سائنس کی دنیا سے (17 تا 23 اگست 2020)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


1۔ ایک نئی تیار کردہ ویکسین جب ناک کے ذریعے چوہوں کو دی گئی تو کوویڈ 19 انفیکشن کو روکنے میں عضلاتی انجیکشن سے زیادہ متاثر کن ثابت ہوئی۔

واشنگٹن اسٹیٹ یونیورسٹی سکول آف میڈیسن کے سائنسدان ایک نئی ویکسین ایجاد کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں جو سارس کو وی۔ 2 وائرس کے خلاف ناک کے ذریعے دی جا سکتی ہے۔ یہ ویکسین چوہوں میں کورونا وائرس کے خلاف قابل ذکر مدافعت پیدا کرتی ہے۔ اگلے مرحلے میں سائنسدان اس ویکسین کو کرونا وائرس کے خلاف بندروں میں استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

2۔ سائنسدانوں نے سست خرام خوردبینی آبی جانوروں کی ایک نئی نوع دریافت کی ہے جو اپنے انڈوں کی شکل تبدیل کرنے پر قادر ہے۔

آٹھ ٹانگوں والے سست خرام خوردبینی آبی جانور جنہیں آبی ریچھ بھی کہا جاتا ہے زندگی کے لئے غیر موافق حالات کے خلاف اپنی بے مثال قوت مدافعت کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ یہ انتہائی درجہ حرارت، دباؤ اور تابکاری میں اپنے جسم سے پانی خارج کرکے خشک بھوسی کی شکل اختیار کر لیتے ہیں اور موافق حالات میں پانی ملنے پر دوبارہ زندگی کی طرف لوٹ آتے ہیں۔ کنگ جارج آئی لینڈ، انٹارکٹیکا میں سائنسدانوں نے ان نئے سست خراموں کی درجہ بندی کی ہے اور ان کی خصوصیات سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

3۔ سائنسدانوں نے ایک نیا طریقہ ایجاد کیا ہے جس کی وجہ سے وہ مختلف انسانی بافتوں اور اعضاء میں پلاسٹک کے مائیکرو اور نینو ذرات ڈھونڈنے میں کامیاب ہوئے۔

پلاسٹک کے بڑھتے ہوئے استعمال کی وجہ سے اس کی آلودگی ایک انتہائی سنگین مسئلہ ہے۔ پلاسٹک میں موجود ایک کیمیکل پی بی اے سرطان کا باعث بن سکتا ہے۔ اس نئے طریقے سے ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی کے سائنسدان مختلف انسانی اعضاء مثلاً پھیپھڑے، جگر، تلی اور اور گردوں میں مصنوعی طور پر شامل کردہ پلاسٹک کے ذرات کو ڈھونڈ نکالنے کے قابل ہوئے۔ سائنسدانوں نے جن کا کام امریکن کیمیکل سوسائٹی کی سالانہ میٹنگ میں پیش کیا جا رہا ہے امید ظاہر کی ہے کہ یہ طریقہ پلاسٹک کی آلودگی کو کنٹرول کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔

4۔ سٹیم سیلز کی مدد سے ایک انتہائی چھوٹا لیکن کارآمد انسانی دل کا ماڈل لیبارٹری میں تیار کیا گیا ہے جو دواؤں کی دریافت اور تیاری میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

مشی گن سٹیٹ یونیورسٹی کے تحقیق کار سٹیم سیلز کی مدد سے لیبارٹری میں پہلی دفعہ انتہائی چھوٹا انسانی دل کا ماڈل تیار کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جس میں تمام خلیات، پوری طرح کارآمد دل کے خانے اور بافتیں موجود ہیں۔ سائنسدانوں کے خیال میں یہ ”اعضائیے“ اپنی بناوٹ اور خصوصیات میں انسانی اعضا سے متاثر کن حد تک مماثل ہوتے ہیں۔ ہر خلیے میں تبدیل ہو جانے کی صلاحیت رکھنے والے ان سٹیم سیلز کو جو رضاکاروں سے حاصل کیے گئے تھے بائیو انجینئرنگ کی مدد سے دل کی نشونما کے لیے موزوں حالات کی موجودگی میں دل کے خلیے، بافتوں اور بعد ازاں سہ جہتی شکل اختیار کرنے کی طرف راغب کیا گیا۔

5۔ مگرمچھ کے خون میں ایک ایسا مادہ پایا گیا ہے جو سانپ کے زہر کے بنیادی عنصر کو مغلوب کر سکتا ہے جس کی وجہ سے نئے تریاق کی تیاری آسان ہوگئی ہے۔

اوبرن یونیورسٹی، الاباما کے سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ مگرمچھ کے خون میں ایسی خصوصیات موجود ہوتی ہیں جن کی وجہ سے یہ زہریلے سانپوں کے زہر سے محفوظ رہتے ہیں۔ زہر کو جب لیبارٹری میں مگرمچھ اور چوہوں کے خون میں علیحدہ علیحدہ ڈالا گیا تو چوہوں کے خون کے خلیات تباہ ہو گئے لیکن مگرمچھ کے زیادہ تر خلیات محفوظ رہے۔

6۔ سائنسدان انٹرنیٹ کی انتہائی غیر معمولی تیز رفتار یعنی 178 ٹیرا بائٹس فی سیکنڈ تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

یونیورسٹی کالج لندن کے سائنسدان انٹرنیٹ کی رفتار کے موجودہ ریکارڈ سے پانچ گناہ زیادہ رفتار یعنی 178 ٹیرا بائٹس فی سیکنڈ سے ڈیٹا کی ترسیل میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ پندرہ سو فلمیں جن میں سے ہر ایک کا سائز 15 gb ہو ایک سیکنڈ میں ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ سائنسدان پر امید ہیں کہ آپٹیکل فائبر کے موجودہ نظام میں یہ جدت آسانی سے شامل کی جا سکتی ہے۔

7۔ زمین سے 65 نوری سال کے فاصلے پر موجود ایک پھٹتے ہوئے ستارے نے 359 ملین سال پہلے زمین پر موجود زندگی کا خاتمہ کیا۔

الی نوائے یونیورسٹی میں خلائی تحقیق اور فزکس کے پروفیسر نے کہا ہے کہ ممکنہ طور پر 359 ملین سال پہلے زمین پر حیات کی نابودگی کا تعلق 65 نوری سال کے فاصلے پر ہونے والے سپرنووا دھماکوں سے ہو سکتا ہے جن کی وجہ سے زمین پر اوزون کی تہہ ختم ہوئی اور نباتات جل گئیں۔ اس عہد کی چٹانوں میں موجود بالا بنفشی شعاعوں سے جل چکے نباتاتی بیضوں کے مشاہدے سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا۔

8۔ خلائی سائنسدانوں نے ایک کثیف ٹھنڈی گیس دریافت کی ہے جس کے بارے میں خیال ہے کہ وہ ملکی وے کہکشاں کے مرکز سے خارج ہوئی ہوگی۔

بین الاقوامی ماہرین کے پینل جس نے یہ کثیف گیس دریافت کی ہے کے مطابق ابھی تک ایک سر بستہ راز ہے کہ یہ گیس کیسے خارج ہوئی تاہم یہ جاننا ہمارے مستقبل کے لیے بہت اہم ہے۔ ملکی وے کے مرکز میں بہت بڑا بلیک ہول ہے تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ گیس بلیک ہول سے خارج ہوئی ہے یا ہزاروں مہیب ستارے اس اخراج کے ذمہ دار ہیں۔

Latest posts by ڈاکٹر خالد محمود صادق (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •