امریکی انتخابات 2020: مائیک پینس پھر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نائب بننے کے امیدوار، ان کا نعرہ طنز و مزاح کا شکار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈونلڈ ٹرمپ، مائیک پینس

Reuters
مائیک پینس (دائیں جانب) ایک بار پھر صدر ٹرمپ (بائیں جانب) کے نائب بننے کے امیدوار مقرر ہوگئے ہیں

امریکہ میں نائب صدر مائیک پینس نے ایک مرتبہ پھر باقاعدہ طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ساتھ دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ وہ پھر سے نائب صدر کے عہدے کے امیدوار مقرر ہوگئے ہیں۔

اس کا اعلان جمعرات کو بالٹیمور میں ریپبلیکن پارٹی کنوینشن میں ہوا جہاں پینس کے ساتھ بھی ٹرمپ موجود تھے۔

اس موقع پر مائیک پینس نے اپنی تقریر ختم کرتے ہوئے صدر ٹرمپ سے وعدہ کیا کہ وہ ’امریکہ کو دوبارہ، ایک بار پھر عظیم بنائیں گے۔‘

اس سے ظاہر ہوا کہ انتخابات کے لیے ان کا سیاسی نعرہ ’میک امریکہ گریٹ آگین، آگین‘ ہے۔

یہ بھی پڑھیے

امریکی الیکشن 2020: ڈونلڈ ٹرمپ آگے ہیں یا جو بائیڈن؟

میلانیا ٹرمپ: غیر روایتی خاتونِ اول کے بارے میں ہم کتنا جانتے ہیں؟

امریکی انتخابات سے ڈاک کے نظام کا کیا تعلق؟

جو بائیڈن: ’میں روشنی کا اتحادی بنوں گا، اندھیرے کا نہیں‘

پینس کا کہنا تھا کہ ‘ہم اپنے صدر اور ریپبلیکن رہنماؤں کو منتخب کریں گے۔۔۔ وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چار مزید سال، اور خدا کی مدد کے ساتھ ہم ایک مرتبہ پھر، دوبارہ امریکہ کو عظیم بنائیں گے۔’

پینس کی اس تقریر پر وہاں موجود ریپبلیکن رہنماؤں کی جانب سے تالیاں بجائی گئیں اور انھیں سراہا گیا۔

گذشتہ صدارتی انتخابات کے دوران صدر ٹرمپ کا ‘میک امریکہ گریٹ آگین (امریکہ کو دوبارہ عظیم بنائیں)’ کا نعرہ کافی مقبول ہوا تھا۔ 2016 کی صدارتی مہم کے دوران ٹرمپ اکثر ایک ٹوپی پہنتے تھے جس پر یہ درج ہوتا تھا۔

میک امریکہ گریٹ آگین

Reuters

ہیوسٹن میں جب انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے 'ہاؤڈی مودی' نامی تقریب سے خطاب کیا تو مختصر دورانیے کے لیے وہاں صدر ٹرمپ بھی آئے تھے۔ اپنی تعریف پر نریندر مودی نے 'میک امریکہ گریٹ آگین' کا ریپبلیکن نعرہ دہرایا تھا۔

صدر ٹرمپ کے حامیوں میں اس نعرے کے لیے پذیرائی پائی جاتی ہے اور وہ صدارتی مہم کی ریلی میں ایسی شرٹس اور ٹوپیاں پہنتے ہیں جن پر یہ نعرہ درج ہوتا ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ مائیک پینس نے بھی اس سے ملتا جلتا نعرہ تشکیل دینے کی کوشش کی۔ اخبار دی گارڈیئن کے مطابق رواں صدارتی انتخابات کے لیے جماعت کی جانب سے ‘کِیپ امریکہ گریٹ آگین (امریکہ کو عظیم بنائے رکھیں)’ کی اصطلاح بھی تجویز کی گئی تھی۔

لیکن کورونا وائرس کی عالمی وبا اور اس کی وجہ سے ہونے والے نقصانات باعث اسے استعمال کرنا مناسب نہیں رہا تھا۔

سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے طنزیہ کہا ہے کہ مائیک پینس نے ٹرمپ کا نعرہ ‘کاپی کرنے کی ایک بُری کوشش کی ہے۔’

نیویارک ڈیلی نیوز رپورٹر کریس سومر فیلڈ کے مطابق ‘یہ ایسا ہے جیسے اعتراف کیا جا رہا ہو کہ پہلا دور کچھ اچھا نہیں گیا۔’

جیمز نامی صارف نے ایک مزاحیہ ٹویٹ میں کہا کہ ‘میرے خیال میں اسے تھوڑی محنت سے بہتر بنایا جاسکتا تھا۔ جیسے آؤ دوبارہ، ایک مرتبہ پھر، دوبارہ امریکہ کو عظیم بنائیں۔’

پوڈ سیو امریکہ نامی اکاؤنٹ نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ قریب 40 منٹ کی تقریر کے آخری الفاظ یہ تھے۔

ایک صارف نے یہ تک کہہ دیا کہ اس نعرے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ گذشتہ دور میں جماعت کی کارکردگی کیا رہی ہے۔ اسی طرح ایک صارف نے جواب میں لکھا کہ ‘پہلی باری میں کیا ہوا تھا؟’

ریپبلیکن جماعت کے ایک اکاؤنٹ ’سٹوڈنٹس فار ٹرمپ‘ نے اس کی حمایت میں کہا کہ یہ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک مقصد ہے۔

اس دوران ٹرمپ کے حریف صدارتی امیدوار جو بائیڈن کا نعرہ ‘بلڈ بیک بیٹر (بہتر تعمیر نو)’ بھی زیر بحث آیا۔ ٹوئٹر پر ایک صارف کا کہنا تھا کہ جو لوگ مائیک پینس کے نعرے کی بُرائی کر رہے ہیں انھیں جو بائیڈن کا نعرہ ‘معیاری‘ لگتا ہے۔

بعض صارفین نے ڈیموکریٹک جماعت کے حامیوں کو کہا وہ اتنا خوش نہ ہوں کیونکہ ان کا نعرہ بھی ’کوئی زیادہ اچھا نہیں۔‘

کوئی اس کے ردعمل میں کچھ بھی کہے، مائیک پینس اپنا یہ نیا نعرہ باقاعدگی سے استعمال کر رہے ہیں اور خیال ہے کہ نومبر تک ہمیں یہی سننے کو ملے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15473 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp