اسرائیل میں قادیانی: عمران ریاض کے وڈیو پر تبصرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


عزیزم مکرم عمران ریاض صاحب

آپ کا اسرائیل میں قادیانیوں پر پروگرام ایک محب وطن پاکستان کی حیثیت سے کوئی بھی سنے تو اس کے جذبات کا انگیخت ہونا اس کے ایمان کا تقاضا ہے۔ اور اس حد تک تو بات جائز اور درست ہے لیکن اس خبر کی تصدیق آپ نے جن ذرائع سے کی ہے راقم ایک سابق فوجی کی حیثیت سے پہلے کر چکا ہے اورثابت ہوا ہے کہ یہ تدریجی جھوٹ یک طرفہ مشہور کیا جا رہا ہے۔ آپ چونکہ میدان تحقیق کے شہسوار بننے جا رہے ہیں اس لئے آپ کی خدمت میں اصل حقیقت پیش کی جاتی ہے کہ اگر آپ کا ضمیر ہے تواپنی اصلاح کریں گے اور ایمان کو ضائع کرکے جھوٹ کی سزا جو آخرت میں ملنی ہوتی ہے اس سے بھی بچ جائیں گے۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ

1۔ احمدیوں کی ایک معقول تعداد جو فلسطینی عربوں پر مشتمل ہے اسی نوے سال قبل احمدی ہونے سے پہلے کے اسی مقام پر آبادہے اور اب بھی ہے۔ پھر 1948 میں اسرائیل کے قیام کے وقت سے وہ اس علاقہ میں باقی فلسطینی مسلمانوں کی طرح علاقہ کے اسرائیلی حدود میں آنے کی وجہ سے آباد رہے۔ یاد رہے کہ جب یہودی فلسطین میں آباد ہونا شروع ہوئے تو مکرم چوہدری ظفراللہ خاں صاحب نے انگریز حکمرانوں پر زور دیا کہ یہود کے ہاتھ زمینیں فروخت کرنے پر پابندی لگائی جائے۔ انگریز نے مثال طلب کی جس پر انہیں پنجاب کے حق شفع کا حوالہ دیا گیا۔ لیکن اس پر عمل درآمد نہ ہوا۔ اس وقت مسلمان لیڈر خواب غفلت کے مزے لے رہے تھے۔

2۔ اسرائیل کا قیام جب 1948 میں عمل میں آیا تو چوہدری ظفراللہ خاں پاکستانی وزیر خارجہ تھے جنہوں نے اسرائیل کے قیام کی ڈٹ کر مخالفت کی حتیٰ کہ اگر اقوام متحدہ کی آخری بحث کے روز ووٹنگ ہو جاتی جو امریکہ کے زور پر خلاف معمول thanks giving day کی بدولت ملتوی کر دی گئی تو اسرائیل کے حق میں اکثریت نہ ہو سکتی۔ یونائیٹڈ نینشز کا ریکارڈ دستیاب ہے۔ پانچ مئی 1948 کو شاہ فیصل نے محترم چوہدری صاحب کو ان کی مساعی پر بڑا تحسین آمیز خط لکھا۔ انٹرنیٹ پر موجود ہے۔ اور آپ چاہیں تو سعودی حکومت سے اس کی تصدیق کروا سکتے ہیں۔

3۔ چوہدری ظفراللہ خاں کی اس معاملہ میں پہلی تقریر کے بعد عرب دنیا نے یہ ذمہ داری پاکستان کے سپرد کردی جس کو بآحسن نباہا گیا اور پاک عرب تعلقات کی بنیادیں مضبوط ہوئیں۔ آپ دیگرعرب ممالک کے اس وقت کے سربراہان کے پاکستان کے لئے تحسین امیز بیانات کو تاریخ سے نکال نہیں سکتے۔

4۔ اسرائیل کے قیام پر اب عربوں کی اور مسلمانوں کی مجموعی قوت اس کو روک نہیں سکی تھی۔ اس لئے جنگ بھڑک اٹھی جو اب تک جاری ہے۔ اور اس کی وارننگ اسی روز محترم چوہدی صاحب نے بڑی طاقتوں کو دی۔

”This is a solemn moment، solemn in the history of the world، in the history of this great۔ let us hope، at least۔ great Organization۔ The United Nations is today on trial۔ The world is watching and will see how it acquits itself۔ again، perhaps، not so much from the point of view of whether partition is approved or not approved، but from the point of view of whether any room is to be left for the exercise of honest judgment and conscience in decisions taken upon important questions۔“

-Sir Zafarullah Khan ’s Address to UN Security Council on the issue of Palestine (October 7, 1947)

5۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بھی جنگیں رہی ہیں۔ اس کے باوجود امن کے دنوں میں دونوں ملکوں کے مذہبی وفود آتے جاتے رہتے ہیں ان کا کسی کی حب الوطنی کے ساتھ تعلق نہیں ہوتا۔ بھارت کے احمدی اس ملک کے شہری ہیں جو کسی ملک کے خلاف نہیں اور اپنے ملک کے حقوق ادا کرنے کا اسلام انہیں حکم دیتا ہے جس پر وہ عمل پیرا ہیں۔ ہمارے جنرلز بھی بیرون ممالک بھارتی جنرلز سے ملتے جلتے ہیں۔ ایک جگہ سے اسلحہ خریدتے اور بعد میں ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ لہذا کسی کی حب الوطنی کو فرضی باتوں سے نہیں جانچنا چاہیے

6۔ اسرائیل میں احمدی ایک دیگر مذہبی تنظیموں کی طرح رجسٹرڈ تنظیم ہے اور جماعت احمدیہ کے ممبران سے چندہ کی آمدنی سے تنظیمی اخراجات پورے کیے جاتے ہیں اور کسی بھی خارجی مدد کا سہارا نہیں لیا جاتا۔ بالکل ایک ہی طریقہ دو صد ممالک میں جماعت کا رائج ہے۔ اور یاد رہے کہ جو چندہ لیا جاتا ہے اس کے ایک ایک پیسے کا حساب رکھا جاتا ہے اور اس کو ہر سال شوریٰ میں پیش کیا جاتا ہے۔

7۔ محترم مرزا مبارک احمد جو بیرونی ممالک کی تنظیموں کے نگران تھے ان کا نام بھی استعمال کر کے محض اس اظہار پر کہ ہمارا مشن اسرائیل میں ہے طومار باندھا گیا ہے۔ انہیں تویہ بات چھپانے کی حاجت ہی نہیں تھی کہ اسرائیل میں جماعتی تنظیم موجود ہے۔ اس بات سے یہ اخذ کر لینا کہ اسرائیلی حکومت سے جماعت کے خفیہ تعلقات ہیں۔ ایک  بد ظنی ہے اور بد ظنی سے گریز کرنا چاہیے

8۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے علاوہ ساری دنیا میں احمدیوں کے مسلمان ہونے پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں اور وہ جملہ عبادات آزادی سے بجا لا سکتے ہیں اور یہی بات اسرائیل میں بھی ہے۔ لہذا جب تک کوئی حکومت اسلامی عبادات کی بجا آوری میں زبردستی روک نہ بنے احمدی اپنے اس ملک کی حکومت کے پر امن شہریوں کی طرح رہتے ہیں۔

8۔ پاکستان کی شاہ رگ کشمیر کے جہاد 1948 میں احمدیوں کی شمولیت اور میرے گاؤں کے لگ بھگ تیس اس وقت کے جوانوں کی رضاکارانہ حاضری احمدیوں کی حب الوطنی کا کافی ثبوت ہے۔ آج وہی لوگ کشمیر کے معاملہ میں بڑھ بڑھ کے باتیں کر رہے ہیں جو کشمیر جہاد کو جہاد ماننے کے منکر تھے۔

9۔ قیام پاکستان کے بعد سے اب تک کسی مقام پر احمدی سپاہیوں یا جرنیلوں نے کبھی پیٹھ نہیں دکھائی وہ چونڈہ میں بھی کامیاب ہوئے اور کشمیر کے محاذ پر بھی جس روز تک رہے کامیاب رہے۔ اب ان کا نام بھی تاریخ میں بیان کرنا منع کر دیا گیا ہے۔

10۔ سات ستمبر 2020 کو چھیالیس سال بیت جائیں گے جب ایک جھوٹے بہانے کی بنیاد پر تحریک چلائی گئی اور پھر احمدیوں کو ان لوگوں نے ناٹ مسلم قرار دیا۔ انہی حکمرانوں کو پھر اپنا مسلمان ہونا عدالت میں ثابت کرنے کے لئے یہ ماننا پڑا کہ یہ معاملہ بندے اور خدا کے درمیان ہے اور کسی دوسرے کو فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں۔ ضیاالحق صاحب کا وائیٹ پیپر اس پر شاہد ہے۔ فاعتبروا یا اولی الابصار۔

11۔ محترم ضیا الحق صاحب نے اردن میں فلسطینیوں کو تہ تیغ کیا اور اردن کے شاہ سے ملک کا سب سے بڑا اعزاز وصول کیا۔ آج فلسطینیوں کے سامنے اس کا نام لے کر دیکھیں۔ آگے میرے نہیں ایک ضیا الحق کے فین کے الفاظ ہیں۔ ۔ ۔ ۔ اس جنگ میں مجموعی طور پر جنرل ضیاء کی آمد سے پہلے اور بعد میں کل ملا کر آزاد ذرائع کے مطابق 1000 سے 2000 فلسطینی باغی مارے گئے جبکہ فلسطینی ذرائع کے مطابق 4000 سے 5000 لوگ ہلاک ہوئے۔ ۔ ۔ یاسر عرفات نے کہا لگ بھگ 10000 لوگ مارے گئے ہیں۔ ۔ ۔

12۔ مراکش کی آزادی کے لئے جو کوششیں چوہدری ظفراللہ خان صاحب نے کیں۔ اس کے شکریہ کے طور پر نومولود بچوں کا نام ظفراللہ لا تعداد ماؤں نے رکھا۔ مراکش کے شاہ انہیں اپنے والد کی طرح عزت کرتے اور گھر میں عورتوں کو ان سے پردہ نہ کرواتے۔

13۔ محترم شاہ فیصل سعودی عرب نے انہیں حج پر آنے پر شاہی مہمان بننے کی درخواست کی۔ جس پر انہوں نے حج کیا۔

شاید آپ کو معلوم نہ ہو، محترم ظفراللہ خان کے انتقال پر روز نامہ ڈان نے اپنے اداریے میں لکھا تھا

“He earned the abiding respect and admiration of the Arab and other Muslim nations as a defender of their interests.”

— Dawn editorial, 3 September 1985

14۔ ایک یہودی مصنف اسرائیل ٹی نعمانی صاحب نے کتاب لکھی۔ اس کے صفحہ نمبر 75 پر درج ہے :

Two other small non-Arab Muslim groups, the Circassians, who came in the nineteenth century from Russia and now number about 2,000 souls, and the Ahmadi sect of some 600 people from Pakistan, can also serve in the Army.

اس میں اسرائیل کے جمہوری طرز حکومت کی رواداری بیان کرنا مصنف کو مقصود تھا۔ جس میں چھ سو افراد پر مشتمل احمدی فرقہ پاکستان میں سے ان کا آرمی میں شامل ہونا ممکن لکھا گیا ہے۔ اس امکان کو محترم شورش کاشمیری صاحب نے شمولیت قرار دے دیا اور تب سے اب تک ہر دوسرے تیسرے سال اس بات کو تھوڑے سے اضافہ کے ساتھ اور اب تو جعلی فوٹو لگا کر اور مصدقہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

15۔ حالیہ کچھ عرصہ سے پاکستانی احمدی خواتین کی شمولیت اور ان کی جعلی فوٹو لگا کر جھوٹ کو سچ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اوپر سے اس جھوٹ کو تحقیق یا انگریزی لفظ میں ریسرچ کہہ کر لوگوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ احمدیوں کا ایک اشتہار سچائی پر مبنی بھی پاکستانی اخبارات میں چھاپنا منع ہے۔ احمدیوں میں تو صبر موجود ہے اور عمران ریاض صاحب جھوٹ کی بنسری بجا رہے ہیں۔

15۔ مصنف اسرائیل ٹی نعمانی صاحب نے احمدیوں کی اسرائیلی فوج میں ممکنہ شمولیت کے لئے پاکستانی کا لفظ کیوں استعمال کیا ہے؟

اس کا دراصل پس منظر یہ ہے کہ شرق الاوسط میں ایک اور بہت پرانا فرقہ بھی احمدی مسلمان کہلاتا ہے جو پاکستانی فرقہ احمدیہ سے مختلف ہے۔ اس لئے مصنف نے ان سے تخصیص کے لئے اسرائیلی احمدی شہریوں کے لئے پاکستانی احمدی مسلک سے تعلق کی وجہ سے پاکستانی کا لفظ استعمال کیا تھا۔ اس کے علاوہ اور کوئی توجیہ ممکن نہیں۔ اس ایک 1972 کے امکان پر مبنی بات پر بھی ایک ریسرچر کے طور پر تحقیق کرنا آپ کا فرض تھا۔

16۔ عزیزم عمران ریاض! لنڈن پوسٹ کے شاہد قریشی کا مضمون میں نے تب ہی پڑھ لیا تھا۔ اس میں سوائے اس حوالہ کے جو من وعن میں نے اوپر لکھا ہے اور کچھ بھی نہیں مگر بد ظنی سے لتھڑی باتیں۔ یہ محض ایک آن لائن بلاگ ہے اور لفظ ”لنڈن پوسٹ“ سے سنجیدگی کا مرتبہ تو نہیں مل سکتا۔ یہ بات بھی سو فیصد جھوٹ ہے کہ برصغیر سے احمدی اسرائیل جا کر آباد ہوئے۔ اگر آپ کو علم نہیں تو عرض ہے کہ قیام پاکستان تک بر صغیر کے شہریوں کو برٹش سبجیکٹ کی حیثیت حاصل ہوتی تھی اور اسی وجہ سے بعض افریقی ممالک سے برصغیر کے لوگ برطانیہ آباد ہوئے ہیں۔ اور کوئی ایک پاکستانی نژاد احمدی جس نے اسرائیل کی شہریت اختیار کی ہو، آپ ثابت نہیں کر سکتے۔ میں فرانس میں ان عرب نژاد اسرائیلی احمدیوں کو ملا ہوں۔ وہ سارے کے سارے خالص عرب ہیں اور فلسطینی ہیں۔

17۔ بھارت کے احمدیوں کے متعلق جو بات فرمائی ہے یہ بھی درست نہیں۔ دوسری طرف بھارتی دیوبند کے علماء کی پریس کانفرنس اب بھی یو ٹیوب پر ہے جس میں وہ کشمیر میں ہونے والے بھارتی ظلم کی نہایت کھل کر تائید کر رہے ہیں۔ اور یہ مفروضہ کہ کل تک جو پاکستانی تھے وہ آج اسرائیل کی فوج میں پاکستان کے خلاف سپورٹ دے رہے ہیں سو فی صد جھوٹ ہے۔ محترم کیا ہو گیا ہے آپ کے فہم کو؟ ایک طرف  پاکستان کی آئی ایس آئی کی صلاحیت بیان کرتے ہیں اور پھر یہ مفروضہ کہ ان کو اس کا علم نہیں کہ پاکستانی احمدی دھڑا دھڑ اسرائیل کے شہری بن رہے ہیں۔

18۔ آپ نے ایک احمدی کی طرف منسوب بات منسوب کی ہے جو اس نے اپنے ہوٹل میں مانچسٹر میں کی تھی اور یہ کہا یہ بے نظیر کا دور تھا۔ کراچی میں امن کے سلسلہ میں۔ لیکن آپ کو جھوٹ بیان کرتے وقت یہ خیال نہیں رہا کہ یہ کتاب تو 1972 میں چھپی تھی اور بے نظیر عرصہ دراز بعد برسراقتدار آئی تھیں۔

19۔ عمران ریاض صاحب نے دفاعی تجزیہ نگاری میں بھی درک پایا ہے۔ اسرائیل اور پاکستان کا دفاعی موازنہ کر کے اور پھر مسلمانوں اور یہودیوں کی بڑی جنگ کے ذکر سے خوف تخلیق کر کے اپنے بیان میں ثقاہت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے جو پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے عوام کے لئے قیمتی معلومات کہی جا سکتی ہیں۔ لیکن حضرت نے روس اور چائنا کو نظر انداز کر دیا ہے۔ ان ممالک کے پاس جو اسلحہ ہے اس سے کوہ ارض کو کئی بار تباہ کیا جا سکتا ہے۔

مزید سنسنی پیدا کرنے کے لئے اسرائیلی موشے دایان کا بھی ذکر کیا ہے جو اسرائیل کے قیام سے پہلے بھی دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث تھا اور برطانوی جیل میں بھی رہا۔ اس کے اقوال بیان کر کے یہ ثابت کرنا کہ نعوذباللہ پاکستانی احمدیوں کے بچے اسرائیلی فوج میں شامل ہوتے ہیں انتہائی گمراہ کن مفروضہ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •