کیا نواز شریف کو واپس لایا جائے گا؟
آج کل جیسے ہی سابق وزیر اعظم نواز شریف کی لندن سے کوئی تازہ تصویر جاری ہو جاتی ہے، پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو ہزیمت اٹھانی پڑتی ہے۔ اور اسی لئے اب کی بار حکومت نواز شریف کو واپس لانے کی کوششوں کا اعلان تو کر رہی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اس وقت یہ بہت مشکل ہے۔ مگر یہ جو پچھلے سال اکتوبر سے نومبر کے درمیان ہوا اس کے پس منظر کو سمجھنا بہت ضروری ہے اور دیکھنا ہوگا کہ حقیقت کیا ہے۔
یہ 3 اکتوبر کی بات ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے باقی اپوزیشن جماعتوں سے مایوس ہو کر سولو فلائٹ کا فیصلہ کیا اور آزادی مارچ 27 اکتوبر کو شروع کرنے کا اعلان کیا۔ دونوں بڑی حزب اختلاف کی جماعتیں تیار نہیں تھیں۔ پیپلز پارٹی نے حمایت کا اعلان کر دیا مگر دھرنے میں شرکت سے معذرت کرلی۔ مسلم لیگ ن نے کوئی موقف نہیں اپنایا۔ پھر آتا ہے 11 اکتوبر۔ کوٹ لکھپت جیل میں قید نواز شریف کو نیب ایک اور کیس میں ان کا ریمانڈ حاصل کرتی ہے۔ ان کو نیب لاہور منتقل کر دیا جاتا ہے۔ اسی دن نیب پیشی پر نواز شریف نے آزادی مارچ کی حمایت کا اعلان کیا اور شہباز شریف کو جیل سے خط بھی لکھا۔
اب 21 اکتوبر کی رات تھی۔ سوشل میڈیا پر پتا چلا کہ نواز شریف کی طبیعت خراب ہے۔ جب مسلم لیگ ن کے کارکن نیب لاہور کے باہر اکٹھا ہونے شروع ہوئے اپنی مدد آپ کے تحت، شہباز شریف بھی وہاں پہنچے اور نواز شریف کو سروسز ہسپتال لے کر آیا گیا۔ یہاں آ کر پتا چلا کہ ان کے پلیٹ لٹس خطرناک سطح تک کم ہو چکے ہیں۔ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیلی۔ میڈیکل بورڈ بیٹھا۔ کراچی سے ڈاکٹر طاہر شمسی کو بلایا گیا۔
ادھر سے نواز شریف نے طبی بنیادوں پر دونوں کیسز میں جس کے تحت وہ گرفتار تھے کے لئے ضمانت کے لئے لاہور اور اسلام آباد ہائی کورٹ رجوع کیا۔ پہلی دفعہ نیب کے ملزم کو جسمانی ریمانڈ پر ہونے کے باوجود ضمانت ملی اور اسلام آباد ہائی کورٹ نے علاج کروانے کے لئے آٹھ ہفتوں کی ضمانت جو پنجاب حکومت چاہے تو توسیع کر سکتی ہے کا حکم جاری کیا۔
وہاں سے مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ کراچی سے اسلام آباد پانچ دنوں میں پہنچ گیا۔ لاہور میں مولانا نے نواز شریف سے ملاقات کی کوشش کی جو نا ہو سکی۔ وہاں سے مریم نواز کو جیل سے والد کے پاس پہنچا دیا گیا تھا اور پھر چار نومبر کو انہیں ضمانت مل گئی۔ مولانا کے دھرنے سے زیادہ نواز شریف کی صحت نے حکومت اور ان کے سہولت کاروں کے لئے خطرے کی گھنٹی بجاد ی۔
وزیر اعظم نے ڈاکٹر فیصل سے تصدیق کروائی کہ وہ واقعی بیمار ہیں۔ 28 اکتوبر کو ننکانہ صاحب میں کہا کہ ہم سے عدالت نے پوچھا کہ آپ گارنٹی دے سکتے کہ وہ دو دن زندہ رہیں گے تو انہوں نے کہا میں اپنی زندگی کی گارنٹی نہیں دے سکتا۔ نواز شریف کی کیسے دے سکتا ہوں؟ آزادی مارچ یکم نومبر کو دھرنے میں تبدیل ہو گیا۔ حکومت پر دباؤ بڑھ رہا تھا۔ جب رہبر کمیٹی اور حکومتی کمیٹی میں مذاکر ات ناکام ہوئے تو چوہدری برادران نے نا جانے کیا یقین دہانیاں کروائی کہ مولانا نے 13 نومبر کو دھرنا ختم کر دیا۔ وہ پلان بی اور سی ایک ہفتے میں ختم ہو گئے۔
نواز شریف 6 نومبر کو جاتی امرا چلے گئے۔ وہاں شریف میڈیکل سٹی میں کچھ دن علاج چلتا رہا۔ ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست پر حکومت نے 7 ارب روپے جو نواز شریف کو ایون فیلڈ اور العزیزیہ میں جرمانہ ہوا تھا اس کے برابر کی رقم یا اتنے مالیت کے اثاثے جمع کرنے کی شرط پیش کی تھی تو مسلم لیگ ن لاہور ہائی کورٹ چلی گئی۔ وہاں ہائی کورٹ نے اجازت دی کہ آپ کو علاج کے لئے چار ہفتوں کے لئے اجازت دے رہے ہیں، بیرون ملک سفر کی۔ آپ کو علاج کروا کر واپس آنا ہوگا اور شہباز شریف نے عدالت کو یقین دہانی کروائی۔ 19 نومبر کو نواز شریف شہباز شریف کے ہمراہ قطر سے آئی ایئر ایمبولینس میں روانہ ہو کر لندن چلے گئے۔ نواز شریف سوٹ میں ملبوس گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھ کر آئے اور وہ ایک لفٹر کی مدد سے ایئر ایمبولینس پر سوار ہو ئے اور لاہور سے روانہ ہو گئے۔
22 نومبر کو وزیر اعظم بولے کہ ہمارے ساتھ دھوکہ ہو گیا۔ اور تب سے لے کر آج تک حکومت یہ بات تسلیم نہیں کر رہی۔ حالانکہ ڈاکٹر یاسمین جو حکمران جماعت کی صوبائی وزیر صحت ہیں آج بھی اپنے بیانات اور رپورٹز پر قائم ہیں۔ ڈاکٹر طاہر شمسی بھی اپنے بیان پر قائم ہیں۔ اب شہباز گل نے رپورٹز جعلی اور ایک کیمیکل جس سے پلیٹلٹز کاونٹ کم ظاہر ہوتے ہیں اس کے استعمال ہونے کا دعوی کیا ہے۔ کابینہ نواز شریف کو واپس لانا چاہ رہی ہے۔ نواز شریف توشہ خانہ ریفرنس میں اشتہاری ہونے والے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ حکومت اور وزیر اعظم کے تب کے بیانات مانے جائیں یا آج کے؟ کیا ڈاکٹر یاسمین راشد اور ڈاکٹر فیصل سلطان نے کابینہ سے جھوٹ بولا؟ پنجاب میں حکومت ہونے کے باوجود بقول ان کے سچ ہے تو کیسے ممکن ہوا؟ آج تک اس کی تحقیقات کیوں نہیں کروائی گئی ہیں؟ دراصل حکومت اپنی پرفارمنس سے توجہ ہٹانے کے لئے یہ کام کر رہی۔ کیونکہ احتساب والا بیانیہ بری طرح پٹ چکا۔ اب صرف حمزہ شہباز اور خورشید شاہ ہی قید میں ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ نواز شریف بیمار ہیں۔ ایون فیلڈ ریفرینس کی قید کے دوران انہیں اڈیالہ جیل میں ایک دل کا عارضہ لاحق ہوا تھا۔
پھر وہ 2۔3 دن کے بعد واپس جیل چلے گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں کے ڈاکٹرز نے نواز شریف کا علاج کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ واشنگٹن میں کھڑے ہو کر وزیر اعظم نے کہا تھا میں ان کے اے سی اترواؤں گا۔ وہ چاہتے تو نئے جیل مینوئل بنا کر اس کے تحت تمام قیدیوں کے لئے اے سی کا بندوبست کرتے مگر نہیں۔ انتقام لینا ذہن پر سوار تھا۔ مگر جب حکومت اور اس کے سہولت کاروں کو لگا کہ اگر نواز شریف کو کچھ ہو گیا تو شاید اس بار بھٹو والا رد عمل نہیں ہوگا اور امن و عامہ کی صورتحال خراب ہو جائے گی تو اس لئے جلدی جلدی انہیں لندن بھجوایا گیا
نواز شریف کی میڈیکل رپورٹز حکومت کو ملتی رہی ہیں۔ انہوں نے ضمانت نہیں بڑھائی۔ آج کل کورونا کی وبا سے برطانیہ میں سرجریز نہیں ہو رہی۔ نواز شریف کو پتا ہے انہیں واپس آنا ہے۔ بدقسمتی سے یہاں بیماری ثابت کرنے کے لئے مرنا پڑتا ہے جیسے کلثوم نواز کی دفعہ ہوا۔ بیماری پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ آزادی مارچ نواز شریف اور آصف علی زرداری کے لئے فائدہ مند ثابت ہوا کیونکہ انہیں تو ضمانت پر ہی سہی، رہائی تو ملی۔
حکومت کا احتساب کا بیانیہ مکمل طور پر پٹ چکا ہے۔ حکومت اپنے حامیوں کے لئے یہ کام کر رہی ہے۔ انٹرپول حسن و حسین نواز اور اسحاق ڈار کو لانے کے لئے حکومت کو صاف انکار کر چکا ہے۔ ویسے آرٹیکل 6 کے تحت سنگین غدار قرار دیے جانے والے سید پرویز مشرف سے میڈیکل رپورٹز کیوں نہیں مانگتی حکومت؟ ان کو واپس لانے کے لئے کچھ کیوں نہیں کرتی؟ حقیقت یہ ہے وہاں کسی کا زور نہیں چلتا۔ حقیقت یہ ہے کہ حکومت کو اب کارکردگی دکھانا ہوگی۔ اب وبا سے ہم بہتر طور پر لڑ رہے ہیں۔ مگر مہنگائی و بے روز گاری اور گورننس کے مسائل پر دھیان دیں۔ ووٹ کارکردگی پر ملتے ہیں وہ الگ بات ہے کہ حکومت کے سہولت کار موجود ہیں مگر وہ بھی زیادہ دیر کسی کی ناکامی کا بوجھ نہیں اٹھاتے۔





