئے۔ کسی کی وفات یقیناً افسوس ناک ہوتی ہے مگر مجھے بعد میں یہ اچھا لگتا ہے کہ کیسے عزیز و اقارب اور محلے دار مدد کو آتے ہیں۔ کسی کے غم میں شریک ہونا ایک مستحن امر ہے۔ ہماری برادری میں تو کئی دن موت والے گھر میں کھانا نہیں پکتا، عزیز و اقارب خود بخود ذمہ داری لے لیتے ہیں کہ اہل خانہ اور تعزیت پر آنے والوں کے طعام کا بندوبست ہو۔ میں رات گئے تک وہاں مصروف رہی۔ دیر سے واپسی ہوئی مگر ذہن پر پرچوں کے نمبر لگانے کا بوجھ تھا۔ صبح کالج میں لگاتار تین کلاسوں کو بھی پڑھانا تھا، سو تھکے ہونے کے باوجود میں نے سوچا کہ کسی نہ کسی طرح نمبروں کے ٹوٹل کرکے پرچوں پر لکھ دوں۔
میز پر پڑے پرچوں کو دیکھا تو عجب احساس ہوا۔ ان کی ترتیب وہ نہ تھی جیسی میں چھوڑ کر گئی تھی۔ سب پرچے رولنمبرز کے لحاظ سے ترتیب میں رکھے تھے، اور سب سے بڑھ کر پرچوں کے نمبر ٹوٹل ہوکر صاف لکھائی میں پرچے کے سرورق پر لکھے ہوئے تھے۔ کمرے کی کھڑکی کا ایک پٹ کھلا تھا اور ہلکی ہلکی ہوا محسوس ہو رہی تھی۔ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ کمرے کے کونے میں کوئی مجھے دیکھتے ہوئے زیر لب مسکرا رہا ہے۔
پھر ایک واقعہ اور پیش آیا۔ لوگوں کے لیے اتوار کا دن چھٹی کا دن ہوگا مگر نوکری پیشہ خاتون کے لیے یہ چھٹی کا دن نہیں ہوتا بلکہ پورے ہفتے کا مصروف ترین دن ہوتا ہے۔ گھر کی خود صفائی ستھرائی کرو یا نوکرانی کے سر پر کھڑے ہو کر صفائی کرواو، پورے ہفتے کے لیے بازار جا کر اشیائے صرف کی خریداری کرو، بچوں کے کپڑوں کا کچھ نہ کچھ کام نکلا ہوتا ہے ان کی سلائی، ترپائی اور ٹھیک کرنا، پردوں کی کتر بیونت، گندے کپڑوں کے ڈھیر کی دھلائی سب اسی دن کے لیے ہوتا ہے۔ مہمان داری کا دن بھی یہی ہے کہ کوئی آپ کی طرف آ رہا ہوگا ورنہ آپ کسی عزیز کی طرف مبارکباد یا افسوس کے لیے جا رہے ہوں گے ۔ کھانا بھی اسی دن اہتمام سے بنتا ہے، باہر سیر پر جانے کے لیے بھی یہی دن ہے۔ سو امید ہے کہ اتوار کی چھٹی کی حقیقت آپ کو سمجھ میں آ گئی ہو گی۔
وہ گرمیوں کی ایک اتوار کا دن تھا، صبح صبح کپڑے دھو کر صحن میں تار پر سوکھنے ڈال دیے تھے کہ دھوپ میں جلد خشک ہو جائیں۔ بچوں کی فرمائش اور اپنے شوق پر ہم دوپہر کا کھانا باہر ایک ریسٹورنٹ میں کھانے چلے گئے۔ خوب رش تھا، اور ہم ریسٹورنٹ میں کھڑکیوں کے ساتھ بیٹھے تھے کہ کھانے کے ساتھ ساتھ باہر کے منظر سے بھی لطف اندوز ہوتے رہیں۔ کھانا شروع ہی کیا تھا کہ یکایک گہرے بادل کہیں سے نمودار ہوگئے اور چھاجوں مینہ برسنے لگا۔
شاہجہاں اور بچے اس موسم کی تبدیلی سے بے حد خوش ہوگئے۔ ان کے چہروں اور باتوں سے مسرت جھلک رہی تھی اور جبکہ معصوم خاتون خانہ کے لیے یہ موسم بالکل الگ کیفیت لے کر آیا تھا۔ میرے ذہن میں تار پر ڈالے کپڑوں کے گیلے ہو جانے کی پریشانی تھی۔ صبح کی محنت ضائع اور گیلے کپڑوں کو گھر پہنچ کر برآمدے کی کم جگہ میں کسی طرح ایڈجسٹ کرنے کی سوچ ذہن پر بھاری تھی۔ موسم کیسا بھی خوبصورت ہو اگر ذہن میں ایک پریشان خیال آ جائے تو آپ جو مرضی کر لیں ایک بے کلی سی ذہن و جسم میں دوڑتی رہتی ہے۔
باقی لوگ خوش ہوں تو مزید ایک تقاضا آن پہنچتا ہے کہ آپ اس بے کلی کو چھپائیں کہ دوسروں کے رنگ میں بے رنگی کا باعث نہ بنیں۔ خوشی اندر سے پھوٹ رہی ہو تو سمجھ لیں کہ فوارہ اندر سے ابل پڑا، ایسا کہ اردگرد کے ماحول اور افراد کو بھی خوشی سے گیلا کر دے۔ اس کی بجائے خوشی کی اظہار کی جھوٹی کوشش خالی پانی سے بھری ہانڈی ہے جتنی مرضی ڈوئی چلالیں کوئی خوشبو نہیں نکلتی۔
ریسٹورنٹ میں بیٹھی میں اوپر اوپر سے سب کے ساتھ ہنس رہی تھی مگر اندر سے گیلے کپڑوں کا خیال تھا۔ کیا صبح تک ان میں سے میرا وہ سوٹ خشک ہو جائے گا جسے میں نے کل کالج پہن کر جانا تھا یا صبح صبح اسے استری پر خشک کرنا ہوگا؟ کل کالج میں ویسے بھی ڈائریکٹر کالجز کا وزٹ ہے، بہتر ہوگا کہ میں دوسرا سوٹ کل پہننے کے لیے چن لوں، کون سا سوٹ چنوں؟ بچوں کے یونیفارم بھی گیلے ہو گے ہوں گے ، انہیں خشک کرنے کا بھی کچھ کرنا ہوگا۔ یہ سوچیں ذہن میں چکر کاٹ رہی تھیں کہ یکایک شاہجہاں کی آواز آتی ہے، کیا خوبصورت موسم ہو گیا ہے، واہ واہ طبیعیت خوش ہوگئی ہے۔ کیوں بچو، مزہ آ رہا ہے نہ؟ چلو کھانے کے بعد آئس کریم کھانے چلتے ہیں۔
میں یہ بھی نہ کہہ سکتی تھی کہ گھر جلدی چلو، سو موسم کا مزہ لیتے گھومتے پھرتے شام کو گھر پہنچے۔ بارش رک چکی تھی۔ گھر میں داخل ہوتے ہی جیسے ہی میں گاڑی سے اتری، فوراً پیچھے صحن کو بھاگی کہ گیلے کپڑے اتاروں۔ مگر یہ کیا؟ کپڑے تو تاروں پر نہ تھے۔ اگر ہوا سے گرے ہوں تو آس پاس زمین پر پڑے ہونے چاہیئیں، اور ویسے بھی ہوا تو اتنی تیز نہ چلی تھی۔ خیال آیا کہ شاید نوکرانی نے اتار دیے ہوں گے، مگر اس اتوار تو اس نے چھٹی لی تھی کہ گاؤں جانا ہے۔ اب کیا کروں، پہلے تو گیلے کپڑوں کا معاملہ تھا، اب تو لگتا ہے کہ کپڑے اٹھائے گئے ہیں۔ مگر کپڑے تار سے چوری ہونا، کبھی پہلے ایسا نہیں ہوا۔ یہ کیا معاملہ ہے؟ ٹھنڈی ہوا پریشانی کو تھپک نہ پا رہی تھی۔
برآمدے میں داخل ہوئی تو دیکھا کہ کرسی پر کپڑے ترتیب سے طے ہوئے رکھے ہیں۔ سمجھ گئی کہ یہ روحوں کا کام ہے، اور یہ بات تو میں آپ کو پہلے ہی بتا چکی ہوں کہ جیسے ہر انسان انسان نہیں ہوتا اسی طرح ہر روح بدروح نہیں ہوتی۔ سوچنے لگی کہ ان کا شکریہ ادا کرنے کا طریقہ کیا ہوگا۔ خیال آیا کہ خوبصورتی صرف دیکھنے میں ہی نہیں ہوتی بلکہ خوبصورتی تو خوشبو میں بھی رچی بسی ہوتی ہے۔ اگلے دن کالج سے واپسی پر شہر میں عطر کی سب سے پرانی اور مشہور دکان پر گئی اور ڈھونڈ کر ایک عطر چنا جو مجھے یقین تھا کہ مرزا اسلم خان اور ان کی اہلیہ مہرالنسا کو پسند آئے گا۔ گھر کی اوپر کی منزل پر تین کمرے تھے جو کبھی مہمان خانے کے طور پر استعمال ہوتا ہوگا۔ میرا خیال تھا کہ یہ روحیں گھر کی اوپری منزل پر رہتی ہیں، سو عطر کے چند قطرے پانی میں ڈال کر ان کمروں میں پھیلا دیے اور عطر کی بوتل بھی ایک کونے میں رکھ دی۔
خیال ہے کہ یہ تحفہ بلکہ میں کہوں گی کہ میرا شکریہ کہنے کا طریقہ انہیں پسند آیا، کیونکہ جب کبھی اوپر کی منزل پر جاؤں تو یہ خوشبو ہلکی پھیلی ملتی ہے۔
اور بارش اب کسی قسم کی بے کلی کا باعث نہیں بنتی۔


