بھیگے ساون میں اے پی سی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مون سون کا سیزن اپنے جوبن پر ہے۔ گرمی سے پریشان حال لوگوں کے لیے بارش کی نوید گویا کسی من و سلویٰ سے کم نہیں ہوتی اور ہمارے عقیدے کے مطابق تو یہ بارش ویسے بھی رحمت خداوندی ہے۔ مگر شاید ہم اتنے نا اہل اور نالائق ہیں کہ اس رحمت سے بھی مستفید نہیں ہوسکتے اور بارش کا لطف اٹھانے اور سجدہ شکر بجا لانے کی بجائے اس پریشانی کا شکار ہوتے ہیں کہ کہیں اربن فلڈنگ کی زد میں نا آجائیں۔ میڈیا اور سوشل میڈیا پر سیاسی مخالفین پشاور اور کراچی کی انسانی آبادیاں بارش کے پانی میں ڈوبنے کی ویڈیوز دکھا کر ایک دوسرے پر نا اہلی کے الزامات لگا رہے ہیں۔ بے حسی کی انتہائی سطح پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ کا سلسلہ جاری ہے اور اس طوفان بدتمیزی کے دوران غریب کی جمع پونجی بارش کے پانی میں ڈوب چکی ہے۔

حالیہ بارشوں نے جہاں بھادوں کا حبس ختم کیا ہے وہاں پر سیاسی حبس میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں کو بتایا کہ نواز شریف ڈیل کر کے گئے ہیں کہ عمران خان کی حکومت اپنی مدت پوری کرے۔ اس بیان کے بعد حکومتی وزرا نے نواز شریف کو واپس لانے کی باتیں شروع کر کے نون لیگ کو ممکنہ ڈیل کی سبکی سے نا صرف بچا لیا بلکہ خراب ہونے والی سیاسی ساکھ کو سنبھالا دیا۔ وہاں پر نواز شریف کی میڈٰیکل رپورٹس کو چند وزرا نے مشکوک قرار دیتے ہوئے انکوائری کا مطالبہ بھی کر دیا۔ جس پر پنجاب کی وزیر صحت یاسمین راشد کو میڈٰیا پر کہنا پڑا کہ نواز شریف کی رپورٹس بالکل درست تھیں اور وہ واقعی بیمار تھے۔

اس دوران مولانا فضل الرحمٰن ایک بار پھر مرکز نگاہ ہیں۔ گزشتہ دنوں ان کی لندن ٹیلی فونک گفتگو کی بازگشت سنائی دیتی رہی۔ اخباری اطلاعات کے مطابق مولانا نے میاں صاحب سے کافی گلے شکوے کیے کہ ان کے لانگ مارچ میں نون لیگ نے ان سے تعاون نہیں کیا جس پر اطلاعات ہیں کہ ناصرف مولانا کے تحفظات کو دور کیا گیا بلکہ کہا گیا کہ اس ضمن میں بات چیت مریم نواز یا پھر ان کے شوہر کریں گے۔ اس گفتگو کا مطلب یہ تھا کہ شاید چھوٹے میاں صاحب کو اس معاملے سے الگ رکھا جائے گا مگر گزشتہ روز چھوٹے میاں صاحب رہبر کمیٹی کے ممبران کے ساتھ مولانا فضل الرحمن کو منانے پہنچ گئے۔ مولانا نے چھوٹے میاں صاحب کو بتایا کہ چھوٹی پارٹیاں ان سے خفا ہیں۔ ملاقات کے بعد ایک مشترکہ میڈیا ٹاک ہوئی جس میں چھوٹے میاں نے حکومتی سکینڈلز کا ذکر کیا اور مولانا نے کپتان کو نا اہلی اور نالائقی پر مین آف ائر کا خطاب دیا۔

اطلاعات یہ ہیں کہ مولانا فضل الرحمن نے اپوزیشن کی دس چھوٹی جماعتوں کا اجلاس 27 اگست کی شام کو اسلام آباد میں طلب کیا ہے اس اجلاس میں مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی کو نہیں بلایا گیا۔ جبکہ اجلاس میں اے این پی، نیشنل پارٹی، جماعت اسلامی، جمعیت اہلحدیث، بی این پی عوامی، جے یوپی، قومی وطن پارٹی، جماعت اسلامی اور بی این پی مینگل کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ اس اجلاس میں جہاں آئندہ کی مشترکہ حکمت عملی پر غور ہوگا وہاں پر مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی کو بھی اپوزیشن کے اس اتحاد میں شامل کرنے پر بات ہوگی۔

ایک اندازہ ہے کہ ممکنہ اے پی سی کے حوالے سے کوئی لائحہ عمل تشکیل دیا جائے گا۔ کیونکہ وفاقی وزیر ریلوے کے مطابق اے پی سی کا انعقاد مشکوک ہوچکا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ مولانا ایک کامیاب اے پی سی کر پاتے ہیں یا نہیں اور اگر اے پی سی کا کامیاب انعقاد ہو گیا اور کوئی متفقہ لائحہ عمل سامنے آ گیا تو یہ مولانا فضل الرحمن کی بہت بڑی کامیابی ہوگی۔

اس ضمن میں شاید مولانا فضل الرحمٰن کچھ دنوں تک مریم نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری سے بھی ملاقات کر کے ممکنہ اے پی سی کی کامیابی کے حوالے سے گفت و شنید کریں۔ کیونکہ یہ تو طے ہے کہ مولانا اور ان کے اتحادی فی الوقت شہباز شریف پر بھروسا نہیں کر رہے ہیں۔ اور یہ بھی طے ہے کہ مولانا اس بار اگر نکلے تو کسی پختہ یقین دہانی کے بغیر نکلنے کا رسک نہیں لیں گے اور ایک اندازہ ہے کہ مسلم لیگ نون میں پختہ یقین دہانی میاں نواز شریف ہی کرا سکتے ہیں یا پھر مریم نواز کی بات پر مولانا فضل الرحمن اعتبار کریں گے۔ ویسے پاکستان کی سیاست میں بے وفائی عام سی بات ہے وقتی فائدے کے لیے سیاسی رفاقتوں کو چھوڑ دینا معمول کی بات سمجھی جاتی ہے۔ بھیگے بھیگے سے رواں مون سون میں سیاسی اشرافیہ کا روٹھنے منانے کا سلسلہ تو جاری رہے گا

فی الوقت تو ضرورت اس امر کی ہے کہ جن کروڑوں لوگوں کے حقوق کے لیے یہ ساری سیاست ہو رہی ہے لگے ہاتھوں ذرا ان کا حال بھی دیکھ لیا جائے۔ مہنگائی، بے روزگاری کے عفریت سے نڈھال عوام کو کورونا نے بدترین معاشی مسائل سے دوچار کر دیا ہے۔ بے تحاشا بڑھتی ہوئی مہنگائی نے غریب سے منہ سے دو وقت کا نوالہ چھین لیا ہے۔ عوام کی کیفیت یہ ہے کہ سر ڈھانپتے ہیں تو پاؤں ننگے ہوتے ہیں۔ جبکہ حکومتی وزرا اور مشیروں کے دعوے یہ ہیں کہ سب اچھا ہے اور ملکی معیشت اب تیزی سے بہتر ہو رہی ہے۔

کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ایک مدت بعد ختم ہو گیا ہے۔ نیک، صالح اور ایماندار حکمرانوں کی بدولت ملکی خزانہ بھرنا شروع ہو گیا ہے۔ اگر حکومتی دعوؤں کو درست تسلیم کر لیا جائے تو پھر عام آدمی پریشان کیوں ہے۔ غریب مزدور کو باآسانی دو وقت کا کھانا میسر کیوں نہیں ہے۔ بجلی اور گیس کے بلوں سے متوسط طبقہ کی جان پر کیوں بنی ہوئی ہے۔ بے روزگاری کی شرح میں اضافہ کیوں ہورہا ہے۔ کچھ تو غلط ہے جس کی وجہ سے عوام پریشان ہے۔ حکومت آدھا سچ کیوں بول رہی ہے حکومت کو چاہیے کہ پورا سچ بولے تاکہ عوام کے مسائل نا سہی کم سے کم پریشانی تو کم ہو۔ باقی یہ تو طے ہے کہ وزرا جتنے مرضی بہتر معاشی اعداد و شمار پیش کر لیں حالات اس وقت ہی بہتر ہوں جب غریب کو دو وقت کی روٹی اور بنیادی ضروریات زندگی با آسانی میسر ہوں گے وگرنہ سب کچھ جھوٹ ہے بلکہ سفید جھوٹ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •