اہل لکھنؤ سے متعلق بعض غلط فہمیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


پچھلے دنوں منشی پریم چند کی کہانی پر بنی بھارتی فلم ”شطرنج کے کھلاڑی“ دیکھی۔ فلم کے دو مرکزی کردار لکھنؤ کے نواب ذادے ہیں اور شطرنج کے رسیا جنہیں اپنے گھر بار اور حالات سے کوئی دلچسپی نہیں اور وہ دنیا سے بے خبر ایک ویرانے میں شطرنج کی چالوں میں محو ہیں دوسری طرف گورا پلٹن شہرمیں داخل ہو رہی ہے اور نواب واجد علی شاہ کو معزول کر کے گرفتار کر لیا جاتا ہے۔

بلا شبہ یہ ایک بہت عمدہ فلم ہے۔ تمام فنکاروں نے معیاری اداکاری کی اور اسکرپٹ بھی خوب لکھا گیا۔ اسی طرح فلم کے سین اور مکالمے لکھنؤی تہذیب کی صحیح عکاسی کرتے ہیں۔ منشی پریم چند کی اس کہانی کو ستیہ جیت رائے نے جس خوبصورتی سے فلمبند کیا وہ لائق تحسین ہے۔

پریم چند کی کہانی پر بننے والی اس فلم اور ایسے بے شمار افسانوں اور کہانیاں جو اہل لکھنؤ اور شاہان اودھ کی ”رنگینیوں اور عیا شیوں“ پر لکھی گئیں کو میں ایک دوسرے زاوئیے سے دیکھتا ہوں۔ یہ ایک مختلف انداز فکر ہو سکتا ہے جس پر بہت کم لکھا گیا یا شاید بالکل نہیں لکھا گیا ہو۔

فلم کو دیکھنے کے بعد ذہن میں ابھرنے والے کچھ سوالات نے مجھے یہ مضمون لکھنے پر مجبور کیا۔ ۔ ۔ پیش خدمت ہے!

منشی پریم چند اردو ادب کے ایک بہت بڑے ادیب تھے ان کے مضامین اور کہانیاں ہندوستان کی دیہاتی زندگی کے گرد گھومتی نظر اتی ہیں اور ان کے کردار بھی اپنے اس پاس ہی محسوس ہوتے ہیں جس کو انہوں بڑی خوبصورتی سے بیان کیا۔ وہ ایک اعلی پائے کے ادیب تھے۔ پریم چند کی پیدائش اٹھارہویں صدی کے اخر میں ہوئی اس لحاظ سے انہوں نے انیسویں صدی کے شروع میں لکھنا شروع کیا ہوگا یہی وہ زمانہ تھا جب ہندوستان جاگ رہا تھا اور انگریزوں کے خلاف اوازیں اٹھنا شروع ہو گئی تھیں۔ ہندو اور مسلمانوں نے مل کر انگریزوں کے خلاف متحد ہوکر سول نا فرمانی۔ ہندوستان چھوڑ دو۔ جیل بھرو تحریکیں شروع کیں۔ اس کے علاوہ اسی زمانے میں ریشمی رومال اور خلافت موومنٹ بھی سر اٹھا رہی تھیں۔

انگریز نے بدلتے حالات کو بھانپ لیا تھا اور ان کو کچلنے کے لیے اس نے پہلے تو ہندو مسلم اتحاد کو بڑی مہارت سے پارہ پارہ کیا اور پھوٹ ڈلوائی۔ ساتھ ہی مسلم معاشرے کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت تضحیک کا نشانہ بنایا جس کے لیے شاید مختلف ادیبوں اور کہانی نویسوں کا بھی سہارا لیا گیا ہو اور من گھڑت کہانیاں زبان زد عام کی گئیں تاکہ مسلم معاشرے کو مذاق بناکر پیش کیا جائے اور اس کی تحقیر کی جایے۔

ہندوستان میں یوپی اور خاص طور پر اودھ ہمیشہ سے علم وادب کا گہوارہ رہا ہے۔ یہاں نہ صرف اہل علم بلکہ انقلابی سوچ رکھنے والی شخصیات نے بھی جنم لیا اور یہ خطہ اپنی تہذیب و روایات کے لحاظ سے ہمیشہ منفرد رہا جس نے انگریزوں کے خلاف مل کر آزادی کی تحریک کا اغاز کیا۔ جوہر برادران۔ نہرو گھرانہ۔ سر سید۔ حسرت موھانی۔ سروجنی نائیڈو اور بے شمار ہستیاں اسی خطہ ہندوستان سے ابھریں جو ازادی ہند کی علم بردار بن کر گورا راج کے خلاف صف آرا ہوئے جس کے نتیجے میں برٹش سرکار کو اپنا بوریا بستر سمیٹنا پڑا اور ہندوستان ازاد ہوا۔ ۔ ۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ انگریز نے ہندوستان مسلمانوں سے چھینا تھا چونکہ اقتدار مسلمانوں سے چھینا گیا تھا لہذا گوروں کو خطرہ بھی مسلمانوں ہی سے تھا کہ کہیں وہ متحد ہوکر اپنے چھینے گئے اقتدار کے حصول کے لیئیے کوئی جدوجہد شروع نہ کردیں لہذا ایک سوچی سمجھی اسکیم کے تحت مسلمانوں کو تعلیم سے دور رکھا گیا۔ سرکاری ملازمتوں کے دروازے ان پر بند کییے گئے اور ان کے شاندار معاشرے اور روایات کو مذاق بناکر عوام کے سامنے پیش کیا گیا۔

”پہلے اپ پہلے اپ۔ لکھنؤ کے بانکے۔ بٹیر بازی۔ کوٹھوں پر نواب ذادوں کی تربیت“ اور اسی قسم کی لا یعنی باتیں (جو ممکن ہے کہیں رونما بھی ہویے ہوں ) لیکن عمومی طور پر ایسا بالکل نہیں تھا لیکن ایسی من گھڑت باتوں کو خوب بڑھا چڑھا کر پیش کرنے سے عوام الناس کو یہ تاثر دیا کیا کہ تمھارے سابق حکمراں نرے گاؤدی تھے۔ وہ صرف عیش و عیاشی ہی میں مبتلا تھے اور ان کو عوامی فلاح و بہبود سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ حقیقت حال یہ ہے کی نوابین لکھنؤ کی اور خاص طور سے نواب واجد علی شاہ کے زمانے میں اودھ کی عوام بہت زیادہ خوشحال تھے اور وہ واجد علی شاہ سے بے حد پیار کرتے تھے اور انہیں ”پیا جان عالم“ کے نام سے پکارتے تھے۔

اہل لکھنؤ اپنے نواب سے کتنی محبت اور عقیدت رکھتے تھے اس کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ ایک روایت کے مطابق نواب اصف الدولہ کے عہد میں لکھنؤ میں سخت قحط پڑا اور کئی سال تک جاری رہا۔ لوگ نان شبینہ کو محتاج ہوگئے۔ شرفائے لکھنؤ کسی سے خیرات یا مدد لینے پر آمادہ نہ تھے۔ نواب آصف الدولہ نے اپنی رعایا کی مدد کا یہ طریقہ نکالا کہ انہوں نے لکھنؤ کے بڑے امام باڑے کی تعمیر شروع کروادی اور رعایا سے کہا گیا کہ وہ رات اندھیرے میں نقاب پہن کر آئیں اور صرف ایک اینٹ رکھ دیں جس کے معاوضہ میں ان کو ایک اشرفی بطور اجرت دی جاتی۔ اس طرح ان کی ان کی عزت نفس بھی مجروح نہ ہوئی اور وہ فاقہ کشی سے بھی بچے رہے۔ دن نکلتے ہی وہ اینٹیں گرا دی جاتیں یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہا جب تک قحط ختم نہیں ہوا۔ نواب کی اس فراخدلی پر اہل لکھنؤ نے یہ مصرعہ موزوں کر لیا (میں اس سے قطغی متفق نہیں) اور اتنا مقبول ہوا کہ لوگ صبح اپنی دکانیں کھولنے اور کاروبا شروع کرنے سے پہلے پڑھا کرتے۔ ۔ ۔

” جس کو نہ دے مولا اس کو دے آصف الدولہ“

قحط کے بعد میں یہ امام باڑہ باقاعدہ مزدوروں نے تعمیر کیا اور اج بھی ”امام باڑہ اصف الدولہ“ کے نام سے اپنی عظمت رفتہ کی یاد دلاتا ہے۔

Kaiser-Pasand-Palace-Lucknow

چلیے ایک لمحے کو یہ سچ مان بھی لیں تو کیا یہ سوال نہیں اٹھتا کہ کیا اسی قسم کی مضحکہ خیز حرکتیں اودھ اور لکھنؤ کے علاوہ ہندوستان کی دوسری ریاستوں میں نہیں ہوئیں۔ برٹش راج کے وقت ہندہستان میں پانچ سو سے زیادہ ریاستیں اور رجواڑے تھے جو گوروں کی زیر سرپرستی اسی قسم کی فضول مشغلوں میں مگن تھیں۔ ریاست کشمیر۔ پٹیالہ اور دوسرے رجواڑوں میں بھی ہاتھی کی شادی۔ گڑیا گڈے کی شادی یہاں تک کہ من پسند کتوں کی شادی شاہانہ انداز میں شادیاں رچائی جاتیں جن پر بے دریغ دولت خرچ کی جاتی۔

اپنے پالتو ہرن تک کا مقبرہ بھی بنا یا گیا۔ لیکن اس کا ذکر کہیں نہیں ملتا۔ اگر منفی تشہیر کی گئی تو صرف شاہان اودھ اور مسلم ریاستوں کی اور یہ بہت کم لکھا اور بتایا گیا کہ لکھنؤ کی شان بیگم حضرت محل جو نواب واجد علی شاہ کی بیوی تھیں اخر وقت تک انگریز فوج کا مقابلہ کرتی رہیں اور ہتھیار نہیں ڈالے بلکہ نیپال میں جلا وطنی کی زندگی گزارنے کو ترجیح دی۔ لکھنؤ کے بیلی گارد (گارڈ) کی مسمار دیواریں اور ریزیڈنسی اپنی تباہی کی داستان اج بھی سنا رہا ہے جس میں کئی ہزار گورے پسپائی کے بعد چھے ماہ تک محصور رہے بعد میں ایک گورکھا پلٹن نے اکر ان کا محاصرہ ختم کرایا۔

اج بھی یہ یادگاریں اہل اودھ کی انگریزوں کے خلاف مزاحمت کا ثبوت ہیں۔ نواب واجد علی شاہ کے بیٹے شہزادہ برجیس قدر بھی انگریزوں سے ایک عرصے تک بر سر پیکار رہے اور پھر وہ بھی مٹیا برج کے قیدی بنے۔ اسی طرح رحمت اللہ خان روہیلہ اور جھانسی کی رانی کی انگریزوں کے خلاف بے مثال جدوجہد کی زیادہ تشہیر نہیں ہوئی اور انہیں باغی کے طور پر پیش کیا گیا۔ ازادی کے ان ہیروز کے کارناموں کو تو اجاگر نہیں کیا گیا لیکن ان کی رنگینیوں اور رقص و سرود اور دیگر مشغولیات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔ ۔ ۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب کبھی کسی معاشرے میں معاشی خوشحالی ہوتی تو اس میں بسنے والے افراد اپنی گرومنگ اور اسائش پر بہت توجہ دیتے ہیں۔ وہاں کلچر، آرٹ، کھیل، رقص و موسیقی۔ شاعری اور فنون لطیفہ پر وقت اور پیسا صرف کیا جاتا ہے جس سے یہ فنون اپنے کمال کو پہنچتے ہیں یہی اودھ اور لکھنؤ میں ہوا۔ دولت کی ریل پیل نے امراء اور عام ادمی کو تن اسان اور عیش کوش بنادیا وہ طرح طرح کی فضولیات میں پڑگئے لیکن ایسا نہیں کہ وہ قومی حمیت اور غیرت سے نا اشنا تھے۔

کیا خلافت عباسیہ اور اندلس میں ایسا ہی نہیں ہوا کہ خوشحالی اور اسانیون نے ان کو فنون لطیفہ کی طرف اس طرح راغب کیا کہ وہ اسی میں غرق ہو کر رہ گئیے۔ یہی اندلس میں ہوا جہاں الحمرا جیسے شاہکار اسی سبب وجود میں ائے۔ علم و فن اپنے عروج کہ پہنچا لیکن اٹھ سو سال اسپین پر حکومت کرنے کے باوجود مسلمان وہاں سے ایک ذلت امیز معاہدے کے تحت نکالے گئیے۔ کچھ ایسا ہی حال اوٹومن ایمپائر کا بھی ہوا اور سلطنت عثمانیہ پارہ پارہ ہو گئی۔ ہندوستان میں عظیم مغل سلطنت بھی ان ہی وجوہات کی بنا پر انگریزوں کے اگے ڈھیر ہوگئی اور اپنی بنائی عمارات اور یادگاروں کے سوا عوام کو کچھ نہ دے پائی۔ تاج محل اور بہت سی دوسری عمارات اور باغات کی تعمیر جو فن تعمیر کا ایک نمونہ ہیں ایسی ہی خوشحالی اور ارٹ سے لگاؤ کی وجہ سے اج بھی مسلمانوں کے شاندار ماضی کی دلیل ہیں۔ کیا ہندوستان کی تاریخ ان حسین یادگاروں کے بغیر مکمل ہو پائے گی۔ کیا قدیم یونانی تہذیب جہاں سے اولمپک کھیلوں کا اغاز ہوا یا اور رومن ایمپایر میں کھیلوں اور فنون لطیفہ پر بلا دریغ خرچ نہیں کیا جاتا رہا جہاں گلیڈیئیٹرز کے خون اشام مقابلے منعقد ہوتے جن میں شامل ایک فریق کی یقینی موت ہوتی اور اس پر تماشائی خوش ہوتے اور نعرے لگاتے۔۔۔ ان مثالوں کو پیش کرنے کا ہرگز یہ مقصد نہیں کہ وہ سب ٹھیک تھا۔ کہنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ جب کسی معاشرے میں خوشحالی اتی ہے تو اس میں اس قسم کی فضول روایتیں اور اشغال بھی در آتے ہیں جو جلد یا بدیر اس کے زوال کا سبب بھی بنتے ہیں۔ ۔ ۔

چلیے ایک بار پھر نوابین اودھ کے شوق اور رنگینیوں کی طرف اتے ہیں اور تھوڑی دیر کے لیے مان لیتے ہیں کہ سقوط ہندوستان کا سبب انہی کی وجہ سے ہوا۔ لیکن یہ سوال بھی اپنی جگہ کہ باقی ہندوستان جو ان ”عیاشیوں اور پہلے اپ پہلے اپ“ کی بدعت سے دور تھا کیوں مٹھی بھر انگریزوں کے اگے ڈھیر ہوگیا۔ اودھ تو بہت بعد کو گوروں کے زیر اثر ایا اس سے تقریباً سو سال پہلے جنگ پلاسی میں کس نے غداری کی۔ ٹیپو سلطان۔ سراج الدولہ اور تیتو میر کس کی سازش سے شہید کیے گیے۔ میر جعفر اور میر صادق کا تعلق تو لکھنؤ سے نہیں تھا۔ سید احمد شہید بریلوی کو تو سرحد کے ”غیور اور جفاکش“ نے ہی بلا کر دھوکے سے مروا دیا تھا۔ ۔ ۔

لکھنو اور اودھ کے زوال سے بہت پہلے ہندوستان کا زیادہ تر حصہ انگریزوں کے ثسلط میں اچکا تھا۔ پونڈیچری کلکتہ۔ اور پورے جنوبی ہندوستان پر انگریز قابض ہو چکے تھے۔ پنجاب کے ٹوانہ۔ ممدوٹ۔ قریشی۔ مخدوم اور دولتانہ خاندان کے لشکر اٹھارہ سو ستاون کی جنگ ازادی کے مجاہدین کو کچلنے کے لییے انگریزوں کے ساتھ تھے اور وطن سے غداری کے صلہ میں جائیدادیں حاصل کر رہے تھے لیکن نزلہ گرتا ہے تو صرف نوابین اودھ اور اہل لکھنؤ پر کیونکہ وہ ایک باعلم اور زندہ معاشرہ تھا جہاں سے کسی بھی وقت کوئی سر سید، جوش۔ مجاز۔ مجروح۔ حسرت موہانی اور ابولکلام آزاد انگریز سرکار کو للکار سکتا تھا لہذا اسی خطے کو ایک منصوبے کے تحت نشانہ بنایا گیا۔ ۔ ۔

اور پھر ہوا بھی ایسا ہی انگریزوں کے خلاف تحریکیں اسی مردم خیز خطے سے اٹھیں۔ انہی علاقوں سے ہندو اور مسلمان نے متحد ہو کر انگریزوں کے خلاف بدیسی مال کے بائیکاٹ۔ کوئٹ انڈیا۔ سول نافرمانی کی تحریک چلاییں جس کے نتیجے میں انگریز کو ہندوستان چھوڑنا پڑا اور ایک نئی ریاست پاکستان بھی وجود میں ائی۔ ۔ ۔

شاید یہ تحریر اپنی طرز کی پہلی ہو جس میں نوابین لکھنؤ اور اہل لکھنؤ سے متعلق پھیلی مبینہ رنگینیوں کو ایک مختلف زاوئیے سے دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ میرے اس تجزیے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن حقائق سے فرار بھی ممکن نہیں۔ میں نے اپنی تحریر میں شاہان اودھ اور اہل لکھنؤ کی مبینہ رنگینیوں پر کسی قسم کا پردہ ڈالنے کی کوشش نہیں کی لیکن اس طرف بھی اشارہ کیا کہ اس کا اطلاق صرف شاہان اودھ ہی پر نہیں ہوتا اور زوال کا سبب صرف ”شطرنج کے کھلاڑی“ ہی نہیں تھے بلکہ اس دور میں پورا ہندوستان خواب غفلت میں کھویا ہوا تھا ہمارے اپنوں نے بھی کچھ کم نہیں کیا غداروں اورمفاد پرستوں نے بھی خوب کھیل کھیلا۔

مٹھی بھر گوروں نے اپنی ذہانت کا خوب استعمال کیا اور ہماری کمزوریوں کا فائدہ اٹھایا اور ہندوستان پر قابض ہوگئے۔ وہ ہندوستان جس کا جی ڈی پی اس وقت سارے یورپ سے کہیں زیادہ تھا جہاں دو چار سال کی پوسٹنگ کے لیے انگریز بہادر سفارشیں لگاتے تھے۔ یہ ملک سونے کی چڑیا کہلاتا تھا۔ ۔ ۔ بدقسمتی کہ یہی خوشحالی اس کے گلے کا طوق بن گئی اور دو سو سال کی غلامی اس کا مقدر بنی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •