یونس حبیب کی دعوت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یونس حبیب اصغر خان کیس کے مرکزی ملزم اور حبیب بینک کے صوبائی صدر تھے۔ یونس حبیب کی گرومنگ نہیں ہوئی تھی۔ لالو کھیت والوں کے محاورے میں کہیں کھلے بندھے نہ تھے۔ مال بنانے کا چمت کار پرانا تھا۔ لڑکپن میں لیاری کے علاقے نو آباد کے اسکول میں سب بچوں سے پاس کرانے کے پانچ پانچ روپے پکڑ لیتے تھے۔ پچیس میں پانچ فیل ہوتے تھے۔ ان کو پیدائشی لوزر ہونے کا طعنہ گالی اور رقم سمیت لوٹا دیتے تھے۔ اسکول کے استادوں کو اس علم دوستی اور فراخدلی پر ان دنوں فیشن کریز کیریلین کی قمیص کا کپڑا دیتے تھے۔ وہ Drip۔ Dry اور آئرن فری ہوتا۔ باقی پیسے جیب میں۔

حبیب بینک کے سابق صدر اور سابق گورنر اسٹیٹ بینک کے گورنر قاسم پاریکھ بھی ان کے اسکول کے دوست تھے۔ لگتا ہے یونس نے ا ن سے اسکول میں امتحان میں گارنٹی کامیابی کی رقم نہیں گھٹکائی۔ یہ وجہ تھی کہ سیٹھوں کی مہربانی سے جب وہ حبیب بنک میں ملازم ہوئے تو یونس کو انہوں نے اپنے پاس میسنجر بوائے رکھ لیا۔ ہندی میں کہتے ہیں ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں۔ جس طرح ایک صحیح تعلق کی وجہ سے اسحق ڈار وزیر خزانہ بنے، اسی طرح یونس حبیب بھی ایک ایسے بار آور دامن سے جڑگئے کہ پہلے، حبیب بنک کے صوبائی صدر اور بعد میں مہران بنک کے مالک بن گئے۔

چلو بتائے دیتے ہیں وہ کون سا سرچشمہ طاقت و فیض مخصوص تھا کہ جس سے یونس حبیب کا رشتہ ایسا قائم ہوا کہ سائیں اختر کے ایک پنجابی ماہیئے کہ مطابق اک تیری نظر کیا بدلی، سارا جہان بدل گیا۔

دونوں میں تفاوت مقام مزاج کے باوجود یونس حبیب جنرل اسلم بیگ کو فون پر باؤ جی پکارتے تھے۔ اب اس میں کوئی انہونی بات نہیں۔ اقلیم اختر کی بھی تو یحیی خان سے شبینہ یاد اللہ تھی۔ انہوں نے بھی تو اسے وار کورس کیے بغیر جنرل رانی بنا دیا تھا۔ دنیا بھر کے فوجی بڑے دل والے ہوتے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر دل چھوٹا نہیں کرتے۔

چار ستارہ جنرل پیٹریاس نے، جب وہ سی آئی اے کے چیف تھے، اپنی آفیشل بائیوگرافر پاؤلا براڈویل کو اپنی ای میلز تک اتنی رسائی دے دی کہ ایف بی آئی کو لگا کہ باجی پاؤلا اور جنرل صاحب کا معاملہ چمی چمی ٹھا ٹھا والا ہے۔ ہم تو اس ملک میں تاریک راہوں میں مارے گئے، وہاں امریکہ میں ادارے کی مضبوطی اور قانون کی بالادستی پر دھیان دیں۔ سی آئی اے چیف کی ای میل پر ایف بی آئی کے انسپکٹروں کی نگاہ تھی۔ ان انسپکٹروں نے ہی اس پر سب سے پہلے رولا ڈال کر امریکہ کے جرنیلوں کے جنرل اور سی آئی اے کے چیف کو کہا ”ایڈی سوہنی کڑی اتوں موٹی موٹی اکھ۔ ایتھے رکھ ایتھے رکھ۔“ جنرل لاچار کو آنسوؤں سے رلایا، بچھڑا (سندھی میں شرمسار کرنا) کر کے استعفی لکھوایا۔ یہاں تو ایک ریٹائرڈ کرنل کی انگارہ دہن بیوی ہائی وے پر ٹھیکڑے (میمنی میں بچوں کی طرح چھلانگیں مارنا) مار مار کر سرکاری اداروں کی توہین کر کے اتراتی ہے۔ امریکہ میں صدر کی بیٹیاں شاشا اوباما یا ایونکا ٹرمپ کو اگر سٹرک پر ان کا سپاہی اللہ دتا میتلا روک لے اور وہ اسے دھمکی کے طور پر کہے کہ اوئے بے شرما تینوں پتہ نہیں میرا پیو امریکہ دا صدر ہے۔ یہ سن کر وہ کہے اونوں بھی بلا لے، اونوں وی کار سرکار وچ مداخلت دے الزام دا پرچہ کٹ کہ ایتھے نپ لینے آں۔ (اسے بھی بلا لو۔ اسے بھی کار سرکار میں مداخلت کے الزام میں پرچہ کاٹ کے اس کو بھی تحویل میں لے لیتے ہیں۔ )

پاکستان کی ایک بہت اہم سیاسی خاتون شخصیت جن کی اپنی پارٹی میں بہت دھاک تھی۔ جن کے سامنے پارٹی کے بلوچ سردار رہنما بھی بکری بنے رہتے تھے انہیں لیاری کا ٹپوڑی یونس جان کہہ کر ایسے بلاتا تھا جیسے شاعر جون ایلیا ڈھائی پیگ کے بعد رینجرز کو جانی کہہ کر بلاتے تھے۔ یہ الگ بات ہے یونس خود جون ایلیا کو جون گھیلیا پکارتا تھا۔ میمنی زبان میں گھیلا پاگل کو کہتے ہیں۔ اسے کسی نے بتا دیا تھا کہ ان کی سابقہ بیگم بھی انہیں یہی کچھ پکارتی تھیں اور اس ازدواجی چھیڑ چھاڑ کی شہ ان کی بیگم کو مشتاق یوسفی دیا کرتے تھے جنہیں مہاجروں کی کھلی (ہنسی) اڑانے کا بہت شوق تھا۔

آئیں یونس حبیب کی طرف چلیں۔ ہماری ان سے افسر ہونے کے ناطے واجبی اور میمن ہونے کے ناطے زیادہ یاری تھی۔ وہ ہمارے دوست عبداللہ کے باس تھے اور یہ دونوں مل جل کر ہمارے مرید۔

وہ سرکاری حبیب بنک کے صوبائی سربراہ تھے۔ اس دور میں بیٹی فرحین کی منگنی کی تقریب بارہ دری میں منعقد ہوئی۔ تھی تو منگنی کی دعوت مگر کون تھا جو اس رات وہاں نہ تھا۔ پیر صاحب پگارہ، بے نظیر صاحبہ (تب وہ وزیر اعظم نہ تھیں )۔ گورنر، جام صادق علی، ایم کیو ایم کے سب ہی اہم رہنما، باقیوں کا کیا شمار۔ ہم سٹی سب ڈویژن (لیاری) کے ایس ڈی ایم تھے مگر ڈپٹی کمشنر صاحب نے اس میمن معاشی دہشت گرد کو سنبھالنے کے لیے وی آئی پی موومنٹ کی آڑ میں ضلع جنوبی کے سبھی افسروں کی ڈیوٹی لگا دی۔ ایسی بڑی دعوتوں میں ہمارا کیا کام۔ بس میرؔ کے مصرعے ”جیسے تصویر لگا دے کوئی دیوار کے ساتھ“ کی سرکاری تصویر بنے کھڑے تھے۔

دوران طعام یونس کسی کم سن چور کی سی مسکراہٹ لیے ہماری طرف آئے۔ ہم نے انہیں ایک دفعہ Name-Dropper ہونے کا طعنہ دیا تھا۔ گھاؤ یاد تھا۔ وہ مٹانے آئے۔

پوچھا چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اسلم بیگ سے ملو گے؟ ہم نے اسے میمنی میں کہا ”آرمی چیف سے پاکستان میں ملنا ایسا ہے جیسے طاقت کے پیران پیر دستگیر کا دیدار۔ چلو۔“ ترنت کہنے لگا ”تم یہاں رکو۔ میں لے کر آتا ہوں۔“

ہم نے اس کے ان سے دوستانہ تعلق کا ضرور سنا تھا۔ یہ ادراک نہ تھا کہ دسترس و رسائی کا اللہ اللہ یہ مقام ہوگا کہ دھوپ چھاؤں کے اس منظر میں جدائی نہ تھی۔ ہم نے کہا آزما لیتے ہیں اگر وہ گریڈ سترہ کے ایک اسٹنٹ کمشنر سے طاقت کے قطب الاقطاب کو ملانے لے آتا ہے تو یہ باتیں سچی باتیں ہیں جو لوگوں نے پھیلائی ہیں۔

آپ نے دیکھا ہوگا کہ کم آمدنی والے لوگوں کے محلوں میں بھی ایک آدھ ایسا خوش حال گھرانہ ضرور ہوتا ہے جسے شو آف کرنے کا بہت ہڑکا ہوتا ہے۔ عید قرباں کی گائے بیس پچیس دن پہلے لے آئیں گے۔ خوب سجائیں گے۔ پھر شام شام ان کے بچے اترا اترا کر اسے محلے میں گھمائیں گے۔

عین اس وقت ہمارے سامنے بھی ایسا ہی کچھ منظر تھا۔ ہلکے نیلے رنگ کے شلوار قمیص میں ہمارے محترم جنرل صاحب کا ہاتھ تھامے یونس حبیب چلے آتے تھے۔ تعارف کرانے کے دوران لب و لہجہ یوں تھا کہ۔ ”جنرل ساب ان سے ملو، ہمارے علاقے کے بہت بڑے افسر ہیں، ہمارے ایش۔ ڈی۔ ایم۔ ساب“

جنرل صاحب کی یہ بڑائی تھی کہ وہ یہ مضحکہ خیز تعارف سن کر ہنس دیے۔ اب کیا ہے کہ ہم جب تک افسر نہیں بنے تھے میمنوں کی اکثریت کو پتہ نہ تھا کہ جنرل بڑا ہوتا ہے یا میجر جنرل۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ اگر ایک افسر کو اللہ نے میجر اور جنرل دونوں عہدے ایک ساتھ دے رکھے ہیں تو میجر جنرل کا عہدہ، خالی خولی جنرل سے بڑا ہے۔ اسی رو رعایت سے لفٹینٹ سے میجر بڑا ہوتا ہے لہذا سب سے چھوٹا جنرل اس سے سے بڑا لفیٹینٹ جنرل اور سب بڑا میجر جنرل اور ان سے بھی بہتر کوارٹر ماسٹر جنرل جس کو سرکار نے کوارٹر بھی دے رکھا ہے اور اس کو ماسٹری (ٹیچنگ) کرنے کی اور جنرل کی تنخواہ بھی ملتی ہو۔ اب ہم میمن سرکاری معاملات میں پنجابیوں اور سندھیوں جیسے برجو مہاراج والے بھید بھاؤ سے تو واقف نہیں۔

جنرل صاحب نے مزید خوش دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ”دیوان صاحب آپ نے تو ہمارے دوست کو دہشت زدہ کررکھا ہے۔ ہم کہاں اعظم گڑھ۔ یوپی کا ادھار رکھتے۔ ہم نے بھی اتراکر کہا کہ“ سر آپ کا دوست اسٹریٹ اسمارٹ ہے۔ اسے پتہ ہے اس کی ایف آئی آر کٹے گی تو پہلا واسطہ ہم سے ہی پڑے گا۔ وہ ”ویل سیڈ“ کہہ کر دیگر مہمانوں کی جانب چل دیے۔

ایسا ہی ہوا۔ یونس کو وزیر خزانہ سرتاج عزیز نے حبیب بنک سے ڈس مس کر دیا۔ عبداللہ کو لے کر روتا روتا اپنی چوتھی بیوی فلزا کے گھر سے ہمارے پاس آگیا۔ بتانے لگا جام صادق کو کتنا مال دیا مگر پھر بھی بینک نے نو۔ سروس۔ بینی فٹ کے ساتھ مجھے ڈس مس کر دیا۔ ہم نے کہا جا جس کو پیسے دیے، اس کے پاس رو، ہمارے پاس کیا کھرکھرا (میمنی میں تعزیت) کرنے آیا ہے۔ دونوں جام صاحب کی طرف چلے گئے۔

ادھا منا ہاؤس گزری ڈیفنس میں جام صادق علی کا بنی گالہ تھا۔ یہ وہاں پہنچے تو ناؤ نوش کا دور تھا۔ جام صادق نے سرتاج عزیز کو سندھی میں ایڈی وڈی گالی دی۔ پتلون کی زپ خود بھی کھولی اور یونس حبیب کو بھی دعوت دی کہ اس ڈس مسل آرڈر پر پیشاب کرے۔ یقین دہانی کرائی کہ دیکھنا صدرغلام اسحق خان کو ایک فون کروں گا تو وزارت خزانہ یہ سب چوم چاٹ کے صبح ریورس کرے گی۔

اگلے دن ہمیں فون سی ایم ہاؤس سے آیا کہ چیف منسٹر صاحب کی ہدایات ہیں کہ آپ کو لینے کار آ رہی ہے۔ حبیب بینک کے صدر آغا تجمل حسین سے جاکر ملیں۔ ان کے پاس ضروری ہدایات منسٹری کی جانب سے موجود ہیں۔ یونس کی برطرفی کے آرڈر ٹھیک سے ڈرافٹ کر کے جاری کرائیں۔ دشواری کی صورت میں ورنہ کام مکمل کر کے اسی نمبر پر رابطہ کریں۔

سی ایم ہاؤس کی گاڑی میں ہمیں لینے یونس حبیب خود آئے تھے اور ہمارا استقبال حبیب بینک کی کیپسول لفٹ کے سامنے آغا صاحب نے خود کیا۔ لجا شرما کر کہنے لگے میری سیکرٹری کو مرضی کا آرڈر لکھوا دیں۔ میرا افسر دستخط کر دے گا۔ انگریزی ہمیں بھی خاص نہیں آتی۔ سابق امریکی صدر رچرڈ نکسن کا ایک سطری استعفی پڑھ رکھا تھا سو اس کا مراقبہ کر کے حکم نامہ جاری کرا لیا

صدر نکسن کے استعفے میں لکھا تھا۔

ڈیئر مسٹر سیکرٹری

من کہ مسمی رچرڈ نکسن سکنہ وہائٹ ہاؤس بطور صدر اپنے عہدے سے استعفی دیتا ہے

خیر اندیش

رچرڈ ایم نکسن

یونس حبیب کا استعفی کا حکم نامہ یوں لکھا گیا کہ ”پچیس سال کی ملازمت پوری ہونے پر درخواست گزار یونس حبیب کو مکمل سرکاری ضوابط اور پینشن کے فوائد کے ساتھ باعزت ریٹائر کیا جاتا ہے۔ ادارے کی نیک خواہشات اور دعائیں ان کے مستقبل کے فرائض میں ان کے حق میں موجود رہیں گی۔“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اقبال دیوان

محمد اقبال دیوان نے جوناگڑھ سے آنے والے ایک میمن گھرانے میں آنکھ کھولی۔ نام کی سخن سازی اور کار سرکار سے وابستگی کا دوگونہ بھرم رکھنے کے لیے محمد اقبال نے شہر کے سنگ و خشت سے تعلق جوڑا۔ کچھ طبیعتیں سرکاری منصب کے بوجھ سے گراں بار ہو جاتی ہیں۔ اقبال دیوان نےاس تہمت کا جشن منایا کہ ساری ملازمت رقص بسمل میں گزاری۔ اس سیاحی میں جو کنکر موتی ہاتھ آئے، انہیں چار کتابوں میں سمو دیا۔ افسانوں کا ایک مجموعہ زیر طبع ہے۔ زندگی کو گلے لگا کر جئیے اور رنگ و بو پہ ایک نگہ، جو بظاہر نگاہ سے کم ہے، رکھی۔ تحریر انگریزی اور اردو ادب کا ایک سموچا ہوا لطف دیتی ہے۔ نثر میں رچی ہوئی شوخی کی لٹک ایسی کارگر ہے کہ پڑھنے والا کشاں کشاں محمد اقبال دیوان کی دنیا میں کھنچا چلا جاتا ہے۔

iqbal-diwan has 41 posts and counting.See all posts by iqbal-diwan