ارتکاز وجمود کا شکار سرمایہ اور ہماری معیشت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کی معیشت کو اگر ایک جملے میں بیان کرنا ہو تو یہ ہی کہا جاسکتا ہے کہ اشرافیہ کے مفادات کا تحفظ اور عوام کا استحصال۔ ریاست اور سماج پر آج تک جن طبقات اور اداروں کا غلبہ رہا ہے، آج معیشت کی زبوں حالی اور غربت و تنگ دستی کا شکار عوام، ان ہی کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آج بھی ریاست کا اشرافیہ کی کی خدمت گزاری کا کردار اور معاشرے و سماج پر جاگیرداروں کا تسلط پوری طرح قائم ہے۔ اسٹیٹ بنک کے سابق گورنر عشرت حسین کی کتابPakistan The Eonomy of Elitist State کا بنیادی موضوع بھی یہی ہے۔

جاگیردارانہ معاشرے کے مقابلے میں صنعتکاروں اور تاجروں نے صنعت اور تجارت کو فروغ دیا۔ لیکن سرمایہ دارانہ چالبازیوں کا بھی مظاہرہ کرتے ہوئے ایک جانب سرکاری رعایتیں بھی سمیٹیں اور ملازمین کا استحصال بھی کیا۔ اگر چہ صنعت کاروں اور تاجروں نے ملک کی معیشت کو ترقی دینے کے ساتھ ساتھ جاگیردارانہ جبر کا حبس بھی ختم کیا مگر سماج پر راج کرنے والے ایک نئے طبقے کا اضافہ بھی کیا۔ ضیاء الحق مرحوم جن کی 32 ویں برسی اسی ماہ کی سترہ تاریخ کو گزری ہے، ان کے دور میں جہاں فکری آزادی پر پہرے بٹھائے گئے تھے وہاں معاشرے میں سوداگروں کا ایک طبقہ منشیات فروشوں اور انوسٹمنٹ کمپنیوں کی شکل میں سامنے آیا جنھیں کھل کھیلنے کا موقع دیا گیا جنھوں نے معاشرے کو بیمار کیا اور سفید پوش سادہ لوح طبقے کے اربوں روپے لوٹ لئے گئے۔

صمد دادابھائی اور پنجاب میں کو آپریٹو اسکینڈل اس کی دو بڑی مثالیں ہیں۔ اسی طرح جب 1988 ء سے 1999 ء کی جمہوری حکومتیں رہیں، اس عرصہ میں بھی بے شمار اسکینڈل آئے اور گولڈن شیک ہینڈ لنے والوں کی رقوم پر فراڈ کرنے والے اسی طرح جھپٹ پڑے جیسے گدھ مردہ جانور پر۔ اس زمانے میں بڑے بڑے پلازوں میں لاکھوں کی دکانوں اور فلیٹس کے اشتہار دیے گئے اور مستقبل محفوظ کرنے کی فکر میں مبتلا سفید پوش طبقہ اپنی ساری رقم ان کے سپرد کر کے آج کف افسوس مل رہا ہے۔ کراچی میں ایسے بے شمار پلازوں کے ڈھانچے آج بھی امیدوں کا کھنڈر بنے پڑے ہیں۔

پرویز مشرف کے دور میں ایک اور طبقے نے جنم لیا جسے آج پراپرٹی ڈویلپر یا پراپرٹی ڈیلر کہا جاتا ہے۔ اس طبقے نے ایسا کیا کہ عام آدمی کے لئے چھت اور گھر کا حصول خواب ہی رہ گیا اور یہ سلسلہ آج بھی اسی طرح جاری ہے۔ مشرف دور میں حال یہ تھا کہ صبح ایک پلاٹ فروخت ہوتا تو اگلے روز وہی پلاٹ مزید اضافے کے ساتھ کسی اور کے پیٹے ڈال دیا جاتا۔ راقم کو پچھلے چندہ ماہ میں ایسے بہت سے افراد سے ملنے کا اتفاق ہوا جن کی گفتگو کا محور پلاٹ، پلاٹ اور صرف پلاٹ ہی تھے، اور اس کی ایک بڑی وجہ ملک کی غیر یقینی سیاسی اور معاشی صورتحال ہے، جس کی وجہ سے نئے کارخانے وجود میں آرہے ہیں نہ تجارت فروغ پا رہی ہے۔

ایک زمانہ تھا کہ ہر دوسرے روز اسٹاک ایکسچینج میں ایک نئی کمپنی کا اضافہ ہوتا تھا جو اب نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں نے اپنی بچت کو پراپرٹی میں لگانا محفوظ جانا۔ دوسرا یہ ہوا کہ بعض منظم سرکاری اداروں نے بھی اپنی سرپرستی میں سوسائٹیاں بنانا شروع کردیں جس کی وجہ سے پراپرٹی کے کاروبار میں سرمایہ کاری کے رجحان کی مزید حوصلہ افزائی ہوئی۔ جس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ جو سرمایہ قومی معیشت میں شامل ہونا چاہیے تھا وہ ارتکاز اور جمود کا شکار ہو گیا۔

پراپرٹی کا کام خرید و فروخت کی حد تک ہوتا تو بھی غنیمت تھا۔ لیکن یہاں تو یار لوگوں نے زرعی زمینوں پر بھی سوسائٹیاں بنانا شروع کردی اور اس امر کو بھی کو فراموش کر دیا کہ شہروں کے ساتھ زرعی زمین کو رکھنا شہری آبادی کی خوراک کی ضروریات کے لئے کتنا ضروری ہے۔ اس میں بھی واردات یہ کی جاتی ہے کہ پہلے سوسائٹی کا ایک قلعہ نما گیٹ تیار کیا جاتا ہے اور اس کے باہر ہیوی مشینری یہ ظاہر کرنے کے لیے کھڑی کردی جاتی ہے جیسے سوسائٹی کے اندر بہت بڑا تعمیراتی منصوبہ جاری ہو، جب کہ حقیقت اس سے مختلف ہوتی ہے۔ کسی جگہ ائر پورٹ کا صرف اعلان ہی ہو جائے تو اس علاقے کی زمین کی قیمت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔

پراپرٹی میں سرمایہ کاری سے یہ ہوا کہ ملک میں بے روزگاری کی شرح میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ اس پر ستم یہ کہ ہمارے یہاں نوجوانوں کو جو تعلیم دی جاتی ہے اسے عرف عام میں ”وائٹ کالر جاب“ کہا جاتا ہے۔ جس کی کھپت کا حال یہ ہے کہ اگر ملک میں کارخانوں کا جال بھی بچھا ہو تو وائٹ کالر نوکریوں گنجائش اس شرح سے نہیں ہوتی جس شرح سے ہمارے تعلیمی ادارے کھیپ کی کھیپ تیار کر رہے ہیں۔ مگر ”بلیو کالر جاب“ جس میں وہ ٹیکنیکل نوکریاں شامل ہوتی ہیں جو کسی بھی کارخانے، فیکٹری، کانوں اور تعمیرات کے شعبے کے لئے ضروری ہے، اس کی کھپت کی گنجائش زیادہ ہے لیکن ہمارے معاشرے میں ایک تو اس کی قسم کی تربیت کے حصول کا رجحان نہ ہونے کے برابر ہے اور دوسرا ایسے اداروں کی تعداد بھی کم ہے جو یہ تربیت فراہم کرتے ہیں۔

پراپرٹی اور جعلی اسکیموں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کے لئے ضروری ہے کہ ملک میں قومی بچت کے رجحان کو حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔ دنیا کے تقریباً تمام ممالک میں قومی بچت کی اسکیمیں ریاست کے لیے نہایت اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔ لیکن افسوس کہ ہمارے یہاں قومی بچت پر قلیل منافع کی شرح لوگوں کو اس بات پر مجبور کرتی ہے کہ وہ جعلی اور بوگس اسکیموں میں سرمایہ کاری کریں جہاں منافع کی خواہش پر وہ ماضی میں بھی اصل رقوم گنوا چکے ہیں اور آئندہ بھی اسی طرح ہوتا رہے گا۔ حکومتوں کو چاہیے تو یہ تھا کہ وہ قومی بچت پر منافع کی شرح ملک میں مہنگائی کے تناسب سے متعین کرتیں، لیکن بجائے منافع کی شرح بڑھانے کے ہر سال یہ شرح منافع کم کر دی جاتی ہے جس سے قومی بچت کی سرکاری اسکیموں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔

صنعت اور تجارت سے وابستہ تنظیموں کو چاہیے کہ وہ اس اہم مسئلے پر اپنے اپنے پلیٹ فارم سے ارباب اقتدار و اختیار کی توجہ اس امر کی جانب مبذول کروائیں تاکہ معیشت میں سرمایہ کاری کا رجحان تقویت پائے اور زمین کی قیمت ہولڈنگ کی مدت کی بجائے زمینی حقائق کی بنیاد پر متعین ہو اور متوسط اور غریب افراد کے لیے بھی چھت کا حصول خواب کی بجائے حقیقت کی شکل اختیار کر سکے اور جمود کا شکار سرمایہ قومی معیشت میں شامل ہو کر ترقی کی رفتار کو بڑھا سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •