نوجوان طبقہ: نفسیاتی مسائل اور جامعات کا کردار
پاکستان میں مسائل کی درجہ بندی میں ایک بڑا مسئلہ نوجوانوں کی سطح پر بڑھتے ہوئے نفسیاتی مسائل کا بھی ہے۔ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو مختلف محاذ پر جن بڑے سیاسی، سماجی، انتظامی، اخلاقی، معاشی، قانونی مسائل میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس کا عملی نتیجہ نفسیاتی سطح پر بہت سے مسائل کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ یہ مسائل اور ان کی بڑھتی ہوئی شدت نوجوانوں میں لاتعلقی، غصہ، نفرت، تعصب، منفی سطح کے خیالات، مایوسی، انتہا پسندی یا شدت پسندی، تشدد، نشہ سمیت مختلف قسم کے جرائم کی طرف بھی مائل کرتے ہیں۔
نوجوانوں کو قومی سطح پر اپنے مستقبل کے بارے میں ایک غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے جوان میں عملاً ریاست، حکومت، اداروں اور معاشرے سے لاتعلقی کا احساس بھی پیدا ہوتا ہے۔ عمومی طور پر ہماری جامعات یا تعلیمی اداروں کا بنیادی مقصدمحض ڈگری دینا ہی نہیں بلکہ جامعات کا ایک اور بنیادی مقصد قومی سطح پر سیاسی، سماجی، معاشی، قانونی، مذہبی سمیت دیگر مسائل کے حل میں ایک ”بیانیہ کی تشکیل بھی ہوتا ہے۔
پچھلے دنوں لاہور میں ایک بڑے معروف تعلیمی ادارے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر اصغر زیدی نے لندن کی اہم یونیورسٹی آف Suxxex اور Changing Hearts and Mind Program (CAMP) Pakistan کے تعاون سے ایک اہم اور فکری ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ اس ورکشاپ کا موضوع Psycho-social toxicity and its Challenges for University Education in Pakistan تھا۔ ڈاکٹر اصغر زیدی جو معروف ماہر تعلیم اور عالمی دنیا کی مختلف جامعات میں درس وتدریس کے شعبہ سے وابستہ رہے ہیں۔ آج کل وہ گورنمنٹ کالج آف یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہیں۔ ایک علمی و فکری شخصیت کے ساتھ ساتھ وہ بہت ہی متحرک شخصیت بھی ہیں۔ کچھ نہ کچھ کرنے کی لگن، شوق اور جستجو ان کا اہم خاصہ ہے۔
اس سپموزیم کا مقصد بنیادی طور پر ان محرکات، وجوہات اور مسائل کو سمجھنا تھا کہ ہماری تعلیم یافتہ یا تعلیم حاصل کرنے والی نوجوان نسل جن میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں شامل ہیں ان کو کس طرز کے اور کس سطح پر مختلف نوعیت کے سماجی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح اس نکتہ پر بھی غور کرنا تھا کہ جو مسائل نوجوان نسل کو درپیش ہیں بطور ریاست یا جامعات ہم اس سے کیسے نمٹ رہے ہیں یا کیا ہم میں یہ صلاحیت بھی موجود ہے کہ ان مسائل سے نمٹ سکیں۔ اس کانفرنس کا ایک اہم مقالہ یونیورسٹی آف Sussex کے معروف استاد ڈاکٹر شکیل جہانگیر ملک نے پیش کیا۔ جبکہ دیگر اہم مقررین میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اصغر زیدی، ڈاکٹر زرقا تیمور، احمد اویس ایڈوکیٹ، فاروق ارشد، ایم پی اے سردار رمیش سنگھ، نعمان قریشی، کرنل تنویر افضل اور راقم شامل تھے۔
بنیادی طور پر اس مکالمہ میں تمام مقررین کی باتوں سے جو نتیجہ اخذ کیا گیا اس میں پانچ امور اہم تھے۔ اول یہ تسلیم کرنا چاہیے اور ہمیں اپنے اندر موجود اس تضاد سے باہر نکلنا ہوگا کہ تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے لڑکوں اور لڑکیوں میں سماجی اور نفسیاتی مسائل نہیں۔ کیونکہ اس طرح کی انکاری کے بعد مسئلہ کا حل بہت پیچھے چلا جاتا ہے۔ دوئم بہت سے سماجی اور نفسیاتی مسائل کی بنیادی وجوہات میں معاشرے میں موجود سیاسی، سماجی، قانونی اور معاشی عدم انصاف، محرومی، غربت، غیر یقینی کی کیفیت جیسے مسائل سرفہرست ہیں۔
سوئم ہمارے تعلیمی اداروں میں ایسے کوئی مراکز، حکمت عملیاں، کونسلنگ سنٹرز، تربیت یافتہ ماہرین یا ایسی سرگرمیاں موجود نہیں جو بچوں اور بچیوں میں پیدا ہونے والے ہر سطح کے سماجی اور نفسیاتی مسائل سے نمٹ سکیں۔ چہارم ہمارا نصاب، درس تدریس کا نظام سمیت استاد اور طالب علم اور انتظامیہ میں بڑھتے ہوئے فاصلے اور بچوں کے مسائل کو سمجھنے کے فہم میں کمی جیسے مسائل موجود ہیں۔ پنجم تعلیم کو ہم نے محض نصابی کتابوں اور امتحانات تک محدود کر دیا ہے جبکہ غیر نصابی سرگرمیوں سمیت جامعات میں مکالمہ کا کلچر کہیں گم ہوکر رہ گیا ہے۔ اس کا نتیجہ بچوں اور بچیوں میں خود کو غیر محفوظ طور پر سمجھنا، عدم برداشت، غصہ یا لاتعلقی کی صورت میں پیدا ہورہا ہے۔
اصل میں ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ جہاں دنیا میں جدیدت، تعلیم اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی ہوئی ہے اور جس انداز سے دنیا کا سیاسی، سماجی، معاشی، اخلاقی نظام میں تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اس کا ایک بڑا اثر ہمارے جیسے معاشروں پر بھی پڑا ہے۔ سوشل میڈیا نے عملی طور پر پورے سماج کے نظام کو بدل ڈالا ہے۔ لوگ اخلاقی قدروں، اخلاقیات یا اجتماعیت سے زیادہ انفرادی بنیادوں پر سوچ رہے ہیں۔ ان کو مختلف محاذ پر چیلنجز درپیش ہیں۔ وہ ریاست اور حکومتی نظام سمیت ادارہ جاتی عمل سے مایوس نظر آتے ہیں۔ ان کو لگتا ہے کہ یہ نظام طاقت ور لوگوں کا ہے اور کمزور کو طاقت کی بنیاد پر یا تو دبایا جاتا ہے یا اسے ہر سطح پر استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
بہت سے لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان رشتوں کے تعلقات، گھر کا نظام، خاندانی مسائل، والدین کے درمیان لڑائی، گھر اور تعلیمی ادارے یا استاد کا ماحو ل یا طرز عمل، لڑکیوں میں جنسی خوف وہراس، شہرو ں اور دہیاتوں سے آنے والے طلبہ وطالبات کے درمیا ن مسائل کی مختلف نوعیت، معاشی غربت، دولت کی بے جا نمود نمائش، ڈراموں، فلموں اور اشتہارات سے جڑے مسائل، استحصالی طبقہ یا رویوں سمیت سیاسی، سماجی، قانونی اور معاشی عدم انصاف جیسے مسائل میں نوجوان طبقہ گھرا نظر آتا ہے۔
جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ہمارے نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ منفی سرگرمیوں میں جا رہا ہے تو اس پر محض نوجوانوں کو الزام دینے کی بجائے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ان امور کے محرکات کیا ہیں اور کیوں نوجوان مثبت سوچنے کی بجائے منفی باتوں پر زیادہ توجہ دے رہا ہے۔ اس کا تجزیہ کریں تو آپ کو محسوس ہوگا کہ ہمارا ریاستی، حکومتی اور ادارہ جاتی نظام نوجوان طبقہ کے مسائل کے حل میں خود ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ طبقاتی بنیادوں پر جب آپ ریاست یا حکومت کا نظام چلائیں گے تو کیونکر معاشرے میں اجتماعیت کا پہلو پیدا ہوگا۔
ہمیں 1973 کے دستور کے بنیادی حقوق کے باب کو اپنی کنجی بنانا ہوگا تاکہ لاتعلقی کا عمل نوجوانوں میں کم ہو سکے۔ ڈاکٹر شکیل جہانگیر ملک نے اہم نکتہ اٹھایا کہ جب ہم نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں میں اعتماد سازی کا ماحول اور نظام قائم نہیں کریں گے کیسے یہ نوجوان خود سے آگے بڑھ کر اپنے فیصلے خود کرسکیں گے۔ ان کے بقول تعلیمی نظام تربیت کے عمل سمیت معاشرے کی ضرورت کو پورا کرنے میں ناکا م ہورہا ہے۔
ڈاکٹر زرقا تیمور کے بقول زیادہ تر شہری سطح پر اور اعلی تعلیمی ماحول میں پڑھنے والے بچے نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہوتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ان کی تربیت، اصلاح اور معاونت کرنے کے لیے کوئی تیار نہیں ہوتا۔ ریاست، حکومت، استاد، انتظامیہ اور والدین کا بچوں اور بچیوں کے درمیان مکالمہ کہیں گم ہوکر رہ گیا ہے۔ وہ اگر بات بھی کرنا چاہیں تو ایسا ڈر اور خوف کا ماحول بنادیا جاتا ہے کہ کوئی اپنی حد تک مرضی کی بات کرنے سے بھی ڈرتا ہے۔
میرا اپنا نکتہ نظر یہ تھا کہ ریاست اس وقت خود نوجوانوں کی سطح پر ایک بڑی انتہا پسندی سے گزررہی ہے۔ ففتھ جنریشن وار کی باتیں کی جارہی ہیں جس میں سوشل میڈیا اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اس لیے ہمیں قومی سطح پر ایک بڑے ادارہ جاتی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ایسی انقلابی اصلاحات جو نوجوانوں میں یہ احساس اجاگر کرے کہ ریاست میں ان کی بھی اہمیت ہے۔ خاص طور پر مذہب، رنگ، نسل، فرقہ، صنفی، شہری و دیہی تفریق معذور، خواجہ سرا، اقلیتوں، امیری اور غریبی یا پڑھے لکھے یا ناخواندہ کے درمیان تفریق کا پہلو ختم کرنا ہوگا۔
یہ کرونا وبا کے بعد گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کی پہلی سرگرمی تھی جس میں طلبہ و طالبات سمیت اساتذہ نے بھی شرکت کی۔ اصل میں جامعات کی سطح پر مختلف سیاسی، سماجی نوعیت سے جڑے مسائل پر بہت زیادہ مکالمہ اور تحقیق کی ضرورت ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ آج معاشرے سمیت نوجوانوں کو جو مسائل پیش آرہے ہیں ان کا ہمیں علمی بنیادوں پر حل تلاش کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اگر ہماری جامعات نے طلبہ وطالبات سے جڑے ان اہم سماجی اور نفسیاتی مسائل پر کوئی بڑا کام یا کوئی بڑا روڈ میپ تیار نہ کیا تو نوجوانوں کی اصلاح کا عمل بہت پیچھے چلاجائے گا۔ بہتر ہوگا کہ ڈاکٹر اصغر زیدی اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی اس اہم اور حساس مسئلہ پر ایک بڑا تھنک ٹینک بھی قائم کرے اور اس کو اپنی ترجیحات کا اہم حصہ بنا کر ایک بڑی سیاسی لیڈ لے جو سماج کی اہم ضرورت بھی ہے۔


