جاپان میں تعزیے جیسی رسم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محرم کا عشرہ شروع ہو چکا ہے جو ہمیں امام حسین کی بے مثل قربانی کی یاد دلاتا ہے۔ تعزیہ ماہ محرم کی علامت ہے جب میں نے جاپان میں تعزیہ دیکھا تو حیران ہو گیا ٹریننگ کے دوران ٹوکیو میں جہاں ہماری اکیڈمی تھی۔ اسی پری فیکچر میں ایک مشہور شرائن تھی جس میں میلہ لگا ہوا تھا اور سارے پری فیکچر میں آج چھٹی تھی اور اسی حوالے سے ہمیں بھی چھٹی تھی۔ دادا رحمن، ڈاکٹر چٹر راج اور میں نے اس میلے میں شرکت کی خواہش کا اظہار کیا تو مسٹر مستو موتو، مسٹر ہاگی ہارا، مس چن اور سکیوسن بھی ہماری رہنمائی کے لئے ہمارے ساتھ چل پڑے اگرچہ میلہ دیکھنے کا شوق انہیں ہم سے بھی زیادہ تھا۔

بہرحال ہم نے ان کا شکریہ ادا کیا جب ہم اکیڈمی کے باہر نکلے تو ہم نے سامنے ایک بہت بڑا تعزیہ رکھا ہوا دیکھا دس بارہ نوجوان پر جوش انداز میں اس کے گرد کھڑے تھے چونکہ اکیڈمی کے پاس وسیع میدان اور لان ہیں تو تعزیہ سب سے پہلے یہاں آتا ہے پھر لوگ جمع ہونا شروع ہوتے ہیں۔ تعزیہ کو جاپانی زبان میں مکوشی کہتے ہیں۔ مکوشی آنے کے بعد لوگ جوق در جوق اکٹھے ہو رہے تھے۔ ایک نوجوان اپنی زبان میں کچھ بولتا اور سارا ہجوم اس پر نعرے لگاتا۔

جاپانیوں کا تعزیہ کیا تھا۔ چار لمبے بانسوں پر شرائن کی شبیہ رکھی ہوئی تھی۔ یہی مکوشی تھی جس کو مختلف رنگوں سے سجایا گیا تھا۔ دوسری طرف ایک گاڑی پر کوئی دس فٹ اونچا جاپانی ڈھول رکھا ہوا تھا جس پر ایک مضبوط اور کسرتی جسم کا نوجوان پوری طاقت سے ضرب لگا رہا تھا جس سے خوبصورت ردھم پیدا ہوتا تھا اور اس پر سارا ہجوم رقص کر رہا تھا پھر یہاں سے جلوس آہستہ آہستہ چل پڑا یہ صرف تہوار نہیں تھا اور نہ ہی صرف کارنیوال یا کسی کاروباری سر گرمی کی تشہیر بلکہ یہ ایک تاریخ ہے جس میں روایات اور رسومات کو خوبصورت طریقے سے منایا جاتا ہے۔

اس وقت میری حیرانی کی حد نہ رہی جب میں نے دیکھا کہ شیعہ بھائیوں کی طرح کا دوسرا آئٹم بھی پیش کیا جا رہا تھا۔ شنٹو پروہتوں نے ہمارے سامنے آگ کے بستر بچھائے اور اب انہوں نے ان پر چل کر دکھانا تھا۔ پروہتوں نے نمک اٹھایا اور اس کو انگاروں پر چھڑکنا شروع کر دیا وہاں سے فارغ ہو کر اپنے پیروں کے تلوؤں پر نمک رگڑتے رہے اور پھر مقدس آگ میں اتر گئے وہ انگاروں پر آہستہ آہستہ بڑے وقار سے چلتے رہے اور ساتھ ساتھ دعائیں مانگی جاتی رہیں۔

تعزیہ دراصل مقدس مزار کی شبیہ ہے اور مکوشی بھی مقدس شرائن کی شبیہ تھی۔ سمبل کے حوالے سے دونوں میں کوئی فرق نہیں لیکن اس جلوس میں وہ سنجیدگی نہیں تھی۔ اس میں صرف ہلہ گلہ تھا۔ رقص تھا۔ ہڑبونگ تھی۔ مکوشی کا ایک وقتی تاثر تو تھا لیکن دیر پا تاثر نہیں تھا۔

دوسری طرف تعزیہ ہے جو امام عالی مقام ؓ کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے ایک اعلیٰ مقصد کے لیے اپنی جان قربان کی اور اپنے خاندان کی قربانی دی۔ قدم قدم پر جن کی بے مثال قربانی اور زبان سے نکلا ایک ایک لفظ اس ذات بے ہمتا پر مکمل یقین کا مظہر ہے۔ باری تعالٰی نے مقدس کتاب میں کہا ہے۔ تمہاری آزمائش ہو گی۔ میں تمہاری محبت کو، تمہاری عبودیت کو اور تمہارے جذبے کو آزماؤں گا۔ تم کو بھوک سے آزماؤں گا۔ اولاد کا دکھ دے کر آزماؤں گا۔ جان و مال کی قربانی سے آزماؤں گا۔

ولنبلونکم بشی ئی من الخوف و الجوع و نقص من الاموال و الا نفس و الثمرات۔
تم کو خوف سے بھوک سے جان و مال سے اولاد سے آزماؤں گا اور پھرانعامات ہیں۔ (البقرة 155 : 2 ) ۔

پیغمبروں کو بھی کبھی بیماری کی آزمائش سے، کبھی اولاد کی جدائی دے کر آزمایا گیا۔ کسی سے بیٹے کی قربانی مانگ کر، کسی کو سولی پر چڑھا کر آزمایا گیا۔ تاریخ کے بڑے سے بڑے ہیرو بھی کسی ایک آزمائش سے گزرے ہیں لیکن پوری تاریخ انسانی میں صرف حسینؓ ہیں جن کو بیک وقت پانچوں آزمائشوں سے گزارا گیا۔ خوف سے، بھوک سے، پیاس سے، جان و مال سے اور اولاد کی قربانی سے، کن کن تکلیفوں سے نہیں گزارا گیا۔ ہم نے حسینؓ کی قربانی کے حوالے سے شیعہ و سنی کے الگ الگ کمپارٹمنٹ بنا رکھے ہیں اور ان کی تنگنائیوں میں ان کو محصور کر دیا ہے جب کہ ایسی بے مثال قربانی اور آزمائش کے لحاظ سے حسین تو عالم انسانیت کے ہیرو ہیں۔

ایک طرف لشکر جرار ہے۔ کمک پہ کمک پہنچ رہی ہے۔ دوسری طرف مٹھی بھر جانثار، خیموں میں پیغمبر کا بے کس خاندان، بیبیاں اور بچے کسمپرسی کا عالم، چاروں طرف خوف پھیلا ہے۔ قریب فرات کا ساحل ہے لیکن جانثاروں اور خاندان نبوت کے لیے ایک بوند نہیں، اس دشت میں پیاس کا پہرہ ہے۔ طبل جنگ بج چکا ہے۔ دشمن کی فوج کوئی بات سننے کو تیار نہیں اور نہ کوئی رعایت دینے کو تیار ہے۔ ایک طرف ہندہ کا وارث ہے جس نے پیغمبر کے چچا حضرت حمزہؓ کی شہادت کے بعد ان کا کلیجہ نکال کر چبا لیا تھا اور ابو سفیان کا وارث ہے جو اسلام کو مٹانے اور نبوت کا چراغ گل کرنے کے لئے ساری زندگی سازشیں کرتا رہا اور مسلمانوں پر جنگیں مسلط کرتا رہا اور آخری فتح مکہ پر مجبور ہو کر اسلام قبول کیا اب وہ پیغمبر کے وارث کے سامنے صف آرا ہے جسے اقتدار کی ہوس اور اسلام کے خلاف اس قدر وحشت تھی کہ اس کے لئے وہ کوئی بھی حد پار کرنے کو تیار تھا۔ دوسری طرف خاندان نبوت اور خاندان نبوت کا وارث ہے جس کا چہرہ پیغمبر سے مشابہت رکھتا ہے اور جس کا کردار پیغمبر جیسا ہے لیکن ابن زیاد کی فوج اس چہرہ مبارک کو خاک میں ملانے اور پیغمبر کے خاندان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے درپے ہے۔

پیغمبر کا وارث تمام خطرات سے بے پرواہ سارے دکھ کو اپنے اندر سمیٹے کھڑا ہے۔ خدا کے خوف کے علاوہ کوئی خوف اس پر طاری نہیں ہے۔ متاع حیات کی اس کے لیے کوئی اہمیت نہیں۔ مال و دولت اس کے لیے مٹی کا ڈھیر ہیں۔ اولاد کی قربانی کے لیے وہ خدائے برتر کی رضا پہ راضی ہے لیکن اصولوں پر سمجھوتہ کرنے کے لیے کسی طور راضی نہیں۔

چاروں طرف سربریدہ لاشے۔ گھوڑوں کی ٹاپوں میں روندے ہوئے لاشے۔ پیغمبر کا خاندان رزق خاک ہو رہا ہے۔ پیغمبر کا وارث تلواروں کی زد میں ہے۔ زخموں سے چور ہے۔ سر تن سے جدا کر دیا گیا ہے۔ پروردگار نے جن جن آزمائشوں کا ذکر کیا تھا۔ ان پانچوں آزمائشوں کو ایک ایک کر کے ایک ہی شخص پر اتار دیا گیا ہے۔

آج دونوں جلوس میری آنکھوں کے سامنے ہیں۔ ایک جلوس میں وہ لوگ ہیں جو گلاسوں کو تھامے ساکے نوش کر رہے ہیں۔ گیت گا۔ رہے ہیں۔ رقص کر رہے ہیں۔ خوشیاں منا رہے ہیں۔ دوسرا جلوس ان ہستیوں کی یاد میں نکلا ہے جو ظلم و جبر کو روکنے کوفے کی طرف چلے اور اس شان سے چلے کہ ”چلے تو اس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں۔“ اور نہ جانے کتنے زمانے دیکھتے رہیں گے۔ یہ دوسرا جلوس ہے۔ ماتم کرتا ہوا، سینہ کوبی کرتا، زنجیروں سے اپنے جسم و جان کو لہو کرتا، نعرے بلند کرتا، یا حسینؓ ترے جانثار آ گئے ہیں۔

لکھتے ہوئے میں اپنی چشم تصور سے دونوں جلوس دیکھ رہا ہوں۔
خوشیاں بھی دیکھ رہا ہوں۔
بادہ ناب بھی دیکھ رہا ہوں۔
تھرکتے بدن بھی میرے سامنے ہیں۔
دوسری طرف ظلم بھی دیکھ رہا ہوں۔

اس قدر ظلم۔
حیران ہوں۔
پیغمبر کو گزرے عرصہ ہی کتنا ہوا ہے۔
پیغمبر کا خاندان مٹانے کی کوشش ہو رہی ہے۔
پیغمبر سے اتنی نفرت!

پیغمبر کی شبیہ سامنے آئی۔
تو ایک ہی وار میں۔
مرکب پہ تن پاک پڑا ہے۔
اور کٹ کر سر۔
خاک پہ گرا ہے۔

انسان اتنا ظالم بھی ہو سکتا ہے۔
آنکھوں سے اشک رواں ہیں۔
ندامت کے، دکھ کے، افسوس کے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •