سندھ میں بارش پر سیاست: یہ شرارت کس کی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملک میں بارش کی تباہ کاریوں کے ساتھ سازشوں کا سلسلہ زور پکڑ گیا ہے اور نفرتوں کے سوداگر اپنے تئیں سازشوں میں مصروف ہیں اور کچھ دنوں سے سوشل میڈیا خصوصی طور پر میدان جنگ بنا ہوا ہے۔

گو کہ بارش نے پورے ملک کو متاثر کیا ہے، بلوچستان کے پہاڑوں سے آنے والے سیلابی ریلے نے نہ صرف بلوچستان کے مختلف اضلاع کو نقصان پنہچایا بلکہ سندھ کے کاچھو اور جوہی شہر کو بھی ڈبو دیا۔ چلئے پسماندہ علاقے تو میڈیا کی توجہ حاصل کے قابل نہیں سمجھے گئے مگر لاہور میں تباہی کے مناظر تو سب نے دیکھ لئے مگر میڈیا اور سوشل میڈیا کی نظر صرف کراچی تک محدود رہی۔ اس میں ایسے تنگ نظر مداری بھی میدان پر نکل آئے جو مختلف ممالک کی تصاویر اور وڈیوز کراچی کی بتا کر اپلوڈ کرتے اور اپنا چورن بیچنے کی کوشش کرتے رہے۔ اور تو اور تحریک انصاف کے ایم این اے عامر لیاقت نے تو تھائی لینڈ کے مگر مچھوں کی تصویر ٹویٹر پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ منگھوپیر کے مگر مچھ آبادیوں میں نکل آئے ہیں۔

اس بات سے انکار نہیں کہ بارش نے کراچی کو شدید متاثر کیا ہے تو کیا یہ نقصانات صرف کراچی تک محدود ہیں یا حیدرآباد، جامشورو، مٹیاری، ٹھٹہ، سجاول، بدین، میرپورخاص، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہیار، تھرپارکر، عمرکوٹ اور دیگر اضلاع میں بھی تباہی مچی ہے، یہ نقصانات سوشل میڈیا کے مجاہدین کو نظر کیوں نہیں آرہے؟

بارشوں کے ساتھ سندھ کی تقسیم کی خواہش دل میں دبا کر بیٹھے ہوئی متعصب لوگ بھی موسمی مینڈکوں کی طرح نکل آئے ہیں جو پیپلزپارٹی کی طرز حکمرانی کو جواز بنا کر الگ صوبے کی بات کر رہے ہیں جس سے سندھی بولنے والوں کا مشتعل ہونا بھی فطری ہے۔ ایسے میں نفرت کا کاروبار ایک بار پھر چل پڑا ہے۔ حیرت کی بات ہے اچھے خاصے ذہین اور تمیز دار لوگ بھی بدزبانی پر اتر آئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ملک کے دیگر حصوں اور بیرون ملک سے ایسے لوگ بھی اس ”کار خیر“ میں اپنا حصہ ملا رہے ہیں جن کا اس شہر اور صوبے سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ وہ یا تو کسی ایجنڈا کا حصہ ہیں یا پھر بیگانے کی شادی میں عبداللہ دیوانہ کا کردار ادا کر رہے ہیں مگر وہ ایسی حرکت سے اشتعال پھیلانے کے علاوہ کچھ نہیں کر رہے۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ آئینی طور پر پر تو کراچی کو سندھ سے الگ کرنا شاید ناممکن کی حد تک مشکل ہے مگر اگر ایسی کوئی مہم جوئی کی گئی تو اس کے لئے غیر آئینی اقدامات لئے جائیں گے۔ اگر خدانخواستہ ایسی کوئی حماقت کی گئی تو اس کے نتائج یقینی طور پر بھیانک ہوں گے ۔ اگر سندھ کے باقی حصوں میں غزا کی پٹی یا کشمیر جیسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے اثرات ناقابل برداشت ہوں گے۔ ملک اور خاص طور پر سندھ میں نفرت کی ایک ایسی آگ بھڑک اٹھے گی کہ جس کو بجھانا کسی کے بھی بس میں نہیں رہے گا۔

دوسری طرف اگر اردو بولنے والے یہ سمجھ رہے ہیں کہ کراچی صوبہ بنا کر طشتری میں رکھ کر انہیں پیش کیا جائے گا تو یہ بھی محض ایک خوش فہمی ہوگی کیونکہ اگر ایک ناقابل فہم حماقت کر رہے ہیں تو ان کے عزائم بھی اتنے ہی پیچیدہ ہوں گے ۔ عقل والوں کے لئے گزشتہ آدم شماری کے نتائج ہی ایک اشارہ ہیں، خطے میں نیا اسرائیل بنایا گیا تو اس میں آبادی کا تناسب بھی ایسا رکھا جائے گا جیسا کہ موجودہ پارلیمنٹ ہے۔

یہاں پر ایک بات جو سب کو سمجھنا ہوگی وہ یہ کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد ایک طبقے کو صوبوں کے ساتھ بالعموم اور سندھ کے ساتھ بالخصوص ایک خاص طرح کی نفرت ہو چکی ہے جس کا بدلہ لینے کے لئے وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ سندھ کے ساتھ بالخصوص اس لیے کہ 70 فی صد ریونیو سندھ دیتا ہے، کراچی پر قبضے کی صورت میں سندھ کا سارا مالیاتی ڈھانچہ قبضے میں کرنا آسان ہو سکتا ہے۔ اب اگر سندھ سے بدلہ لینے کے لئے ایسی سازش کہیں تیار کی گئی ہے تو اس کا بنیادی مقصد بھی سندھ کے وسائل پر مستقل قبضے کے لئے سندھ کے باشندوں کے بیچ نفرتوں کا ایسا بیج بونا ہے جس سے اگنے والے کانٹے نسلوں تک سندھی اور اردو بولنے والوں کو الجھائے رکھیں اور یہاں کے وسائل کی لوٹ کھسوٹ جاری رہے۔

اس سارے کھیل کا حصہ بننے کے باوجود اردو بولنے والوں کو کچھ نہیں ملے گا، کچھ لوگ سازش کا حصہ بن کر سازش کا شکار ہو رہا ہے جس کی قیمت پوری برادری کو ادا کرنی پڑے کی۔ نئے صوبے میں ان کو اگر صوبائی یا بلدیاتی حکومت دی بھی گئی تو ایک مخصوص مدت تک کے لئے، اس کے بعد وہ اختیارات بھی نہیں رہیں گے کیونکہ تب تک ساری ڈیموگرافی تبدیل ہوچکی ہوگی اور کراچی کسی اور کا ہو چکا ہوگا۔

ایسے میں سندھ کے اصل باشندوں یعنی سندھی اور اردو بولنے والوں کو اس گھناؤنی سازش کو سمجھ کر ایک دوسرے کے خلاف نازیبا کلمات استعمال کرنے کے بجائے باہم احترام سے پیش آنا چاہیے، کچھ سادہ لوح لوگ اردو میڈیا اور سوشل میڈیا پر کچھ اشتعال انگیز پوسٹس دیکھ کر پیپلز پارٹی کی حمایت اور دفاع کرنے لگے ہیں۔ ہہ بات واضح ہے کہ پی پی پی اور سندھ الگ الگ ہیں۔ اگر سندھ کی وحدت کے خلاف سازش ہوتی ہے تو یقین کریں کہ پیپلز پارٹی کی قیادت اس میں شامل ہوگی جن کو اس کے بدلے باقی ماندہ سندھ پر حکومت کرنے کی یقین دہانی کرائی جائے گی۔

سندھ کے لوگوں کو اپنی غیر مشروط حمایت اور پشت پناہی کرتے وقت ان کی قیادت کے کردار پر نظر رکھنا ہوگی۔ میں تو یہاں تک کہتا ہوں کہ سندھ کے لوگوں کو اپنے بچوں سے بھی عہد لینا چاہیے کہ اگر پی پی کی بداعمالیوں اور سازشوں کے نتیجے میں سندھ کو نقصان پہنچتا ہے تو آئندہ پی پی سے کوئی تعلق ہی نہیں رکھا جائے گا۔

اس اہم مرحلے پر سندھی اور اردو بولنے والے ادباء، شعراء اور دانشوروں کا کردار بھی اہم ہے۔ ، انہیں صورت حال کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے کسی بھی اشتعال انگیزی کا حصہ بننے کے بجائے سندھ کے رہنے والوں کے بیچ نفرتوں کا سلسلہ روکنے کے لیے کھل کر میدان پر آنا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •