پینتیس برس پہلے کا لائلپور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بچپن سے لڑکپن کا فاصلہ ایک ایسا قید خانہ ہے جس سے نکلنا شاذ ہی کسی کو پسند ہو۔ جوانی مستانی کا اپنا مزہ ہے لیکن بچپن کی بے فکری ایسے ہی ہے جیسے جنت، نہ کسی کو خوف ہوتا ہے نہ غم۔ ہاں یہ اصو ل ان حرماں نصیبوں کے لئے نہیں جن بیچاروں کی زندگی جھونپڑی سے شروع ہوتی ہے اور امیروں کے دستر خوان کے بچے ہوئے ٹکڑوں سے اپنا رزق تلاش کرتے ختم ہو جاتی ہے۔ کاش اس دنیا میں وہ وقت بھی آئے جب کسی کو حصول رزق کے لئے ایسی دردناک مشقت نہ کرنی پڑے۔

رانا ایاز سلیم کا تعلق میرے شہر لائلپور سے ہے۔ وہ آج کل ایک اہم انتظامی منصب پر فائز ہیں۔ کچھ دن پہلے فیس بک پر انہوں نے اپنے لڑکپن کی کچھ یادیں تحریر کیں تو میرے اندر کا لائلپوریا جاگ گیا۔ کینیڈا میں موجود رانا صاحب سے فون پر بات ہوئی تو گزرے دنوں میں بہت کچھ ایک سا پایا۔ فون پر یہ ہماری پہلی بات چیت تھی لیکن سلام دعا اور حال احوال کے بعد تین دہائیاں پرانے شہر کی باتیں چھڑیں تو بے تکلف گفتگو قریب پون گھنٹہ جاری رہی۔ اجنبیت کے احساس سے عاری ہم دونوں نے قہقہے لگاتے ایک دوسرے کو خدا حافظ کہا۔

بچپن اور لڑکپن کی یادوں کی ایک فلم ہے جو ذہن کے پردہ سکرین پر چل پڑی ہے۔ بہت سے کردار جو منوں مٹی تلے سو گئے، محسوس ہوتا ہے وہ بھی جیتے جاگتے آنکھوں کے سامنے آکھڑے ہوئے ہیں۔ لائلپور کے باسی شہر کے مشہور چار سینما گھروں، طارق، گلستان، شہزاد اور میٹروپول کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ طارق سینما اور شہزاد سینما کی دیوار مشترک تھی اور اسی طرح گلستان اور میٹروپول سینما متصل تھے۔ افسوس پاکستان میں فلم انڈسٹری کے زوال کے باعث ان چاروں کا اب وجود نہیں رہا۔

تین کی جگہ رہائشی کالونیوں نے لے لی جبکہ گلستان سینما پہلے بمبینو ہوا اور پھر اس میں شادی ہال بن گیا۔ نڑوالا روڈ سے طارق سینما روڈ پر داخل ہوں تو چند فرلانگ کے فاصلے پر دائیں ہاتھ حیدری مسجد ہے۔ اسی مسجد میں سرگودھا کے قاری بشیر احمد کے مولابخش کے زیر سایہ ہم نے قرآن پڑھا۔ مجھے یاد ہے پاس پڑوس کے اہل تشیع کے بچے بھی قرآن پڑھنے کے لئے اسی مسجد میں آیا کرتے اور نماز بھی یہیں پڑھتے تھے۔ مسجد کے باہر نیم کے درخت تلے پا لمبڑ نام کا بوڑھا موچی جوتیاں گانٹھا کرتا تھا۔

پا لمبڑ۔ کا نام شاید کسی کو بھی معلوم نہ تھا بس وہ اسی نام سے مشہور تھا۔ پستہ قد کے پا لمبڑ کے ہاتھوں اور ٹانگوں کے پٹھے کسی بیماری کے باعث کھنچ گئے تھے جس کی وجہ سے وہ لاٹھی کے سہارے لنگڑا کر چلتا تھا۔ دن چڑھے اگر کوئی تعویذ سلوانے آتا تو پانچ وقت کا نمازی پا لمبڑ کہتا ”پتر سویرے آویں، میں جتیاں آلے ہتھ اللہ دی پاک کلام نوں نہیں لاندا“ ۔

مسجد کے نیچے پاء مولوی کے بیٹے چٹے کی سائیکلوں کی دکان تھی۔ چٹے کا رنگ گہرا سیاہ تھا لیکن سب لوگ اسے چٹا ہی کہتے تھے۔ چٹے کا باپ پاء مولوی دھوبی گھاٹ پر کپڑے دھو کر لاتا اور مسجد کے سامنے والی دکانوں میں پیتل کی بنی کوئلوں والی استری گرم کر کے کپڑے استری کر تا۔ پاء مولوی نے بچوں کے لئے دو چار ٹوٹی پھوٹی سائیکلیں بھی رکھی ہوئی تھیں۔ ہم چا ر آنے فی گھنٹہ پر سائیکل حاصل کرتے اور ہمیشہ ایک گھنٹے سے زائد وقت تک اس کی سواری سے لطف اندوز ہوتے۔

اس دور کا ایک کردار پاء چھیماں بھی تھاجو وقت کی گردش میں کہیں کھو گیا۔ اسی طارق روڈ پر محمد پورہ کا رہنے والا پاء چھیماں زندگی کے پچاس سال بامشقت پورے کر چکا تھا لیکن کسی وجہ سے اس کی شادی نہ ہوسکی۔ پاء چھیماں صبح سویرے بابر سینما کے ساتھ موجود سبزی منڈی سے فروٹ لاتا اور پھر دن بھر فروٹ کا ٹوکراسرپر اٹھائے گلیوں میں اپنے رزق کا انتظام کرتا۔ پاء چھیماں اپنے شادی شدہ بھائی کے ساتھ رہتا تھا اور اس کی بھابھی ہی اس کا کھانا بناتی تھی۔

کسی ظالم نے یہ افواہ اڑا دی کہ پاء چھیمے کی اپنی بھابھی سے سیٹنگ ہے۔ بس پھر، اللہ دے اور بندہ لے۔ ہم لڑکے اکثر اس کا ناک میں دم کر دیتے۔ پاء چھیماں جب بھی گلی میں داخل ہوتا ہم پوچھتے پاء چھیمے کی حال اے؟ وہ کہتا اللہ دا شکر اے۔ ہم پوچھتے ”سیٹ ایں“؟ بس یہی قیامت کا لمحہ ہوتا، چھیمے کے منہ سے گالیاں ایسے نکلتیں جیسے ریس دی ہوئی گاڑی کے سائنلنسر سے دھواں۔ وہ ٹوکرا نیچے رکھ کر ہمارے پیچھے بھاگنے کی کوشش کرتا لیکن اس سے پہلے ہی ہم لڑکے غائب ہو جاتے اور اگلے دو چار دن اس کی نظروں میں نہ آتے۔ چند دن بعد یہ کھیل پھر کوئی اور لڑکا دہراتا۔

فیصل آباد میں عید گاہ روڈ پر سٹی سکول کے عقب میں میئر ہاؤس کے سامنے والی سڑک پر بچوں کا مدرسہ ہمارا سکول تھا۔ کبھی کبھار ہم گھر سے نکلتے اور طارق روڈ سے نڑوالا روڈ پر پیلے رنگ کی والوو بس کا انتظار کرتے۔ بس میں کنڈکٹر آگے جاتا تو ہم پیچھے والے گیٹ میں جا کھڑے ہوتے، وہ پیچھے آتا تو ہم آگے چلے جاتے۔ صرف تین چار سٹاپ کے بعد نشاط سینما کے سامنے یا نڑوالاچوک پر ہم اترجاتے۔ اگر کبھی کنڈکٹر پکڑ بھی لیتا تو چار آنے کی ٹکٹ لینا پڑتی تھی۔

گورنمنٹ کالج دھوبی گھاٹ، ڈگری کالج اور اسلامیہ کالج کے کھلنڈرے لڑکے ہمیشہ والوو بس کے اگلے گیٹ میں کھڑے ہوتے۔ یہ لڑکے بس کے خواتین والے حصے میں کھڑی کالج کی لڑکیوں کو چھیڑتے یا اپنے بالوں کے سٹائل سے ان کو مرعوب کرنے کی کوشش کرتے۔ کرائے کے پیسے نہ ہوتے تو ہم پیدل ہی محمد پورہ کے اندر سے گزرتے جناح کالونی پہنچتے اور نادر سینما کی بغلی گلی سے ہوتے ماڈل ٹاؤن اور کرسچئن ٹاؤن سے ہوتے سکول پہنچ جاتے۔

گھر سے سکول کا سفر پیدل ہو یا بس پر، مجھے اپنے ایک جونئیر سکول فیلو کی سانولی بہن کا ہمیشہ انتظار رہتا۔ وہ کنڈرگارٹن سکول میں پڑھتی تھی جو ہ ہمارے سکول کے قریب ہی عید گاہ روڈ پر تھا۔ جس دن ان کا والد انہیں سائیکل پر سکول چھوڑنے جاتا مجھے بہت برا لگتا۔ معلوم نہیں یہ تحریر لکھتے مجھے وہ لڑکی کیوں یاد آ گئی۔ ہمارے سکول میں ٹھیکیدار کی ایک دکان بھی تھی جہاں سے چارآنے کے چھولے اور چار آنے کا کلچہ ملتا، بڑا کلچہ آٹھ آنے کا تھا۔ میں نے اندرون اور بیرون ملک فائیوسٹار اور سیون سٹار ہوٹلوں کے کھانے بھی کھائے ہیں لیکن ٹھیکیدار کے کلچے اور چھولوں کا ذائقہ پھر کہیں نہ ملا۔

سکول کے مالی صدیق کی بیوی سکول کی گراؤنڈ میں ہی ریڑھی لگاتی تھی جہاں سے ہم کھٹی میٹھی چٹنی، مرونڈا اور گڑ کی گچک لے کر کھایا کرتے تھے۔ مالن بہت غصے والی خاتون تھی اور بچوں کو بہت ڈانٹتی تھی لیکن چونکہ ان کا بیٹا صدیق ہمارا کلاس فیلو تھا اس لئے ہم پر مالن کی نظر کرم کم ہوتی تھی۔

مڈل کے بعد کوتوالی روڈ پر مسلم ہائی سکول میں داخلہ لیا۔ سکول کے گیٹ پر آدھی چھٹی (تفریح کا وقفہ) کے وقت ایک حلیم والا آیا کرتا تھا۔ جو ذائقہ اس کی حلیم کا تھا ویسا حلیم پھر کبھی نہ کھایا۔ کچھ عرصہ پہلے سکول کے سامنے سے گزرا تو وہی ریڑھی سکول کی دیوار تلے دکھائی دی۔ وقت کے تھپیڑے ریڑھی والے کی جوانی کھا چکے تھے۔ میں نے حلیم کی ایک پلیٹ لی اور اس پر لیموں نچوڑ کر وہیں کھڑے کھڑے کلچے سے کھانے لگا۔ سکول کی یادیں تو تازہ ہو گئیں لیکن حلیم میں وہ دم نہ رہا تھا۔

ہمارے سکول کے دنوں میں طلبا سیاست عروج پر تھی۔ ابو کا ماموں زاد بھائی شیخ اسلم گورنمنٹ کالج دھوبی گھاٹ میں ایم ایس ایف کا لیڈر تھا اور ظہور غازی نامی لڑکا جمعیت کا۔ اکثر ایسا ہوتا کہ گورنمنٹ کالج کے لڑکے کسی بات پر احتجاج کے لئے ڈنڈے اٹھائے ہمارے سکول پہنچتے، گیٹ کو دھکے مار کر کھولتے اور پرنسپل صاحب کے دفتر میں جا کر چھٹی کی گھنٹی بجا دیتے۔ دو منٹ میں سکول خالی ہوجاتا۔ پھر کالج کے لڑکے سڑک پرٹائروں کو آگ لگاتے، آنے جانے والی بسوں کے ٹائروں کو پستول کی گولیوں سے اڑا دیتے۔

سکول کے بالکل ساتھ کوتوالی تھانہ تھا، ہم نے کبھی نہ دیکھا کہ پولیس نے کسی طالب علم کو گرفتار کیا ہو۔ سلیمی صاحب ہمارے کلاس دہم کے انچارج تھے اور مولابخش کا بے دریغ استعمال کرتے تھے۔ میں نے منصوبہ بنا رکھا تھا کہ گورنمنٹ کالج میں داخلہ لینے کے بعد جب بھی طلبا کا جلوس ایم سی ہائی سکول آئے گا تو سلیمی صاحب کا کاسۂ سر ضرور کھولنا ہے۔ لیکن میٹرک کے بعد وقت کا دھار کسی اور سمت بہہ نکلا اور میں یہ کارنامہ سرانجام نہ دے سکا۔

اکثر ایسا ہوتا کہ ہم سکول سے چھٹی پر بستہ اٹھا کر گول کچہری بازارمیں لاٹ فوٹوگرافر کے سامنے صابر مارکیٹ میں ابو کی کپڑے کی دکان پر پہنچ جاتے اور واپسی پر ان کے ساتھ ہی گھر آتے۔ ان دنوں دکانیں عصر کے بعد بند ہونا شروع ہو جاتی تھیں اور مغرب کے وقت تک بازار خالی ہو جاتے تھے۔ لاٹ فوٹو گرافر کے مالک کلین شیو اورسیاہ بالوں والے انکل بہت خوش لباس تھے لیکن خوش مزاج نہ تھے۔ پورے شہر میں ان کی بنائی گئی بلیک اینڈ وائٹ اور رنگین تصویروں کی دھوم تھی۔ کچہری بازار کی بیرونی نکڑ پر عکاس فوٹو گرافر بہت بڑی دکان تھی۔ ڈیجیٹل کیمروں اور مہنگے موبائل فونز کی وجہ سے لاٹ فوٹوگرافر تو بالکل ختم ہوگئی اور عکاس کی رونق معدوم۔

ابو کی دکان پر دوسرے شہروں اور دیہات سے جو گاہک آتے بعض اوقات وہ رات ہمارے گھر پر قیام کرتے۔ دکان پر کوئی خاص گاہک یا مہمان آتا تو دوپہر کے وقت اس کی مہمان نوازی کچہری بازار کے جہانگیر مرغ پلاؤ سے کی جاتی۔ جہانگیر کا مرغ پلاؤ نہ صرف شہر کے باسیوں بلکہ بیرون شہر سے آنے والے مسافروں کے لئے مرغوب ترین تھا۔ وقت بدلا تو جہانگیر مرغ پلاؤ کے ساتھ مغلیہ مرغ پلاؤ کی دکان بھی کھل گئی۔ یہ دکانیں اب بھی کچہری بازار میں گھنٹہ گھر کے قریب موجود ہیں لیکن پلاؤ کا وہ ذائقہ کہیں کھو گیا ہے۔

جہانگیر مرغ پلاؤ کے سامنے والی نکڑ پر شربت بادام کی دکان تھی۔ گرمیوں میں اس شربت کی اتنی مانگ ہوتی کہ لوگ پیسے ادا کر کے کاؤنٹر سے اشرفی نما پیتل کا ایک گول ٹوکن حاصل کرتے اور یہ ٹوکن دکھا کر شربت نوش جاں کرتے۔ سردیوں میں یہ دکان پکوڑے سموسوں کی دکان میں بدل جاتی۔ اس دکان کی خاص بات قیمے والے پکوڑے تھے۔ سردیوں میں بارش ہوتی تو اس دکان پر ایسا رش پڑتا کہ خوب دھکم پیل ہوتی۔ لوگ پیتل کا ٹوکن لے کر لائن میں لگ جاتے اور اپنی باری پر قیمے والے پکوڑے لے کر کھاتے۔ سموسوں کی ایک دکان وکیلاں والی گلی کی نکڑ پر تھی۔ فیصل آباد میں جس نے اس دکان کے سموسے نہ کھائے اس نے کچھ نہ کھایا۔

گھنٹہ گھر کی طرف کچہری بازار کی نکڑ پر لدھیانہ سویٹس تھی۔ لائلپور کا شاید ہی کوئی گھرانہ ہو جس نے لدھیانہ کی مٹھائیاں نہ کھائی ہوں۔ خاندان میں کوئی تقریب ہوتی تو ابو وہاں سے خالص دیسی گھی کے لڈو اور مٹھائیاں بنواتے۔ سردیوں میں لدھیانہ سویٹس پر دال کا بنا گرما گرم حلوہ اور گلاب جامن کھانے کا جو مزہ تھا وہ کوئی لائلپوری بھول نہیں سکتا۔

وکیلاں والی گلی سے ذرا آگے جیلوز ریسٹورنٹ تھا۔ کچہری میں مقدموں کی پیشیاں بھگتنے والے فریقین اکثر دوپہر کا کھانا یہیں کھاتے۔ مقدمہ کے فریقین وکیل اور پولیس افسروں کو خوش کرنے کے لئے یہیں سے کھانا کھلاتے۔ جیلوز سے آگے دو چار دکانیں چھوڑ کر ویڈیو گیمز کی ایک دکان تھی۔ ویڈیو گیم کا سکہ ایک روپے کا ملتا تھا۔ پانچ سکے خریدنے والے کو ایک سکہ مفت ملتا تھا۔ ۔ آج تو جدید موبائل فون میں ہزاروں ویڈیو گیمز دستیاب ہیں لیکن تب ہماری پسندیدہ گیم ”پیک مین“ تھی۔ میں جب بھی اس دکان پر جاتا پانچ سکے خرید کر چھٹا مفت حاصل کرتا۔

جب پیسے جیب میں نہ ہوتے تو کچہری بازار سے باہر نکل کر حبیب بینک کی بلڈنگ میں گھس جاتے اور جھولے لینے کے لئے لفٹ میں گھس جاتے۔ لفٹ آپریٹر کبھی ہمیں ڈانٹ کر نکال دیتا لیکن اکثر خاموشی سے ہمیں کسی فلور پر اتاردیتا۔ وہاں سے ہم سیڑھیوں کے ذریعے کسی اور فلور پر جاتے اور پھر دوبارہ لفٹ میں بیٹھ کر نیچے آجاتے۔ حبیب بینک سے آگے ضلع کونسل ہال کے سامنے علامہ اقبال پبلک لائبریری تھی۔ سفید چھوٹی داڑھی والے لائبریرین کی ایک ٹانگ کسی حادثے کی وجہ سے چھوٹی تھی اور وہ لنگڑا کر چلتے تھے۔

لائبریری کی پرانی مگر کشادہ عمارت آج بھی قائم ہے۔ لائبریری میں اخبارات سے لے کر میگزین اور بچوں کے رسالے اور ڈائجسٹ بھی دستیاب ہوتے۔ کوئی بھی شخص وہاں بیٹھ کر مفت مطالعہ کر سکتا تھا۔ پڑھنے کی بیماری وہیں سے لگی۔ مجھے یاد ہے ایک بار لائبریری کی بیرونی دیوار پر چڑھ کر میں شہتوت توڑتے ہوئے گر کر کلائی کی ہڈی تڑوا بیٹھا۔ دکان پر جا کر ابو سے جھوٹ بولا کہ سائیکل کی ٹکر لگنے سے گر گیا تھا، ورنہ مرمت لازمی تھی۔

کچہری بازار کا اس وقت کا کلچر جن دوستوں نے دیکھ رکھا ہے وہ ٹیپ ریکارڈر کی کیسٹ کو کیسے بھول سکتے ہیں۔ کچہری بازار کیسٹ کی دکانوں کا گڑھ تھا اور یہاں کچھ دکانوں کے باہر پھٹوں پر بھی تلاوت، قوالی، پنجابی اردوپنجابی گانوں اور بناکا گیت مالا کے کیسٹ ملا کرتے تھے۔ تب اچھی کوالٹی کی TDK کی کیسٹ تیس روپے میں مل جاتی تھی۔ امیں پور بازار میں رحمت گراموفون والوں نے اس دور میں موسیقی کی جو خدمت کی وہ لائلپور کے باسیوں کے لئے قابل فخر ہے۔ رحمت گراموفون نہ ہوتا تو عطا اللہ عیسیٰ خیلوی، اللہ دتہ لونے والا اور نصرت فتح علی خان جیسے بڑے نام شاید اتنے مشہور نہ ہوتے۔

کچہری بازار کی جامع مسجد سے باہر نکلیں تو گھنٹہ گھر کی طرف جاتے ہوئے چترال ہاؤس تھا۔ سردیوں میں دال کا حلوہ اور گرمیوں میں گاجر کے مربع کے ساتھ مختلف شربت اس دکان کی وجہ شہرت تھے۔ یہ دکان زمانے کی دوڑ میں کہیں گم ہو چکی لیکن اس کے سامنے ٹکی والے کی دکان آج بھی قائم ہے۔ اس دکان کے شامی کباب اور قیمہ کی ٹکی آج بھی اتنے ہی مقبول ہیں جتنے اسی اور نوے کی دہائی میں تھے۔

کچہری بازار دمیں چودھری واچ کمپنی، باٹا اور سروس شوز کی دکانیں، سنہری مارکیٹ میں ہر قسم کی غیر ملکی چیزیں دستیاب تھی۔ اور اس بازار میں پھرنے والا میرے جیسے لونڈوں کی شرارتوں کا نشانہ اندھا افغان فقیراور اس جیسی بے شمار یادیں اور بھی ہیں۔ کبھی وقت ملا تو کتاب ماضی پھر کھولیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •