وہ آخری بت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرے جیون ساتھی،
آؤ! اب تم واپس آ جاؤ!

میں اپنے بتوں کو توڑ دوں گی اور تم بھی اپنے بتوں کو پاش پاش کر دینا۔ مجھے یقین ہے کہ پھر ہم خوشگوار زندگی پالیں گے جس میں دونوں کا ایک ہی معبود ہو گا۔

تم جب میرے پاس ہوتے ہو تو میرا ذہن تمہارے بارے میں منفی خیالات سے بھرا رہتا ہے کہ تمہاری سوچ منفی ہے اور زبان شکر سے محروم اور شکایت سے پر، ماضی کی گٹھڑی میں سے سب اچھے واقعات کہیں پھینک کر تم گندگی کا بوجھ اٹھائے پھرتے ہو، اور یہ کہ تمہیں لکھنے پڑھنے سے دلچسپی نہیں، فنون لطیفہ کے ذوق سے عاری ہو، تفریح میں دائمی خوشی کو ڈھونڈتے ہو۔ تمہیں اپنی پیشہ ورانہ ترقی پہ غرور، اور فٹبال ٹیم میں بہترین کھلاڑی ہونے پر گھمنڈ۔

تمہیں میری ذات سے کوئی دلچسپی نہیں۔ کیا تمہیں یاد نہیں کہ تم میری کتنی تعریف کرتے تھے، میری سیرت کے گیت گاتے تھے اور میری صورت کو چاند سے تشبیہ دیتے تھے۔ اب تمہیں مجھ میں تھوڑی سی بھی دلکشی نظر نہیں آتی اب تم قدرت کے نظاروں میں حسن کو تلاش کرتے ہو، میری آواز کے بجائے جسے تم سننے کے لئے بیتاب رہتے تھے تم پرندوں کی چہچہاہٹ کو سراہتے ہو۔ میں تو اب بھی وہی ہوں لیکن اب میری صورت، سیرت اور آواز کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ میں تمہارے پاس ہوں یا کوسوں دور لیکن تمہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اور جب اداسی کا اظہار کرتی تھی تو اس کے جواب میں اقبال کا یہ شعر سنا دیتے تھے ؎

خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کر دے
کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں

لیکن تم بھی تو میرے بارے میں بہت کچھ کہتے تھے کہ تم مجھ سے زیادہ سمجھ بوجھ رکھتے ہو، میں نے بچوں کی پرورش میں اپنا کردار پوری طرح سے ادا نہیں کیا، تمہارے طور طریقے صحیح ہوتے ہیں اور میرے غلط، میری رائے بھی اکثر صحیح نہیں ہوتی، میں لوگوں میں اتنی مقبول نہیں جتنے تم، تم نے میری زندگی کو رواں دواں کیا ورنہ میں اس قابل نہیں تھی۔ تم خود کو مجھ سے بہتر انسان سمجھتے تھے۔

اب تم یہاں نہیں ہو تو میں تمہاری باتیں، طور طریقے، تمہارے خوابوں پہ تنقید نہیں کر سکتی اور نہ تم میری سوچوں اور منہ سے نکلے ہوئے الفاظ کا تجزیہ کر سکتے ہو۔ اب مجھ پہ یہ راز کھلا کہ درحقیقت نہ میں تم سے بہتر اور نہ تم مجھ سے خوب تر۔ نہ میں صحیح نہ تم غلط۔ ہماری سوچیں مختلف، ہماری عادتوں اور شوق میں قدر مشترک کم کم، میری روح بیابانی اور تمہاری شہری، مجھ خاموشی چاہیے اور تمہیں شور، میں تنہائی کی دوست اور تم تنہائی سے خوفزدہ، میں جب چاہوں الگ راستہ ڈھونڈ لیتی ہوں لیکن تمہیں سب کے ساتھ چلنے سے اطمینان ملتا ہے اور میں کسی صورت حال کے نتیجے تک پہنچنے میں منسلک ہو جاتی ہوں جبکہ تم طور طریقے میں زیادہ محو رہتے ہو۔

جبران خلیل جبران کی ایک حکایت کے مطابق لوگ مذہب کی پیروی کرتے ہوئے خدا کی عبادت کرتے ہیں لیکن عملی طور پر وہ اپنی انا کی پوجا کر رہے ہوتے ہیں۔ اقبال نے بھی تو جواب شکوہ میں لکھا ہے ’بت بھی نئے تم بھی نئے۔‘ ابلیس نے بھی تو خدا کا حکم بجا لینے کے بجائے اپنی انا کی تعمیل کی اور آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کر دیا۔

آؤ ہم اپنی اپنی انا کے بتوں کو توڑ دیں اور اس شرک کو ترک کردیں جس میں نجانے ہم کب سے مبتلا ہیں۔ دو الگ الگ انسان، مختلف خواب اور مختلف سوچیں، اپنے اپنے طور طریقے لیکن کوئی دوسرے سے بہتر نہیں، کوئی غلط نہیں کوئی صحیح نہیں۔ صرف مختلف، صرف اور صرف مختلف۔ آج ایک دوسرے کے اختلاف کو قبول، قبول، قبول کر لیں اور ایک دوسرے کی صفات کو اجاگر کریں۔

تمہاری بچھڑی ہوئی محبوبہ
۔ ۔
مجھے سمجھ میں نہیں آ رہا کہ تمہیں کیسے مخاطب کروں۔

تمہارا خط پڑھتے ہی میرے اندر ایک طوفان برپا ہو گیا۔ تم نے کتنی سادگی سے اپنے بت توڑنے کا اعادہ کیا ہے بلکہ اس خط کو لکھنے کے لئے نا جانے کتنے بت گرا دیے ہوں گے۔ میں نے تمہارے خط کو کئی بار پڑھا اور اپنے سارے بت توڑنے کا عہد کیا۔ کہیں چھپا ہوا محبت کا انگارہ شعلہ بن کر بھڑک اٹھا اور مجھے تمہاری سیرت، تمہاری دبی دبی سی مسکراہٹ، تمہارا حسن سب کچھ ستانے لگ گیا۔ میں نے فوراً سوٹ کیس تیار کیا اور اگلی ریل گاڑی لے کر تمہارے شہر پہنچ گیا۔

میرا جی چاہا کہ تمہارے شہر کی مٹی کو آنکھوں سے چوم لوں۔ سوچا کہ فون کرنے کے بجائے اگلی صبح تمہیں سرپرائز دوں گا اس لئے پہلے سیدھا ہوٹل کے کمرے میں چلا گیا۔ اگلے دن ہفتے کے روز میں تمہارے گھر کے سامنے تھا۔ میرے ہاتھ میں تمہارے لئے بہت خوبصورت گلدستہ تھا تمہارے پسندیدہ پھولوں سے لدا پھندا ہوا۔ میں دروازے کی طرف بڑھا لیکن گھنٹی بجانے سے پہلے ہی میرے پیر منجمد ہو گئے۔ میرا ذہن ماضی کے خیالات کی دلدل میں دھنستا چلا گیا اور میں انتہائی تذبذب کا شکار ہو گیا۔

میں کچھ دیر کے لئے وہاں ایک بت کی طرح پیوست ہو گیا۔ میں تصور کر رہا تھا کہ جب گھنٹی کی آواز سن کر تم دروازہ کھولو گی تو شاید میں تمہارے قدموں میں گر جاؤں یا تمہیں گلے لگا لوں یا ماضی کی تلخیاں میرے اندر ابھر آئیں اور تمہاری شکل دیکھ کر واپس بھاگنا شروع کردوں۔ میں بھی کئی بت توڑ کر تمہارے گھر کی دہلیز تک پہنچا تھا لیکن کسی آخری بت پر ہاتھ نہیں اٹھا سکا۔ اور میں گلدستہ باہر چھوڑ کر واپس ہوٹل آ گیا کہ کل پھر اپنی ہمت کو اکٹھا کر کے اس بت کو بھی موت کی نیند سلا دوں گا۔

لیکن اتوار ایسے ہی گزر گئی جس طرح کہ اکثر ہماری اتوار ہوتی تھی خاموش اور بے رنگ۔ میں ہوٹل سے باہر ہی نہ نکل پایا مجھے پتا نہیں کیوں۔ پیر کو میں نے فیکٹری کے باہر چھپ کر تمہیں جاتا ہوا دیکھا۔ تم بہت اچھی لگ رہی تھیں، تمہاری چال میں پر اعتمادی تھی اور چہرے پر سکون۔ میں نے سوچا کہ کہیں میرے ملنے سے تمہارا یہ سکون نہ چھن جائے اور اسی دن میں واپس اپنے شہر آ گیا۔

میرے ماضی کی محبوبہ! میرے دل میں تمہارے لئے کوئی نفرت نہیں ہے، اس بت کو تو میں بہت پہلے ہی چکنا چور کر چکا ہوں۔ لیکن ایک چھوٹا سا بت میرے اندر اب بھی کہیں چھپا ہوا ہے نا معلوم کون سا، کسی ماضی کی کہانی سے بنا ہوا یا مستقبل کی کسی ہونی انہونی کے اندیشوں سے تراشا ہوا۔ تمہارے پسندیدہ صوفی شاعر بلھے شاہ نے بھی تو یہی کہا تھا ؎

تیری بکل دے وچ چور نی

یہ میرے دل کے اندر کا چور مجھے تم سے دور رکھنا چاہتا ہے۔ اب میری اس سے جنگ شروع ہو چکی ہے۔ معلوم نہیں اس جنگ کا انجام کیا ہو گا! یا کچھ ہو گا بھی کہ نہیں۔ اپنا خیال رکھنا اور میرا انتظار نہیں کرنا۔
تمہارا کھویا ہوا ساتھی

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •