پنڈت جسراج کی یاد میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مشہور کلاسیکل گائیک پنڈت جسراج نے بھی سروں کی دنیا سے رخصت لے لی۔
کلاسیکل سنگیت یا پکے گانوں سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے پنڈت جسراج کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ خیال گائیکی ان کی خصوصیت تھی۔ پنڈت جسراج کی پیدائش 28 جنوری 1930 کو ہریانہ کے علاقے حصار میں ایک ایسے خاندان میں ہوئی تھی جو چار نسلوں سے کلاسیکی سنگیت کی روایت کو آگے بڑھا رہا تھا۔ ان کے والد پنڈت موتی رام میواتی گھرانے کے مشہور گائیک تھے۔
پنڈت جسراج ابھی چار سال ہی کے تھے، ان کے والد کا انتقال ہو گیا تھا ، ان کی پرورش ان کے بڑے بھائی پنڈت منی رام نے کی۔ پنڈت جی نے گانا شروع کرنے سے پہلے 14 سال کی عمر تک طبلہ سیکھا بعد ازاں وہ گائیکی کی طرف متوجہ ہوئے۔ اس ضمن میں انھوں نے ایک انٹرویو میں کہا تھا، ” 1945 میں لاہور میں کمار گندھرو کے ساتھ میں گائیکی کی محفل میں طبلے پر سنگت کر رہا تھا۔ محفل کے اگلے دن کمار گندھرو نے کسی بات پر مجھے طعنہ دیا کہ تم تو مرا ہوا چمڑا پیٹتے ہو، تمہیں راگ داری کے بارے میں کیا پتا؟ یہ بات مجھے بہت بری لگی اور اس دن کے بعد سے میں نے طبلے کو کبھی ہاتھ نہیں لگایا اور طبلہ نوازی کی جگہ گائیکی نے لے لی۔ “

پنڈت جسراج کو ان کی رسیلی گائیکی کی بدولت انھیں رس راج کا خطاب دیا گیا تھا۔ وہ ان خوش نصیب گائیکوں میں سے تھے جنھیں اُستادبڑے غلام علی خاں نے اپنا شاگرد بننے کی خود دعوت دی تھی۔ پنڈت جی نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ جب بڑے غلام علی خاں نے مجھے اپنا شاگرد بننے کے لیے کہا تو میں نے جواب دیا کہ خاں صاحب آپ کا شاگرد ہونا میرے نصیب میں نہیں ہے، کیونکہ میں اپنے باپ کا نام روشن کرنا چاہتا ہوں۔ یہ سن کر بڑے غلام علی خاں آبدیدہ ہوگئے اور بولے کہ یہ تمھارا باپ ہی تھا جو مجھے سنگیت کی دنیا میں لے کر آیا۔
پنڈت جسراج کے مطابق اگرچہ بڑے غلام علی خاں بہت مشہور گھرانے کے چشم و چراغ تھے اور ان کے باپ دادا کا کلاسیکی سنگیت میں بڑا نام تھا لیکن وہ خودپہلوانی کیا کرتے تھے اور ایک بار جب انھوں نے موتی رام کا گانا سنا تو بے حد متاثر ہوئے اور سوچا اگر گانا اتنا خوبصورت ہوتا ہے تو آج سے میں بھی گاؤں گا۔ سنگیت تو ان کے رگ رگ میں تھا، بس ذرا سی توجہ کرنے کی دیر تھی۔ پھرموسیقی کی دنیا کو آج کے زمانے کا تان سین مل گیا۔
پنڈت جسراج کی گائیکی کی نمایاں خصوصیت عبادت کا وہ تاثر ہے جو ان کا گانا سننے والے کے دل اور دماغ پر چھا جاتا ہے۔ ولبھ اچاریہ کا لکھا ہوا مشہور بھجن ‘مدھو راشتم ‘ ان کی مشہور چیز ہے جسے وہ بہت لگن سے گاتے تھے۔ موسیقی کے ہر جلسے کا آغاز وہ اسی بھجن سے کیا کرتے تھے۔ ان کے گیتوں اور بھجنوں میں حمدیہ کلام کی گونج بھی اکثر سنائی دیتی تھی، راگ بھیرو میں ان کی مشہور چیز ‘میرو اللہ مہربان’ بھلا کسے یاد نہ ہوگی۔ اس بندش کے الاپ میں جب وہ “اللہ ھو” کہتے ہیں تو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے وہ “اللہ اوم” کہہ رہے ہو۔ موسیقی کے ذریعے سے اللہ اور اوم کو ایک کر کے دکھا دینے والے اور کتنے گائیک ہوں گے؟ پنڈت جسراج اپنی طرز کے ایک ہی گائیک تھے۔

ان کے گائے ہوئے بعض گیتوں کو ہندی فلموں میں بھی شامل کیا گیا۔ ان کی شادی ہندوستان کے مشہور فلمی ہدایت کار وی شانتا رام کی بیٹی مدھرا شانتارام سے ہوئی تھی۔ اور وی شانتا رام ہی نے اپنی ایک فلم میں پہلی بار پنڈت جسراج کا ایک نیم کلاسیکی گیت شامل کیا تھا۔ فلم کے لیے آخری گیت انھوں نے عدنان سمیع خان کی موسیقی میں فلم 1920میں گایا تھا۔
پنڈت جسراج نے ایک انوکھی جگل بندی بھی تخلیق کی تھی۔ اس میں عورت اور مرد گائیک الگ الگ راگوں میں ایک ساتھ گاتے ہیں۔ اس جگل بندی کو جسرنگی کا نام دیا گیا تھا۔
پنڈت جسراج نے میواتی گھرانے کی درخشاں روایت کو ثابت قدمی سے آگے بڑھایا اور اپنی بے مثال گائیکی سے اس میں چار چاند لگائے۔ انھوں نے اس فن کو اسی برس کی زندگی دی اور کتنے ہی اہم اعزازات حاصل کیے۔ وہ بھارت، کینڈا اور امریکہ میں موسیقی کی تعلیم دیتے رہے۔ ان کے بعض شاگردوں نے خوب نام کمایا۔ ایسے گائیک روز روز پیدا نہیں ہوتے۔
پنڈت جی کو یہ منفرد اعزاز بھی حاصل ہوا کہ 2019 میں ایک سیارہ ان کے نام سے منسوب کیا گیا ۔ جسراج کے نام سے جانا جانے والا یہ سیارہ مریخ اور مشتری کے درمیان گردش کرتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •