چین میں زندگی انمول ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسانی جان اس دنیا میں سب سے زیادہ مقدم اور محترم ہے۔ کسی بھی معاشرے، قوم یا ریاست کی اولین ذمہ داری عوامی زندگی کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ اس حقیقت کا صحیح ادراک عوامی جمہوریہ چین کی حکومت کی جانب سے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لئے اختیار کیے جانے والے اقدامات کو دیکھنے سے ہوتا ہے۔ اس سال کے آغاز میں کووڈ۔ 19 کی وبا کے خلاف مقابلے کے دوران شہریوں کی جان کے تحفظ کے لئے ریاست کی جانب سے تمام دستیاب صلاحیتوں کو بروئے کار لایا گیا اور اب رواں سال کے وسط سے چین کے بڑے دریاؤں میں آنے والی طغیانی سے شہریوں کے بچاؤ کے لئے ریاست تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ چینی حکومت نے نہ صرف لوگوں کی مدد کے لئے اپنے وسائل کو متحرک کیا بلکہ چینی قیادت مختلف امور کی براہ راست نگرانی کرتی رہی۔

اس سیلابی صورت حال نے چین کے شہریوں کے جان و مال کو شدید سے دوچار کیا۔ ریاست کی سنجیدگی کا عالم دیکھئے کہ لوگوں کے دکھ درد میں شریک ہونے اور بحالی کے کاموں کی نگرانی کے لیے 18 اگست کو صدر شی جن پھنگ نے ہزاروں کلومیٹر کا سفر کر کے صوبہ آن ہوئی کی فو نان کاؤنٹی پہنچے، جو سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں شامل ہے۔ اس دوران انہوں نے دریائے ہوائی حہ کی آبی صورتحال کا مشاہدہ کیا اور سیلاب کے کنٹرول، متاثرہ علاقوں اور لوگوں کی امداد اور پیداواری بحالی کا معائنہ کیا۔ صورت حال کوئی بھی ہو صدر شی جن پھنگ نے ہمیشہ عوام کو اولین ترجیج دی ہے۔ انہوں نے انسداد سیلاب اور متاثرہ علاقوں اور لوگوں کی امداد کے حوالے سے اپنے بیانات میں لوگوں کی زندگی کی حفاظت کو اہمیت دینے کی تاکید کی ہے۔

صدر شی نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے کے دوران بارہا کہا کہ سیلاب سے بچاؤ اور امدادی کاموں کے بہتر بندوبست کے ساتھ ساتھ ہمیں آفات کے بعد از سر نو تعمیر کے لئے احتیاط سے منصوبہ بندی کرنی چاہیے اور جلد از جلد پیداوار اور معمولات زندگی کو بحال کرنا چاہیے۔ علاوہ ازیں آفات سے متاثرہ لوگوں کی مدد کرنے اور غربت کو واپس لوٹنے سے روکنے کے لئے بھر پور کوشش کرنی چاہیے۔

چینی صدر مملکت شی جن پھنگ کے موجودہ دورے سے چینی کمیونسٹ پارٹی کے اس پختہ عزم کا اظہار ہوتا ہے جس کے تحت غربت سے نجات پانے کے راستے پر تمام لوگ ساتھ مل کرآگے بڑھیں گے۔ دورے کے دوران جب انہوں نے دیکھا کہ سیلاب کا پانی اترنے کے بعد کھیتی باڑی دوبارہ شروع ہوگئی ہے، گاؤں میں بجلی اور صاف پانی دستیاب ہے اور لوگوں کی زندگی معمول پر آ گئی ہے، تو صدر صاحب کو تسلی ہوئی۔ لوگوں کی جان ومال کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے پوری کوشش کی جائے اور ہمیشہ لوگوں کی جان ومال کے تحفظ کو اولین حیثیت دی جائے۔ یہی چینی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکرٹری کی مستقل سوچ ہے اور یہی چینی کمیونسٹ پارٹی کا پائیدار اعتماد ہے۔

رواں سال چین میں آنے والے شدید سیلاب کے باعث لوگوں کی زندگی، املاک نیز پیداوار ی سرگرمیوں پر زبردست اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ لیکن شی جن پھنگ کی ہدایات کے تحت مختلف علاقوں اور اداروں نے لوگوں کی جانوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دیتے ہوئے سیلاب سے بچاؤ اور امدادی کاموں کے لئے جامع اور موئثر منصوبہ بندی کی، سیلاب جیسے آفت زدہ علاقوں سے متاثرہ افراد کے انخلا کا مناسب بندوبست کیا اور پیداوار اور زندگی کو رواں دواں رکھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شی جن پھنگ کا یہ تصور کہ ”عوام اعلی ترین ہیں اور زندگی سب سے اہم ہے“ پورے معاشرے میں مقبول عام ہو گیا ہے اور یہ ایک عوامی سربراہ کے اپنے عوام سے پیار اور اپنی ذمہ داری کو بطریق احسن نبھانے کا بھر پور مظہر بھی ہے۔

سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دوران صدر شی جن پھنگ کا عوام سے یہ مکالمہ ان کی عوام سے گہری محبت کی عکاسی کرتا ہے۔ صدر شی جن پھنگ نے کڑی دھوپ اور شدید حبس کے موسم میں لوگوں سے مخاطب ہو کر کہا ”مجھے ہر وقت آپ کی فکر تھی“

دیہاتیوں نے صدر شی جن پھنگ کو بتایا: ”سیلاب سے مقابلے کے عرصہ کے دوران، ہم سب یہاں رہے، یہاں بجلی کبھی منقطع نہیں ہوئی، پانی دستیبا ب تھا، اور روز مرہ کی ضروریات بہم فراہم کی جاتی رہیں۔ اب پانی اتر گیا ہے، اور دوبارہ فصلیں اگائیں جارہی ہیں۔ جناب صدر نے کہا“ جہاں کہیں پانی اترتا ہے، وہاں دوبارہ پودے لگائیں۔ پریشان نہ ہوں! ”شی جن پھنگ نے خوشی سے کہا:“ مجھے آفات سے متاثرہ علاقے کے لوگوں کی ہر وقت فکر تھی آج آپ کو سکون میں دیکھ کر میرے دل کو تسلی ہوئی ہے۔ ”

صدر شی جن پھنگ نے جذباتی انداز میں کہا: ”ہم چینی عوام نے آفات کے خلاف لڑتے ہوئے ہزاروں سال جدوجہد کی ہے۔ اس لڑائی میں ہمیں انسان اور فطرت کی زیادہ ہم آہنگی کی ضرورت ہے، فطرت کے قوانین پر عمل پیرا ہونے کے لئے، اور فطرت کے قوانین کو محسوس کرنے کے قابل ہونے کی ضرورت ہے۔ اسی کے ساتھ، ہمیں آفات سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے کی بھی ضرورت ہے۔“

چینی قوم کی مشکلات میں سے راستہ تلاش کرنے کی اس عادت سے ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں اور اپنی نشاۃ ثانیہ کے راستے پر گامزن ہو سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •